• 4 مارچ, 2024

وفا کا امتحان

(کلام حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ)

تری راہوں میں کیا کیا اِبتلا روزانہ آتا ہے
وفا کا امتحاں لینا تجھے کیا کیا نہ آتا ہے

احد اور مکہ اور طائف انہی راہوں پہ ملتے ہیں
انہی پر شعب بو طالب بے آب و دانہ آتا ہے

کنارِ آبِ جو تشنہ لبوں کی آزمائش کو
کہیں کرب و بلا کا اِک کڑا ویرانہ آتا ہے

پشاور سے اِنہی راہوں پہ سنگستانِ کابل کو
مرا شہزادہ لے کر جان کا نذرانہ آتا ہے

اسے عشق و وفا کے جرم میں سنگسار کرتے ہیں
تو ہر پتھر دمِ تسبیح، دانہ دانہ آتا ہے

جہاں اہل جفا، اہل وفا پر وار کرتے ہیں
سرِ دار اُن کو ہر منصور کو لٹکانا آتا ہے

جہاں شیطان مومن پر رمی کرتے ہیں وہ راہیں
جہاں پتھر سے مردِ حق کو سر ٹکرانا آتا ہے

جہاں پسرانِ باطل عورتوں پر وار کرتے ہیں
نرِ مردانؔ کو یہ ‘‘شیوۂ مردانہ’’ آتا ہے

یہی راہیں کبھی سکھرؔ، کبھی سکرنڈؔ جاتی ہیں
انہی پر پنوں عاقل، وارہ اور لڑکانہؔ آتا ہے

کبھی ذکرِ قتیلِ حیدرآبادؔ اِن پہ ملتا ہے
کہیں نوابؔ شاہ کا دکھ بھرا اَفسانہ آتا ہے

(کلام طاہر صفحہ 49-50)

پچھلا پڑھیں

کالمار (سویڈن) میں نئے جماعتی مرکز کا قیام

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 فروری 2023