• 26 جنوری, 2022

انجیلا مرکل

انجیلا مرکل
مضبوط اعصاب کی مالک، ایک بااثر خاتون

اسى طرح دنىا کى تارىخ پر نظر دوڑائىں تو بلاشبہ بہت سے حکمران ہوئے ہىں جنہوں نے دنىا پر راج کىا مگر بہت کم خواتىن حکمران اىسى ملتى ہىں جنہوں نے اپنى عقل ودانش اور قائدانہ صلاحىتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دنىا پہ حکومت کى ہو۔ جرمنى کى موجودہ چانسلر انجىلا مرکل کا شمار ان چند خواتىن مىں ہوتا ہے جنہوں نے اپنى سىاسى فراست اور قائدانہ صلاحىتوں کے باعث نہ صرف جرمنى بلکہ پورے ىورپ کى اقتصادىات پر بھى گہرا اثر چھوڑا ہے اور ىہ بات بھى ماننے کے لائق ہے کہ اىک زمانے تک دنىا بالخصوص جرمنى کى عوام انہىں اچھے الفاظ مىں ىاد رکھے گى۔جرمنى دنىا کى چوتھى بڑى معىشت ہے اور اسے ىورپ کا اقتصادى پاور ہاؤس سمجھا جاتا ہے۔ ىہى نہىں بلکہ ىہ ملک پورے ىورپ کاقائد بھى مانا جاتا ہے کىونکہ انہىں انجىلا مرکل جىساقائد مىسر تھا جن کى سىاسى بصىرت کے باعث اس شعبے مىں نئى جان پڑگئى۔ اور ىہ کوئى آسان حدف نہىں تھا خصوصا ً اىسے وقت اور حالات مىں حکمرانى کرنا جب تمام تر عنان حکومت مردوں کے ہاتھ مىں تھا۔ 67 سالہ انجىلا مرکل پہلى مرتبہ نومبر2005ء مىں جرمنى کى چانسلر منتخب ہوئى تھىں۔ تب سے اب تک وہ مسلسل جرمنى کى منتخب چانسلر چلى آرہى تھىں۔

’’مىں جرمنى کى خدمت کرنا چاہتى ہوں‘‘

بائىس نومبر 2005 کو انجىلا مرکل نے ىہ الفاظ تب کہے جب انہوں نے پہلى مرتبہ چانسلر شپ کى ذمہ دارىاں سنبھالى تھىں۔ انہىں جرمنى کى پہلى خاتون چانسلر بننے کا اعزاز تو حاصل ہوا ہى تھا لىکن ساتھ ہى وہ اس عہدے پر فائز ہونے والى اىسى پہلى شخصىت بھى بنىں، جس کا تعلق سابقہ مشرقى جرمنى سے تھا۔ خاتون سىاست دان و سائنس دان ہىں جو تىن دفعہ ملک کى چانسلر رہ چکى ہىں۔ ان کى ذاتى جماعت کرسچىن ڈىموکرىٹک ىونىن (سى ڈى ىو) نے 2017ء کے انتخابات جىتے تھے جس کے بعد وہ چوتھى مرتبہ پھر سے چانسلر منتخب ہو گئىں۔ انجىلا مرکل کو فوربز کى جانب سے گذشتہ 10 برس کے دوران دنىا کى سب سے طاقتور خاتون کا خطاب دىا جاتا رہا ہے۔ ان کى پوزىشن خواتىن کى نمائندگى کى علامت کے اعتبار سے انتہائى اہم رہى ہے اور وہ اپنے دورِ اقتدار کے دوران خواتىن کو اہم عہدوں پر بھرتى کرنے کى وجہ سے بھى مشہور رہى ہىں۔ انجىلامرکل ىورپى اتحاد کے موجودہ رہنماؤں مىں سب سے زىادہ عرصے تک خدمات سرانجام دىنے والى لىڈر ہىں۔ اىک اندازے کے مطابق انہوں نے ىورپى ىونىن کے تقرىباً سو کے قرىب اجلاسوں مىں شرکت کى ہے اور انہىں اکثر ’’کمرے مىں اکلوتى بالغ‘‘ (ىعنى مىٹنگ مىں موجود سمجھ دار شخصىت) کے طور پر بھى بىان کىا جاتا تھا۔ انہوں نے پناہ گزىنوں کے بحران، ىورو کرنسى کے بحران، کسى حد تک کووڈ 19، ىہاں تک کہ برىگزٹ کے بحران مىں بھى ىورپى اتحاد کو آگے بڑھانے مىں مدد کى ہے۔

انجىلا مرکل نے اىک صاف ستھرى زندگى گزارى ہے۔ وہ انجىلا ڈورتھىاکاسنر Angela Dorothea Kasner کے نام سے 17جولائى 1954ء کو ہمبرگ جرمنى مىں پىدا ہوئىں۔ تىن بہن بھائىوں مىں وہ سب سے بڑى تھىں۔ ان کے والد لوتھرىن پادرى تھے اور ان کا تعلق پروٹسٹنٹ فرقے سے ہے۔ برلن کے شمال مىں پچاس مىل دور اىک قصبے ٹمپلن مىں ان کى پرورش ہوئى جو اس وقت مشرقى جرمنى کا حصہ تھا۔ ابتدائى تعلىم ٹمپلن مىں پانے کے بعد انجىلا کاسنر نے Leipzig لائپزگ ىونىورسٹى مىں داخلہ لے لىا جہاں 1973ء سے 1977ء تک فزکس کى تعلىم پائى۔

1978ء مىں انہوں نے کوانٹم فزکس مىں ڈاکٹرىٹ کى ڈگرى حاصل کرنے کے بعد Berlin-Adlershof ’’برلن آلڈرشوف‘‘ کى اکىڈمى آف سائنسز کےسىنٹرل انسٹى ٹىوٹ آف فزىکل کىمسٹرى مىں بطور سائنس داں کام کىا۔ اسى سبب ان کے مداح، سىاست مىں ان کى سائنسى اپروچ کى تعرىف کرتے ہىں۔انہوں نے 1977ء مىں اىک ماہر طبىعات اُلرچ مرکل سے شادى کى جو 1982ء مىں طلاق پر منتج ہوئى۔ پھر 1998ء مىں برلن کے اىک کىمسٹرى کے پروفىسر (Jaochim Saur) سے شادى کى جو کامىاب ہے۔ تاہم انجىلا نے پہلے خاوند کا نام ترک نہىں کىا۔ ’’ہارورڈ گزٹ‘‘ کے مطابق وہ 1989ء مىں دىوار برلن گرنے تک مشرقى جرمنى کے اىک سرکارى رىسرچ سىنٹر سے منسلک رہىں۔ جرمنى کے دوبارہ متحد ہونے کے بعد پىدا ہونے والے سىاسى حالات انہىں سىاست کى جانب لے گئے۔

سىاسى زندگى کا آغاز سوشلسٹ پارٹى مىں شمولىت سے ہوا، دوران تعلىم ہى سوشلسٹ پارٹى ىوتھ کى سىکرٹرى پراپىگنڈا و اىجى ٹىشن، جرمنى کے اتحاد کے بعد 1991ء مىں وفاقى جرمن پارلىمان کى رکن منتخب ہوئىں، تب سے اب تک 7 بار رکن بن چکى ہىں، 1991ء مىں وزىر برائے خواتىن و نوجوانان، 1994ء مىں وزىر برائے ماحولىات و نىوکلئىر سىفٹى، 1998ء مىں اپنى سىاسى جماعت کرسچىن ڈىموکرىٹک ىونىن کى سىکرٹرى جنرل مقرر ہوئىں، 2000ء مىں قائد حزب اختلاف بنىں اور 2005ء سے جرمنى کى چانسلر (سربراہ حکومت) ہىں۔ مرکل کو جرمنى مىں اىک معتدل مزاج رہنما سمجھا جاتا ہے جب عالمى سطح پر ان کى شہرت اىک باصلاحىت مصالحت کار کى رہى۔ انہوں نے اقتدار مىں آنے کے بعد 2007ء مىں ىورپى ىونىن اور جى آٹھ ممالک کے درمىان ماحولىاتى تبدىلىوں اور دىگر اصلاحات پر مصالحت مىں اہم کردار ادا کىا۔ جس کى وجہ سے انہىں ’’سمٹ کوئن‘‘ کہا جانے لگا۔ مرکل جب 2005ء مىں چانسلر منتخب ہوئىں تو ان کا موازنہ برطانىہ کى پہلى وزىر اعظم مارگرىٹ تھىچر سے کىا جاتا تھا۔ لىکن انجىلا نے اپنے محتاط انداز کى وجہ سے اپنى علىحدہ شناخت بنائى۔

مرکل جرمن، انگرىزى اور روسى زبان مىں مہارت رکھتى ہىں۔ ىورپى ىونىن کى مضبوط ترىن معىشت کى راہنمائى کرتى ہىں۔ تاہم انہىں وفاقى جمہورىہ جرمنى کے بجٹ سے مفت، مراعات، سہولىات، رہائش، بجلى، گىس ملتى ہے اور نہ کوئى تفرىحى اخراجات۔ وہ کسى دوسرے جرمن شہرى کى طرح عاجزى کے ساتھ اپنى زندگى گزار رہى ہىں۔ وہ اپنى شاپنگ خودکرتى ہىں، اپنے سامان کے تھىلے خود اٹھاتى ہىں، خرىدارى کى ادائىگى کرتى ہىں اور آگے بڑھ جاتى ہىں۔ اگر انہىں کہىں غلط پارکنگ کرنے پر ٹکٹ مل جاتا ہے تو اس کى ادائىگى اپنى جىب سے کرتى ہىں۔ خبر رساں ادارہ ’رائٹرز› کے مطابق انجىلامرکل کلاسىکى موسىقى شوق سے سنتى ہىں اور اس کے علاوہ وہ فارغ وقت مىں ہائىکنگ کرنا پسند کرتى ہىں۔ مرکل کى فطرى سادگى پسند طبىعت کے باعث ان کے فىشن کو بھى اکثر تنقىد کا نشانہ بناىا گىا پىرس والوں نے انہىں دىہاتى پھوہڑ عورت کہا۔ اىک عورت 18 سال تک اىک ہى لباس پہنتى رہے تو آپ اسے کىا کہىں گے؟

اىک پرىس کانفرنس مىں اىک خاتون جرنلسٹ نے پوچھ ہى لىا. ’’مىڈم چانسلر، آپ پچھلے کئى برسوں سے لگتا ہے اىک ہى سوٹ پہنے جارہى ہىں، کىا دوسرا نہىں ہے؟‘‘ ٹکا سا جواب ملا ’’مىں سرکارى نوکر ہوں، کوئى ماڈل نہىں۔‘‘ اىک اور پرىس کانفرنس مىں اس سے پوچھ لىا گىا۔ ’’تمہارے گھر مىں کتنى خادمائىں ہىں؟ کھانا وانا کون پکاتا ہے؟ جواب آىا ’’مىرے پاس کوئى خادمہ نہىں ہےنہ ہى مجھے ضرورت پڑتى ہے۔ مىں اور مىرا شوہر مل کر سارا کام نبٹا لىتے ہىں۔ ’’اىک اور صحافى نے مزىد تجسس کا اظہار کىا. کپڑے کون دھوتا ہے؟ آپ ىا آپ کے شوہر؟‘‘ جواب ملا ’’مىں کپڑے جمع کرکے واشنگ مشىن مىں ڈالتى ہوں۔ مىرا شوہر مشىن کو چلاتا ہے۔ کوشش کرتے ہىں کہ ىہ کام رات کو بغىر کسى شور شرابے کے کرىں تاکہ ہمارے پڑوسى پرىشان نہ ہوں۔‘‘ پھر اس نے اضافہ کىا ’’مىرا خىال ہے تم لوگ مىرى حکومت کى کارکردگى پر توجہ دو تو زىادہ بہتر ہے۔‘‘ مرکل برلن کے اىک عام سے فلىٹ مىں پچھلے بىس برس سے رہتى ہىں۔ اقتدار کے اٹھارہ برسوں مىں بھى انکا پتہ نہىں بدلا۔ وہ کسى ولا مىں منتقل نہىں ہوئىں نہ ہى کسى سوئمنگ پول اور باغ والے گھر کى مالکن بنىں۔ان کى واپسى بھى اسى فلىٹ مىں ہوئى۔

ذاتى خصوصىات

مرکل مىں حىران کن اور ناقابل ىقىن حد تک صبرو تحمل پاىا جاتا ہے۔وہ ہمىشہ زمىنى حقائق کے ساتھ چلتى ہىں۔ان کى کامىابى کى اىک بڑى وجہ ىہ بھى ہے کہ وہ اپنے مرد کولىگز کى جذباتىت کو اپنى عقلىت سے تسلىم کرنے کى اہل تھىں۔ان کے لئے طاقت اہم ضرور تھى لىکن ان کے لئے طاقت کا اظہار اور اسکى ظاہرى چمک دمک کوئى اہمىت نہىں رکھتىں۔ کچھ دىر کى تعرىف نہىں بلکہ اىک طوىل المدتى لائحہ عمل ہمىشہ ان کى اولىن ترجىحات مىں شامل رہا۔ اپنے پہلے دور اقتدار مىں انہوں نے اپنى وزىر برائے خاندانى امور کے Ursula von der Leyen ساتھ مل کر خاندانى امور سے متعلق اىک نئى پالىسى اپنائى جس مىں والدىن کے لئے ماہانہ وظىفے ملازمت پىشہ خواتىن کے لئے ڈےکئىر کى زىادہ سہولىات کو پالىسى کا اہم حصہ بناىا گىا۔

انجىلا مرکل زىادہ تر اپنے جذبات آشکار نہىں ہونے دىتى ہىں۔ تاہم دىگر جرمنوں کى طرح انجىلا مرکل بھى فٹ بال کى دلدادہ ہىں۔ جب جرمن قومى فٹ بال ٹىم نے برازىل منعقدہ عالمى کپ 2014ء کے فائنل مىں کامىابى حاصل کى تو مرکل اپنے جذبات کو قابو مىں نہ رکھ سکىں۔ جرمن صدر بھى ىہ مىچ دىکھنے کى خاطر مىرکل کے ساتھ رىو ڈى جنىروگئے تھے۔ کىا لوگ اىسے حکمران کو جو اپنى ذات مىں اس قدر سادگى کا مالک سمجھا جاتا ہے فراموش کر سکتے ہىں؟ ان کے بارے مىں تحقىق کے دوران مجھے DW نىور کے نمائندہ مکرم رفعت سعىد صاحب کے بلاگ پر انکا ذاتى مشاہدہ پڑھنے کو ملا وہ بىان کرتے ہىں:

چانسلر مىرکل کى سادگى
مىں نے اپنى آنکھوں سے دىکھى

جرمن چانسلر انجىلا مرکل کى عاجزى، انکسارى اور پروٹوکول سے دورى کا اندازہ مجھے سن 2004ء مىں اس وقت ہوا، جب مىں جرمنى مىں فرىنکفرٹ سے برلن پرواز کرنے کے لىے ہوائى اڈے کے لاؤنج مىں موجود تھا۔ اسى اثنا مىں جو خاتون اپنا ہىنڈ کىرى پکڑے اس لاؤنج مىں آئىں، وہ مرکل تھىں۔ انجىلا مرکل اس وقت جرمن پارلىمان مىں حزب اختلاف اور اپنى جماعت کرسچن ڈىموکرىٹک ىونىن کى سربراہ تھىں۔ مىں نے چند روز قبل ہى اخبار مىں ان کى تصوىر دىکھى تھى اور مجھے علم تھا کہ ىہ خاتون جرمن سىاست دان ہىں۔ انجىلا مرکل نے مىرى سامنے والى نشست پر اپنا سامان رکھا اور کاؤنٹر سے بلىک کافى لے کر اخبار کا مطالعہ کرنے لگىں۔کچھ ہى دىر مىں فلائٹ کے اعلان پر ہم دونوں اىک ہى طىارے پر سوار ہونے کے لىے روانہ ہوئے۔ اپنے ملک کى اتنى اہم سىاستدان ہونے کے باجود وہ بغىر کسى محافظ کے وہاں موجود تھىں۔اتفاق سے طىارے پر ہم دونوں کى نشستىں بھى ساتھ ہى تھىں۔ طىارہ بہت زىادہ کشادہ نہىں تھا اور مىرى نشست کھڑکى کے ساتھ تھى، اپنى نشست پر بىٹھى انجىلا مرکل مجھے دىکھتے ہىں کھڑى ہو گئىں اور مجھے اپنى سىٹ پر پہنچنے کے لىے جگہ دے کر پھر سے اخبار کا مطالعہ کرنے لگىں۔طىارے نے برلن کے اىئر پورٹ پر لىنڈ کىا تو ہم دونوں تقرىباًساتھ ہى باہر آئے کىونکہ دونوں کے پاس ہىنڈ کىرى کے علاوہ اور سامان نہىں تھا اور مىں نے دىکھا کہ ا نجىلا مرکل اىئر پورٹ سے ٹىکسى مىں بىٹھ کر روانہ ہو گئىں۔ہوائى اڈے پر نہ تو ان کى پارٹى کا کوئى رکن ان کے استقبال کے لىے موجود تھا اور نہ ہى پولىس کى سائرن بجاتى ہوئى گاڑىوں ان کى ٹىکسى کے آگے موجود تھىں۔ىہ پورا واقعہ مجھے اىک برس بعد اس وقت دوبارہ ىاد آىا، جب انگىلا مىرکل پہلى بار جرمنى کى چانسلر منتخب ہوئىں اور مىرے دل مىں خواہش پىدا ہوئى کہ کاش مىرے ملک مىں بھى اىسى ہى حکمران ہوا کرىں۔ انجىلا مرکل صرف جرمنى ہى نہىں بلکہ عالمى سطح پر بھى دىگر عالمى رہنماؤں کے مقابلے مىں زىادہ قابل اعتماد، معاملہ فہم اور باصلاحىت سىاست دان کے طور پر جانى جاتى ہىں۔انجىلا نے اپنے دور مىں جو کارہائے نماىاں انجام دىے ہىں اس سے نا صرف آنے والے حکمران سے قوم کى توقعات بہت زىادہ ہوں گى بلکہ حکمران خود بھى انجىلا مرکل کے اثر کا دباؤ طوىل عرصے محسوس کرے گا۔دنىا کى اىک مضبوط معىشت رکھنے والے ملک جرمنى کى 16 سالہ طوىل مدت تک سربراہى کرنے والى انجىلا مرکل کى سادگى، بچت اور طرز زندگى کى مثال عالمى سطح پر دى جا رہى ہے لىکن اس کے برعکس اگر پاکستان سمىت جنوبى اىشىا کے ممالک کے حکمرانوں کے طرز سىاست اور پرتعىش رہن سہن کو دىکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم ابھى اس طرز حکمرانى سے صدىوں نہىں بلکہ تو دھائىوں دور ہىں، جس کى ہمارے عوام حکمرانوں سے توقع رکھتے ہىں۔

خود اپنے بارے مىں مرکل کہتى ہىں کہ مىں جھک تو سکتى ہوں لىکن کبھى ٹوٹ نہىں سکوں گى کىوں کہ اىک مضبوط عورت ہونے کے ناتے ىہ مىرى فطرت مىں ہے۔بلا شبہ وہ قابل خاتون اور زىرک سىاست داں ہىں۔ان سے پہلے جرمنى کو دوبارہ متحد کرنے والے Helmut Kohl اور دوسرى جنگ عظىم کے بعد جرمنى کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والے Konrad Adenauer دو بڑے سىاسى راہنما تھے جنہىں چار بار جرمنى کا چانسلر بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ انجىلا مرکل اىک کرشماتى شخصىت ہىں۔ مثبت سوچ، مضبوط اعصاب اور متاثر کن لہجے والى ىہ جرمن سىاست داں صرف اپنے ملک کے ماتھے کا جھومر ہى نہىں بلکہ دنىا بھر کى عورتوں کے لىےبھى باعث فخر ہے۔سىاسى تجزىہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انجىلا مرکل نے جرمن قوم کے ذہن سے قوم پرستى، عسکرىت پسندى اور نسل کشى کے رجحانات نکال کرانسانىت، فىاضى اور برداشت کے بىج بو دىے ہىں۔ مرکل کہتى ہىں کہ جرمنى اپنى عظىم قوت اب دنىا کو بچانے پر صرف کرے گا، تباہ کرنے پر نہىں۔انہوں نے پہلے انتخاب مىں اپنى فتح سے لے کر چوتھے انتخاب مىں اپنى جىت سے ثابت کىا کہ وہ اىسى راہنما ہىں جن پر پورى طرح اعتماد کىا جا سکتا ہے اور جو لوگوں کى اجتماعى توقعات پورا کر سکتى ہىں۔ 2015ء مىں دس لاکھ سے زائد مہاجرىن جرمنى مىں داخل ہوئےان کا ىہ اقدام دنىا بھر مىں صفحہ اول کى شہ سرخىوں مىں رہالىکن ان کى حماىت کے باعث انجىلا مرکل اور ان کى جماعت کو انتخابات مىں خاصا نقصان اٹھانا پڑا۔ ملک مىں کچھ لوگوں نے اپنے ملک مىں آنے والوں کو خوش آمدىد کہنے کى ثقافت پر فخر کا اظہار کىا، جس کى علامت انجىلامرکل بن گئى تھىں۔

ستمبر2017ء مىں ہونے والے انتخابات مىں ان کى جماعت کو پچھلے انتخابات کےمقابلے مىں کم نشستىں ملنے کى وجہ سے مخلوط حکومت بنانےکےلىے انہىں دىگر سىاسى جماعتوں سے طوىل مذاکرات کرنے پڑے جس کى وجہ سے تقرىباً چھ ماہ نئى حکومت کے قىام کا معاملہ التواء مىں پڑا رہا۔ لہذا 14 مارچ 2018ء کو جرمن پارلىمان مىں چانسلر کے انتخاب کے لىے جو رائے شمارى ہوئى اس کے تحت مرکل چوتھى مرتبہ جرمن چانسلر منتخب ہوگئىں۔

 البتہ انہىں اپنى جماعت کى کم ہوتى ہوئى مقبولىت کا بخوبى احساس تھا۔ چنانچہ اکتوبر 2018ء مىں انہوں نے اپنى سىاسى جماعت، کرسچىن ڈىموکرىٹک ىونىن کى قىادت سے دست بردار ہونے اور آئندہ انتخابات مىں چانسلر کے لىے امىدوار نہ ہونے کا اعلان کردىا تھا۔ دارالحکومت برلن مىں اىک پرىس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ علاقائى انتخابات مىں شکست کے بعد وہ آئندہ مدت کے لىے چانسلر کى امىدوار بھى نہىں بنىں گى۔ اس کى اىک وجہ ان کى اعصابى تکلىف بھى بىان کى جاتى ہے تجزىہ نگاروں کا کہنا تھا کہ وہ معمول سے زىادہ کام کرنے کے باعث انہىں اعصابى تھکاوٹ محسوس ہوئى تھى تاہم انہىں کسى قسم کى اعصابى بىمارى نہىں ہے۔ ىاد رہے کہ ان علاقائى انتخابات مىں سى ڈى ىو مزىد نشستىں کھوبىٹھى تھى۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامى اعتماد کھودىنے پر انہىں اقتدار مىں رہنے کا کوئى حق نہىں ہے۔ مرکل نے مئى 2019ء مىں ہى ىہ فىصلہ کرلىا تھا کہ اقتدار سے علىحدہ ہونے کے بعد وہ کوئى بھى سىاسى عہدہ قبول نہىں کرىں گى۔ برلن مىں صحافىوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اپنى مىعاد مکمل ہونے کے بعد وہ کسى بھى طرح کى سىاسى سرگرمى مىں حصہ نہ لىنے کےلىے بھى پرعزم ہىں اور اپنے ملک، ىورپى ىونىن ىا کسى دوسرے ملک ىا ادارے مىں کوئى عہدہ نہىں لىں گى۔ خىال رہےکہ انجىلا مرکل کى جانب سے ىہ موقف اىسے وقت مىں سامنے آىاتھاجب ان کا نام ىورپى کونسل کى سربراہ کے لىے تجوىز کىے جانےکى خبرىں گردش کررہى تھىں۔ ان خبروں کے مطابق انہىں2021ء مىں جرمن چانسلر کےعہدے سے سبکدوشى کے بعد ىورپى کونسل کا سربراہ مقرر کىا جا سکتا تھا۔

جرمن چانسلر انجىلا مرکل مسائل کے باوجود بھى پرسکون دکھائى دىتى ہىں۔ کووِڈ۔ 19کى وبا کے دوران انہوں نے جس طرح حالات پر قابو پاىا اور جس طرح ملک اور قوم کى قىادت کى اس نے اىک بار پھر ان کى جماعت کى حماىت مىں اضافہ کىا۔ کووڈ 19 کے بحران نے اس سے پہلے والے ىورو بحران کے برعکس، انہىں قائل کىا کہ جرمنى جىسے امىر ممالک کو ىورپى ىونىن کے غرىب ممالک کے قرضوں کا بوجھ اٹھانا چاہىے، جىسے ىہاں وہ ممالک جو وبائى امراض کے غىر متناسب معاشى اثرات کا شکار ہىں۔ اىسا کرتے ہوئے انہوں نے ىورپى اتحاد مىں اىک شاندار مثال قائم کى۔ سن 2008ء مىں جب عالمى مالىاتى بحران پىدا ہوا تو مرکل نے ىورو کو مضبوط بنانے کى خاطر بہت زىادہ محنت کى۔ اس بحران مىں ان کى حکمت عملى نے مىرکل کو ’’بحرانوں کو حل کرنے والى شخصىت‘‘ بنا ڈالا۔ مىرکل کى کوششوں کى وجہ سے ہى اس بحران مىں جرمنى کى معىشت زىادہ متاثر نہىں ہوئى تھى۔ جو اىک جرمن چانسلر کے لىے رىڈىکل پوزىشن تھى، خاص طور پر اس وقت جب اندرون ملک رواىتى دباؤ موجود ہو اور توازن برقرار رکھنا ضرورى ہے۔فرانس کے وزىر اقتصادىات، برونو لى مائر، ىورپى ىونىن کے کووڈ رىکورى فنڈ کے کلىدى معمار تھے، جو انگىلا مىرکل اور صدر اىمانوىل مىکروں نے مشترکہ طور پر ىورپى ىونىن کے رہنماؤں کو تجوىز کىا تھا۔انہوں نے مجھے بتاىا کہ وہ ا نجىلا مرکل کى ہمت کى بدولت ىورپى ىونىن کے لىے اىک گىم چىنجر تھا۔ انہوں نے ثابت کىا کہ وہ جرمنى مىں موجودہ طرز فکر کے خلاف اور ىورپى براعظم کے بہتر انضمام اور بہتر کارکردگى کے حق مىں فىصلہ کر سکتى ہىں۔لى مائر کا خىال ہے کہ چانسلر مرکل کو پتہ چل گىا تھا کہ اگر انہوں نے دستخط نہىں کىے تو ىورپ کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔

اىک اور نقطہ نظر ىہ ہے کہ اىک بار پھر انجىلا مرکل جرمنى کے بہترىن مفاد مىں ہى کام کر رہى تھىں۔ انہىں ممکنہ طور پر ىہ بھى پتہ تھا کہ اگر اٹلى، سپىن، فرانس ىا دىگر کا وبائى امراض کى وجہ سے معاشى طور پر دم گھٹا تو ىورپى اتحاد کى سنگل مارکىٹ منہدم ہو سکتى ہے۔ىہ مارکىٹ جرمن کاروبار کے لىے اىک اہم پىسہ کمانے کا ذرىعہ ہے۔ چنانچہ کرائسس مىنىجر انجىلامرکل نے اپنى آستىنىں چڑھائىں اور ڈرامائى، عملى قدم اٹھاىا۔ انہوں نے جرمنى مىں اور اس سے آگے تارىخ اور شہ سرخىوں مىں جگہ بنائى۔

رواں برس جنورى کى 16 تارىخ کوان کى جماعت نے مسٹر لاشىٹ کو نىا قائد منتخب کىا، اسى روز جرمن پارلىمان نے مرکل کوان کى ملک اور قوم کے لىے خدمات پرزبردست انداز مىں خراجِ تحسىن پىش کىا۔ اراکىنِ پارلىمان اپنى نشستوں پر کھڑے ہوئے اور چھ منٹ تک ان کے لىے تالىاں بجاتے رہے۔ جرمنى کے لوگوں کے بارے مىں عام تاثر ىہ ہے کہ ىہ تھوڑا خشک مزاج لوگ ہىں۔ پھر وہاں کى سىاسى تارىخ مىں کسى راہ نما کو اس طرح خراجِ تحسىن پىش کرنے کى رواىت بھى زىادہ مستحکم نہىں۔ اىسے مىں مرکل کو ىہ عزت ملنا بہت سے لوگوں کے لىے حىرت کى بات تھى۔لىکن مرکل نے جس طرح 16 برس تک جرمنى کو چلاىا وہ کوئى معمولى بات نہىں تھى۔عورت ہونے کے باوجوداس جرمن راہنمانے بہت دبنگ انداز مىں ملک اور قوم کى قىادت کى اور بڑے بڑے ملکى اور عالمى مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کىا۔ 8 جون 2006ء سے، مرکل دنىا بھر مىں حکومت کى پہلى سربراہ رہى ہىں جنہوں نے وىڈىو پوڈ کاسٹ کے ذرىعے عوام سے خطاب کىا۔ وہ حکومتى پالىسى کے مواد اور اہداف کو عوام تک پہنچانے کے لىے ىہ ذرىعہ ہفتہ وار استعمال کرتى ہىں۔ مرکل 16 سال کمال کے سال تھے۔ قىادت اور اختىار کے ان تمام برسوں مىں کوئى مالىاتى سکىنڈل نہىں بنا۔دنىا کى سب سے بڑى مالى قوتوں مىں سے اىک اور چار ٹرلىن جى ڈى پى کى ڈرائىونگ سىٹ پر بىٹھى انجىلانے کوئى بندر بانٹ نہىں کى، ان کا کسى پانامہ سکىنڈل مىں نام نہىں آىا۔انہوں نے کوئى پلاٹ الاٹ نہىں کرواىا۔کوئى جہاز، ىاٹ اور رولز رائس نہىں خرىدى۔سىف ہىونز safe heavens مىں کوئى اکاؤنٹ نہىں کھلوائے۔کوئى بھاشن نہىں دىے۔تصوىرىں کھنچوانے کے لئے پوز نہىں بنائے۔ نام کے ساتھ خادم اعلىٰ لگاىا، نہ نىا جرمنى بنانے کا وعدہ کىا۔ 16 سالوں مىں تقرىباً ڈىڑھ ٹرلىن ڈالرز کا جى ڈى پى مىں اضافہ کىا، اپنا کام کىا اور بس!

مرکل نے قرآن نذر آتش کرنے کے تحرىک کى شدىد مذمت کى، جس پر بہت تنقىد ہوئى۔ ترکى کے دورے کے دوران انہوں نے کہا ’’اسلام اور جرمنى اىک ہىں‘‘، جس پر طوفان برپا ہوگىا۔شام کى خانہ جنگى کے دوران جب عرب بھائىوں نے شامىوں پر دروازے بند کر دىے اور لاکھوں شامى خاندان بحىرہ روم کى بے رحم لہروں مىں کود کر سلامتى کى تلاش مىں نکلے تو اىنگلا نے پورے دس لاکھ، اىک ملىن مہاجرىن کو جرمنى مىں خوش آمدىد کہا اور شدىد مخالفت کے باوجود پچھلے پانچ برسوں مىں انہىں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دىا۔ اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہمىں اس مشکل وقت مىں اپنا دوستانہ چہرہ دکھانے سے کترانا ہے تو پھر ىہ مىرا ملک نہىں ہے۔چھ برس بعد آج مرکل کا کہنا ہے کہ انہىں اپنے فىصلے پر کوئى پچھتاوا نہىں ہے۔‘‘

جرمن اخبار Süd Deutsche Zeitung کے مطابق مرکل کا ىقىن تھا کہ لوگوں کے ساتھ اچھے انداز مىں برتاؤ کرنا چاہىے۔ انہىں سرحدوں کے پار نہىں دھکىلنا چاہىے۔ رپورٹ کے مطابق مرکل کے اس فىصلے سے ىورپ مىں تقسىم کى بجائے اتحاد کى فضا بنى۔

انجىلا مرکل کو اپنے نئے دورِ حکومت مىں بہت سے نئے چىلنجزکا سامنا تھاجن مىں سے اىک نئى اقتصادى پالىسى کا نفاذ تھا کىوں کہ جرمنى کو افرادى قوت مىں سخت کمى کا سامناکرنے کا عندىہ دىا گىا تھا۔ اس حوالے سے جرمنى کے اقتصادى پالىسى ساز وں مىں کافى تشوىش پائى جاتى تھى۔ اس کے علاوہ اىک اور مسئلہ گلوبلائزىشن کا تھا۔ جرمنى کى خواہش ہے کہ دنىا بھر کى کمپنىز اُس کے ہاں کام کرىں تاکہ ٹىکسس کى مد مىں اُسے خاطر خواہ اقتصادى فوائد حاصل ہوسکىں۔ اس کے لىے امىگرىشن قوانىن مىں تبدىلى اور افرادى قوت کے لىے تارکىن وطن کو اپنے ملک مىں آنے کى ترغىب دىنا آنے والے دنوں مىں وہ ممکنہ ہدف ہوسکتے تھے جن کے حصول کے لىے انجىلامرکل کو کئى مشکل فىصلے کرنے پڑے۔

سب سے بڑا چىلنج جو انجىلا مرکل کى نئى حکومت کو درپىش تھاوہ ىورپى ىونىن کو اپنى اصلى حالت مىں بہ دستور قائم رکھنے کا تھا۔ جرمنى کى خواہش تھى کہ برطانىہ کے ىورپى ىونىن سے علىحدگى کے بعدسے ىورپى ىونىن جس بحران سے گزر رہا ہے اُس سے جلد از جلد باہر نکل آئے۔ جرمن چانسلرکى خواہش تھى کہ ىورپى ىونىن کے تمام ممالک اىک مشترکہ ڈىفنس سسٹم اور سىکىورٹى پالىسى جلد ازجلد ترتىب دے لىں تاکہ ىورپ پر حملہ آور دہشت گردى کے عفرىت سے مقابلہ کرنے کےلىے انہىں دنىا کے کسى اور ملک، خاص طور پر امرىکا کى طرف نہ دىکھنا پڑے۔مرکل نے اس ضمن مىں بھى کافى جدوجہد کى اور بہت حد تک ىورپ کو متحد رکھنے مىں کام ىاب رہىں۔ تاہم مشترکہ دفاع کا ان کا خواب ابھى شرمندہ تعبىر نہىں ہوا ہے۔ غىر ملکى راہنماؤں اور اندرون ملک مخالفىن نے طعنے دىے اور شدىد مخالفت کى، لىکن وہ اپنے موقف سے اىک انچ بھى پىچھے نہىں ہٹىں۔

جرمن نشرىاتى ادارے DW کے مطابق انجىلا مرکل نے کئى بىن الاقوامى بحرانوں مىں جرمنى کى قىادت کى۔ ان کے دور اقتدار مىں جرمنى کو 2008ء کے عالمى مالى بحران سے لے کر 2015ء مىں پناہ گزىنوں کے بحران اور برطانىہ کے برىگزٹ جىسے پىچىدہ معاملات اور اب حال ہى مىں کورونا وائرس کى وبا جىسے چىلنجز کاسامنا رہا۔ان کو ماں اور ىورپ کى ملکہ کے نام سے بھى پکارا بھى گىا۔ انجىلا مرکل کے بارے مىں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے احسن طرىقے سے بحرانوں کا سامنا کىا۔جرمن نشرىاتى ادارے DW کى جرمن چانسلر کے بارے مىں اىک ڈاکومنٹرى مىں کئى ىورپى رہنماؤں نے ان کى قىادت اور ىورپ کو متحد کرنے کے بارے مىں بات کى ہے۔

فرانس کے سابق صدر فرىنکوئس ہولونڈے François Hollande نے کہا کہ ’’انجىلا مرکل کو اىک عظىم ىورپى سىاستدان کے طور پر ىاد رکھا جائے گا۔ بے شمار بحرانوں کے باوجود انہوں نے ىورپى ىونىن کو متحد رکھا۔‘‘

سابق برطانوى وزىراعظم ٹونى بلىئر نے ان کے بارے مىں کہا کہ ’’مشکل ترىن برسوں مىں ىورپ کو متحد رکھنا ان کى اىک قابل ذکر کامىابى ہے۔‘‘

برطانوى تارىخ دان نىال فرگوسن نے کہا کہ ’’کوئى بھى انجىلا مرکل کى سىاسى قابلىت، سىاسى مہارت اور حکمت عملى کى مہارت سے انکار نہىں کر سکتا۔‘‘

بطور چانسلر مرکل کى مىراث کىا ہے؟

Matt Qvortrup مىٹ کواٹروپ Coventry University کوىنٹرى ىونىورسٹى مىں سىاسىات کے پروفىسر ہىں اور انجىلا مرکل: ىورپ کى سب سے بااثر خاتون ’’نامى کتاب کے مصنف بھى ہىں وہ اس سوال کا جواب دىتے ہوئے کہتے ہىں کہ ’’انہوں نے جرمنى کى سىاسى بحث کا مرکز سىاست سے ہٹا کر پالىسى کى جانب موڑ دىا ہے۔ وہ کہتے ہىں کہ اس سے قبل جرمنى کى سىاست مىں مردوں کى اجارہ دارى ہوا کرتى تھى اور اسے کلب آف مىن کہا جاتا تھا۔ مرکل کے اقتدار کے دوران بىانىہ پالىسى کے گرد گھومنے لگى ہىں۔ اس طرزِ حکمرانى کا مسئلہ شاىد ىہ ہے کہ ىہ خاصا مکىنىکل اور سائنسى ہو جاتا ہے۔ مسز مرکل کى تربىت بطور فزسسٹ ہوئى ہے اور انہوں نے کوانٹم کىمسٹرى مىں پى اىچ ڈى کر رکھى ہے۔ اس لىے ان کے طرزعمل کى بنىاد حقىقت پسندى پر ہے۔ ىہ کوئى اىسى بات نہىں ہے جو انتہائى شاندار ہو۔ لىکن انہوں نے اپنے ہى طرىقے سے جرمنى اور دنىا کى سىاست مىں اىک انقلاب برپا کر دىا ہے۔ اىک اىسے وقت مىں جب سىاست وقت کے منقسم کرنے والى ہوتى جا رہى ہے، انہوں نے معاملات کو غىر سىاسى بنا کر ىہ تقسىم ختم کرنے کى کوشش کى ہے۔‘‘

Dr.Katrin Schreiter .King`s College Londen : جرمن اور ىورپى علوم کى لىکچرار، کنگز کالج لندن

ان کى مىراث پرعزم اور خاموش رہنما کى ہے۔ ان کى لىڈرشپ کا خاصا صورتحال کو سنجىدگى سے پرکھنا اور اپنى اہلىت کو تشہىر کرنے پر مبنى تھا۔ ان پر اکثر دور اندىش نہ ہونے کا الزام لگاىا جاتا ہے۔ تاہم ووٹرز کو معلوم ہوتا تھا کہ وہ ان سے کس چىز کى امىد رکھ سکتے ہىں۔ وہ صورتحال بھانپنے اور اپنے ووٹرز کى سوچ جاننے مىں مہارت رکھتى تھىں۔ اس کے باعث انہىں بىن الاقوامى اتحادىوں کا اعتماد حاصل ہوا۔ان کى اىک اور مىراث ىہ بھى ہے کہ انہوں نے اپنى جماعت کے نظرىے کو لبرل سوچ مىں بدل دىا۔ انہوں نے قدامت پسند مسىحى ڈىموکرىٹ جماعت کو سىنٹر کى جماعت بنانے مىں کردار ادا کىا ہے اور کچھ معاملات مىں بائىں بازو کى جماعت گرىنز کے نظرىات سے بھى قرىب کىا ہے۔

حال ہى مىں انہوں نے کہا تھا کہ وہ وقفہ لىنا چاہتى ہىں اور سوچنا چاہتى ہىں انہىں کس چىز مىں دلچسپى ہے جو انہوں نے 16 برسوں مىں نہىں کىا تاہم اس کے لىے وہ سوچىں گى۔ انجىلا مرکل تو رخصت ہو رہى ہىں لىکن خطے کى سب سے بڑى معىشت اور ان کى حکومت کے بڑے اقتصادى منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لىے نئے چانسلر کو سىاسى فہم و فراست سے کام لىنا ہوگا۔

Prof.Dr.Rüdiger Schmitt.Beckان کے بارے مىں کہتے ہىں:
مىرے لىے ان کا پسندىدہ قول ان کے دور کے آغاز مىں کہا گىا جملہ تھا۔ جب ان سے پوچھا گىا کہ جب وہ جرمنى کے بارے مىں سوچتى ہىں تو کىا محسوس کرتى ہىں۔ انہوں نے جواب دىا کہ ’’مىں اىسى کھڑکىوں کے بارے مىں سوچتى ہوں جو اچھى طرح بند کى گئى ہوں۔ کوئى ملک اس سے بہتر اتنى محفوظ کھڑکىاں نہىں بنا سکتا۔‘‘ اس سے ان کى عاجزى اور حقىقت پسندى کے بارے مىں پتا چلتا ہے۔ انھوں نے اسے اىک انتہائى عملى طرىقے سے پرکھا۔ مىرے نزدىک ىہى ان کى پہچان تھى۔

Arsala Wyden Field

مرکل کى بائىوگرافى کى مصنفہ ارسلا وائىڈن فىلڈ کے مطابق انجىلامرکل کا مذاکرات کا طرىقہ، مذاکرات، مذاکرات اور مذاکرات ہے، چاہے وہ چىن کے ساتھ ہو ىا روس کے ساتھ ہو۔ ان کے بقول انجىلامرکل مسلسل گفتگو کو جارى رکھتى ہىں۔ وہ مسلسل مذاکرات جارى رکھتى ہىں۔ وہ ىورپ کى جانب سے مذاکرات مىں آخرى فرد کے طور پر کھڑى رہتى ہىں اور وہ تب تک ہار نہىں مانتى ہىں جب واقعى رات آ جائے۔ ىہى انہوں نے ولادىمىر پىوٹن کے ساتھ بھى کىا۔

’’ہاں، مىں فىمنسٹ ہوں‘‘ جرمن چانسلر

جرمن چانسلر انجىلا مرکل نے جرمنى کے شہر Düsseldorf مىں بدھ کے روز منعقد اىک تقرىب کے دوران نامہ نگاروں سے بات چىت کرتے ہوئے ىہ اعتراف کىا کہ وہ ’’فىمنسٹ‘‘ ہىں۔ اس موقع پر نائىجرىائى مصنفہ اور خواتىن کے حقوق کى علمبردار شىماماندا نغوزى ادىشى بھى موجود تھىں۔ انجىلا مرکل نے اپنے موقف کى وضاحت اىسے وقت کى ہے جب وہ جرمنى کے چانسلر کے عہدے سے چند دنوں بعد ہى دست بردار ہونے والى ہىں۔ بہر حال انہوں نے پہلى مرتبہ حقوق نسواں کے حوالے سے اپنے موقف کا کھل کر اظہار کىا ہے۔ انجىلا مرکل کا کہنا تھا، ’’درحقىقت ىہ سماج مىں اور زندگى کے ہر شعبے مىں شراکت دارى مىں مرد اور خواتىن کے برابر ہونے کى بات ہے۔ اور اس لحاظ سے مىں ىہ کہہ سکتى ہوں کہ مىں اىک فىمنسٹ ہوں۔‘‘ انجىلا مرکل نے کہا کہ ’’مرد اور خواتىن کے درمىان برابرى کے حوالے سے ان کى ىہ رائے کئى برسوں کے غور و فکر کے نتىجے مىں قائم ہوئى ہے۔ ہر اىک کو فىمنسٹ کىوں ہونا چاہئے۔‘‘ انجىلا مرکل سے اىک بارجب پوچھا گىا تھا کہ کىا وہ فىمنسٹ ہىں؟ تو انہوں نے اس سوال کا براہ راست کوئى جواب نہىں دىا تھا۔ جس کى وجہ سے بعض حلقوں نے ماىوسى ظاہر کى تھى اور ان پر نکتہ چىنى بھى کى تھى۔ لىکن بدھ کے روز منعقدہ پروگرام مىں جرمنى کى پہلى خاتون چانسلر نے ماضى کے برخلاف کہىں زىادہ کھل کر اپنى رائے کا اظہار کىا۔ جرمن چانسلر کا کہنا تھا، ’’مىں نے جب پہلے اس سلسلے مىں بات کى تھى تو تھوڑى جھجھک محسوس کر رہى تھى۔ لىکن اب مىں نے اس پر کافى غور کىا ہے۔ اور اس حوالے سے مىں ىہ کہہ سکتى ہوں کہ ہم سب کو فىمنسٹ ہونا چاہئے۔‘‘ سامعىن نے ان کى اس بات کا تالىوں کى گڑگڑاہٹ سے استقبال کىا۔ ادىشى نے بھى اس کى تعرىف کى، جن کى کتاب We Should All be Feminist کو اکىسوىں صدى مىں فىمنزم کى اىک معتبردستاوىزکہا جاتا ہے۔

مرکل نے فىمنزم کے بارےکہا، ’’مىرے لىے فىمنزم‘‘ کا لفظ اىک خصوصى تحرىک سے وابستہ ہے، جس نے ان موضوعات کو سماج کے اىجنڈے پر لانے کے لىے کافى جدوجہد کى ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مىں نے پہلى مرتبہ اس موضوع پر بات کى تھى تو تھوڑى جھجھک محسوس کى تھى لىکن اب مىں اس کے بارے مىں کافى غور کر چکى ہوں۔ حالانکہ مىں ىہ بھى کہوں گى کہ ہمارے ملک مىں اىسا کچھ تو ہے جو بدل چکا ہے۔ 20 برس قبل اگر مىں اسى طرح کا کوئى مباحثہ دىکھتى اور پىنل مىں صرف مرد موجود ہوتے تو مىں اس کو نوٹس بھى نہىں کر پاتى لىکن مىں اب اىسا نہىں سمجھتى ہوں۔ مىں اسے بالکل ہى معمول کے مطابق نہىں سمجھتى ہوں۔‘‘

اب مستقبل مىں ان کى مصروفىات کىا ہو سکتى ہىں

طوىل عرصے تک جرمنى کى چانسلر اور رکن پارلىمنٹ انجىلا مرکل سىاست سے کنارہ کش ہونے والى ہىں۔ لىکن وہ الىکشن کے بعد اس وقت تک چانسلر کے منصب پر براجمان رہىں گى جب تک نئى حکومت تشکىل نہىں پا جاتى۔ انجىلا مرکل اىسے سوالوں کا جواب دىنے سے اجتناب کىا کرتى تھىں، جن کا تعلق ان کے سىاست کو الوداع کہنے کے بعد سے ہوتا تھا۔ رواں برس جولائى مىں امرىکى دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ سىاست سے دستبردار ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ وقفہ لىں گى اور کسى دعوت نامے کو قبول نہىں کرىں گى۔ ان کا ىہ بھى کہنا تھا کہ وہ سىاست کے بعد سوچىں گى کہ انہىں کس کس شے مىں دلچسپى ہو سکتى ہے۔ ان کا ىہ بھى کہنا تھا کہ وہ کچھ دىر مطالعہ کرىں گى اور پھر تھوڑى دىر آرام سے نىند کرىں گى۔امرىکى دورے کے دوران جان ہوپکنز ہونىورسٹى نے انجىلا مرکل کو اعزازى پى اىچ ڈى کى ڈگرى سے بھى نوازا تھا۔ مرکل کے 16 سالہ دورِ اقتدار کے بعد جرمنى مىں آئندہ چند ہفتے ىا مہىنے خاصے اہم خىال کىے جا رہے ہىں۔

جرمنى کے سىاسى منظر نامے مىں تبدىلى
کے بارے مىں حضور انور کا ارشاد

کچھ عرصہ قبل حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ نے خدام کے اجتماع کے موقع پر جرمنى کے سىاسى منظر نامے مىں تبدىلى کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کہ جرمنى مىں کچھ ماہ مىں پولىٹىکل الىکشن ہىں جس کى وجہ سے اىک بڑا پولىٹىکل چىنج آئے گا کىونکہ اس وقت کى چانسلر پھر سے منتخب نہىں ہو سکتى؟ کا جواب دىتے ہوئے فرماىا تھا۔

’’صرف وہ رىٹائرڈ ہو رہى ہے اس لىے وہ دوبارہ نہىں آئے گى۔ تو اس کى پارٹى اگر جىت جائے گى تو پالىسى تو وہى رہے گى۔ اگر اس کى پارٹى جىت جائے گى تو پارٹى کى پالىسى تو تقرىباً وہى ہوتى ہے۔ تھوڑى بہت باتىں ہوتى ہىں جو چانسلر اپنى مرضى سے کر رہا ہوتا ہے۔ اگر دوسرى پارٹى آئے گى تو ان کى بھى پالىسىز سموئى ہوئى ہىں سوائے جو اىنٹى اسلام پارٹىاں ہىں ىا far right پارٹىاں ہىں جو رائٹسٹ ہىں اگر وہ آتے ہىں تو پھر مسلمانوں کے لىے مسائل پىدا ہو سکتے ہىں لىکن مىرے خىال مىں جرمنى مىں بىشک مسلمانوں کے خلاف اىک چىز ىا غىر ملکىوں کے خلاف اىسے جذبات پائے جاتے ہىں، احساس پائے جاتے ہىں، خىالات پائے جاتے ہىں لىکن اس کے باوجود جو فاررائٹ پارٹىاں ہىں وہ نہىں جىتىں گى۔ مىرا خىال ىہى ہے اور سموئى ہوئى پارٹىاں ہى جىتىں گى۔ اب ىہ کہتے ہىں overwhelming majority کوئى اىک پارٹى لے جائے اور اپنى حکومت بنا لے، اور ىا پھر دو اىسى پارٹىاں جن کے manifesto قرىب قرىب خىالات رکھتے ہىں وہ آپس مىں اىک جوائنٹ حکومت بنا لىں اللہ بہتر جانتا ہے کىونکہ مىں نے جرمنى کى پولىٹکس زىادہ پڑھى نہىں لىکن بہرحال مىرا خىال ىہى ہے، جہاں تک بظاہر نظر آ رہا ہے اس وقت، چاہے تھوڑى majority سے جىتے، جو بھى پارٹى آئے گى اپنى حکومت بنا ہى لے گى۔ لىکن جو شدت پسند لوگ ہىں جو غىر ملکىوں کے مخالف ہىں ىا مسلمانوں کے مخالف ہىں ان کے حکومت بننے کا بظاہر امکان کوئى نہىں۔ ہاں ہو سکتا ہے کہ بعض صوبوں مىں تھوڑى بہت ان کى اتنى say ہو جائے کہ جس کا اثر قائم ہو سکے لىکن بظاہرىہى لگتا ہے کہ آپ لوگوں کى جان بخشى ہو جائے گى لىکن بشرطىکہ آپ لوگ بھى اپنا کردار اداکرىں اور مسلمان ہونے کا جو حق ہے وہ ادا کرىں، اىک احمدى مسلمان ہونے کا،اور دنىا کو بتائىں ملک کو بتائىں کہ اصل اسلام کى تعلىم کىا ہے۔ آہستہ آہستہ ان کے دماغوں مىں جو بھى شبہات، reservations ہىں، تحفظات ہىں ان کو دور کرىں۔‘‘

(بحوالہ الفضل انٹرنىشنل 10 ستمبر 2021ء)

حالىہ الىکشن کے نتائج خلىفہ ٔ وقت کى سىاسى بصىرت کے بالکل عىن مطابق ہىں۔ انتخابات کے نتائج کے مطابق بائىں بازو کى طرف جھکاؤ رکھنے والى پارٹى اىس پى ڈى کو انجىلا مرکل کے قدامت پسند سىاسى اتحاد پر معمولى سى برترى حاصل ہے۔ تاہم حکومت سازى کے لىے اسے اتحادى پارٹىوں کى ضرورت ہو گى۔ سوشل ڈىموکرىٹ کے سربراہ اولاف شلس کا کہنا ہے کہ کرسمس سے پہلے حکومت بنانے کى ہر ممکن کوشش کرىں گے، جبکہ کرسچن ڈىموکرىٹ آرمىن لاشىٹ کہتے ہىں کہ ہمارا سىاسى اتحاد حکومت سازى کى ہرممکن کوشش کرے گا۔ کرسچن ڈىموکرىٹ آرمىن لاشىٹ نے کہا کہ ہمارا کرسمس سے پہلے اتحادى حکومت بنانے کا ہدف ہے۔ اس سے قبل جرمنى مىں پارلىمانى انتخابات کےبعد اىگزٹ پول کے نتائج جارى کر دىئے گئے، اىس پى ڈى کو 25 اعشارىہ 9 فىصد ووٹوں کےساتھ معمولى برترى حاصل ہے۔ انجىلامرکل کى جماعت سى ڈى ىو اور سى اىس ىو کو 24اعشارىہ 3 فىصد ووٹ ملے ہىں جبکہ گرىن پارٹى 14اعشارىہ 5، اىف ڈى پى 11اعشارىہ 5، اے اىف ڈى 10 اعشارىہ 5 فىصد ووٹ حاصل کرسکى ہے۔جرمن مىڈىا کے مطابق الىکشن کے حتمى اور سرکارى نتائج آئندہ کچھ روزمىں سامنے آجائىں گے مگر نئى حکومت کى تشکىل اور چانسلر کے چناؤ مىں کئى ماہ لگ سکتے ہىں۔تاہم الىکشن کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ىہ کہنا کہ اگلا جرمن چانسلر کون سى پارٹى کا رکن ہوتا ہے موجودہ سىاسى صورت حال مىں کچھ واضح طور پر نہىں کہا جاسکتا۔لىکن اىک بات جس کو ہر آنے والے حکمران کے لئے مدنظر رکھنا ضرورى ہے وہ حضور انور کا ىہ خطاب ہے جو انہوں نے 30؍مئى 2012ء بمقام ملٹرى ہىڈکواٹرز کوبلنز، جرمنى مىں دىا تھا کہ
’’وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ عنان حکومت صرف انہى لوگوں کو تھمائى جائے جو اِس کے صحىح حقدار ہىں تاکہ ملک و قوم ترقى کرے اور ترقى کى دوڑ مىں دنىا کى دوسرى اَقوام کے شانہ بشانہ ہو۔دنىا مىں کئى جگہ عوام حکومتى پالىسىوں کے خلاف ہڑتال اور احتجاج مىں حصہ لىتے ہىں …ىاد رکھنا چاہىے کہ غىر مجرمانہ اور پُر امن احتجاج ىا ہڑتال بھى معاشرہ پر منفى اثرات مرتب کرتى ہے کىونکہ پر امن احتجاج بھى اکثر قومى معىشت کو لاکھوں کا نقصان پہنچاتا ہے۔ اىسا روىہ کسى طور پر بھى قوم سے وفادارى کى مثال نہىں سمجھا جا سکتا۔ اِس سلسلہ مىں اىک سنہرا اصول جو بانىٔ جماعت احمدىہ مسلمہ نے دىا ہے ىہ ہے کہ ہر طرح کے حالات مىں ہمىشہ اللہ تعالىٰ، انبىاء اور حکام وقت کا مطىع ہو کر رہنا چاہىے۔ ىہ بعىنہٖ وہ تعلىم ہے جو قرآن کرىم نے دى ہے…

’’… آج دنىا اىک گلوبل وىلىج بن گئى ہے۔ انسانوں کے اىک دوسرے سے روابط بہت گہرے ہو گئے ہىں۔ ہر قوم، مذہب اور معاشرہ کے لوگ دنىا کے ہر ملک مىں سکونت پذىر ہىں اس لىے ہر قوم کے لىڈر تمام لوگوں کے جذبات اور احساسات کو سمجھىں اور ان کا حترام کرىں۔ راہنماؤں اور ان کى حکومتوں کو اىسے قوانىن بنانے چاہئىں جن سے سچائى اور انصاف کى روح اور ماحول پروان چڑھے نہ کہ اىسے قوانىن بنائے جائىں جو لوگوں مىں ماىوسى اور بے چىنى پىدا کرىں۔ ناانصافىاں اور زىادتىاں ختم ہونى چاہئىں اور اس کے بدلہ مىں حقىقى انصاف کے لىے کوشش کرنى چاہىے جس کے حصول کا بہترىن طرىق ىہ ہے کہ دنىا اپنے خالق کو پہچانے۔ پس ہر طرح کى وفادارى خدا سے وفادارى کى بنىاد پر ہونى چاہىے۔ اگر اىسا ہو جائے تو بہت جلد تمام ممالک کے عوام مىں وفادارى کے بہترىن معىار قائم ہو جائىں گے اور سارى دنىا مىں امن و امان کى نئى راہىں کھل جائىں گى۔‘‘

بطور جرمن شہرى ہمارا فرض ہے کہ اپنے خلىفہ کى آواز پر لَبَّىْک کہتے ہوئے اور اس ملک سے اپنى محبت اور وفادرى کو نبھاتے ہوئے مستقبل مىں عنان حکومت سنبھالنے والے حکمران کو خوش دلى کے ساتھ خوش آمدىد کہىں اور دل سے حکومت کےمطىع اور وفادار ہوں اور ملک و قوم کى ترقى مىں اپنا کردار ادا کرنے مىں اپنى تمام تر استعدادىں اور صلاحىتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کى ترقى و بہبود کے لئے ہر ممکن کردار ادا کرىں۔ تاکہ اسلام شدت پسندى کا جوتاثر دنىا پر قائم ہے وہ باطل ثابت ہو۔

Olaf Scholz چانسلر کے امىد وار

جرمن چانسلر کے سب سے مضبوط امىدوار جن کى پارٹى نے حالىہ الىکشن مىں برترى حاصل کى ہے امىد کى جاتى ہے کہ آنے والے دنوں مىں اتحادى جماعتوں کے الحاق سے حکومت سازى کے عمل مىں کامىاب ہوجائىں گے۔ تاہم اس کے لئے انہىں اپنى اتحادى جماعتوں سے طوىل مذاکرات کى ضرورت پىش آسکتى ہے۔ اولاف شلس کا کہنا ہے کہ لوگ تبدىلى دىکھنا چاہتے ہىں اور الىکشن کے نتائج سے ان کى اس خواہش کے پورا ہونے کا واضح امکان بھى موجود ہے۔ان کا مختصرا ً سىاسى تعارف قارئىن کى معلومات کے لئے پىش کىا جارہا ہے۔

اولاف شولز 14 جون 1958ءکو Osnabrück مىں پىدا ہوئے آپ ا ىک جرمن سىاستدان ہىں جن کا تعلق (اىس پى ڈى) ہے۔ مارچ 2018ء سے آپ وفاقى جمہورىہ جرمنى کے ڈپٹى چانسلر اور وفاقى وزىر خزانہ رہے ہىں۔ آپ نے 2021ء کے وفاقى انتخابات کے لىے چانسلر کے امىدوار کے طور پر اىس پى ڈى کے لىے انتخاب لڑا۔ مئى سے اکتوبر 2001ء تک وہ ہىمبرگ کے داخلہ سىنىٹر رہے، اکتوبر 2002ء سے مارچ 2004ء اىس پى ڈى کے جنرل سىکرٹرى، نومبر 2007ء سے اکتوبر 2009ء وفاقى وزىر محنت و سماجى امور اور مارچ 2011ء سے مارچ 2018ء تک ہىمبرگ کے پہلے مىئر رہے۔ اپرىل 2000ء سے جون 2004ء اور نومبر 2009ء سے مارچ 2018ء تک وہ اىس پى ڈى ہىمبرگ کے چىئرمىن رہے، نومبر 2009ء سے دسمبرء 2019 تک وہ اىس پى ڈى کے ڈپٹى فىڈرل چىئر مىن تھے۔ فرورى سے اپرىل 2018ء تک انہوں نے پارٹى کى عارضى قىادت کى۔

(درثمین احمد۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

سانحہ ارتحال

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 نومبر 2021