• 5 دسمبر, 2021

والدین سے حسن ِ سلوک

؎سب سے ٹھنڈى چھاؤں جو دنىا مىں ہے وہ ماں کى ہے
عرش تک کو جو ہلا دے وہ دعا ماں کى ہے

مىرے والد محترم چوہدرى نذىر احمد سىالکوٹى مرحوم کى بہشتى مقبرہ مىں تدفىن اور قبر تىار ہونے پر دعا کے بعد حسب دستور تعزىت کے لئے دوست احباب مىرے اور مىرے بھائىوں کے ارد گرد جمع تھے اور اپنے اپنے رنگ مىں دکھ اور افسوس کا اظہار کر رہے تھے۔ اتنے مىں 22،20 برس کى عمر کا اىک گبرو جوان بہت بڑے ہجوم مىں سے نمودار ہو کر آگے بڑھا اور مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے ىوں اظہار افسوس کىا کہ
‘‘دروازے کے دو پٹ (کواڑ، تختے) ہوتے ہىں جن کى وجہ سے روشنى اور تازہ ہوا سے ہم مستفىض ہوتے ہىں۔ آپ کے گھر کے دروازہ کا اىک پٹ بند ہوا اور دوسرا پٹ ىعنى ماں کا ابھى کھلا ہے (غالبا اس نوجوان کو مىرى والدہ کے اُس وقت حىات ہونے کا علم تھا) اس نوجوان نے مزىد کہا کہ اس پٹ سے جتنى روشنى اور تازہ ہوا لے سکتے ہو لے لو‘‘

اس نىک اور صالح نوجوان کو نہ مىں اس وقت جانتا تھا اور اب 28 برس گزرنے پر بھى نہ اس سے شناسائى ہوئى اور نہ ہى اب تک اس کا چہرہ مستحضر رہا ہے لىکن وہ جو عظىم پىغام مجھے دے گىا وہ کا لنقش فى الحجر کى طرح نہ صرف مجھے آج بھى دماغ کى سلىٹ پر ىاد ہے بلکہ فولادى مىخ کى طرح وہ مىرے قلب و ذہن مىں پىوست ہو گىا ہے۔ لا رىب مىں سمجھتا ہوں کہ اس مىں اللہ تعالىٰ کى طرف سے اىک بہت بڑا سبق تھا۔ مىرى والدہ محترمہ مرىم صدىقہ بھى ابا جان کى وفات کے بعد لمبا عرصہ زندہ نہ رہ سکىں اور تىن سال کے عرصہ مىں ہم سب کو داغ مفارقت دے گئىں۔ اور مىں ان کى خدمت کرنے کے اعزاز اور سنہرى موقع سے جلد محروم ہو گىا۔ دعاؤں کے خزانے اور کڑى دھوپ مىں گھنى چھاؤں جىسے والدىن کے وجود سے ہم محروم ہوگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَىۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ اللہ تعالىٰ مرحوم والدىن کى مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس مىں ان کے درجات بلند سے بلند کرتا چلا جائے۔ آمىن

خاکسار کو آج کل بحىثىت اىڈىٹر قارئىن الفضل آن لائن لند ن کى طرف سے ان کے مرحوم والدىن کى ىاد مىں بےشمار مضامىن بغرض اشاعت ملتے رہتے ہىں اور آج اتفاق سے اىک اطلاع ماں کى وفات کے علاوہ چار مضامىن ىادرفتگان کے تحت ماؤں کى محبت و شفقت اور ان کے احسانات کے تذکرہ پر ملے ہىں۔ ان مضامىن کے مطالعہ کے بعد مىرى آنکھوں مىں نمى سى آگئى اور مجھے مىرے امى ابا بہت ىاد آئے۔ان کى مىرے ساتھ انوکھى اور ىادگىرى محبت اور مىرى تعلىم و تربىت کے لئے ان کےبڑے بڑے منصوبے اور ان کو پورا کرنے کے جتن انگڑائى لےکر اىک اىک کر کے مىرے سامنے دو زانوں کھڑے ہو کر والدىن کى مغفرت اور بلندى درجات کى دہائى دے کر فرىاد کرنے لگے۔اور اس نوجوان کا دىا ہوا سبق بھى ىادوں کے درىچوں سے نکل کر آ سامنے کھڑا ہوا۔سچ پوچھىں تو ىہ سب کچھ محسوس کرکے مىں اپنے والدىن کے لئے دعا کئے بنا رہ نہ سکااور اس موقع پر دنىا بھر کے مرحوم والدىن کى مغفرت کے لئے بھى دل کى گہرائىوں سے دعا نکلى۔ اور جن کے گھروں کےىہ دونوں پٹ ىا اىک کھلا ہے توان کو اسلامى تعلىم کى روشنى مىں خدمتِ والدىن کى طرف توجہ دلا ئى جا سکتى ہے۔جن احباب و خواتىن کے والدىن حىات ہىں اللہ تعالى ان شفىق والدىن کا رحمت اور محبت بھرا ساىہ تا دىر ان کے سروں پر سلامت رکھے۔ آمىن

وىسے تو خاندان مىں تمام رشتے ہى قابل قدر اور عزت و احترام والے ہىں لىکن اولاد کے لىے والدىن کا رشتہ اىک اىسا پىار بھرا، قابل احترام اور وفا سے بھر پور رشتہ ہے جس کى دنىا کےدىگر رشتوں مىں کوئى مثال نہىں ملتى۔

اللہ تعالىٰ نے قرآن کرىم مىں اپنى توحىد کے بعد والدىن کى اطاعت و فرمانبردارى اور ان سے احسان کى تعلىم دى ہے اور اىک مقام پر اپنے شکر کے ساتھ ماں باپ کے شکر کو باندھ دىا ہے۔

اس مىں حکمت ىہ ہے کہ اللہ تعالىٰ کسى وجود کو جب دنىا مىں لانے کا حکم دىتا ہے تو والدىن اس وجود کو دنىا مىں لانے کا نہ صرف باعث بنتے ہىں بلکہ دنىا مىں رہنے کے قابل بھى بناتے ہىں۔

اس مضمون کى تائىد اىک حدىث سے بھى ہوتى ہے جب آنحضرت ﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ کىا مىں آپ کو سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں؟ تو وہاں بھى آپ نے شرک کے بعد والدىن کى نافرمانى کا ذکر فرماىا۔

اسى طرح اىک اور موقع پر آپ نے اللہ تعالىٰ کے نزدىک محبوب اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرماىا۔ وقت پر نماز ادا کرنا، والدىن کے ساتھ نىکى اور حسنِ سلوک کرنا۔ اىک اور موقع پر اس شخص کو بد قسمت قرار دىا ہے جس نے رمضان کے روزے نہ رکھے اور والدىن کى عزت نہ کى۔

حضرت اوىس قرنى رضى اللہ عنہ کا تعلق ىمن سے تھا۔ وہ اپنى بوڑھى والدہ کى خدمت کى وجہ سے مدىنہ آکر آنحضور ﷺ کى بىعت نہ کر سکے تو آپ ﷺ نے اىک دفعہ ىمن کى طرف منہ کرکے فرماىا۔ مجھے اس طرف سے رحمٰن خدا کى خوشبو آتى ہے۔ اور حضرت عمر رضى اللہ عنہ سے فرماىا کہ دىکھو! اوىس، اپنى والدہ کى خدمت کى وجہ سے مىرى زىارت نہىں کر سکا۔ اس لىے آپ جب اسے ملىں تو مىرا ’’اَلسَّلَامُ عَلَىْکُمْ«‘‘ کہنا۔ والدىن کى اطاعت اور فرمانبردارى سے جنت کى بشارت دى جاتى ہے۔ مشکلات دُور ہوتى ہىں۔ انسان کو پر سکون زندگى ملتى ہے۔ رزق اور عمر مىں برکت ملتى ہے۔ اىک دفعہ کچھ لوگ اىک غار مىں پھنس گئے ان مىں سے اىک نے اپنے خدا سے عرض کى کہ خداىا! مىں اپنے والد کے سرہانے دودھ لے کر کھڑا رہتا ہوں کہ ان کى نىند خراب نہ ہو ىہاں تک کہ صبح ہو جاتى ہے اس نىکى کے صدقے ىہ پتھر ہٹا دے۔ اللہ تعالىٰ نے اس کى اس نىکى کے بدلے پتھر سرکا دىا۔

ىہى وجہ ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرماىا کہ والد جنت کے دروازوں مىں سے اىک بہترىن دروازہ ہے اور اىک دفعہ فرماىا کہ خدا کى رضامندى والد کى رضا مندى مىں ہے اور خدا کى ناراضگى والد کى ناراضگى مىں ہے۔

پس ہم سب کو چاہىے کہ ہم اپنے والدىن سے حسن سلوک کرىں تا اللہ ہم سے راضى ہو اور ہم جنت کے باغات کى ہوا ئىں لے سکىں۔

رَبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّىَانِىۡ صَغِىۡرًا۔

ىعنى: اے مىرے رب! ان پر مہربانى فرما کىونکہ انہوں نے بچپن کى حالت مىں مىرى پرورش کى تھى۔

(بنى اسرائىل: 25)

اللہ تعالىٰ ان کو اپنے والدىن سے صحىح رنگ مىں نرم دلى کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کى توفىق عطا فرمائے جن کے والدىن ىا ان مىں سے اىک حىات ہىں۔ اور اللہ تعالىٰ ان کو اپنے والدىن کے درجات کى بلندى کى دعا کرنے کى توفىق عطا فرمائے جن کے سروں سے ىہ ٹھنڈى چھاؤ ں اُٹھ گئى ہے۔ آمىن

(ابو سعىد)

پچھلا پڑھیں

اعلان نکاح

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اکتوبر 2021