• 29 مئی, 2020

روزہ مذاہب عالم کا ایک مشترکہ اثاثہ

میرے والد محترم محمد صدیق بانی روزہ کے بارے میں ایک دلچسپ مقدمہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ اس مقدمہ کا احوال میں اپنے الفاظ میں بیان کر رہا ہوں۔

1930ء کی دہائی میں متحدہ بنگال میں ڈھاکہ کے ایک کالج سے متصل ہوسٹل والوں نے رمضان شریف کی آمد سے قبل نوٹس بورڈ پر یہ اعلان کیا کہ رمضان کے مہینہ میں ہوسٹل کا کھانے کا کمرہ دن کے وقت بند رہے گا اور تمام طلبا کو کھانا سحری اور افطاری کے وقت ملا کرے گا۔

اس پر بی۔اے کے ایک طالب علم اصغر علی نے سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھا کہ چونکہ میں روزہ رکھنے کا قائل نہیں ہوں۔ اس لئے ہوسٹل کے قواعد کے مطابق مجھے دوپہر اور رات کا کھانا حسب سابق دیا جائے اور دن کے وقت کھانے کا کمرہ بندنہ کیا جائے۔ جب سپرنٹنڈنٹ نے یہ درخواست منظور نہ کی تو اصغر علی نے ڈھاکہ کی عدالت میں درخواست کی جس میں مذکورہ بالا مطالبات پیش کئے۔ ڈھاکہ کی عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ اصغر علی کو مقررہ اوقات میں ہی کھانا دیا جائے۔ ہوسٹل والوں نے ڈسٹرکٹ جج ڈھاکہ کی عدالت میں اس حکم کے خلاف اپیل دائر کی۔ جہاں سے حکم امتناعی منسوخ ہو کر سپرنٹنڈنٹ کی ہدایات کو بحال کر دیا گیا۔ اصغر علی نے اس فیصلہ کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ اپیل کی سماعت ایک ہندو جج مسٹر سی۔ سی۔ گھوش کی عدالت میں 29رمضان کو ہوئی۔ اصغر علی کے وکیل نے بحث میں دو باتوں پر زور دیا۔

  1. مذہب میں جبر نہیں ہے۔زبردستی روزہ رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
  2. ہوسٹل نے جن قواعد و ضوابط کے تحت اپیل کنندہ سے رہائش اور خوراک کی فیس لی ہوئی ہے۔ اس کے مطابق سپرنٹنڈنٹ کو کھانے کا کمرہ بند کرنے یا اوقات تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اس کے جواب میں ہوسٹل والوں نے کہا کہ بسااوقات ہوسٹل کی مرمت یا دیگر ضروریات کے لئے مختلف کمرے بند کئے جاتے رہے ہیں۔ اسی طرح موسم سرمااور گرما میں کھانے کے اوقات تبدیل کئے جاتے ہیں۔ فاضل جج نے وکلاء کی بحث سن کر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک کمرہ بند کرنے یا اوقات میں تبدیلی کا سوال ہے۔ تو سپرنٹنڈنٹ کو اس بات کا پورا اختیار ہے کہ وہ اوقات میں تبدیلی کر سکتا ہے۔ درخواست کے مذہبی پہلو کے متعلق جج صاحب نے کہا کہ روزہ رکھنے کا حکم اسلام کے علاوہ بھی دنیا کے تمام مذاہب میں کسی نہ کسی رنگ میں پایا جاتا ہے۔ اگر کسی مذہب میں روزہ نہیں ہے تو اسے اسلام کے اس زریں حکم پر رشک کرنا چاہئے۔

آخر میں فاضل جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا۔ مجھے ان والدین سے ہمدردی ہے۔ جن کے ہاں اصغرعلی جیسا نالائق بیٹا پیدا ہوا اور اصغر علی کے وکیل سے کہا کہ تمہارے موکل نے اپنا بھی اور ہوسٹل والوں کا بھی نہایت قیمتی وقت ضائع کیا ہے اور مقدمہ کے لئے کافی دوڑ دھوپ کی ہے۔ اس لئے تم اپنے موکل کو یہ خوشخبری پہنچا دو کہ کل سے اسے اس کی خواہش کے مطابق کھانا ملے گا۔ (کیونکہ اگلے روز عید تھی)

٭…٭…٭…٭

(شریف احمد بانی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 29 ۔اپریل2020ء