• 3 جولائی, 2020

خلفاء احمدیت کا عشقِ رسولﷺ

یقیناً ہر مسلمان آنحضرت ﷺ سے محبت کرتا ہے اور آپؐ کی سیرت طیبہ کو بیان کرکے اظہار محبت کرنے کواپنی خوش قسمتی اور باعث ثواب سمجھتا ہے۔ اس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے سب سے زیادہ بڑھ کر آپ ﷺ سے محبت کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔آپ ؑ نے ہمیشہ یہی فرمایا کہ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے وہ نبی کریم ؐ کی سچی محبت اور کامل متابعت کے فیض سے ہی ملا ہے۔ آپ علیہ السلام آنحضرت ﷺ کے ایسے سچے عاشق تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؑ کو بذریعہ رؤیا ’’ھذا رجل یحب رسول اللّٰہ‘‘ کی سند حاصل ہوئی۔

(براہین احمدیہ جلد چہارم ،روحانی خزائن جلد 1صفحہ 598)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں۔
’’ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے استغراق رہا۔ کیونکہ میرا یقین تھا کہ خداتعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں۔ وہ بجز وسیلہ نبی کریمؐ کے مل نہیں سکتیں۔ جیسا کہ خدا بھی فرماتا ہے۔ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ۔ (المائدہ :36) تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں مَیں نے دیکھا کہ دو سقے یعنی ماشکی آئے اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راستے سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں۔ اور ان کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں۔’’ھٰذَا بِمَا صَلَّیْتَ عَلٰی مُحَمَّدٍ‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ131 حاشیہ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شب و روز اپنے محبوب آقاؐ پر درود و سلام بھیجنے میں گزرتے اور آپ ؑ کا کلام،کیا تقریر اور کیا تحریر،عشق رسول ﷺ کے بیان سے لبریزہے اور اس کی نظیر نہیں ملتی ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ صرف اپنے آقاؐ سے عشق و محبت کا اظہار فرمایا بلکہ اپنے پیارےآقا ﷺ پر ہونے والے ہر اعتراض اور دشمن کے ہر ناپاک حملے کا مسکت اور مدلل جواب بھی دیا۔قرآنی تعلیم کے مطابق حضرت مسیح موعود ؑنے اپنی زندگی میں آنحضرت ﷺ کی توہین کرنے والوں اور آپ ﷺ کے پاک وجود پر ناپاک حملے کرنے والوں سے اعراض کیا۔ ایک آریہ پنڈت لیکھرام جو آنحضور ؐ کے خلاف دشنام دہی کرتا تھا ایک سفر میں آپ کو ملا اور دو بار آپ کو سلام کیا لیکن آپؑ نے جواب نہ دیا اور بعد میں فرمایا۔

’’ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول۔نیا ایڈیشن ۔ صفحہ254)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ میں خلافت کا نظام قائم ہوا ۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے محبوب آقا ﷺ سے محبت کا مجسم نمونہ تھے اور آپؑ کا کلام اپنے پیارے آقا ﷺ کی محبت سے معمور ہے،ویسے ہی خلفاء احمدیت کے پاک وجود اپنے آقا و مطاع ﷺ کی محبت میں سرشارہیں۔ خلفاء احمدیت کے تحریرات، خطابات و خطبات سیرت النبی ﷺ اور آپ ؐ سے عشق کے بیان سے بھرے پڑے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان سب کا احاطہ کرنا ایک ناممکن امر ہے۔ اس کے علاوہ جماعت کو رسول پاک ؐسے محبت کرنے، آپ کی ذات پر مخالفین کے حملوں کا جواب دینے اور آپ ؐ کی سیرت کی اشاعت کرنے کے لئے خلافت احمدیہ کی عملی کوششیں ایک الگ بحرناپیداکنار ہیں۔ چنانچہ ان سب امور کا مختصر تذکرہ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔

مجھے رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ فرماتے ہیں۔
’’مجھے اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے اور آپ ؐ کی عظمت کا علم مجھے دیا گیا ہے۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد 4صفحہ 501)

آنحضرت ﷺ کی راہ کے سوا ،سب راہیں بند ہیں

ایک اور جگہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ فرماتے ہیں۔
’’آنحضرت ﷺ….کامل انسان اللہ تعالیٰ کا سچا پرستار بندہ تھا اور ہماری اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ ان کے سوا الہٰی رضا ہم معلوم نہیں کر سکتے اور اسی لئے فرمایا قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ….جس طرح پر اس نے اپنے غیب اور اپنی رضا کی راہیں محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ظاہر کی ہیں اسی طرح پر اب بھی اس کی غلامی میں وہ ان تمام امور کو ظاہر فرماتا ہے۔اگر کوئی انسان اس وقت ہمارے درمیان آدم،نوح، ابراہیم، موسیٰ،عیسیٰ، داؤد، محمد، احمد ہے تو محمد ﷺ ہی کے ذریعہ سے ہے اور آپ ﷺ ہی کی چادر کے نیچے ہو کر ہے۔ کوئی راہ اگر اس وقت کھلتی ہے اور کھلی ہے تو وہ آپ ﷺ میں ہو کر،ورنہ یقیناً یقیناً سب راہیں بند ہیں۔کوئی شخص براہ راست اللہ تعالیٰ سے فیضان حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد 1صفحہ 463)

تو ہم کو محبوب ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ فرماتے ہیں۔
’’ایک دفعہ مجھے رؤیا ہواکہ نبی کریم ﷺ نے مجھے اپنی کمر پر اس طرح اٹھا رکھا ہے جس طرح چھوٹے بچوں کو مشک بناتے ہوئے اٹھاتے ہیں پھر میرے کان میں کہا: تو ہم کو محبوب ہے۔‘‘

(حیات نور از شیخ عبد القادر سوداگر مل صفحہ 520-519)

وہ میری جان ہے،میرا دل ہے،میری مراد ہے،میرا مطلوب ہے

حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں۔
’’نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود ؑ کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت ﷺ کی ہتک کرتے ہیں اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے ہے،وہ کیا جانیں کہ محمد ﷺ کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے۔ وہ میری جان ہے، میرا دل ہے،میری مراد ہے، میرا مطلوب ہے، اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اسکی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم ہوتی ہے۔ اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم ہیچ ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں،وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں،وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔ میرا حال مسیح موعود ؑکے اس شعر کے مطابق ہے کہ

بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

(انوار العلوم جلد 2صفحہ 503)

حضرت مصلح موعود ؓ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں۔

محمدؐ پر ہماری جان فدا ہے
کہ وہ کوئے صنم کا راہنما ہے
مرا ہر ذرہ ہو قربان احمدؐ
مرے دل کا یہی اک مدعا ہے
ہو اسی کے نام پر قربان سب کچھ
کہ وہ شہنشاہِ ہر دوسرا ہے

(کلام محمود صفحہ36-35)

’’رسول کریمؐ کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے۔‘‘

1927ء میں ایک آریہ سماج راجپال نے ’’رنگیلا رسول‘‘ نامی کتاب شائع کی۔ نیز امرتسر کے ہندو رسالہ ’’ورتمان‘‘ نے مئی1927ء کی اشاعت میں ایک بے حد تکلیف دہ مضمون شائع کیا جس میں حضوراکرم ﷺ کے بارہ میں توہین آمیز باتیں لکھی گئیں اور آپ ﷺ کی شانِ مبارک میں گستاخی کی انتہا کی گئی۔ اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے ایک پوسٹرالفضل میں شائع کروایاجس کا عنوان تھا۔

’’رسول کریمؐ کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے۔‘‘

(الفضل 10جون1927۔انوار العلوم جلد 9 صفحہ 547)

اس پوسٹر میں آپ ؓ،نبی اکرم ؐسے عشق و محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فدٰہ نفسی و اھلی کو اپنی ساری جان اور سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ ان پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی فدا ہے…..ہماری جانیں حاضر ہیں،ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں جس قد ر چاہیں ہمیں دکھ دے لیں لیکن خدا را نبیوں کے سردار محمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دے کر آپ ؐ کی ہتک کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ نہ کریں کہ اس ذات بابرکات سے ہمیں اس قدر تعلق اور وابستگی ہے کہ اس پر حملہ کرنے والوں سے ہم کبھی صلح نہیں کر سکتے۔ہماری طرف سے بار بار کہا گیا ہے اور میں پھر دوبارہ ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے ۔لیکن ان لوگوں سے ہرگز نہیں ہو سکتی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے ہیں ۔‘‘

(انوار العلوم جلد 9 صفحہ553-552)

جلسہ ہائے سیرت النبی ﷺ کے انعقاد کی تحریک

حضرت مصلح موعودؓ نے اسی پر اکتفاء نہ کیا بلکہ آپ ؓ نے آنحضرت ﷺ کی پاک و مطہر سیرت و سوانح کو پھیلانے کے لئے سیرت النبی ﷺ کے جلسوں کی تجویز فرمائی۔چنانچہ آپؓ فرماتے ہیں۔

’’لوگوں کو آپؐ پر حملہ کرنے کی جرات اسی لئے ہوتی ہے۔کہ وہ آپؐ کی زندگی کے صحیح حالات سے ناواقف ہیں۔یا اسی لئے کہ وہ سمجھتے ہیں دوسرے لوگ ناواقف ہیں اور اس کا ایک ہی علاج ہے جو یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور کے ساتھ لیکچر دیئے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کے حالات زندگی اور آپ ﷺ کی پاکیزگی سے آگاہ ہوجائے۔۔۔۔۔ پس سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو رسول کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی سے واقف کرنا ہمارا فرض ہے اور اس کے لئے پہترین طریق یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اہم شعبوں کو لے لیاجائے۔ اور ہر سال خاص انتظام کے ماتحت سارے ہندوستان میں ایک ہی دن ان پر روشنی ڈالی جائے۔ تاکہ سارے ملک میں شورمچ جائے اور غافل لوگ بیدار ہو جائیں۔‘‘

(الفضل 10جنوری 1928)

آپ نے ان جلسوں کے لئے یکم محرم 1347ھ بمطابق 20جون 1928ء کا دن مقرر فرمایاجسے بعد میں شیعہ فرقہ کے مسلمانوں کی بآسانی شمولیت کے پیش نظر 17جون میں تبدیل کر دیا گیا ۔چنانچہ مؤرخہ 17جون 1928ء کو ہندوستان کے طول و عرض میں یہ جلسے ہوئے۔ قادیان میں بھی جلسہ ہوا جو اپنے اندر مرکزی شان رکھتا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے ’’دنیا کا محسن‘‘ کے عنوان پر تقریر فرمائی۔

سیرت النبی ﷺ کے حوالہ سے تقاریر

حضرت مصلح موعود ؓ نے خود بھی ان جلسہ ہائے سیرت النبیؐ میں جو بعد کے سالوں تک منعقد ہوتے رہے، میں سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر بطور خاص روشنی ڈالی اور آنحضرت ﷺ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ۔قارئین کے لیے ان تقاریر کی ایک فہرست پیش خدمت ہے جو انوار العلوم کی جلدوں میں شائع شدہ ہیں ۔سیرت النبی ؐ کے حوالہ سے ان کا مطالعہ کر کے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔

1۔ رسول کریمؐ کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے۔
2۔ رسول کریم ؐ کی عزت کا تحفظ اور ہمارا فرض۔

(انوار العلوم جلد 9)

3۔ عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والا نبیؐ۔
4۔ دنیا کا محسن۔
5۔ رسول کریم ؐ ایک انسان کی حیثیت میں۔
6۔ رسول کریم ؐ ایک نبی کی حیثیت میں۔
7۔ توحید باری تعالیٰ کے متعلق آنحضرت ؐ کی تعلیم۔

(انوار العلوم جلد 10)

8۔ رسول کریم ؐ ایک ملہم کی حیثیت میں۔
9۔ رسول کریم ؐ ایک دشمن کی نظر میں۔
10۔عرفان الٰہی اور محبت باللہ کا وہ عالی مرتبہ جس پر رسول کریم ؐ دنیا کو قائم کرنا چاہتے تھے۔

(انوار العلوم جلد 11)

11۔نبی کریم ؐ کے پانچ عظیم الشان اوصاف۔
12۔آنحضرت ؐ کی سادہ زندگی۔
13۔رسول کریم ؐ نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی۔

(انوار العلوم جلد 12)

14۔رحمۃ للعالمین ﷺ۔
15۔اسوہ کامل۔

( انوار العلوم جلد 13)

16۔ آنحضرت ﷺ اور امن عالم۔

(انوار العلوم جلد 15)

ہماری زبان سے درود کثرت سے نکلے

حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 15مارچ 1968ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی دعا ’’سُبحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمدِہٖ سُبحٰنَ اللّٰہِ العَظِیم۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّد‘‘ جو تحمید اور درود پر مشتمل ہے ،پڑھنے کی پوری جماعت کو تحریک فرمائی ۔آپؒ فرماتے ہیں۔

’’ساری جماعت پر میں فرض قرار دیتا ہوں کہ اس طریق پر کہ بڑے کم از کم2سو بار ،جوان 1سو بار اور بچے 33 بار اور جو بہت ہی چھوٹے ہیں وہ 3 دفعہ دن میں تحمید اور درود پڑھیں ۔اس طرح کروڑوں صوتی لہریں خدا تعالیٰ کی حمد اور نبی اکرم ؐ پر درود پڑھنے کہ نتیجہ میں فضا میں گردش کھانے لگ جائیں گی ۔ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگنی چاہیے کہ اے خدا ہمیں توفیق عطا کر کہ ہماری زبان سے تیری حمد اس کثرت سے نکلے اور تیرے محبوب محمد ﷺ پر ہماری زبان سے درود اس کثرت سے نکلے کہ شیطان کی ہر آواز ان کی لہروں کہ نیچے دب جائے اور تیرا ہی نام دنیا میں بلند ہو اور ساری دنیا تجھے پہچاننے لگے۔‘‘

(خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 80-79)

پیارے نبی ﷺ پر ہمیشہ درود بھیجتے رہو

خلافت سے قبل حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ایک مضمون بعنوان ’’زبان‘‘ لکھا تھا جو ماہنامہ انصار اللہ اور بعد میں الفضل میں شائع ہوا۔ اس میں آپ ؒ فرماتے ہیں۔

’’پیارے نبی ﷺ پر ہمیشہ درود بھیجتے رہو۔ خداتعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی اکرم ﷺ پر ہر آن اور ہر لحظہ درود اور سلام بھیج رہے ہیں۔ مظہر صفات الہٰیہ اور فرشتہ صفت بنو اور نبی ﷺ پر ہمیشہ درود بھیجتے رہو۔ تا اس کی برکت سے ہماری زبانوں سے حکمت و معرفت کی نہریں جاری ہوں‘‘

(حیات ناصر صفحہ 310بحوالہ روزنامہ الفضل 9جنوری 1976ء)

ہمیں تو محمد مصطفیٰ ﷺ کے قدموں کی خاک پیاری ہے

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مخالفین کی اس دعوت کہ اگر احمدی امام الزمان ؑ کو چھوڑ دیں تو ہم احمدیوں کو سینہ سے لگا لیں گے ،کا جواب دیتے ہو ئے فرماتے ہیں۔

’’ہمارا بھی ان کو وہی جواب ہے جو محمد مصطفیٰ ﷺ کا جواب ہے کہ خدا کے مقابل پر ہمیں سینہ سے لگانے والو! ہم ان سینوں پر تھوکتے بھی نہیں ہیں ۔خدا کے مقابل پر ،لعنت ڈالتے ہیں ان سینوں پر جو محمد مصطفیٰ ﷺ کے دشمنوں کا جذبہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں ۔ہمیں تو محمد مصطفیٰ ﷺ کے قدموں کی خاک ان سینوں سے کروڑوں، اربوں گنا زیادہ پیاری ہے۔‘‘

(خطبات طاہر جلد3 صفحہ750 خطبہ جمعہ فرمودہ 21دسمبر 1984ء)

آپ ؒ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں۔

اے شاہ مکی و مدنی سید الوریٰؐ
تجھ سا مجھے عزیز نہیں کوئی دوسرا
ہیں جان و جسم سو تیری گلیوں پہ ہیں نثار
اولاد ہے ،سو وہ تِرے قدموں پہ ہے فدا
اے میرے والیٔ مصطفیٰؐ، اے سید الوریٰؐ
اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا جدا

(کلام طاہر صفحہ5-4)

ہماری فتح تو وہی فتح ہے جو ہمارے آقا ﷺ کی فتح ہے

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں۔
’’ہماری فتح نہ سپین کی فتح ہے نہ ہندوستان کی فتح ہے ،نہ یورپ کی فتح ہے،نہ امریکہ کی فتح ہے،نہ جاپان کی،نہ چین کی،کسی ایشیائی ملک کی فتح ہماری فتح نہیں ۔دنیا کے کسی جزیرہ کی فتح ہماری فتح نہیں۔ہماری فتح تو وہی فتح ہے جو ہمارے آقا ﷺ کی فتح ہے….پس آنحضرت ؐ فاتح ادیان عالم ہیں ۔ہمارا یہ نعرہ ہونا چاہئے۔ اے اللہ!اس فاتح ادیان عالم پر سلام بھیج اور درود بھیج۔ جس کی رحمتوں اور برکتوں سے ہم قدم آگے بڑھا رہے ہیں…آنحضرتؐ پر ہر فتح کے وقت درود بھیجنے چاہییں کہ ان شاء اللہ جتنے بھی ادیان باطلہ یا ان کے اجزاء ہمارے ہاتھوں پر فتح ہو گئے ان سارے قلعوں کی فتوحات حضرت محمد ﷺ کے سر کا سہرا ہیں ۔ہم تو ادنیٰ غلام ہیں، خاکِ پا ہیں اس آقا ؐ کے،جس کے صدقے اور جس کے طفیل یہ چھوٹی چھوٹی فتوحات نصیب ہو تی ہیں۔‘‘

(خطبات طاہر جلد 1صفحہ 213خطبہ جمعہ فرمودہ 15۔اکتوبر 1982ء)

تمام تیر جو ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ پر چلائے جارہے ہیں اپنے سینوں پر لیں

خلافت رابعہ کے عہد میں بھی دشمنان اسلام کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی پاک ذات پر حملے کیے گئے ۔ سلمان رشدی کی بدنام زمانہ کتاب Satanic Verses، 1989ء میں سامنے آئی، جس میں نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر نہایت گندے اور غلیظ قسم کے بے بنیاد اعتراضات کئےگئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اس کے جواب میں 2خطبات جمعہ 24فروری 1989ء اور 3مارچ 1989ء کو ارشاد فرمائے ۔ان میں ایک جگہ آپؒ فرماتے ہیں۔

’’احمدیت کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ کے لئے آنحضور ﷺ کے سامنے سینے تان کے کھڑی ہو جائے۔ جس طرح حضرت طلحہؓ نے کیا تھا کہ جو تیر حضرت محمد مصطفی ﷺ پر برسائے جارہے تھے اپنے ہاتھ پر لئے اور ہمیشہ کے لئے وہ ہاتھ بے کار ہو گیا اس طرح اپنا سینہ سامنے تان کر کھڑا ہو جائے تمام تیر جو ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ پر چلائے جارہے ہیں اپنے سینوں پر لیں یہ اسلام ہے یہ اسلام کی محبت ہے اس طرح اسلام کا دفاع ہونا چاہئے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 24فروری 1989ء ۔خطبات طاہر جلد 8صفحہ 131)

میرے سیدو مولیٰ حضرت محمد ﷺ کی عزت وناموس پر کوئی ہاتھ نہ ڈالے

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’میں آج صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے سیدو مولیٰ حضرت محمد ﷺ کی عزت وناموس پر اگر کوئی ہاتھ ڈالنے کی ہلکی سی بھی کوشش کرے گا تو وہ خدا تعالیٰ کے اس فرمان کہ اِنَّا کَفَیۡنٰکَ الۡمُسۡتَہۡزِءِیۡنَ (الحجر:96) یقینا ہم استہزاء کرنے والوں کے مقابل پر تجھے بہت کافی ہیں، کی گرفت میں آجائے گا اور اپنی دنیا اور آخرت برباد کر لے گا۔‘‘

(خطبہ جمعہ 21جنوری 2011ء، روزنامہ الفضل 8مارچ 2011ء)

آنحضرت ﷺ کے محاسن کو بیان کرو

خلافت خامسہ کے موجودہ دور میں یولینڈ پوسٹن نے 30ستمبر 2005ء کی اشاعت میں اپنے Cultural Page پر نبی اکرمؐ سے منسوب 12خاکے شائع کئے اور ان میں بانی اسلام کو (نعوذ باللہ) دہشت گرد ظاہر کیا گیا۔ پھر فروری 2006ء کے پہلے ہفتہ میں دنیا بھر کے مختلف اخبارات نے یہ توہین آمیز خاکے دنیا میں شائع کئے ۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کی تردید میں خطبات ارشاد فرمائے جو اب کتابی صورت میں بعنوان ’’اسوہ رسول ﷺ اور خاکوں کی حقیقت‘‘ شائع ہو چکے ہیں ۔آپ نے یہ 5 خطبات 10فروری 2006ء سے 10مارچ 2006ء تک ارشاد فرمائے ۔خطبہ جمعہ 10فروری 2006ء میں حضور انور نے خاکوں کی اشاعت کا ذکر کر کے اسلامی دنیا کی طرف سے ہونے والے احتجاج کی مذمت کی اور یہ بات ظاہر کی کہ مسلمانوں کے غلط ردّعمل سے مخالفین اسلام کو اسلام پر اعتراض کرنے کا موقع ملتا ہے۔ حضورانور نے آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی تلقین کی۔ آپ فرماتے ہیں۔

’’یہی اسلوب ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے سکھائے کہ اس قسم کی حرکت کرنے والوں کو سمجھاؤ۔ آنحضرت ﷺ کے محاسن کو بیان کرو، دنیا کو ان خوبصورت اور روشن پہلوؤں سے آگاہ کروجو دنیا کی نظر سے چھپے ہوئے ہیں اور اللہ سے دعا کروکہ یا تو اللہ تعالیٰ ان کو ان حرکتوں سے باز رکھے یا پھر خود ان کو پکڑ لے۔‘‘

(اسوہ رسول ﷺ اور خاکوں کی حقیقت صفحہ 12۔خطبہ جمعہ 10فروری 2006ء۔ روزنامہ الفضل7۔اپریل 2006ء)

کثرت سے درود شریف پڑھنے کی تحریک

حضور انورایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ان توہین آمیز خاکوں کا جواب جماعت احمدیہ کو درود شریف سے دینے کا ارشاد فرمایا۔

’’پس یہ آگ ہے جو ہر احمدی نے اپنے دل میں لگانی ہے اور اپنے درد کو دعاؤں میں ڈھالنا ہے۔ لیکن اس کے لئے پھر وسیلہ حضرت محمد مصطفیؐ ﷺ نے ہی بننا ہے۔ اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو کھینچنے کے لئے، دنیا کی لغویات سے بچنے کے لئے،اس قسم کے جو فتنے اٹھتے ہیں ان سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے آنحضرت ﷺ کی محبت کو دلوں میں سلگتا رکھنے کے لئے، اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے، آنحضرت ﷺ پر بے شمار درود بھیجنا چاہئے۔ کثرت سے درود بھیجنا چاہئے۔ اس پُرفتن زمانے میں اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کی محبت میں ڈبوئے رکھنے کے لئے اپنی نسلوں کو احمدیت اور اسلام پر قائم رکھنے کے لئے ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی سختی سے پابندی کرنی چاہئے۔ اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا (الاحزاب:57) کہ اے لوگو!جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجا کرو کیونکہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔‘‘

(اسوہ رسول ﷺ اور خاکوں کی حقیقت صفحہ 20۔خطبہ جمعہ 10فروری 2006ء۔ روزنامہ الفضل7۔اپریل 2006ء)

دنیا کی فضا کو درود شریف سے بھر دو

نیز فرمایا: ’’ہمارا بھی کام ہے جنہوں نے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کے اس عاشق صادق اور امام الزمان کے سلسلے اور اس کی جماعت سے منسلک کیا ہواہے کہ اپنی دعاؤں کو درود میں ڈھال دیں اور فضا میں اتنا درود صدق دل کے ساتھ بکھیریں کا فضا کا ہر ذرہ درور سے مہک اٹھے اور ہماری تمام دعائیں اس درود کے وسیلے سے خدا تعالیٰ کے دربارد میں پہنچ کر قبولیت کا درجہ پانے والی ہوں۔ یہ ہے اس پیار اور محبت کا اظہار جو ہمیں آنحضرت ﷺ کی ذات سے ہونا چاہئے اور آپؐ کی آل سے ہونا چاہئے۔‘‘

(خطبہ جمعہ24فروری 2006ء روزنامہ الفضل12/اپریل2006)

سیرت النبی ﷺ کو پھیلاؤ اور اسوہ رسول ﷺ کی عملی تصویر بن جاؤ

2012ء میں جب بدنام زمانہ اسلام مخالف فلم Innocence of Muslims منظر عام پر آئی جس میں رسول کریم ﷺ اور ازواج مطہرات کی توہین کی گئی تو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تین خطبات ارشاد فرمائے ۔آپ نے ظالموں کے اس فعل پر نہایت غم کا اظہار کیا۔ آنحضرت ﷺ کی مبارک سیرت کا ذکر خیر اور آپؐ کامقام و مرتبہ کو بیان کیا۔نیز مسلمانوں کو اس شرمناک فعل پر صحیح رد عمل دکھانے کی تلقین کی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔

’’اس عظیم محسن انسانیتؐ کے بارے میں ایسی اہانت سے بھری ہوئی فلم پر یقیناً ایک مسلمان کا دل خون ہونا چاہیے تھا اور ہوا اور سب سے بڑھ کر ایک احمدی مسلمان کو تکلف پہنچی کہ ہم آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق اور غلام صادق کے ماننے والوں میں سے ہیں۔ جس نے ہمیں آنحضرت ﷺ کے عظیم مقام کا ادراک عطا فرمایا۔ پس ہمارے دل اس فعل پر چھلنی ہیں،ہمارے جگر کٹ رہے ہیں ہم خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہیں کہ ان ظالموں سے بدلہ لے،انہیں وہ عبرت کا نشان بنا جو رہتی دنیا تک مثال بن جائے۔‘‘

نیز فرمایا: دنیاوی لحاظ سے ایک احمدی اپنی سی کوشش کرتا ہے کہ اس سازش کے خلاف دنیا کو اصل حقیقت سے آشانا کرے اور اصل حقیقت بتائے۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت کے خوبصورت پہلو دکھائے۔ اپنے ہر عمل سے آپ کے خوبصورت اسوہ حسنہ کا اظہار کر کے اور اسلام کی تعلیم اور آپ کے اسو ہ حسنہ کی عملی تصویر بن کر دنیا کو دکھائے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 21ستمبر 2012ء۔ الفضل 20نومبر 2012ء)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم بھی اپنے آقا و مطاع ﷺ سے سچی محبت کرنے والے اور آپ ؐ کی کامل اطاعت کرنے والے بن جائیں اور خلیفۃ المسیح کے تما م ارشادات پر عمل کرنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

(سعید احمد خرم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ29۔مئی2020ء