• 14 اگست, 2022

میرے درخت وجود کی سر سبز شاخو!

’’سو اے اسلام کے ذی مقدرت لوگو! دیکھو! میں یہ پیغام آپ لوگوں تک پہنچا دیتاہوں کہ آپ لوگوں کو اس اصلاحی کارخانہ کی جو خداتعالیٰ کی طرف سے نکلا ہے اپنے سارے دل اور ساری توجہ اور سارے اخلاص سے مدد کرنی چاہئے اور اس کے سارے پہلوؤں کو بنظر عزت دیکھ کر بہت جلد حق خدمت اداکرنا چاہئے۔ جو شخص اپنی حیثیت کے موافق کچھ ماہواری دینا چاہتا ہے وہ اس کو حقِ واجب اور دَینِ لازم کی طرح سمجھ کر خود بخود ماہوار اپنی فکر سے ادا کرے اور اس فریضہ کو خالصةً للہ نذر مقرر کرکے اس کے ادا میں تخلف یا سہل انگاری کو روا نہ رکھے۔ اور جو شخص یک مشت امداد کے طور پر دینا چاہتا ہے وہ اسی طرح ادا کرے لیکن یاد رہے کہ اصل مدعا جس پر اس سلسلہ کے بلاانقطاع چلنے کی امید ہے وہ یہی انتظام ہے کہ سچے خیر خواہ دین کے اپنی بضاعت اور اپنی بساط کے لحاظ سے ایسی سہل رقمیں ماہواری کے طور پر ادا کرنا اپنے نفس پر ایک حتمی وعدہ ٹھہرا لیں جن کو بشرط نہ پیش آنے کسی اتفاقی مانع کے بآسانی ادا کر سکیں۔ ہاں جس کو اللہ جلّشانہ توفیق اور انشراح صدر بخشے وہ علاوہ اس ماہواری چندہ کے اپنی وسعت، ہمت اور اندازہ مقدرت کے موافق یک مشت کے طور پر بھی مدد کر سکتا ہے۔

اور تم اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سر سبز شاخو! جو خداتعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی، اپنا آرام، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔ اگرچہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے۔ لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا، تاکہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں‘‘

(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ33-34)

پچھلا پڑھیں

جلسہ یوم خلافت جماعت احمدیہ لٹویا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جون 2022