• 25 ستمبر, 2020

ہر راہ کو دیکھا ہے محبت کی نظر سے

قادیان کی بستی سے احمدی کا ایک خاص تعلق اور جذباتی لگاؤہے۔جس کا اظہار اس کے قول و فعل سے قریباًسارا سال ہی جاری رہتا ہے۔ لیکن سانسوں کو مہکانے اور روحوں کو گرمانے کا مہینہ ماہ دسمبر جب قریب آنے لگتاہےتو قادیان کی مبارک بستی بہت یاد آتی ہے۔ کیونکہ اس بستی میں مامور زمانہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ اسی جگہ آپ نے بچپن، اپنی جوانی اور بڑی عمر کا زمانہ گزارا۔ وفات کے بعد آپ کا مزار مبارک بھی یہیں ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سانسیں، اس بستی کی فضاؤں اور ہواؤں کو معطر و مطہر کرتی رہیں۔آپ کی دعاؤں کے طفیل بنی نوع انسان نےاللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ہزار ہا معجزات، مبشرات، نشانات، خوشخبریاں اور پیشگوئیاں آپ کو اسی بستی میں عطا ہوئیں۔ جس کی یہ ارضِ مقدسہ آج بھی گواہ ہےاور یہ مقدس، تاریخی اور یادگاری مقامات اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں۔
جوں جوں یہ دن قریب آنے لگتے ہیں، ہم سب کے جذبات کی کیفیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، بالخصوص شاملین و عازمین جلسہ جب رختِ سفر باندھتے ہیں اور جوں جوں وہ قادیان کے قریب ہوتے ہیں تو ان کی سانسوں میں تیزی اور دل کی دھڑکنیں بلند ہونے لگتی ہیں اور جونہی پہلی نظر مینارۃ المسیح پر پڑتی ہےتو خاموش جذبات زبان پر آکر نعرہ ہائے تکبیر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔تسبیح و تحمید کے الفاظ بے ساختہ بلند آواز سے ادا ہونے لگتے ہیں۔جسم میں ایک خاص قسم کی جذباتی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ایسا کیوں نہ ہو، چونکہ یہ تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی قرب اور فدائیت کی وجہ سےمحض وقتی نہیں ہوتا بلکہ اس بستی میں داخل ہو کرایک روحانی بجلی کی لہرجسم میں دوڑتی اور جذبات میں تلاطم پیدا ہوتا چلا جاتاہےکہ 12,10 , 15 دن گزارنے کے بعدواپس آکر بھی وہ کئی دنوں بلکہ کئی مہینوں تک قائم و دائم رہتا ہے۔ ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دور خلافت میں 2005ء کو قادیان کا سفر اختیار فرمایااور کچھ دن یہاں قیام فرما کربرکتیں نچھاور کیں اور لندن واپس پہنچ کر آپ نے ایک خطبہ میں فرمایا۔
’’اس بستی میں پہنچ کر ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ مینارۃ المسیح دور سے ہی ایک عجیب شان میں کھڑا نظر آتا ہے۔ بہشتی مقبرہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مزار ہے، دعا کر کے عجیب سکون ملتا ہے۔ سب جانے والے تجربہ رکھتے ہیں۔ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا……… قادیان کے سفر کے حالات تو ایک حال دل کی کہانی ہے جو سنائی نہیں جا سکتی۔ بہر حال مختصر یہ کہ اب تک میں نے جو دورے کئے ہیں ، سفر کئے ہیں، ان میں پہلا سفر ہے جس کی یاد ابھی تک بے چین کرتی ہے اور باقی ہے۔ عجیب نشہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بستی کا۔ اس سے زیادہ کہنا مشکل ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20 جنوری 2006 ء)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اعضاء تو ایک جیسے دے رکھے ہیں مگر ہر انسان کی استعدادیں، صلاحیتیں، سوچ و فکر مختلف رکھی ہے۔ وہ کسی چیز اور مقام کو اپنے انداز میں دیکھتا اوراس کے متعلق اپنی رائے قائم کرتا ہے۔جیسے ایک 10 سالہ بچے نے قادیان سے واپسی پر کہا کہ سردی بہت تھی مگر لگتی نہ تھی گویا ایک حرارت تھی، ایک روحانی لہر نے اس بچے کو قابو کر رکھا تھا جس کی وجہ سے اسے سردی نہ لگتی تھی۔ یہی کیفیت ہرچھوٹے بڑے کی ہوتی ہے۔شدید سردی اور رات کو دیر سے سونے کے باوجود دُور و نزدیک رہائشگاہوں سےعلی الصبح بڑے شوق و جذبے سے مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ میں مقررہ وقت سے بہت پہلے شاملین جلسہ نماز تہجد پڑھنے کے لئے رواں دواں نظرآتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے جذبات، احساسات اور Feelings مختلف ہوتی ہیں۔
ہم اس عظیم پیاری اور مبارک ہستی سیدنا حضرت مرزا غلام احمدمسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درجات کی بلندی کے لئے اپنے اللہ کے حضور ہاتھ اٹھا سکیں گےجن کے آباؤ اجداد نے ایسے کٹھن وقت میں مقدس مقامات و شعار الہٰی کی حفاظت کی۔ ہم ان تمام وجودوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھ سکیں گےجنہوں نے اپنے اموال سے اس گلستان احمد کو سینچا ہے۔
یہ قادیان تو ایک بہت چھوٹی سی بستی تھی مگر بشارات ربّانی اور الہٰی خوشخبریوں کے ذریعہ اتنا پھیل چکی ہے کہ اس کا اب پیدل چل کر احاطہ کرنا انسانی حد بست سے باہر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ نے کشف میں دیکھا تھا کہ
’’ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا اور انتہائی نظر سے بھی پَرے تک بازار نکل گئے۔ اونچی اونچی دو منزلی چو منزلی یا اس بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دکانیں عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے سیٹھ، بڑے بڑے پیٹ والےجن سے بازار کو رونق ہوتی ہےبیٹھے ہیں اور ان کے آگے جواہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں، روپوں اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسمہاقسم کی دکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگا رہی ہیں۔یکے،بگھیاں، ٹم ٹم، فٹن، پالکیاں، گھوڑے، شکرمیں، پیدل اس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھڑ کر چلتا ہےاور راستہ بمشکل ملتا ہے‘‘

(تذکرہ صفحہ343ایڈیشن چہارم)

بلکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے بتایا تھاکہ مجھے دکھایاگیا ہے کہ ’’یہ علاقہ اس قدر آباد ہو گا کہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ جائے گی‘‘ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس پاک بستی میں اپنے لیل و نہار بسر کئے، اس دوران آپ ؑ نے اپنی زبان مبارک سے کئی باتیں بیان فرمائیں اور احکامات و خطبات اور خطابات ارشاد فرمائے۔ 21 ویں صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی روز افزوں ترقی کی وجہ سے ان سب باتوں کو برقی لہروں اور صوتی سگنلز کے ذریعہ محفوظ کیا جائے گا اور ایک دن آئے گا جب ہم وہ خوبصورت اور پُر معارف باتیں اور ارشادات و ہدایات بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کی زبانی سُن سکیں گے۔جو آج اس متبرک بستی کی فضاؤں کا حصہ ہیں۔قادیان کی زیارت کرنے والوں کے ایمان میں اس بات کو سامنے رکھ کر بھی اضافہ ہو گا۔ان شا ءاللہ تعالیٰ۔
یہ وہ مقدس اور مبارک بستی ہے جس کی زمین کے ذرہ ذرہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک قدم چومے ہیں ۔انہی مٹی کے مبارک ذرّات پر قدم رکھنے، انہیں چھونے کے لئے احمدی کشاں کشاں قادیان کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرد جماعت اس شعر کی عکاسی کر رہا ہوتا ہے۔ ؎

ہر راہ کو دیکھا ہے محبت کی نظر سے
شاید کہ وہ گزرے ہوں اسی راہ گزر سے

پچھلا پڑھیں

فضائی آلودگی خوشحالی کی دشمن

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 دسمبر 2019