• 11 اگست, 2020

سانحہ ارتحال

مکرمہ نوشابہ واسع بلوچ۔جرمنی لکھتی ہیں۔
بستی مندرانی دریائے سندھ کے مغربی کنارے تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں واقع ہے۔100سال قبل ان صحراؤں اور خاردار راستوں سے سفر کرتے ہوئے ایک درویش صفت، تقویٰ شعار زمیندار بزرگ مکرم حافظ فتح محمد خان مع چند ساتھیوں کے 1903ء میں دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔ جبکہ تحریری بیعت کا ذکر ’’الحکم‘‘ قادیان 24دسمبر 1901ءمیں شائع ہوا۔

مکرم حافظ فتح محمد خان کے5 بیٹے اور 1بیٹی تھیں۔

  1. مکرم قادربخش
  2. مکرم غلام محمد
  3. مکرم علی محمد خان
  4. مکرم ظفر احمد ظفر (حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کےہم مکتب ہونے کا شرف ملا۔ بطور مربی سلسلہ اور مدرسہ احمدیہ میں بطور استاد کی خدمت کا موقع ملا)
  5. مکرم عبدالرّحیم خان

الحمدللہ سب نورِ احمدیت سے منوّر ہوئے۔

نہایت افسوس کے ساتھ میرے چچا امان اللہ خان مؤرخہ 21مئی 2020ء بعمر76سال بقضائے الہٰی اس جہان سے رخصت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین

آپ حافظ فتح محمد خان کے پوتے اور عبدالرّحیم خان کے چوتھے بیٹے تھے۔ نہایت ہمدرد، مہمان نواز، سچے اور کھرے انسان تھے۔ کوٹ ادّو میں واپڈا کے محکمہ سے منسلک تھےاور اب ربوہ میں رہائش پذیر تھے۔پسماندگان میں 5بیٹے اور3بیٹیاں ہیں۔ قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ خداتعالیٰ خاص اپنے فضل سےبچوں کو کامل صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔آمین

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ29۔مئی2020ء