• منگل 25 فروری 2020   (1 رجب 1441)

قادیان کے مقامات مقدسہ

قادیان دارالامان ایک مقدس بستی کہ جس کے بارے حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا۔
’’خدا تعالیٰ نے اس ویرانے کو یعنی قادیان کو مجمع الدیار بنا دیا کہ ہر ایک ملک کے لوگ آکر جمع ہوتے ہیں۔ ‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم،روحانی خزائن جلد21صفحہ95)

’’ایک دن آنے والا ہے جو قادیان سورج کی طرح چمک کر دکھلا دے گی کہ وہ ایک سچے کا مقام ہے‘‘

(دافع البلاء روحانی خزائن جلد18صفحہ231)

قادیان دارالامان ایک مقدس بستی جہاں بہت سےمقدس مقامات موجود ہیں ان کا مختصر تعارف پیش ہے۔

مسجد مبارک

اس مسجد کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
ترجمہ:یہ مسجد برکت دہندہ ہے (یعنی برکت دینے والی) اور برکت یافتہ (یعنی اسے برکت دی گئی ہے) اور ہر ایک امر مبارک اس میں کیا جائے گا۔

مسجد مبارک
مسجد مبارک
مسجد مبارک
مسجد مبارک

(تذکرہ صفحہ 106)

سرخ چھینٹوں والا کمرہ

مسجد مبارک کے قدیمی حصہ کے مشرقی جانب سیڑھیوں کے ساتھ یہ کمرہ ہے۔10جولائی 1885ء بمطابق 27 رمضان 1302ھ کو اس کمرہ میں سرخی کے چھنیٹوں والا نشان ظاہر ہوا۔حضرت مسیح موعودؑنے ایک کشف دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قلم کو سیاہی میں ڈبو کر آپ کی طرف چھڑکا اور جب آپ نے آنکھ کھولی تو ظاہر میں بھی سرخی کے نشانات پائے۔

بیت الفکر

یہ وہ کمرہ جو مسجد مبارک سے ملحق شمالی جانب ہے اور اس میں حضرت مسیح موعود ابتدائی ایام میں تالیف و تصنیف کے کام میں مشغول رہا کرتے تھے ۔اسی کمرہ کی نسبت حضورؑ کو 1882ء میں الہام ہوا۔(ترجمہ)کیا ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی؟ کہ تجھ کو بیت الفکر عطا کیا۔

(تذکرہ صفحہ 82)

دالان حضرت اماں جان

بیت الدعا کے ساتھ والا مشرقی دالان بھی بہت تاریخی اور مقدس ہے۔اس میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی عمر کا آخری زمانہ گزارا اور حضرت اماں جان بعد میں یہیں رہیں۔یہاں بہت سے الہامات ہوئے۔بلکہ اماں جان اسے بیت الفکر میں شامل کیا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ حضرت مسیح موعود ؑبھی اسے بیت الفکر کا حصہ شمار فرماتے تھے۔

(ضمیمہ اصحاب احمد اول صفحہ21)

بیت الدعا

حضرت مسیح موعود ؑ نے بیت الدعا کی تعمیر کی غرض درج ذیل الفاظ میں بیان فرمائی۔
’’ہم نے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں۔ستّر سال کے قریب عمر کے گزار چکے ہیں۔موت کا وقت مقرر نہیں۔خدا جانے کس وقت آجائے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی ہے۔ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔رہی سیف سو اس کے واسطے خدا تعالیٰ کا اذن اور منشاء نہیں۔لہٰذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعداء پر بذریعہ دلائل نیزہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنا دے‘‘

(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ صفحہ109)

بیت الریاضت

’’وہ کمرہ جس میں حضورؑ نے (1875ء کے آخر یا 1876ء کے شروع میں) آٹھ یا نو ماہ کے روزے رکھے بیت الریاضت کہلاتا ہے۔یہی وہ کمرہ ہے جس میں حضرت مسیح موعود ؑ نے براہین احمدیہ تصنیف فرمائی تھی‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ چہارم صفحہ 151۔روایت 1206)

کمرہ پیدائش

حضرت مسیح موعودؑ کے آبائی مکان یعنی ’’الدّار‘‘ کے ایک کمرہ میں حضورؑ کی ولادت مورخہ 14 شوال 1250 ہجری بمطابق 13 فروری 1835ء بروز جمعۃ المبارک ہوئی تھی۔

(قادیان اور اُس کے مقدس و تاریخی مقامات حمید کوثر صاحب صفحہ37)

کمرہ پیدائش حضرت مصلح موعود

’’الدّار‘‘ (مکان حضرت مسیح موعودؑ) کے اسی احاطہ میں ایک اور کمرہ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ؓکی ولادت 12جنوری 1889ء کو ہوئی تھی۔

(قادیان اور اس کے مقامات مقدس و تاریخی مقامات حمید کوثر ،صفحہ 37)

مسجد اقصیٰ

’’مسجد مبارک تعمیر ہونے سے پہلے تو آپؑ اسی مسجد (مسجد اقصیٰ) میں نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔ اور ذکر الٰہی میں مشغول رہا کرتے تھے۔اس مسجد کے قدیمی حصہ کے درمیانی خراب میں حضورؑنے مورخہ11۔اپریل1900ءکو عیدالاضحیٰ کے موقعہ پر عربی زبان میں فی البدیہ خطبہ ارشاد فرمایا جو خطبہ الہامیہ کے نام سے موسوم ہے‘‘

مسجد اقصیٰ

(قادیان اور اُس کے مقدس و تاریخی مقامات حمید کوثر صفحہ41)

مسجد اقصیٰ میں ہی حضرت مسیح موعود ؑ کے عہد مبارک میں پہلا جلسہ سالانہ 27 دسمبر1891ء کو منعقد ہوا۔ جس میں 75احباب شریک ہوئے۔

(قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات حمید کوثر صفحہ42)

منارۃ المسیح

13مارچ 1903ء بروز جمعہ مسجد اقصیٰ کے صحن میں منارۃ المسیح کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

منارۃ المسیح رات کا منظر

بہشتی مقبرہ

قادیان کے مقدس مقامات میں سے اہم ترین مقام بہشتی مقبرہ ہے۔جہاں سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کا مزار مبارک ہے۔اور یہی وہ جگہ ہے جس کی مٹی حضورؑکو کشف میں چاندی کی دکھائی گئی تھی اور جس کا ذکر حضورؑنے رسالہ الوصیت میں فرمایا ہے۔یہی وہ بہشتی مقبرہ ہے جہاں آپ کے اُن ساتھیوں کی قبریں ہیں جنہوں نے احمدیت کے شجرکی آبیاری اپنے خون سے کی۔یہی وہ بہشتی مقبرہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضورؑ کو یہ خوشخبری دی تھی کہ یہ اُن برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔یہی وہ بہشتی مقبرہ ہے جہاں قدرتِ ثانیہ کا ظہور ہوا۔

آبائی قبرستان

حضرت مسیح موعودؑکا قدیمی آبائی خاندانی قبرستان قادیان کے مغرب کی طرف واقع ہے۔ اسی قبرستان میں حضورؑکی والدہ صاحبہ حضرت چراغ بی بی صاحبہ کی قبر ہے۔جن کی وفات 1868ء میں ہوئی تھی۔

(قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات حمید کوثر صفحہ57)

مسجد نور

مسجد نور بھی قادیان کی اہم مساجد میں سے ایک ہے۔اس تاریخی مسجد کی بنیاد حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے 5مارچ 1910ء کو رکھی تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا انتخاب خلافت اسی مسجد میں ہوا۔

(قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات حمید کوثر صفحہ60)

کوٹھی دارالسلام

محلہ دارالعلوم میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی کوٹھی ’’دارالسلام‘‘کے نام سے موسوم ہے۔اسی کے ایک کمرہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ا پنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی تھی۔

(قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات حمید کوثر صفحہ62)

قادیان دارالامان ایک مقدس بستی کہ جہاں حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا تھا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ دور دراز سے لوگ آئیں گے،تحفے تحائف لے کر آئیں گے اور اس کثرت سے آئیں گے کہ راستوں میں گڑھے پڑجائیں گے۔ آج ہر آنے والا شخص آپؑ کی سچائی کی دلیل ہے کہ اس مقدس بستی میں کہی ہوئی بات اللہ کے فضل سے پوری ہورہی ہے۔قادیان دارالامان ایک مقدس بستی کہ جس میں جلسہ سالانہ کی ابتداء ہوئی۔

مزار مبارک
نور ہسپتال
سرائے طاہر
دارالضیافت
ریلوے اسٹیشن
خطاب حضور
سٹیج جلسہ
دارالمسیح
ایریل ویو
جلسہ گاہ
یہ نان تیرے اور تیرے درویشوں کے لئے ہیں

(قمرالدین)

پچھلا پڑھیں

فضائی آلودگی خوشحالی کی دشمن

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 دسمبر 2019

مقبول ترین