• 12 اگست, 2020

سب کو ہم نے گلے لگانا ہے

(امریکہ میں نسل پرستی کی بنیاد پر جارج فلائیڈ کی موت پر ایک نظم نسل پرستی کو ختم کر کے سب کو گلے لگانا ہے)

دل سے دل کا دیا جلانا ہے
پیار دل میں بسائے جانا ہے

الفتوں کے چراغ روشن ہوں
آتشِ کینہ کو بجھانا ہے

خار راہوں کے سب ہٹا ڈالو
گل سے ہر راستہ سجانا ہے

فتنہ و شر کو ختم کرنا ہے
امن کی راہ کو سجانا ہے

دشمنِ جاں سے درگزر کر کے
اسوہِ مصطفٰیؐ دکھانا ہے

ختم ہو فرق اپنوں غیروں کا
سب کو ہم نے گلے لگانا ہے

نسل در نسل کے تعصب کو
ہر تفاخر کو بھی مٹانا ہے

بھولے بھٹکے ہوئے ہیں جو رہ سے
ان کو اُس یار سے ملانا ہے

ہم نے عہدِ وفا کیا ہے جو
اس کو اخلاص سے نبھانا ہے

دنیا کی چاہ چھوڑ کر حافظ
دل میں عشقِ خدا بسانا ہے

(حافظ محمد مبرور)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 29 جولائی 2020ء