• 26 جنوری, 2022

ذکر کی مجالس جنت کے باغ ہیں (حدیث نبوی ؐ)

حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز مزىد فرماتے ہىں:
ىہ جلسے اىک احمدى کے لئے برکات کا موجب بنتے ہىں اور بننے چاہئىں کىونکہ اىک خاص ماحول مىں اور صرف دىنى اغراض کے لئے جمع ہونا، اللہ تعالىٰ کے ذکر کے لئے جمع ہونا، اُس کى رضا کے حصول کے لئے جمع ہونا ىقىنا ً اللہ تعالىٰ کے فضلوں کو کھىنچتا ہے۔ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم نے بھى بڑا کھول کر بىان فرماىا کہ اللہ تعالىٰ کى رضا کے حصول کے لئے منعقدہ مجالس اللہ تعالىٰ کے فضلوں کا وارث بناتى ہىں، اُس کى جنتوں کى طرف لے جاتى ہىں۔ آپؐ نے فرماىا کہ اے لوگو! جنت کے باغوں مىں چرنے کى کوشش کرو۔ جب صحابہ نے اس بارے مىں وضاحت چاہى کہ جنت کے باغ کىا ہىں؟ تو آپؐ نے فرماىا: ذکر کى مجالس جنت کے باغ ہىں۔

(سنن الترمذى کتاب الدعوات باب86 حدىث3510)

پس جن مجلسوں سے جنت کے باغوں کے راستے ملىں وہ ىقىنا ًبرکتوں والى مجالس ہوتى ہىں۔ اور ہمارے جلسوں کا تو مقصد ہى ىہ ہے کہ خدا تعالىٰ کى رضا کے حصول کے لئے اللہ تعالىٰ کى محبت مىں بڑھنے کى باتىں سنىں، دعاؤں اور عبادات کى طرف توجہ ہو اور اس کے حصول کے طرىقے بھى سىکھىں۔ اور اسى طرح اللہ تعالىٰ کى رضا کے حصول کے لئے اللہ تعالىٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کى طرف بھى توجہ پىدا کرىں۔ اور پھر ىہ نىکىوں کى طرف توجہ، حقوق کى ادائىگى کى طرف توجہ خدا تعالىٰ کا شکر گزار بناتے ہوئے ہمارى زبانوں کو اُس کے ذکر سے تَر کرتے ہوئے جنت کے باغوں کى طرف رہنمائى کرتى ہے بلکہ بندوں کے حقوق کى ادائىگى کى وجہ سے جس کا حق ادا کىا جا رہا ہو، وہ جب دىکھتا ہے کہ ادائىگى حقوق کى توجہ اس مجلس کى وجہ سے ہو رہى ہے تو جس کا حق ادا کىاجا رہا ہو، وہ بھى اللہ تعالىٰ کى حمد اور شکر کرتا ہے اور ىہى مومنىن کى مجالس اور آپس کے تعلقات اور خدا تعالىٰ کى شکر کى ادائىگى کا حال ہونا چاہئے۔

پس خوش قسمت ہىں ہم مىں سے وہ جو اس روح کے ساتھ ىہاں آتے ہىں، اس کے مطابق عمل کرتے ہىں اور نتىجتاً نہ صرف اپنے لئے جنت کے باغوں کے دروازے کھولتے ہىں بلکہ حقوق العباد کى ادائىگى کى وجہ سے دوسروں کے لئے بھى جنت کے باغوں مىں چَرنے کا ذرىعہ بنتے ہىں اور پھر مزىد برکتوں کے سامان ہوتے ہىں۔ اللہ تعالىٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والا اىک مومن بنتا ہے کىونکہ دوسروں کو نىکى کا راستہ دکھانے والا ىا کسى پر نىکى کر کے اُسے اللہ تعالىٰ کى شکر گزارى کى طرف توجہ دلانے والا بھى اُسى قدر نىکى کے ثواب کا مستحق بن جاتا ہے جتنا نىکى کرنے والا۔ گوىا اىک نىکى نىک نتائج کى وجہ سے کئى گنا نىکىوں کا ثواب دلوا کر پھر اللہ تعالىٰ کے فضلوں اور رحمتوں کا وارث بناتى چلى جاتى ہے۔

پس ىہ ہے ہمارا پىارا خدا جو نىکىوں کو سىنکڑوں گنا، ہزاروں گنا پھل لگاتا ہے اور اپنے بندے کى معمولى کوشش کو بھى اس قدر بڑھا دىتا ہے کہ جو انسانى تصور سے بھى باہر ہے۔ پس اس پىارے خدا کے پىار کى تلاش ہر اىک کو کرنى چاہئے۔ اور جىسا کہ مَىں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسوں کا انعقاد کر کے ہمارے لئے برکات کے راستے کھولے ہىں، جنت کے باغوں کى سىر کے لئے اىک وسىع اور بہترىن انتظام فرما دىا ہے۔ پس خوش قسمت ہوں گے ہم مىں سے وہ جو اس مجلس اور اس ماحول سے فائدہ اُٹھا کر اللہ تعالىٰ کى رضا کے حاصل کرنے والے بن جائىں۔ پس اس رضا کے حصول کے لئے جلسے مىں شامل ہونے والے ہر مرد، عورت، جوان، بوڑھے اور بچے کو کوشش کرنى چاہئے۔ افرادِ جماعت کو ىہ مقام حاصل کرنے والا بنانے کے لئے حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام کے دل مىں کتنا درد تھا اور آپ کس تڑپ کے ساتھ اس کے لئے دعا کرتے تھے، اس کا اندازہ آپؑ کے ان الفاظ سے ہوتا ہے۔ فرماىا:
’’دعا کرتا ہوں اور جب تک مجھ مىں دم زندگى ہے کئے جاؤں گا اور دعا ىہى ہے کہ خدا تعالىٰ مىرى اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنى رحمت کا ہاتھ لمبا کرکے اُن کے دل اپنى طرف پھىر دے اور تمام شرارتىں اور کینے اُن کے دلوں سے اٹھا دے اور باہمى سچى محبت عطا کردے اور مَىں ىقىن رکھتا ہوں کہ ىہ دعا کسى وقت قبول ہو گى اور خدا مىرى دعاؤں کو ضائع نہىں کرے گا۔ ہاں مَىں ىہ بھى دعا کرتا ہوں کہ اگر کوئى شخص مىرى جماعت مىں خدا تعالىٰ کے علم اور ارادہ مىں بدبخت ازلى ہے جس کے لئے ىہ مقدر ہى نہىں کہ سچى پاکىزگى اور خدا ترسى اس کو حاصل ہو تو اس کو اے قادر خدا مىرى طرف سے بھى منحرف کردے جىسا کہ وہ تىرى طرف سے منحرف ہے اور اس کى جگہ کوئى اور لا جس کا دل نرم اور جس کى جان مىں تىرى طلب ہو۔‘‘

(شہادۃ القرآن، روحانى خزائن جلد6 صفحہ398)

پس ىہ الفاظ آپ کے دلى درد کا اىسا اظہار ہے جو دل کو ہلا دىتا ہے۔ رونگٹے کھڑے کرنے والا ہے، توبہ اور استغفار کى طرف مائل کرنے والا ہے۔ اور حقىقى رنگ مىں خدا تعالىٰ کے حضور جھکتے ہوئے اللہ تعالىٰ سے مغفرت اور بخشش کا طلبگار بنانے والا ہے۔ حقوق العباد کى ادائىگى کى طرف توجہ دلانے والا ہے۔ پس ان دنوں مىں ہم مىں سے ہر اىک کو توبہ اور استغفار، درُود اور ذکرِ الٰہى کى طرف توجہ دىنے کى ضرورت ہے۔ اللہ تعالىٰ نہ صرف ہمارے اىمانوں کو سلامت رکھے بلکہ اىمان و اىقان اور تقوىٰ مىں ترقى کرنے والا بناتا چلا جائے۔ ہمارے استغفار خالص استغفار بن جائىں۔ ہمارى نمازىں اور عبادتىں حقىقى نمازىں اور عبادتىں بن جائىں۔ ہمارى حقوق العباد کى ادائىگى خالصۃً اللہ تعالىٰ کى رضا کے حصول کے لئے ہو جائے۔

 (خطبہ جمعہ 06جولائى 2012ء بحوالہ الاسلام وىب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

تقریب آمین

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 نومبر 2021