• 30 نومبر, 2020

ہیومینٹی فرسٹ گیانا کا اجراء اور کارکردگی

اسلام جہاں خداتعالیٰ کے حقوق قائم کرتا ہے وہاں انسانیت کے حقوق کی طرف بھی بہت زور دیتا ہے۔ خدمتِ انسانیت بھی انہی حقوق میں سے ایک اہم فرض ہے جس کی طرف اسلام میں بہت توجہ دلائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ عالمگیر اس فریضہ کو احسن رنگ میں سر انجام دے رہی ہے۔ چنانچہ اسی مقصدِ عظیم کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے1994ء میں ایک فلاحی تنظیم ہیومینٹی فرسٹ کے نام سے قائم کی ۔ جس کا مقصد صرف خدمت ِ انسانیت کے فریضہ کو سرانجام دینا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہیومینٹی فرسٹ ساری دنیا میں فلاحی کام کر رہی ہے۔

خاکسار کی شدید خواہش تھی کہ جماعت احمدیہ گیانا بھی اس کارِخیر میں حصہ لے کر دکھی انسانیت کی دعائیں لے۔ چنانچہ جلسہ سالانہ یوکے 2017ء کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کے دوران جب اس خواہش کا اظہار کیا گیا تو آپ نے فرمایا۔

’’ٹھیک ہے۔ میڈیکل کیمپس منعقد کریں اور اخباروں میں بھی رپورٹس شائع کروائیں۔ اس سے اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے بھی راستے کھلیں گے۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 22 دسمبر 2017ء)

پیارے امام کی ہدایات ملتے ہی ہیومینٹی فرسٹ امریکہ نے اس پر کام شروع کر دیا اور مکرم جمیل محمد کو ہیومینٹی فرسٹ گیانا کا کنٹری ڈائریکٹر مقرر کر دیا۔ جنہوں نے خاکسار سے رابطہ کیا اورہیومینٹی فرسٹ کی رجسٹریشن کے لئے خصوصی طور پر امریکہ سے گیانا تشریف لائے۔موصوف دراصل گیانیز ہیں جو کافی عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ مکرم جمیل محمد اور خاکسار نے مل کر تمام کاغذات پر کام کیا اور اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہیومینٹی فرسٹ گیانا 2مئی 2018ء کو رجسٹر ہو گئی۔

یہاں یہ بھی عرض کرتا جاؤں کہ یہ ہیومینٹی فرسٹ گیاناؔ کا احیائےنو تھا۔ مولانا بشیراحمد آنن مبلغ انچارج گیانا نے 2005ء میں ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعہ سیلاب زدگان سے متاثرین کے لئے بہت کام کیا تھا اوربعد میں میڈیکل کیمپس اور کمپیوٹر سکول جیسے پروگرام بھی کئےتھے۔ مگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے ہیومینٹی فرسٹ کافی عرصہ سے بند تھی۔

ہیومینٹی فرسٹ گیانا کے رجسٹر کروانے کے ساتھ ہی مختلف فلاحی کاموں کا اجراء کر دیا گیا۔ جس میں سب سے پہلا کام غرباء کو کھانا کھلانا اور غریب گھرانوں میں راشن تقسیم کرنا تھا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید پروجیکٹس کو بھی شامل کیا گیا۔جس میں خصوصیت سے میڈیکل کیمپس، تعلیمی و تدریسی پروگرام شامل ہیں۔

ان تمام پروگراموں کو چلانے کے لئے بہت سے رضاکاران کی ضرورت تھی ۔ جس کے لئے آغاز سے ہی کوشش کی گئی۔ رضاکاران کی ٹیم میں احمدی احباب کے علاوہ عیسائی اور ہندو مذہب میں سے بھی افراد شامل ہوئے۔رضاکاران میں ڈاکٹرز، نرسز، اکاؤنٹنٹس، ماہرنفسیات،سماجی کارکنان جیسے اہم شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہیومینٹی فرسٹ گیانا کی رضاکارٹیم میں 50 سے زائد افراد شامل ہیں جو 5مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دعاؤں سے اور اللہ تعالیٰ کےفضل و کرم سے ہیومینٹی فرسٹ گیانا کے پچھلے دو سالوں کے کاموں کی مختصر کارکردگی درج ذیل ہے۔

طعام

ہیومینٹی فرسٹ گیانا نے سب سے پہلاکام غرباء اور بےگھر افراد کے لئے کھانا پکا کر تقسیم کرنا شروع کیا ۔جس کا آغاز صرف 50 افراد کے ماہوارکھانےپکانے سے ہوا اور اب تک 44 بار کھانا پکایا جا چکا ہے جس سے 4807 مفلس افراد کو کھاناکھلایا جا چکا ہے۔

راشن

مفلس و نادار خاندانوں میں ہر6 ہفتہ بعد باقاعدگی کے ساتھ راشن تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس میں چاول، آٹا، دالیں وغیرہ جیسی بنیادی اشیاء خوردنِی دی جاتی ہے۔اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے6 مختلف علاقوں میں 1151مستحق خاندانوں میں راشن دیا جاچکا ہے۔اسی طرح کرونا وائرس کی وباء کے دور میں خاص طور پر 200 سے زائد خاندانوں میں راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔

میڈیکل کیمپ

اب تک 12 میڈیکل کیمپس منعقد کئے جا چکے ہیں۔ جن کے ذریعہ 1181 افراد کو طبی امداد فراہم کی جاچکی ہے۔ میڈیکل کیمپس میں بلڈ پریشر،بلڈشوگر چیک کرنے اور ڈاکٹرسے مشورہ کے علاوہ مختلف طبی سہولیات بھی مہیا کی گئی۔جن میں دانتوں کے علاج، آنکھوں کے علاج،مختلف قسم کے کینسرز ٹیسٹ،ادویات کے عطیہ جات وغیرہ دیئے گئے۔مختلف افراد میں ہومیوپیتھی دوائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔ میڈیکل کیمپس، مختلف اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر بھی کئے گئے اور انفرادی طور پر بھی کئے۔کرونا وائرس کی ہومیوپیتھک دوائی جو حفظ ما تقدم کے لئے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تجویز فرمائی تھی وہ بھی تقسیم کی گئی ہے۔اس کے علاوہ کپڑے کے بنے ہوئے فیس ماسک بھی تقسیم کئے جا رہےہیں۔

تعلیم و تدریس

ہیومینٹی فرسٹ گیانا کی طرف سے تعلیمی پروگرامز بھی منعقد کئے جا رہے ہیں۔ ایک بہت کامیاب پروگرام انسانی نفسیات پر مشتمل ورکشاپ تھی۔ جس میں غصہ، جذبات اور سٹرس پر قابو کے ساتھ ساتھ باہمی معاملات کے حل پرمشتمل موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ وینزویلا سے آئے ہوئے مہاجرین کی مدد کے لئے انگریزی زبان کی کلاسز بھی منعقد کی گئیں ۔ جس کی وجہ سے ان مہاجرین کو گیانا ملک میں رہن سہن میں آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اب تک 146 کلاسز منعقد کی جا چکی ہیں جس سے 181 طلباء کو فائدہ ہوا ہے۔

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ خلیفۂ وقت کی رہنمائی اور دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے ہیومینٹی فرسٹ گیانا دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہی ہے۔الحمد للہ علیٰ ذالک۔ہیومینٹی فرسٹ گیانا کے بارے اخباروں میں بھی رپورٹ شائع ہوچکی ہے۔جن میں سے گیانا کرانیکل(Guyana Chronicle) اور سٹابروک نیوز (Stabroek News) شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام وہ لوگ جو اس فلاحی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں اور قربانی کر رہے ہیں، چاہے مال کے ذریعہ ہو یا وقت کے ذریعہ، ان کو اس دنیااور آخرت میں جزائے خیر عطا فرمائے۔ ان کے اموال و نفوس میں برکت ڈالے۔ اور ہیومینٹی فرسٹ مزید ترقیات حاصل کرنے والی ہو،دکھی انسانیت کی حقیقی مدد کرنے والی ثابت ہو اور اللہ تعالیٰ کےفضلوں کو جذب کرنے والی ہو۔ آمین ثم آمین


(مقصود احمد منصور۔گیانا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 29 ۔اپریل2020ء