• 3 اگست, 2020

آگ ہماری غلام، بلکہ غلاموں کی غلام ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں۔
’’ مدّت کا یہ میرا الہام ہے کہ ’’آگ سے ہمیں مت ڈرا۔ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔‘‘ یہ ویسے ہی ہے جیسے حدیث شریف میں ہے کہ بعض بہشتی بطور سیر دوزخ کو دیکھنا چاہیں گے اور اس میں اپنا قدم رکھیں گے،تو دوزخ کہے گی کہ تونے تومجھے سَرد کر دیا۔ یعنی بجائے اس کے کہ دوزخ کی آگ اُسے جلاتی۔ خادموں کی طرح آرامدہ ہو جاوے گی۔

عادت اﷲ یہی ہے کہ دوناریں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔محبّتِ الہٰی بھی ایک نار ہے اور طاعون کو بھی نارلکھا ہے۔لیکن ان میں سے ایک تو عذاب ہے اور دوسری انعام ہے، اسی لیے طاعون کی نار کی ایک خاص خصوصیت خدا تعالیٰ نے رکھی ہے۔ اس میں آگ کو جو غلام کہا گیا ہے۔میرا مذہب اس کے متعلق یہ ہے کہ اسما ء اوراعلام کو ان کے اشتقاق سے لینا چاہئے۔ غلام غلمہ سے نکلا ہے۔ جس کے معنے ہیں کسی شیٔ کی خواہش کے واسطے نہایت درجہ مضطرب ہونا یا ایسی خواہش جو کہ حدسے تجاوز کر جاتی ہے اور انسان پھر اس سے بے قرار ہو جاتا ہے۔ اور اسی لیے غلام کا لفظ اس وقت صادق آتا ہے جب انسان کے اندر نکاح کی خواہش جوش مارتی ہے۔ پس طاعون کا غلام اور غلاموں کی غلام کے بھی یہی معنے ہیں کہ جو شخص ہم سے ایک ایسا تعلق اور جوڑ پیدا کرتا ہے جو کہ صدق و وفا کے تعلقات کے ساتھ حد سے تجاوز ہوا ہو اور کسی قسم کی جدائی اور دُوئی اس کے رگ و ریشہ میں نہ پائی جاتی ہو اسے وہ ہرگز کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی اور جو ہمارا مرید الہٰی محبت کی آگ سے جلتا ہو گا اور خدا کو حقیقی طور پر پا لینے کی خواہش کمال درجہ پر اس کے سینہ میں شعلہ زن ہو گی۔ اسی پر بیعت کا لفظ حقیقی طور پر صادق آوے گا۔ یہاں تک کہ کسی قسم کے ابتلا کے نیچے آکر وہ ہر گز متزلزل نہ ہو بلکہ اور قدم آگے بڑھاوے۔ لیکن جبکہ لوگ ابھی تک اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر وہ ابتلا میں آجاتے ہیں اور اعتراض کر نے لگتے ہیں تو پھر وہ اس آگ سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلدچہارم ص2)

پچھلا پڑھیں

کوروناوائرس سے حفاظت کا ہومیوپیتھک نسخہ

اگلا پڑھیں

مصروفیات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 18 جنوری 2020ء تا مورخہ 24 جنوری 2020ء