• 7 اگست, 2020

شرط یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال پاک مال ہو

شرط یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال پاک مال ہو، پاک کمائی میں سے ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اتنے اجر اگر لینے ہیں اور اپنے مال کے سائے میں رہناہے تو گند سے تو اللہ تعالیٰ ایسے اعلیٰ اجر نہیں دیا کرتا۔ اور جن کا مال گندہ ہو ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے نہیں ہوتے اور اگر کہیں خرچ کر بھی دیں۔ اگر لاکھ روپیہ جیب میں ہے اور ایک روپیہ نکال کر دے بھی دیں گے تو پھر سو آدمیوں کو بتائیں گے کہ مَیں نے یہ نیکی کی ہے۔ لیکن نیک لوگ، دین کا درد رکھنے والے لوگ، جن کی کمائی پاک ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہواور اللہ تعالیٰ بھی ان کی بڑی قدر کرتاہے۔ جیساکہ حدیث میں آتاہے کہ

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس نے ایک کھجور بھی پاک کمائی میں سے اللہ کی راہ میں دی۔ اور اللہ تعالیٰ پاک چیز کو ہی قبول فرماتاہے، تواللہ تعالیٰ اس کھجور کو دائیں ہاتھ سے قبول فرمائے گا اور اسے بڑھاتا چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ پہاڑ جتنی ہوجائے گی۔ جس طرح تم میں سے کوئی اپنے چھوٹے سے بچھڑے کی پرورش کرتاہے یہاں تک کہ وہ ایک بڑا جانور بن جاتاہے۔

(بخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ من کسب طیب)

آج جماعت میں ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جواس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے تکلیفیں اٹھا کر اپنی پاک کمائی میں سے جو قربانیاں کیں اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلوں کے اموال ونفوس میں بے انتہاء برکت ڈالی۔

(خطبہ جمعہ مؤرخہ 9جنوری 2004ء بمطابق ۹/صلح ۱۳۸۳ ھجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن لندن)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 27 جولائی 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 28 جولائی 2020ء