• 23 ستمبر, 2020

سورۃ فاتحہ جلسہ سالانہ کا بہترین افتتاحیہ ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓجلسہ سالانہ 1932ء کا افتتاح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’بہترین افتتاحیہ تو وہی ہے جس سے خداتعالیٰ نے اپنے کلام کو شروع کیا اور جس کا نام خود اس نے سورۃ فاتحہ رکھا۔ اس سے بہتر کوئی افتتاحی کلام نہیں ہو سکتا اور اس سے بہتر کوئی جامع دعا نہیں ہوسکتی۔اس کے مطالب اتنے وسیع اور اس کے اندر مخفی اسرار اتنے لاتعداد ہیں کہ انسانی ذہن ان کا اندزاہ ہی نہیں کر سکتا۔ وہ ابدالآباد تک کی ترقیات جو بہتر سے بہتر انسان کے لئے نبیوں کے لئے ہی نہیں بلکہ نبیوں کے سردار کے لئے مقرر ہیں وہ بھی اس سورۃ فاتحہ کے اندر آ جاتی ہیں کیونکہ انسانی سلوک کے انتہائی منازل اور ان کے متعلق ضروری ہدایات ساری کی ساری ان مختصر سی سات آیات میں اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہیں۔ پس سورہ فاتحہ کو میں اس جلسہ کے افتتاح کے لئے پڑھتا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ افتتاحیہ جو اس کی طرف سے عطا ہوا ہے اس کے اندر جو ضروری ہدایات ہمارے متعلق ہیں ان کو پورا کرنے کی ہمیں توفیق دے………

آپ لوگوں میں سے کوئی فرد یہ خیال نہ کرے کہ یہاں آنا معمولی بات ہے اور یہ مجلس دنیا کی مجالس کی طرح معمولی مجلس ہے۔ کیونکہ یہ خیال کرنے والا شخص خداتعالیٰ کے وعدوں پر ایمان نہیں رکھتا اور وہ مومن نہیں ہو سکتا جو یہ یقین نہ رکھے کہ ہم یہاں نئی زمین اور نیا آسمان بنانے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔یاد رکھو تم وہ بیج ہو جس سے ایسا عظیم الشان درخت اُگنے والا ہے جس کے سایہ میں تمام دنیا آرام پائے گی۔ تمہارے قلوب وہ زمین ہیں جس سے خدا تعالیٰ کی مغفرت کا پودا پھوٹنے والا ہے۔ اگر دنیایہ بات نہیں دیکھ سکتی تو وہ اندھی ہے۔ اور اگر خدا کے وعدوں کو نہیں سنتی تو وہ بہری ہے۔ مگر تم نے خداتعالیٰ کے وعدوں کو سنا اور ان کو پورا ہوتے دیکھا۔ تم میں سے ہر فرد جس نے خدا کے مسیح کے ہاتھ پربیعت کی خواہ براہِ راست کی، خواہ خلفاء کے ذریعہ۔ وہ آدم ہے جس سے آئندہ نسلیں چلیں گی۔ تم خدا کی وہ خاص زمین ہو جس پر اس کی رحمت کی بارش برسے گی۔ تمہیں خداتعالیٰ وہ درخت بنائے گا جس کے ساتھ ہر سعید بیٹھے گا اور جو تم کو چھوڑے گا وہ نہ دنیا میں آرام پائے گا نہ آخرت میں۔‘‘

(انوار العلوم۔ جلد12 صفحہ545تا548)

پچھلا پڑھیں

فضائی آلودگی خوشحالی کی دشمن

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 دسمبر 2019