• 15 اگست, 2022

حیاتِ نورالدینؓ (قسط 5)

حیاتِ نورالدینؓ
آپؓ کے قبولیت دعا کے واقعات
قسط 5

چہ خوش بودے اگر ہر یک زِامت نورِدیں بودے
ہمیں بودے اگر ہر دل پُر از نور یقین بودے

خدا کے مامورین جب دنیا میں آتے ہیں اور خدائی حکم کے ماتحت تبلیغ کا کام کرتے ہیں تو اللہ انہیں ایسے معاونین اور مددگار عطا فرماتا ہے جو ان کے کاموں میں ان کے سلطان نصیر ہوتے ہیں۔ ان نیک وجودوں کے عطا کئے جانے کے لئے انبیاء خدا کے حضور دعائیں والتجائیں بھی کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰؑ کی اس طرح کی دعا کا ذکر ہے۔ نیز ہمارے آقا ومطاع حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی دعا بھی احادیث میں یوں مذکور ہے

اَللّٰھُمَّ اَیِّدِ الْاِسْلَامَ بِعُمْرَیْنِ

کہ اے میرے اللہ!اسلام کو دو عمر (عمر بن خطاب اور عمر بن ہشام) میں سے کسی کے ذریعہ مدد دے۔

اس زمانے میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو آپؑ نے بھی پُر از نور یقین ساتھی عطا ہونے کے لئے رب کے حضور التجائیں کیں۔ دراصل حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ کا سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔ چنانچہ حضورؑ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’میں رات دن خداتعالیٰ کے حضور چلّاتا اور عرض کرتا تھا کہ اے میرے ربّ! میرا کون ناصر و مددگار ہے۔ میں تنہا ہوں۔ اور جب دعا کا ہاتھ پے در پے اٹھا اور فضائے آسمانی میری دعاؤں سے بھرگئی تو اللہ تعالیٰ نے میری عاجزی اور دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ربّ العالمین کی رحمت نے جوش مارا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مخلص صدیق عطا فرمایا … اس کا نام اس کی نورانی صفات کی طرح نورالدین ہے۔ … جب وہ میرے پاس آکر مجھ سے ملا تو مَیں نے اسے اپنے ربّ کی آیتوں میں سے ایک آیت پایا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ میری اس دعا کا نتیجہ ہے جو مَیں ہمیشہ کیا کرتا تھا اور میری فراست نے مجھے بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منتخب بندوں میں سے ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ581-582)

آپ ایک حاذق طبیب، عالم باعمل اور مطالعہ کتب کے شوقین تھے۔ توکل اور غناء کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ آپؓ کی دعائیں خدا کے حضور مستجاب تھیں۔ آپ اوائل عمر ی سے ہی نیکی اور تقویٰ پر چلنے والے نیز دعاؤں پر کامل یقین رکھنے والے تھے۔ خدا کے ساتھ آپ کا گہرا تعلق تھا اور شاید یہ اسی تعلق کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام دنیا میں سے یہ سعادت عطا کی کہ مسیحِ موعود ؑ کو سب سے پہلے ماننے کی آپؓ کو توفیق ملی۔ حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام کی جب 26 مئی 1908 ء کو وفات ہوئی تو خدائی منشاء کے ماتحت خلافت کا سلسلہ شروع ہوا اور آپؓ کو 27 مئی 1908ء کو اللہ نے خلافت کے مسند پر متمکن فرمایا۔ آپؓ کا پاک وجود مومنین کی خوف کی حالت کو امن کے حالت میں بدلنے کا باعث بنا۔ آپؓ کے ذریعہ سے اللہ نے خلافت ِ احمدیہ کو استحکام بخشا۔

حضرت اقدس مسیحِ موعودؑ نے اپنی جماعت کا تعلق خدا سے جوڑنے کے لئے مسلسل دعاؤں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آپ کی ایک مبارک تصنیف برکات الدعا اور باقی بے شمار تحریرات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔آپؑ ہمیشہ احباب جماعت کو ہر عسر ویسر میں خدا کے حضور جھکنے کی تلقین کرتے تھے۔ اور بندوں کا خدا سے پختہ اور مضبوط تعلق ہر حال میں قائم ہو ہمیشہ دیکھنا چاہتے تھے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا وجود آپؑ کی مبارک جماعت میں سے نمایاں ترین وجود ہے جنکی دعاؤں کو خدا نے اپنے حضور بہ پائیہ قبولیت جگہ بخشی۔ آپؑ کی ساری زندگی قبولیت دعا کے عظیم الشان واقعات ومعجزات سے بھری پڑی ہے۔ یہ واقعات آپ کی سوانح مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدین، حیاۃ نور نیز اخبار الفضل، الحکم اور دیگر جماعتی رسائل وکتب میں درج ہیں۔

آپؓ اپنی دعاؤں کے حوالہ سے فرماتے ہیں
میری دعائیں عرش پر بھی سنی جاتی ہیں۔ میرا مولیٰ میرے کام میری دعا سے بھی پہلے کر دیتا ہے۔

(البدر 11 جولائی 1913 حیاۃ نور صفحہ626-627)

آپؓ کے اوائل عمری کا قبولیت دعا کا ایک واقعہ تاریخ احمدیت جلد سوم میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ کسی ضرورت کے پیش آنے پر آپؓ نے اپنے استاد سے اس معاملہ کی بابت پوچھا۔ استاد نے نے جواب دیا کہ میرے پاس اس مطلب کے حصول کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ آپؓ نے اس وقت خدا کے حضور دعا فرمائی اور آپ کا مطلب اس دن عشاء سے پہلے پورا ہوگیا۔ استا د نے اس سے یہ یقین کرلیا کہ شاید آپ کوئی عمل جانتے ہیں۔

(تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ27)

آپ کی قبولیت دعا کا ایک واقعہ حیات نور میں یوں مذکور ہے

کہ ایک دفعہ آپ تحصیل علم کی غرض سے ایک سفر کررہے تھے اور تین دن سے کھانا نہیں کھایا تھا۔ آپ نے کھانے کے لئے کسی سے سوال بھی نہیں کیا تھا۔ آپ مغرب کی نماز کے لئے مسجد میں گئے وہاں پر لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے اور کسی نے بھی آپ کی طرف توجہ نہ دی۔ آپ دعاؤں وذکر الٰہی میں مشغول اکیلے بیٹھے دعا کر رہے تھے۔ آپ اس حالت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
جب میں اکیلا تھا تو مجھے باہر سے آوا ز آئی نورالدین نورالدین یہ کھانا آکر جلد پکڑ لو۔ میں گیا تو ایک مجمع میں بڑا پُر تکلف کھانا تھا۔ میں نے پکڑ لیا۔ میں نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ یہ کھانا کہاں سے آیا۔ کیونکہ مجھے علم تھا کہ خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ میں نے خوب کھایا اور پھر برتن مسجد کی ایک دیوار کے ساتھ کھونٹی پر لٹکا دیا۔ جب میں آٹھ دس سن کے بعد واپس آیا تو وہ برتن وہیں آویزاں تھا۔ جس سے مجھے یقین ہوگیا کہ کھانا گاؤں کے کسی آدمی نے نہیں بجھوایا تھا۔ خدا تعالیٰ نے ہی بجھوایا تھا۔

(حیاۃ نور مصنفہ عبد القادر صفحہ:25)

آپ پہلی بار جب حج کے لئے جانے لگے تو اس وقت آپ 24، 25 سال کے تھے۔ مکہ جانے کی غرض سے آپ بمبئی سے روانہ ہوئے۔ مرقاۃ الیقین میں لکھا ہے کہ پانچ آدمی آپ کے ہمراہ تھے جن کی وجہ سے آپ کو سفر میں کسی قدر سہولت بھی رہی۔

آپ فرماتے ہیں کہ مجھے چونکہ اس طرح کے سفروں کا تجربہ نہ تھا اس لئے ان میں سے ایک نے مجھے یہ کہا کہ آپ اپنی کتابیں میرے صندوق میں رکھ لیں اس میں کافی جگہ ہے۔چنانچہ میں نے کتابیں رکھ لیں۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اس نوجوان کے صندوق کی کنجی گم ہوگئی۔ وہ آپؓ سے کہنے لگا کہ چونکہ آپ کی کتابوں کی وجہ سے صندوق بھاری تھا اس لئے اس کی کنجی کسی نے چرا لی ہے۔آپ نے اسے بڑاسمجھایا کہ تمہارے کہنے پر ہی میں نے کتابیں رکھی ہیں۔ لوگوں نے بھی سمجھایا۔ اس کی منت سماجت بھی کی گئی مگر وہ نہ مانتا تھا۔ اور آپ کو چین نہ لینے دیتا تھا۔ بہرحال آپ نے خدا کے حضور بڑی دعا کی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اسی رات ترکو ں کے کیمپ پر چوروں نے حملہ کیا۔ تعاقب کرنے پر بھاگتے ہوئے چوروں کی کنجیاں وہاں رہ گئیں۔ اور انہی میں اس نوجوان کے صندوق کی کنجی بھی تھی جو آپ نے کسی طرح ان سے لے کر اس نوجوان کو دی۔ آپ فرماتے ہیں
یہ کرشمہ اس دعا کا تھا جو رات کو میں نے جناب الٰہی میں کی تھی۔ صبح کے وقت ترک مع کنجیوں کے ہندیوں کے کیمپ میں آئے۔۔ ۔۔میں نے ایک ترک کے ہاتھ میں کنجیوں کا ایک گچھا دیکھاتو اس میں وہ کنجی بھی تھی۔

(مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدین صفحہ111)

خدا کی طرف سے چنیدہ لوگوں کی دعائیں جہاں خدا کے حضور مقبول ہوتی ہیں وہاں خدا ان کے دل میں اپنے پیاروں کے لئے خاص درد اور جوش بھی دعا کے لئے پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ آپ کی قبولیتِ دعا کا ایک واقعہ آپ کے ایک رفیق کی اہلیہ کے حوالہ سے رفقاء احمد میں یوں مذکور ہے

حضرت چوہدری حاکم دین صاحب کی بیوی کو پہلا بچہ ہونے والا تھا اور سخت تکلیف تھی۔ آپ رات کو گیارہ بجے حضرت مولوی صاحب کے گھر گئے۔ چوکیدار سے پوچھا کہ کیا میں حضرت مولوی صاحب سے مل سکتا ہوں۔ اس نے نفی میں جواب دیا لیکن اندرون خانہ میں حضرت مولوی صاحب نےآواز سن لی اور پوچھا کون ہے۔ چوکیدار نے عرض کی چوہدری حاکم دین ملازم بورڈنگ ہیں۔ فرمایا آنے دو۔ آپ اندر چلے گئے اور زچگی کی تکلیف کا ذکر کیا۔حضرت مولوی صاحب اندر جاکر ایک کھجور لے آئے اس پر کچھ پڑھ کر پھونکااور چوہدری صاحب کو دے کر فرمایا کہ یہ اپنی بیوی کو کھلا دیں اور جب بچہ پیدا ہوجائے تو مجھے اطلا ع کردیں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد بچی پیدا ہوئی۔چوہدری صاحب نے سمجھا کہ اب دوبارہ حضرت مولوی صاحب کو جاکر جگانا مناسب نہیں اس لئے وہ سو رہے۔صبح وہ حاضر ہوئے۔ حضرت مولوی صاحب اس وقت وضو کر رہے تھے۔ چوہدری صاحب نے عرض کی کھجور کھلانے کے بعد بچی پیدا ہوگئی تھی۔ آپ نے فرمایا بچی پیدا ہونے کے بعد تم میاں بیوی آرام سے سو رہے، اگر مجھے بھی اطلاع کردیتے تو میں بھی آرام سے سو رہتا میں تمام رات تمہاری بیوی کے لئے دعا کرتا ررہا۔

(رفقاءاحمد جلد ہشتم صفحہ76)

ایک اور روایت آپ کی قبولیت دعا کی حضرت چوہدری حاکم دین صاحب کی زبان سے رفقاء احمد میں یوں مذکور ہے

ایک دفعہ کچھ شریر لڑکے بورڈنگ میں داخل ہوگئے۔ وہ اپنی شرارتوں سے لوگوں کو تنگ کرتے تھے۔ حضور نے درس میں فرمایا کہ بعض لڑکے شریر ہوگئے ہیں۔ وہ اپنی شرارتیں چھوڑ دیں۔ ورنہ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان سے ہمارا چھٹکارا کرا دے۔ حضور کی دعا کے بعد دو ہفتہ کے اندر وہ تمام لڑکے جو بارہ کے قریب تھے خودبخود بورڈنگ سے نکل گئے۔

(رفقاء احمد صفحہ 78)

بحیثیت ایک طبیب کے آپ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپؓ مریض کو صرف دوا تجویز نہ کرتے تھے بلکہ اس کے لئے دعا بھی کیا کرتے تھےجیسا کہ حضرت مسیحِ موعودؑ فرمایا کرتے تھے
مولوی صاحب کا وجود ازبس غنیمت ہے آپ کی تشخیص بہت اعلیٰ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بیما ر کے واسطے دعا بھی کرتے ہیں۔ ایسے طبیب ہر جگہ کہاں مل سکتے ہیں۔

ایک دفعہ آپ کے پاس دق کا ایک لاعلاج بیمار آیا۔ فرمایا کل دکھانا اور رات کو سحری کے وقت نماز تہجد میں مریض کے لئے بہت دعا کی۔ جس پر اس کی صحت کی آپ کو بشارت ملی۔ صبح آپ نے یہ خوشخبری سنائی۔ چنانچہ آپ کے تجویز کردہ نسخہ کے چند روز استعمال کے بعد وہ بالکل تندرست ہوگیا۔

پھر ایک اور قبولیت دعا کا واقعہ تاریخ احمدیت میں یوں مذکور ہے

امرتسر کی ایک عورت کو رحم کی بیماری کی تکلیف تھی اور باوجود اطباء اور ڈاکٹروں کی کوشش کے اسے چنداں افاقہ نہیں ہوا۔ آپ حضرت بانی سلسلہ کی اجازت سے اس کے اقرباء کے ساتھ تانگہ پر سوار ہوکر قادیان سے امرتسر کی طرف روانہ ہوئے اور تانگہ میں ہی دعا شروع کردی کہ اے خدا بڑے بڑے طبیبوں کے علاج سے یہ شفا نہیں پاسکی۔ تو نورالدین تیرے فضل کے بغیر کیا کر سکتا ہے۔ آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور خدا نے آپ کے نسخہ سے اسے شفایاب کردیا۔

(تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ552)

الغرض آپؓ کی قبولیت دعا کے بے شمار واقعات میں سے یہ چند واقعات ہیں جنکا ابھی ذکر کیا ہے۔ اللہ کرے کہ جماعت کے تمام افراد بھی اللہ کے خاص فضل سے دعاؤں کی قبولیت پر یقین رکھنے والے، مقبول دعائیں کرنے والے اور خدا سے زندہ تعلق رکھنے والے ہوں۔آمین

اللہ حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بابرکت ذات پر اپنی بے انتہاء رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے، اور آپ کی سب مبارک دعاؤں کا ہمیں وارث بنادے۔ آمین

(مریم رحمٰن)

پچھلا پڑھیں

جلسہ یوم خلافت جماعت احمدیہ لٹویا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جون 2022