• 5 اگست, 2020

دل کعبہ کو چلا مرا بت خانہ چھوڑ کر

دل کعبہ کو چلا مرا بت خانہ چھوڑ کر
زمزم کی ہے تلاش اسے میخانہ چھوڑ کر

کیوں چل دیا ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر
جاتا ہے کوئی یوں کبھی کاشانہ چھوڑ کر

منجدھار میں ہے کشتی ڈبوئی خرد نے آہ
کیا پایا میں نے خصلتِ رندانہ چھوڑ کر

اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہئے
کیوں کر جیوں گا ہاتھ سے پیمانہ چھوڑ کر

سچ ہے کہ فرق دوزخ و جنت میں ہے خفیف
پائی نجات دام سے اک دانہ چھوڑ کر

ہے لذتِ سماع بھی لطفِ نگاہ بھی
کیوں جارہے ہو صحبت جانانہ چھوڑ کر

ملک و بلاد سونپ دئیے دشمنوں کو سب
بیٹھے ہو گھر میں خصلتِ مردانہ چھوڑ کر

ہے گنجِ عرش ہاتھ میں قرآن طاق پر
مینا کے ہورہے ہیں وہ میخانہ چھوڑ کر

دل دے رہا ہوں آپ کو لیتے تو جائیے
کیوں جارہے ہیں آپ یہ نذرانہ چھوڑ کر

(کلام محمود صفحہ242۔اخبار الفضل جلد 8۔ 26ستمبر1954ء۔ لاہور ۔ پاکستان)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 27 جولائی 2020ء

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 28 جولائی 2020ء