• 5 دسمبر, 2021

سورۃ الحج اور المؤمنون کا تعارف (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع)

سورۃ الحج اور المؤمنون کا تعارف
ازحضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

سورۃ الحج

ىہ مدنى سورت ہے اور بسم اللہ سمىت اس کى اناسى آىات ہىں۔

 اس کى پہلى آىت مىں تمام بنى نوع انسان کو قىامت کے زلزلے سے ڈراىا گىا ہے کىونکہ اىک اىسا رسول آچکا ہے جس نے تمام بنى نوع انسان کو رحمان خدا کى حفاظت مىں چلے آنے کى دعوت دى تھى جس کو قبول نہ کرنے کے نتىجہ مىں اىسى ہولناک جنگوں سے اىک بار پھر ڈراىا جا رہا ہے گوىا تمام زمىن پر قىامت ٹوٹ پڑے گى، وہ اىسى ہولناک تباہى ہو گى کہ مائىں اپنے دودھ پىتے بچوں کى حفاظت کا خىال بھول جائىں گى اور ہر حاملہ کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تُو لوگوں کو اىسے دىکھے گا جىسے وہ نشے سے مدہوش ہو چکے ہىں حالانکہ مدہوش نہىں ہوں گے بلکہ اللہ تعالىٰ کى طرف سے نازل ہونے والے سخت عذاب کى وجہ سے وہ اپنے حواس کھو چکے ہوں گے۔

 قىامت سے ىہ بھى خىال بھى گزرتا ہے کہ جب سب بنى نوع انسان ہلاک ہو گئے تو دوبارہ پھر کىسے زندہ کئے جائىں گے۔ فرماىا جس اللہ نے تمہىں اس سے پہلے مٹى سے پىدا کىا اور پھر رحمِ مادر مىں مختلف شکلوں مىں سے گزارا وہى اللہ ہے جو تمہىں پھر زندہ کر دے گا۔

 پھر فرماىا لوگوں مىں سے وہ بھى ہے جو اللہ تعالىٰ کى عبادت اىسے کرتا ہے گوىا وہ کسى گڑھے کے کنارے پر کھڑا ہو۔ جب تک اس کو خىر پہنچتى رہتى ہے وہ مطمئن رہتا ہے اور جب وہ فتنے مىں مبتلا کىا جاتا ہے تو اوندھے منہ گڑھے مىں جا پڑتا ہے۔ ىہ اىسا شخص ہے جو دنىا و آخرت دونوں مىں خسارہ مىں رہتا ہے۔

 اس کے بعد تمام ادىان کے پىرو کاروں کا اختصار سے ذکر فرما دىا گىا کہ ان کے درمىان اللہ تعالىٰ قىامت کے دن فىصلہ فرمائے گا۔

اس کے  بعداللہ تعالىٰ کا ىہ تاکىدى حکم ہے کہ حجِ بىت اللہ کے لئے آنے والوں کو خانہ کعبہ تک پہنچنے سے ہر گز نہ روکو۔ اس کے معاً بعد بىت اللہ کا ذکر ہے اور حضرت ابراہىم علىہ الصلوٰۃ و السلام کو اللہ تعالىٰ نے جو تاکىد فرمائى ہے اس کا ذکر ہے کہ مىرے گھر کو ہمىشہ حج پر آنے والے اور اعتکاف کرنے والے کى خاطر پاک و صاف رکھو۔ حضرت ابراہىم علىہ الصلوٰۃ و السلام کو جو ىہ تاکىد کى گئى ىہ صرف آپ کى ذات کو نہىں بلکہ آپ کے اور آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کے پىرو کاروں کو قىامت تک کے لئے ہے۔

 اس کے بعد آنحضرت ﷺو ىہ حکم دىا گىا ہے کہ تمام بنى نوع انسان کو حج کى غرض سے خانہ کعبہ آنے کے لئے دعوتِ عام دو۔ اس کے بعد قربانىوں وغىرہ کا ذکر فرماىا گىا کہ وہ بھى خانہ کعبہ کى طرح شعائر اللہ مىں داخل ہىں، اگر اُن کى بے حرمتى کرو گے تو گو ىا خانہ کعبہ کى بے حرمتى کرو گے۔ لىکن خانہ کعبہ کى خاطر کى جانے والى سارى قربانىاں اس وقت قبول ہوں گى جب تقوىٰ کے ساتھ کى جائىں گى۔ کىونکہ اللہ تعالىٰ کو نہ تو قربانىوں کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون بلکہ محض قربانى کرنے والوں کا تقوىٰ پہنچتا ہے۔

 اس کے بعد جہاد با لسىف کے مضمون پر بڑى وضاحت سے روشنى ڈالى گئى ہے اور بتاىا گىا ہے کہ صرف ان لوگوں کو اپنے دفاع مىں جہاد بالسىف کى اجازت دى جارہى ہے جن پر اس سے پہلے دشمن کى طرف سے تلوار اٹھائى گئى اور ان کو اپنے گھروں سے نکال دىا گىا محض اس لئے کہ وہ ىہ اعلان کرتے تھے کہ اللہ ہمارار ربّ ہے۔ اس کے بعد ىہ عظىم الشان مضمون بھى بىان فرماىا گىا کہ اگر دفاع کى اجازت نہ دى جاتى تو صرف مسلمانوں کى مسجدىں ہى منہدم نہ کر دى جاتىں بلکہ ىہود اور عىسائىوں وغىرہ کے معابد اور خانقاہوں کو بھى برباد کر دىا جاتا۔

 اس کے بعد گزشتہ انبىاء کى منکر قوموں کى ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے اس طرف اشارہ فرماىا ہے کہ اگر انسان زمىن کى سىر کرے اور آنکھىں کھول کر اُن ہلاک شدہ قوموں کے مدفن تلاش کرے تو ىقىناً وہ ان کے بد انجام سے آگاہى پائے گا۔ آج کل ماہرىن آثارِ قدىمہ ىہى کام سر انجام دے رہے ہىں اور بہت سى گزشتہ قوموں کے مدفن درىافت کر چکے ہىں۔

 اس کے بعد آىت نمبر 53مىں ىہ فرماىا گىا ہے کہ رسول کى خواہشات مىں اگر کوئى دل کى خواہش شامل ہو بھى جائے تو اللہ تعالىٰ وحى کے ذرىعہ اس خواہش کو کالعدم کر دىتا ہے۔ ىہاں شىطان سے مراد معروف شىطانِ لعىن نہىں بلکہ انسان کى رگوں مىں خون کى طرح دوڑتے پھرتے رہنے والا شىطان مراد ہے اور آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا ہے: وَلَکِنّ اللّہَ اَعا نَنِىْ عَلَىْہِ فَاَسْلَمَ (مسند احمد بن حنبل، مسند بنى ہاشم) کہ اللہ تعالىٰ نے اس کے خلاف مىرى مدد فرمائى ہے اور وہ مسلمان ہو گىا ہے۔ پس اس آىت کرىمہ سے ہر گز ىہ مراد نہىں کہ واقعتہً کوئى شىطان انبىاء کے دلوں مىں کوئى فتنہ پىدا کرتا ہے کىونکہ اىک دوسرى جگہ (الشعراء: 222-223) پر بڑى وضاحت سے فرما دىا گىا ہے کہ شىطان کو رسولوں کے قرىب بھى پھٹکنے کى اجازت نہىں ہو سکتى۔ ىہ تو انتہائى جھوٹے اور بد کردار لوگوں پر نازل ہوتا ہے اور رسولوں پر ىہ بىان کسى صورت اطلاق نہىں پا سکتا۔

 اس سورت کے آخرى رکوع مىں ىہ بىان فرماىا گىا ہے کہ جنہىں ىہ لوگ اللہ کا شرىک ٹھہراتے ہىں اُن فرضى شرکاء کو تو اتنى اسطاعت بھى نہىں کہ اىک مکھى اگر کسى چىز کو چاٹ جائے تو اسے اس کے منہ سے واپس لے سکىں۔ واقعتًہ اىک مکھى کے منہ مىں کسى چىز کے داخل ہوتے ہى اس کے لعاب کے اثر سے نىز اس کے پىٹ مىں کىمىائى تبدىلىوں کے نتىجہ مىں وہ چىز اصل حالت مىں رہ ہى نہىںسکتى۔

 اس سورت کى آخرى آىت مىں اللہ کى راہ مىں وہ جہاد کرنے کى تلقىن فرمائى گئى ہے جس کى وضاحت اس سے پہلے فرما دى گئى ہے اور ىہ بھى فرماىا گىا کہ حضرت ابراہىم علىہ الصلوٰۃ و السلام اور رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے متبعىن کو اللہ تعالىٰ نے ہى مسلم قرار دىا ہے۔ وہ سب سے بہتر جانتا ہے کہ اس کے سامنے کون کلىتًہ سر تسلىم خم کرتا ہے۔

 آخر پر اس اعلان کا اعادہ فرماىا گىا کہ ىہ رسول ىعنى محمد رسول اللہ ﷺاىک عالمى رسول ہىں۔

(ترجمہ :قرآن کرىم مع سورتوں کا تعارف از حضرت خلىفۃ المسىح الرابع ؒ صفحہ559-560)

سورۃ المُؤمنون

ىہ مکّہ مىں نازل ہونے والى آخر ى سورتوں مىں سے ہے۔

 بسم اللہ سمىت اس کى اىک سو اُنىس آىات ہىں۔

پچھلى سورت کے آخر پر ىہ ذکر ہے کہ اصل کامىابى قىام ِ نماز اور قىام ِ زکوٰۃ سے ہے اور اس امر سے کہ اللہ تعالىٰ کو مضبوطى سے تھام لىا جائے۔ پس جس فلاحِ عظىم کا اس مىں اشارہ ملتا ہے اس کى تفصىل سورۃ المؤمنون کى ابتدائى آىات مىں مذکور ہے کہ فلاح پانے والے وہ مومن ہىں جو محض نماز کو قائم نہىں کرتے اور زکوٰۃ نہىں دىتے بلکہ اور بھى ان مىں بہت سى صفات پائى جاتى ہىں۔وہ دونوں قسم کى صفات ہىں ىعنى کن کن چىزوں سے بچتے ہىں اور کىا نىکىاں بجا لاتے ہىں۔

اس کے بعد ىہ بھى فرماىا گىا ہے کہ اگرچہ زندگى کا پانى آسمان سے اُترتا ہے اور اس کے باربار آسمان سے نازل کرنے کا نظام موجود ہے لىکن اگر کسى بنا پر بنى نوع انسان کو اللہ تعالىٰ سبق سکھانا چاہے تو وہ اس بات پر قادر ہے کہ اس پانى کو لے جائے۔ اس کى دو صورتىں ہىں ىا تو ىہ کہ پانى بار بار آسمان کى کى بلندىوں سے واپس کرنے کا جو نظام ہے اس مىں اللہ تعالىٰ کوئى تبدىلى فرما دے جىسا کہ ابتدائے آفرنىش مىں زمىن کا پانى مسلسل بخارات کى صورت مىں آسمانوں کى طرف بلند ہوتا رہا اور جب برستا تھا تو درمىانى گرم فضا کے نتىجہ مىں پھر واپس عروج کر جاتاتھا۔ اور دوسرى صورت وہ ہے جو عام مشاہدہ مىں آتى ہے کہ جب پانى زمىن مىں گہرا اُتر جائے تو پھر گہرے کنوؤں کى تہ سے بھى نىچے غائب ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد پھر پانى کے مضمون کو آگے بڑھا کر اُن کشتىوں کا ذکر ہے جو پانىوں پر چلتى ہىں اور اس نسبت سے حضرت نوح علىہ الصلوٰۃ والسلام کى کشتى کا ذکر بھى آىا ہے کہ پانى کى سطح پر بلند رہنے کى استظاعت کشتىوں کو تبھى نصىب ہوتى ہے جب اللہ تعالىٰ کا اِذن ہو۔ بلند سے بلند طوفان مىں بھى کشتىاں پانى کى سطح پر بلند ہوتى رہتى ہىں اور معمولى سے طوفان سے بھى  غرق ہو جاتى ہىں۔ جب قومىں آسمانى پانى سے جو روحانى طور پر ان پر نازل کىا جاتا ہے ناشکرى سے پىش آتى ہىں تو دنىاوى پانى کى طرح اس سے بھى اللہ انہىں محروم کر دىتا ہے اور ىہ امر بھى ان کو فائدہ نہىں پہنچاتا کہ موسلا دھار بارش کى طرح مسلسل رسول ان مىں آتے رہے ہىں بلکہ سب کے انکار پر وہ مُصر رہتے ہىں۔

پھر اىسے پہاڑى علاقے کا ذکر فرماىا جہاں پانى کے چشمے اُبلتے تھے اور امن اور تسکىن ِ قلب کا موجب بنتے تھے۔ اسى وادى مىں حضرت مسىح علىہ الصلوٰۃ والسلام اور اُن کى والدہ کو دشمنوں سے نجات دىتے ہوئے اللہ تعالىٰ لے گىا۔ قرائن و آثار بتاتے ہىں کہ ىہ وادئ کشمىر ہى ہے۔

اس کے بعد آىت 79مىں ىہ مضمون بىان فرماىا گىا ہے کہ ارتقائى منازل مىں سب سے پہلے قوتِ شنوائى عطا ہوئى تھى اور اس کے بعد بصارت اور پھر وہ دل انسان کو عطا کئے گئے جو گہرى بصىرت رکھتے ہىں اور ہر قسم کے روحانى مضامىن کو سمجھنے کى استطاعت رکھتے ہىں۔

اس کے بعد کچھ اىسى آىات آتى ہىں جن کے مضامىن اُن آىات سے ملتے جلتے ہىں جن پر تفصىلى بحث پہلے گزر چکى ہے۔ پھر اىک اىسى آىت ہے جو اىک نئے مضمون کو پىش فرما رہى ہے۔ قىامت کے دن جب انسانوں سے ىہ سوال کىا جائے گا کہ تم زمىن مىں کتنى دىر رہے ہو تو وہ کہىں گے کہ شاىد اىک دن ىا اس کا بھى کچھ حصہ۔ اللہ تعالىٰ اس کا جواب ىہ دے گا کہ دراصل تم اس سے بھى بہت تھوڑا عرصہ وہاں ٹھہرے ہو۔ اس سے موت کے بعد جى اٹھنے تک کے زمانے کى طوالت کى طرف اشارہ ہے۔ دنىا اتنى دُور دکھائى دے گى کہ جىسے آناً فاناً گزر گئى اور ىہ وہ مضمون ہے جو روز مرہ انسانى تجربہ مىں آىا ہے کہ بہت دُور کے ستارے جو اپنے حجم مىں چاند اور سورج کے تمام نظام شمسى سے بھى بہت بڑے ہىں محض چھوٹے چھوٹے نقطوں کى صورت مىں دکھائى دے رہے ہىں۔

اس سورت کى آخرى آىت اىک دعا کى صورت مىں ہے جو آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کو ان الفاظ مىں سکھائى گئى کہ اپنے ربّ کو مخاطب ہو کر ىہ عرض کىا کہ اے مىرے ربّ! بخش دے اور رحم فرما اور تُو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔

(ترجمہ :قرآن کرىم مع سورتوں کا تعارف از حضرت خلىفۃ المسىح الرابع ؒ صفحہ577-578)

(عائشہ چوہدری۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

اعلان نکاح

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اکتوبر 2021