• 8 جولائی, 2020

جلسہ سالانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا چمکتا ہوا نشان

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام خدائی نوشتوں اور آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیوں کے مطابق عین چودھویں صدی کے سر پر امت مسلمہ اور دیگر ادیان کی رہنمائی اور ان پر حقیقی رنگ میں صداقت اسلام اور صداقت قرآن ظاہر کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ۔قرآنی ارشاد کی روشنی میں یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ (یٰسٓ:31) کے مطابق آپ کی مخالفت کی گئی اور آپ کے خلاف بھی کفر کے فتوے لگائے گئے آپ کو جھوٹا دجال کافر اور نہ جانے کن کن القابات دیئے گئے لیکن خدا تعالی اپنے وعدوں کے مطابق اپنے فرستادوں کی نصرت اور مدد کرتا آیا ہے جیسا کہ فرمایا۔ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ (المجادلہ:22) کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ غالب آیا کرتے ہیں۔چنانچہ جب ہم کسی بھی جہت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی صداقت کو پرکھتے ہیں تو ہر طرف سے روز روشن کی طرح یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے۔

جس بات کو کہے کروں گا میں ضرور
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے

حضرت اقدس مسیح موعودؑ ہندوستان کے ایک چھوٹے سے قصبے قادیان میں پیدا ہوئے وہاں پلے بڑھے اور وہیں پر خدا تعالی نے آپ کو اس زمانے کا امام اورمسیح مہدی بنا کر مبعوث فرمایا۔ براہین احمدیہ حصہ چہارم میں درج ہے کہ 1884 ءمیں آپ کو خدا تعالی کی طرف سے یہ الہام ہوا یَاتُونَ مِن کُل فَجّ عَمِیق یَاتِیکَ مِن کُل فَجّ عَمِیق۔ یعنی تیرے پاس دور دراز سے لوگ آوینگے اور تیری امداد کے لئے تجھے دور دراز سے سامان پہنچیں گے حتی کہ لوگوں کی امداد اور اموال و سامان کے آنے سے قادیان کے راستے گھس گھس کر گہرے ہو جائیں گے۔
حضرت مرزا بشیر احمدؓ اپنی کتاب سلسلہ احمدیہ میں ان الہامات کے بارے میں فرماتے ہیں۔
’’ یہ الہام اس وقت کا ہے جب کہ قادیان میں کسی کی آمدورفت نہیں تھی اور قادیان کے دور افتادہ گاؤں دنیا کی نظروں سے بالکل محجوبُ مستور تھا ۔‘‘

(سلسلہ احمدیہ جلد اول صفحہ 31)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

میں تھا غریب و بے کس و گمان و بے ہنر
کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر
لوگوں کی اس طرف ذرا بھی نظر نہ تھی
میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی

مندرجہ بالا الہامات کے علاوہ بھی کچھ اور الہامات ہیں جن کا تذکرہ ناگزیر ہے کیونکہ مضمون کو سمجھنے کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ کن حالات میں یہ الہامات ہوئے اور پھر کس طرح خدا تعالی نے مدد فرمائی۔ چنانچہ 1880ء میں الہام ہوا۔
’’خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہوجائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔ میں تجھے اُٹھاؤں گا اور اپنی طرف بُلا لوں گا پر تیرا نام صفحہ ٔزمین سے کبھی نہیں اُٹھے گا اور ایسا ہوگا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلّت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے در پَے اور تیرے نابُود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی اور نامرادی میں مریں گے۔ لیکن خدا تجھے بکلّی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دےگا۔ میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دُوں گا۔‘‘

(تذکرہ انگریزی صفحہ179)

ان الہامات کو درج کرنے سے مطلب صرف یہ ہے کہ قارئین کو پتہ لگ جائے کہ کن حالات میں حضرت مسیح موعود ؑ نے دعویٰ کیا۔ اور اس وقت آپ کو کوئی جانتا نہ تھا۔ قادیان سے کوئی واقف نہ تھا نہ ہی کوئی ذرائع میسر تھے۔ لیکن خدا تعالی نے اس وقت فرمادیا تھا کہ دور دور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے تیرا نام اور عزت دنیا کے کناروں تک پہنچے گی لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈالی جائے گی اور دشمن اپنے سارے منصوبوں میں ہمیشہ ناکام و نامراد رہیں گے اور یہی آپ کی صداقت کا ثبوت ہوگا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جب سلسلہ احمدیہ کی بنیاد ڈالی ۔تو اس کا مقصد یہ بیان فرمایا کہ
’’ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول ﷺ کی محبت دل پر غالب آجائے اور ایسی حالت پیدا ہوجائے جس سے سفر آخرت مکروہ معلوم نہ ہو۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 302)

ایک اور جگہ اپنی آمد کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’میں بھیجا گیاہوں تا کہ میں آنحضرت ﷺ کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 9 ایڈیشن 2010ءقادیان)

جلسہ سالانہ کی بنیاد

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتب میں بار بار اپنے آنے کے مقاصد بشرح و تفصیل بیان کئے ہیں اور جب تک کوئی شخص ماننے والا آپ کی صحبت میں آکر نہ رہے تو وہ مقاصد پورے نہیں ہو سکتے کیونکہ قرآن کریم نے یہی فارمولا بیان فرمایا ہے کہ اگر تزکیہ نفس چاہتے ہو تو صحبت صالحین اختیار کرو۔ کونوا مع الصادقین سے ہی انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے چنانچہ اس غرض کے لیے بانی سلسلہ احمدیہ نے جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی اور اپنے ایک اشتہار میں احباب کو جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کی یوں ترغیب اور تحریص دلائی آپؑ فرماتے ہیں۔
’’لہٰذا قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ سال میں تین روز ایسے جلسہ کے لئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خدا چاہے بشرط صحت و فرصت و عدم موانع قویہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو سکیں……حتیٰ الوسع تمام دوستوں کو محض للہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دعاؤں میں شریک ہونے کے لئے اس تاریخ پر آجانا چاہیے اور اس جلسہ میں ایسے حقائق و معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں……اور کم مقدرت احباب کے لئے مناسب ہوگا کہ پہلے ہی سے اس جلسہ میں حاضر ہونے کا فکر رکھیں اور اگر تدبیر اور قناعت شعاری سے کچھ تھوڑا تھوڑا سرمایہ خرچ سفر کے لئے ہر روز یاما ہ بماہ جمع کرتے جائیں اور الگ رکھتے جائیں تو بلادقّت سرمایہ سفر میسر آجائے گا ۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 303)

7 سمبر 1892 ءکے اشتہار میں حضرت مسیح موعود جلسہ کے بارے میں مزید فرماتے ہیں کہ
’’ اس جلسہ کے اغراض میں بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اُٹھانے کا موقع ملے……ان کی معرفت ترقی پذیر ہو…… ماسوا اس کے جلسہ میں یہ ضروریات میں سے ہے کہ یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے تدابیر حسنہ پیش کی جائیں۔ کیونکہ اب یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یورپ اور امریکہ کے سعید لوگ اسلام کے لئے طیار ہو رہے ہیں…… سو بھائیو یقیناً سمجھو کہ یہ ہمارے لئے ہی جماعت طیار ہونے والی ہے۔ خدا تعالیٰ کسی صادق کو بے جماعت نہیں چھوڑتا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص340)

حضرت مسیح موعودؑ نے مندرجہ بالا اشتہار 7 دسمبر 1892ء میں دیا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح مخالفین کی آنکھوں میں یہ تیر کی طرح کھٹکا۔ اور انہوں نے اس بارہ میں فتویٰ دیا کہ ’’ایسے جلسہ پر جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور ایسے جلسوں کا تجویز کرنا محدثات میں سے ہے جس کے لئے کتاب اور سنت میں کوئی شہادت نہیں اور جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے۔‘‘ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے ان فتاوی ٰیا غلط بیانیوں یا علماء کی کذب بیانیوں پر ایک اور اشتہار شائع فرما کر ان کا رد فرمایا اور قرآن و حدیث سے بطلان ثابت کیا ۔آپ نے فرمایا کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونا بہت ثواب کا موجب، طلبِ علم کا موجب، محبت للہ کا موجب، روحانیت بڑھانے کا موجب، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اخوت و محبت بڑھانے کا موجب اور سب سے بڑھ کر یہ نماز تہجد، پانچ نمازیں اور اس زمانہ میں خداتعالیٰ کےخلیفہ کی صحبت میسر آتی ہے جس سے کو نوا مع الصادقین ہو کر انسان کا تزکیہ نفس ہوتا ہے ۔ اور یہی جلسہ سالانہ کےاغراض و مقاصد ہیں جو حضور ؑ نے بیان فرمائے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے جو جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی اورآپ کے حکم کی تعمیل میں جو جلسہ ہوا اس کی کچھ ایمان افروز پیش کی جاتی ہیں۔

پہلا جلسہ سالانہ اور اس کے بعد ترقیات کا آغاز

حضرت مرزا بشیر احمدؓاپنی کتاب سلسلہ احمدیہ میں جماعت احمدیہ کے پہلے جلسہ سالانہ کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں۔
’’سلسلہ احمدیہ کے مرکز قادیان میں جماعت احمدیہ کا ایک سالانہ اجتماع دسمبر کے آخری ہفتہ میں ہوا کرتا ہے۔ اس کا آغاز 1891ء میں ہوا تھا جبکہ اس میں 75 اصحاب شریک ہوئے ۔مگر اس اجتماع کا باقاعدہ اجراء 1892ء میں ہوا جب کہ جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ میں 327 اصحاب شریک ہوئے ۔ اس کے بعد یہ جلسہ سوائے ایک دو ناغوں کے ہر سال جاری رہا اور اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد سال بسال بڑھتی گئی حتیّٰ کہ آجکل جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد پچیس تیس ہزار کے قریب ہوتی ہے (یہ بات 1939ءکی ہے ناقل) جو ملک کے مختلف حصوں سے آتے ہیں۔ اس سے جماعت کی نسبتی ترقی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ یہ جلسہ مذہبی عبادت کا رنگ نہیں رکھتا مگر اس نے جماعت کی تبلیغی اور تربیتی اور تنظیمی اغراض کے پورا کرنے میں بہت بھاری حصہ لیا ہے۔ اس سالانہ اجتماع میں بعض غیر احمدی اور غیر مسلم اصحاب بھی شریک ہوتے ہیں جو عموماً بہت اچھا اثر لے کر جاتے ہیں۔‘‘

(سلسلہ احمدیہ جلد اول صفحہ 44)

اس سے ظاہر ہے کہ 1891ء میں ہندوستان کی کروڑوں کی آبادی میں سے صرف 75 افراد کو یہ توفیق ملی کہ وہ حضرت بانی سلسلہ کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے روحانی فیض حاصل کریں اور مخالف لوگوں نے اس جلسہ کے بعد اپنی مہم تیز تر کردی اور مشکل حالات پیدا کر دیئے کہ کس طرح بھی یہ جلسہ آئندہ نہ ہوسکے اور ادھر جلسہ کے انعقاد کے لئے جس قدر وسیع اخراجات کی ضرورت تھی وہ بھی اس وقت مالی حالات کی وجہ سے ممکن نہ تھا۔
تاریخ احمدیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ 1956ء کے جلسہ سالانہ میں 60 ہزار سے زائد افراد شامل ہوئے تھے۔ کیا یہ صداقت مسیح موعود کا منہ بولتا ثبوت نہیں کہ ہر طرف مخالفت کا طوفان ۔ کوئی بھی ایسی بات سامنے نہیں آتی کہ جس سے جلسوں کا انعقاد ممکن ہو سکتا تھا ۔ نہ اقتصادی لحاظ سے نہ مالی لحاظ سے ، نہ عددی لحاظ سے ۔ مگر 75 سے شروع ہونے والا یہ قافلہ 1956ء میں 60 ہزار کی تعداد تک جا پہنچا۔
حضرت مسیح موعودؑ نے جلسہ سالانہ کے بارے میں جو اشتہاردیا تھا کہ اس میں حقائق ومعارف سنانے کاشغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں چنانچہ اس صداقت کی گواہی ہر جلسہ کے موقع پر ہوتی جارہی ہے ایک غیر از جماعت نے حضرت مصلح موعودؓ کی جلسہ کی تقریر سن کر یہ لکھا۔
’’ جس وقت میں نے حضرت خلیفہ المسیح کو سٹیج پر تقریر کرتے سنا یہ معلوم ہوتا تھا کہ ایک بحر ذخار ہے جس میں سے موتی و گہر ابل ابل کر نکل رہے تھے جناب کی تقریردلپذیر کچھ ایسی مضبوط اور جامع تھی کہ اس کا ہر پہلو ایک بڑے سے بڑے پرمغز لیکچرار کو بھی کوئیں جھکا رہا تھا صاف اور سادی اتنی کے ہر جاھل اور عالم اس سے مستفید ہورہا ہے کہا جاتا ہے کہ دوران تقریر میں احمدی محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر کم لیکن مرزا صاحب کا ذکر بہت کرتے ہیں مگر اس کے خلیفہ کی یہ حالت تھی کہ نبی کریم ﷺ کا نام پاک آتا وہ مجسمہ رقت بن جاتا اور جہاں حضرت مرزا صاحب کا نام لینا ہوتا تو وہاں رسول کریم ﷺ کے غلام سے موسوم کیا جاتا تقریر قصہ کہانیاں نہیں بلکہ وہ مفید عالم باتیں تھیں جن پر واقعی آج اسلام کی زندگی کا سوال ہے پھر معارف القرآن وہ جن سے روح زندہ ہو۔‘‘

(روزنامہ الفضل 24 دسمبر 1956ء)

خاکسار کو 1966 ءکے جلسہ سالانہ ربوہ میں شامل ہونے اور خود دیکھنے کا موقع میسر آیا تھا اتنا بڑا اجتماع اس سے قبل نہ دیکھا تھا اب یہ جلسہ ہزاروں کی تعداد سے نکل کر لاکھوں تک پہنچ چکا تھا پھر یہی نہیں بلکہ پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک سے بھی لوگ اس میں شامل ہونے کے لئے آنے شروع ہوگئے تھے ایک جلسہ کے موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے غیرملکی مہمانوں اور نمائندگان کو سٹیج پر کھڑا کرکے فرمایا تھا کہ ان کے دلوں سے کون لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰہِ کو مٹا سکتا ہے۔

یَاتُونَ مِن کُلّ فَجّ عَمِیق کے بارہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں دلچسپ واقعہ ہوا ۔ وہ واقعہ یوں ہے۔
ایک امریکن سیاح قادیان میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ لاہور کے ایک پادری کو بھی لیتے آئے مسجد مبارک کے نیچے جہاں دفتر محاسب ہے انہیں ملاقات کا موقع دیا گیا حضرت مسیح موعودؑ تشریف لائے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو بھی بلوایا مولوی علی صاحب بھاگلپوری ترجمان مقرر ہوئے باتیں کرتے کرتے امریکن سیاح نے نشان مانگا حضور نے فرمایا کہ تم خود نشان ہو اور خدا تعالیٰ کے الہام یَاتُونَ مِن کُل فَجّ عَمِیقْ کی زندہ تصویرہو ورنہ اس چھوٹے سے گاؤں میں آنے کی کیا ضرورت تھی؟
سیاح مذکور نے کہا میں تو عقیدت مندانہ رنگ میں نہیں آیا حضورؑ نے فرمایا کہ الہام میں عقیدت مندانہ کا فقرہ موجود نہیں الہام میں تو صرف یہ بیان ہوا ہے کہ لوگ دور دور سے آئیں گے چنانچہ آنے والوں میں سے ایک آپ بھی ہیں اور اپنی ذات میں سے اس پیشگوئی کو لفظ بلفظ پورا کر رہے ہیں اور اس کو نشان کہتے ہیں۔

(رجسٹر روایات صحابہؓ)

حضرت مفتی محمد صادقؓ ذکرِ حبیب میں لکھتے ہیں۔
’’ امریکہ میں ایک لیڈی مس روز تھی جس کے مضامین اس ملک کے بعض اخباروں میں اکثر چھپا کرتے تھے میں نے اس کے ساتھ تبلیغی خط و کتابت شروع کی اور اس کے خط جب آتے تھے میں عموماً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ترجمہ کرکے سنایا کرتا تھا اور ہماری مجلسوں میں اسے مس گلابو کہا جاتا تھا ایک دفعہ مس گلابو نے اپنے خط کے اندر پھولوں کی پتیاں رکھ دیں حضرت صاحبؑ نے انہیں دیکھ کر فرمایا یہ پھول محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی یا تو ن من کل فج عمیق کی پیش گوئی کو پورا کرنے والے ہیں۔‘‘

(ذکر حبیب از مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 99-98)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے وقت 1983ء کے جلسہ سالانہ ربوہ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق حاضری دو لاکھ پچھتر ہزار سے متجاوز تھی ۔ قارئین کرام! آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ جلسہ جو صرف 75 نفوس سے شروع ہوا آج اسکی شاخیں قادیان اور ربوہ سے نکل کر تمام دنیا میں پھیل گئی ہیں 75 نفوس سے دو لاکھ 75 ہزار تک پہنچ گئی پھر حکومت کی طرف سے جلسہ کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے اس کے بعد سے ربوہ میں آج تک جلسہ منعقد نہیں ہو سکا خدا تعالی کے فضل سے قادیان میں جلسہ جاری ہے اور اس کے علاوہ اب دنیا کے قریباً ہر ملک میں جلسہ منعقد ہو رہا ہے کیا امریکہ، کیا ہندوستان، کیا بنگلہ دیش، مغربی افریقہ کے ممالک، مشرقی افریقہ کے ممالک، آسٹریلیا، فجی، آئرلینڈ، ماریشس، جاپان، فن لینڈ، برطانیہ، جرمنی، ڈنمارک، مغربی ممالک، مشرق اوسط کے ممالک اور کینیڈا وغیرہ ممالک میں بڑی باقاعدگی کے ساتھ ہر سال اپنے اپنے حالات کے مطابق جلسہ سالانہ منعقد ہو رہا ہے ۔
کیا یہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ بانی سلسلہ کی صداقت کا نشان نہیں؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو اس کو بدعت سمجھتے تھے۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ احمدیت کا نام ونشان مٹ جائے گا ۔

اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا
اب یقیں سمجھو کے آئے کفر کے کھانے کے دن

2008 ء میں جب خلافت احمدیہ کی سوسالہ جوبلی خدا تعالی کے فضل کے ساتھ منائی گئی تو ہمارے پیارے اور محبوب امام حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی دیگر ممالک کے جلسوں میں شمولیت کے لیے بنفس نفیس تشریف لے گئے ان میں سے ایک ملک گھانا مغربی افریقہ تھا وہاں جلسہ میں ایک لاکھ سے زائد کا مجمع تھا خاکسار عینی شاہد ہے کیونکہ اس عاجز کو بھی اس جلسہ میں امریکہ کے نمائندہ کی حیثیت سے شمولیت کی توفیق ملی تھی۔ جماعت امریکہ کی طرف سے ایک وفد بھی اس جلسہ میں شامل ہوا تھا۔
جیسا کہ خاکسار نے لکھا ہےکہ جلسہ سالانہ صداقت مسیح موعودؑ کا ایک چمکتا ہوا نشان ہے اس وقت برطانیہ میں خلافت احمدیہ کی موجودگی کی وجہ سے جلسہ مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے اس سے قبل یہاں بھی چند سو اس جلسہ میں حاضر ہوتے تھے لیکن 2019ء میں برطانیہ کے جلسہ سالانہ کی حاضری 39ہزار 829 جس میں 115 ممالک کی نمائندگی ہوئی۔ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک الہام یہ تھا۔ ’’میں تجھے دنیا کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا ‘‘ پھر آپ کو ایک الہام انگریزی میں یہ بھی ہوا تھا I shall give you a large party of Islam ایک وقت تھا کہ جلسہ سالانہ کے اخراجات کے لیے پیسے بھی نہ تھے ۔آج یہ وقت ہے کہ خدا تعالی کے فضل سے ہر ملک میں جلسہ سالانہ کے وقت لاکھوں ڈالر اور لاکھوں پاؤنڈ خرچ کیے جارہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ صداقت کا نشان نہیں ہے؟
2019ءکےدو جلسوں میں حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز شامل ہوئے اور آپ نے اپنے خطبات میں ان جلسوں پر حاضر ہونے والے غیرازجماعت احباب کے تاثرات بیان فرمائے جو کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا نشان ہے ۔ حضور نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 12 جولائی 2019ءمیں جرمنی کے جلسہ میں شمولیت کے بعد فرمایا۔
’’ جلسہ میں شامل ہونے والے سینکڑوں غیراز جماعت اور غیر مسلم مہمانوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ایک غیر معمولی ماحول اور اثر دیکھنے میں آیا ہے اپنے تو اظہار کرتے ہی ہیں لیکن کس طرح تمام کارکن، بچے ،بچیاں تک کام کرتے ہیں اور کس طرح اتنی بڑی تعداد میں لوگ بغیر کسی جھگڑے اور فساد کے رہتے ہیں یہ غیروں کے نزدیک ایک عجیب غیرمعمولی چیز ہے بلکہ بعض نے تو یہ اظہار کیا ہے کہ یہ ایک معجزہ ہے ۔ پس ہمارا جلسہ علاوہ ہماری اپنی تربیت کے تبلیغ کا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ بنتا ہے۔‘‘

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :

وہ گھڑی آتی ہے جب عیسیٰ پکاریں گے مجھے
اب تو تھوڑے رہ گئے دجال کہلانے کے دن

اور یہ کہ

اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا
اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا
اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا
میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا

اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعودؑ سے کئے گئے وعدے پورے فرمائے قوموں نے برکت حاصل کی ۔ اور کررہی ہیں۔ جلسہ سالانہ کی جو بنیاد آپ نے ڈالی تھی وہ قادیان کی بستی سے نکل اب ساری دنیا میں پھیل چکی ہے جس کی مختصر جھلک خاکسار نے اس مضمون میں لکھی ہے ۔ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ

آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے
لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے

اور یہ کہ

مسیح وقت اب دنیا میں آیا
خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا
مبارک وہ جو اب ایمان لایا
صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا
وہی مے ان کو ساقی نے پلا دی
فسبحان الذی اخزی الاعادی

آخر پر میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے یہ اقتباس رکھتا ہوں آپ فرماتے ہیں۔
’’میں بڑے دعوےاور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک میں دُور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے۔ جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پُتلی کی طرح اس مُشتِ خاک کو کھڑا کردیاہے۔ ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں۔ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں‘‘

(ازالہ اوہام،روحانی خزائن جلد 3صفحہ 403)

(سید شمشاد احمد ناصر۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

فضائی آلودگی خوشحالی کی دشمن

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 دسمبر 2019