• 12 اگست, 2020

آدابِ خلافت

تو اگر بول رہا ہو پیارے
کوئی بولے تو بُرا لگتا ہے

گزشتہ دنوں خاکسار نے اپنے بہت ہی قریبی دوست (جو منجھے ہوئے شاعر بھی ہیں) سے فون پر رابطہ کرکے ایک شعر کی تصحیح چاہی۔ جو انہوں نے کردی اور خاکسار نے اس پر اداریہ لکھ کر اپنا فرض ادا کردیا۔ الحمدللّٰہ علٰی ذالک

لیکن شاعر کو اپنے یا دوسروں کے اچھے اشعار سنانے کا شوق ہوتا ہے خصوصاً آج کل جب اس وبا کے دنوں میں کوئی محفل نہیں جم رہی۔ انہوں نے مجھے فون پر اپنے اور دوسروں کے ملے جلے بہت سے اشعار مزے لے لے کر سنادیئے۔ ان میں سے ایک یہ شعر ہے جس کو آج میں نے اپنے اس آرٹیکل کا عنوان بنایا ہے جس کو خاکسار نے اپنے اداریئے بعنوان ’’جس مکاں کی آرزو مہدی کو تھی، ہو بہو ویسا مکاں ہے ایم ٹی اے‘‘ طبع شدہ الفضل لندن آن لائن شمارہ مورخہ 4 جولائی 2020ء کا حصہ دوم بنایا ہے۔

اس اصول کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۃ الحجرات آیت 3 میں یوں بیان فرمایا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو!نبی کی آواز سے اپنی آوازیں بلند نہ کیا کرو اور جس طرح تم میں سے بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے اونچی آواز میں باتیں کرتے ہیں اس کے سامنے اونچی بات نہ کیا کرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں پتہ نہ چلے۔

اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہنا زندگی کا پیغام ہے جیسا کہ سورۃ الانفال آیت 25 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور رسول کی آواز پرلبیک کہا کرو جب وہ تمہیں بلائے تاکہ وہ تمہیں زندہ کرے

نبی، رسول، مجدد یا خلیفہ کے پیروکار ہمیشہ دوزانو ہوکر سرجھکائے اپنے پیرومرشد کے سامنے بیٹھے یا کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی بول بولنا پسند نہیں کرتے۔ مجھے یاد ہے کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے معاً بعد ایک دن مسجد مبارک میں نماز کی ادائیگی کے بعد ایک مسئلہ کی تصحیح یوں فرمائی ۔ جو خلاصۃً اپنے الفاظ میں یہاں پیش ہے۔ فرمایا:

جو لوگ باجماعت نماز میں تاخیر سے آکر شامل ہوں اور ان کی ایک رکعت یا زیادہ رہ گئی ہوں تو وہ امام کے دائیں طرف السلام علیکم کے ساتھ ہی کھڑے نہ ہوا کریں بلکہ دوسرے سلام کے بعد کھڑے ہوکر اپنی نماز مکمل کیا کریں۔ کیونکہ پہلے سلام پر امام کے ساتھ تعلق ٹوٹا نہیں اور نہ ہی امام الصلوۃ نے آپ کو اس سے آزاد کیا ہے۔ حضور نے مزید فرمایا کہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے دور میں بھی یہ غلطی دیکھا کرتا تھا مگر میں نے اس لیے اس کی تصحیح نہیں کی کہ امام وقت جب نماز کے بعد سلام پھیرتے تھے تو وہ خود بھی دیکھ لیا کرتے تھے اگر انہوں نے درستگی نہیں کروائی تو خاکسار نے بھی مناسب نہیں سمجھا۔

درج بالا آیت کریمہ کو اگر صحابہ رسول حضرت نبی اکرمﷺ پرلاگو کریں تو سیرت صحابہ کا یہ اسوہ آشکار ہوتا ہے کہ آپ صحابہ مجسم اطاعت کا نمونہ تھے خاموشی کے ساتھ ہر بات سنتے اور محفل برخواست ہونے پر غیر حاضر صحابہ تک پہنچاتے۔ مورخین اسلام نے سیرت صحابہ پر جو قلم اٹھایا ہے۔ ان میں ایک بات قریباً تمام مورخین نے یکسانیت کے ساتھ لکھی ہے کہ صحابہ، آنحضور ﷺ کی محفل میں یوں تشریف فرما ہوتے جیسے اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ذرا سا سر ہلایا تو وہ اُڑ جائیں گے۔

یہی کیفیت آج ہمیں ان جلسوں، محفلوں میں نظر آتی ہے جن میں حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنفس نفیس موجود ہو کر احباب سے مخاطب ہوتے ہیں اور حاضرین پوری توجہ سے حضور کا خطاب نہ صرف سنتے ہیں بلکہ اس کو ساتھ کے ساتھ ہضم کرتے اور عمل کرنے اور کروانے کے منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے بڑے جلسے تو یوکے یا جرمنی کے ہوتے ہیں جن میں 30، 30 ہزار سے زائداحباب موجود ہوتے ہیں جو ساکت اور جامد ہو کر حضور کا خطاب سنتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جرمنی کے جلسہ سالانہ پر اور ایک دو بار برطانیہ کے جلسہ سالانہ پر حضور نےفرمایا :»خاموش» تو سارا مجمع خاموش ہو گیا جسے وہاں کے سیاسی لوگ سراہتے بھی ہیں۔ بلکہ گزشتہ چند سال قبل قادیان دارالامان میں حضور انور ایدہ اللہ تعالی لندن سے مواصلاتی نظام کے ذریعہ Live خطاب فرما رہے تھے اور شدید سردی تھی ہلکی ہلکی پھوار بھی تھی ۔دانت بج رہے تھے۔ بادل اتنے گہرے تھے کہ رات کا سما لگتا تھا مگر 25 ہزار کے لگ بھگ مجمع خاموشی کے ساتھ بیٹھا اپنے امام ہمام کے ملفوظات سن رہا تھا اور کسی طرف سے یہ آواز نہیں آرہی تھی کہ سردی بہت ہے۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیاں جم رہی ہیں۔ ان ہی لوگوں کیلئےسیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا :

مبارک وہ جو اب ایمان لایا
صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا
وہی مے ان کو ساقی نے پلا دی
فسبحان اللّٰہ الذی اخزی الاعادی

آج اللہ تبارک تعالی نے عالمگیر جماعت احمدیہ پر یہ احسان عظیم کیا ہے کہ ہمارے امام جمعہ کے روز ایم ٹی اے پرجلوہ افروز ہوتے ہیں اور خطبہ ارشاد فرماتے ہیں۔ جسے دنیا بھر کے احمدی گھروں اور مراکز میں لاکھوں کی تعداد میں احباب اور خواتین سنتے ہیں۔ ہم نے بارہا یہ دیکھاہے جب امام وقت بول رہے ہوں تو کسی کی معمولی سی سرگوشی بھی اچھی نہیں لگتی اگر نادانستہ طورپر کوئی فون پر میسج بھی کر دے تو فوراً جواب جاتا ہے کہ حضور خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں۔ خاموشی سے سنیں اور ہمارے اور خلیفۃ المسیح کے درمیان ایک روحانی تعلق میں خلل انداز نہ ہوں ۔خطبہ کے دوران گھر میں کوئی بچہ رونے لگے یا تنگ کرنے لگےتو مائیں یا بہنیں فوراً بچے کو اٹھا کر دوسرے کمرے میں لے جاتی ہیں تاکہ اس کے رونے سے دوسرے Disturb نہ ہوں ہمارے موجودہ امام نے بھی اپنے ایک خطبہ جمعہ میں جماعت کی نوجوان بچیوں کو سمجھایا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض بچیاں خطبہ کے دوران فون کے ذریعہ میسج کرتی رہتی ہیں جو اچھی بات نہیں۔ ہمارے بعض بزرگ حضور انور کے خطبہ جمعہ سننے کا اس حد تک اہتمام کرتے ہیں کہ وہ باقاعدہ باوضو ہوکر، جائے نماز بچھا کر ٹوپی وغیرہ پہن کر ٹی وی کے سامنے دوزانو ہوکر باادب بیٹھ کر خطبہ سنتے ہیں۔ اس سے قبل بھی خاکسار ایک نومبائع عزیزم شاہد محمود کاواقعہ لکھ چکا ہے جس نے اوائل زمانہ میں لاہور میں اپنے گھر بہت رقم خرچ کرکے ڈش انٹینا لگوایا اور وہ ہر جمعہ کو گھر میں رہتے اور کہتے کہ میرے گھر میں حضور نے تشریف لانا ہے اور میں نے گھر میں ٹی وی کے سامنے رہ کر آپ کی تواضع کرنی ہے۔ حضرت مرزا عبدالحق مرحوم کا ایک انٹرویو یاد آیا جس میں آپ نے بیان فرما تھا کہ وہ 1917ء سے جلسہ سالانہ میں شامل ہونا شروع ہوئے اور کبھی خلیفۃ المسیح کی تقریر کے دوران ایک منٹ کے لئے بھی اٹھ کر باہر نہیں گئے۔

احباب جماعت کے یہ نمونے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مستعمل مقولہ ’’الطَّرِیْقُ کُلُّھَا اَدَبٌ‘‘ کا عملی اظہار ہیں۔

مجھے اپنا ایک واقعہ بھی یاد آرہا ہے۔ غالباً 71-1970ء کی بات ہے۔ خاکسار جامعہ میں داخل ہوچکا تھا۔ جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر دوسرے روز حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ شرکاء سے مخاطب تھے۔ جلسہ گاہ سے باہر ایک منڈیر پر بیٹھ کر میں خطاب سُن رہا تھا۔ کسی دوست نے مجھ سے کچھ پوچھا اور میں نے بہت مختصر جواب دینے کی کوشش کی۔ اسی اثناء میں میرے اباجان نے مجھے دیکھ لیا۔ گھر واپس آکر اپنا نام لے کر مجھ سے شدید خفگی اور ناراضگی کا اظہار یوں فرمایا:» چوہدری نذیر احمد یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ خلیفۃ المسیح مخاطب ہوں اوراس کا بیٹا خطاب کے دوران باتیں کررہا ہو»۔ میں نے صفائی میں کچھ کہنا چاہا مگر والد محترم نے ایک نہ سُنی اور دوبارہ نصیحتاً کہا کہ خلیفۃ المسیح کے خطاب کے دوران بولا نہیں کرتے۔

ہمارے اخبار کے ایک قاری اور مضمون نگار مکرم سید شمشاد احمد ناصر مبلغ سلسلہ نے خلیفۃ المسیح سے ملاقات کے کچھ آداب تحریر کئے تھے جو اخبار الفضل میں شائع بھی ہوئے تھے۔ اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے خاکسار آج اس موقر اخبار کے ذریعہ قارئین سے یہ درخواست کرنا چاہے گا کہ اپنے امام ہمام کا Live خطاب بھی ایک قسم کی خلیفۃ المسیح سے ملاقات ہوتی ہے۔ جس کا نظارہ ہم نے ایک ماہ قبل حضور کی علالت کے دوران دیکھا جب ہم ایک جمعہ حضور کے دیدار سے محروم رہے تو شعراء کرام اور مضمون نگاروں نے اس ایک ہفتہ کی عدم ملاقات پر بہت کچھ لکھ کر دعائیں بھی دیں تھیں۔ اس لئے حضور سے اس روحانی ملاقات کے وقت تازہ دم ہوکر صاف ستھرے باوضو ہوکر حاضر ہوں۔ پوری توجہ سے خطبہ کو سنیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اس دوران کوئی دوسرا کام بھی ساتھ ساتھ کررہے ہوں۔ خطبہ کے دوران حضور کی نصائح پر عمل کرنے اور سب سے پہلا مخاطب اپنے آپ کو بنانے اور سمجھنے کے لئے دعائیں بھی کریں۔ حضور کی صحت کاملہ، درازی عمر، اسلام احمدیت کی ترقیات کے لئے دعائیں کریں۔ تسبیحات کثرت سے پڑھیں۔ استغفار کریں اور اگرممکن ہو تو صدقہ وغیرہ ضرور دیں۔ نبی، خلیفہ سے ملاقات سے قبل صدقہ دینے کا بھی احسن طریق رائج ہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 29 جولائی 2020ء