• 22 ستمبر, 2021

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے مربیان امریکہ وکینیڈا کی میٹنگز اورپُرحکمت راہنمائی

مورخہ 21 اگست 2016ء کوامریکہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان مربیان پر مشتمل ایک وفد کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات ہوئی۔ یہ تمام مربیان جامعہ احمدیہ کینیڈا سے فارغ التحصیل تھے اور اُنہیں ہدایت تھی کہ وہ اِس سال جلسہ سالانہ یُوکے کے لئے آئیں۔
میٹنگ کے دوران میں نے دیکھا کہ حضور انور مربیان سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ حضور انور نے انہیں ایک گھنٹہ سے زائد وقت دیاتاکہ جو بھی سوالات ان کے ذہنوں میں ہیں ، کوئی بھی مسئلے ہیں یا کوئی بھی پریشانی اُنہیں لاحق ہے وہ اس بارہ میں حضور سے کھل کے بات کر سکیں۔ حضور انور نے ان کی رہنمائی فرمائی اور انہیں ہدایات سے نوازا کہ انہیں کس طرح اپنے کاموں کو سرانجام دینا چاہئے۔
صلوٰۃ کے حوالہ سے ہدایت دیتے ہوئے حضور انور نے فرمایا: آپ کو چاہئے کہ تمام افرادِ جماعت کو تلقین کریں کہ وہ نمازِ فجر مسجد میں ادا کریں۔ خاص طور پر اُن افراد کو جو مسجد کے قریب رہتے ہیں۔ آپ کو دیکھنا چاہئے کہ کن افراد کے پاس گاڑیوں میں جگہ ہے اور اُن میں سے کون دوسروں کو نماز پر لے جا سکتے ہیں۔
ایک اَور مربی سلسلہ کو حضور انور نے فرمایا:اگر کوئی بھی شخص نماز فجر کے لئے مسجد میں نہیں آتا پھر بھی آپ مسجد جائیں اور مسجدکے دروازے کھولیں اور اپنی نماز مسجد میں ہی ادا کریں۔آپ کولازماً دوسروں کے لئے نمونہ بننا چاہئے۔
حضورانور نے اس بات کی اہمیت بھی واضح فرمائی کہ آفس سے باہر جماعتی کاموں کے علاوہ نہ جائیں۔مربیان کو دن بھر اپنے آفس میں ہی رہنا چاہئے۔حضور انور نے فرمایاکہ یہ بات مقامی احمدیوں کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ وہ اپنے مربیان سے کسی وقت بھی مل سکیں۔
مربیان کو عمومی ہدایات سے نوازتے ہوئے حضور انور نے فرمایا: آپ کو کم از کم تین ماہ قبل اپنے کاموں کوحتمی شکل دینی چاہئے اور اُن جماعتوں کو بار بار نوٹس دینا چاہئے جن کا آپ نے وِزٹ کرنا ہے تاکہ وہ بھی صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ تقریبات کی تیّاری کر سکیں جس کا بالآخر انہی کو فائدہ ہوگا ۔ آپ کو اس لئے جماعتوں میں نہیں بھیجا جاتا کہ آپ مقامی جماعتوں میں بتائے بغیر جائزہ لینے کے لئے جائیں بلکہ آپ کو اُن کی تربیت کے لئے ، اُن کی رہنمائی کے لئے اور اُن کی مدد کے لئے وہاں بھیجا جاتا ہے۔
حضور انور نے مزید فرمایا:مربی ہونے کی حیثیت سے آپ کو کبھی بھی وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے برعکس اگر آپ کے پاس وقت ہے تو اُسے کسی تعمیری کام کے لئے صرف کرنا چاہئے ، کچھ پڑھیں اور اپنے علم میں اضافہ کریں۔ بالخصوص حضرت مسیح موعودؑ کی تفسیر پڑھیں اور پھر دوبارہ پڑھیں اورباقاعدگی سےThe Essence of Islam کا مطالعہ کریں۔ ذاتی مطالعہ کے بغیر آپ وہ باتیں بھی بھول جائیں گے جو آپ کو پہلے سے ہی پتہ ہیں۔ جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ عالم ہو چکا ہے وہ غلطی پر ہے۔
ایک مربی نے حضور انور سے عرض کی کہ جامعہ احمدیہ برطانیہ کے طلباء اور فارغ التحصیل مربیان کا حضور انور سے ایک خاص تعلق ہے اور انہوں نے دوسرے ممالک سے فارغ التحصیل مربیان کی نسبت حضور انور سے زیادہ اور باقاعدگی سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا:اس کمرے میں بھی بعض جامعہ احمدیہ کینیڈا سے فارغ التحصیل مربیان بیٹھے ہیں جن سے میرا خاص تعلق ہے۔آپ میں سے بعض باقاعدگی سے مجھے ذاتی طور پر لکھتے ہیں مگر آپ میں سے بعض بے قاعدہ ہیں۔
میٹنگ جاری رہی اور ایک موقع پر حضور انور نے نہایت خوبصورت انداز میں فرمایا:خواہ آپ کا میرے سے کوئی ذاتی تعلق ہو یا نہ ہو ، آ پ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ میں آپ میں سے ہر ایک کے لئے دعا کرتا ہوں۔

مربیان کینیڈا سے میٹنگ

اسی روز سہ پہر جامعہ احمدیہ کینیڈاسے2016ء میں فارغ التحصیل ہونے والے مربیان کی حضور انور کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی۔ یہ مربیان حضور انور کی ہدایت پر افریقہ جانے والے تھے تاکہ وہ وہاں کی مقامی جماعتوں میں جائیں اور چند ہفتوں کے لئے تربیت حاصل کر سکیں۔
حضور انور نے مجموعی طور پر مربیان کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا: آج کی اس میٹنگ کا بنیادی مقصد آپ سے آشنائی حاصل کرنا ہے۔ لیکن چونکہ آپ عنقریب افریقہ جانے والے ہیں اس لئے میں آپ کو بعض نصائح کرنا چاہتا ہوں۔ یاد رکھیں، اگر آپ افریقہ کے لوگوں سے پیار محبت سے پیش آئیں گے اور اُن سے اچھا سلوک کریں گے تو وہ آپ کی خاطر مرنے کے لئے بھی تیار ہوں گے۔لیکن اگر آپ کسی قسم کی افسری دکھائیں گے تو وہ آپ کا ساتھ نہیں دیں گے اور وہ غصّہ میں آ جائیں گے۔
حضور انور نے مزید فرمایا:جب آپ دُور افتادہ دیہات میں جائیں تو treated پانی پینے کی کوشش کریں یا کم از کم اس بات کی پوری طرح تسلّی کر لیں کہ جو پانی آپ پی رہے ہیں وہ اُبلا ہوا ہو۔ اس کے علاوہ آپ کو مقامی کھانا کھانا چاہئے اور مقامی لوگوں اور جماعتوں سے ملناجلناچاہئے۔
حضور انور نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: افریقہ میں رہن سہن کا معیار اب بہت بہتر ہو چکا ہے۔ لیکن جب میںوہاں تھا تو کبھی کبھی مجھے باہر بھی سونا پڑتا تھا۔اس لئے اگر موقع ملے تو آپ کو بھی کم از کم ایک دفعہ باہر سونا چاہئے۔
حضور انور نے اس میٹنگ کو اِن الفاظ کے ساتھ ختم فرمایا:افریقہ کے لوگ آپ کو دیکھیں گے اور آپ کے نمونے پر چلیں گے۔ پس اگر آپ فجر کے وقت سوتے رہیں گے تو وہ یہ گمان کریں گے کہ فجر کے وقت سوناسب لوگوں کے لئے جائز ہے۔ آپ اَب مربی ہیں ۔ اس لئے ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ہر قدم اور ہرکام کو دیکھ رہا ہے۔ پس اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔

پُر حکمت رہنمائی

اسی روزشام کو مجھے حضور انور سے ملاقات کرنے کا شرف ملا اور میں نے حضور انور کو بتایا کہ برطانیہ کے ایک معروف انتہاپسند مسلمان عالم کو دہشتگرد کارروائیوں کی و جہ سے سزا سنائی گئی ہے۔اور میڈیا والے مسلسل ہمارے ساتھ رابطے میں تھے اور وہ پوچھ رہے تھے کہ کیا ہم اس پر خوش اور مطمئن ہیں کہ اُسے سزا سنائی گئی ہے؟ مجھے یقین تھا کہ حضور انور مجھے کہیں گے کہ ہم خوش ہیں کیونکہ وہ دہشتگرد تھا۔ لیکن حضور انور کا جواب اس سے مختلف تھا اور میںبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ حضور اتنا خوبصورت جواب دیں گے۔
حضور انور نے فرمایا: ہم اس پر کبھی بھی خوش نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کی سزا کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان نے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور اُس نے نفرت اور دہشتگردی پھیلائی ہے اور اُس نے یہ سب کچھ اسلام کے نام پر کیا ہے۔پھر ہم آج کس طرح خوش ہو سکتے ہیں؟ ہم اس خبر سے کس طرح مطمئن ہو سکتے ہیں؟
حضور انور نے مزید فرمایا:یقیناً یہ بات اچھی ہے کہ اُسے اب قانون کی گرفت میں لایا گیا ہے اور میںامید کرتا ہوں کہ یہ دوسرے انتہا پسند لوگوں کے لئے بھی ایک تنبیہ ہو گی اور اُن لوگوں کے لئے بھی جو انتہا پسندی کی طرف مائل ہیں ۔ لیکن پھر بھی ہم کبھی خوش نہیں ہو سکتے کہ اسلام کے پاکیزہ نام کو ایک بار پھر بدنام کیا گیا۔ ہم کبھی خوش نہیں ہو سکتے کہ یہ شخص نفرتیں پھیلاتا تھا اور دوسرے مسلمانوں کو بھی تشدد کی طرف انگیخت کرتا تھا۔

(عابد وحید خان۔لندن)

(بشکریہ اسماعیل میگزین اکتوبر تا دسمبر 2017ء)

پچھلا پڑھیں

چھٹےسالانہ اولڈبرج سروس ایوارڈز جماعت احمدیہ سنٹرل جرسی۔امریکہ کی تقریب

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ