• 26 جنوری, 2022

خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 05؍نومبر 2021ء

خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 05؍نومبر 2021ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

احمدی اپنے مال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس سوچ کے ساتھ کہ انہوں نے
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کی تکمیل میں مدد کرنی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہرانا ہے

تحریکِ جدیدکے ستاسیویں(87) سال کے کامیاب اور بابرکت اختتام اور اٹھاسیویں(88) سال کے آغاز کا اعلان
اللہ کے فضل سے تحریک جدید کے مالی نظام میں جماعت کو 15.3 ملین پاؤنڈ کی مالی قربانی کی توفیق ملی جو پچھلے سال سے آٹھ لاکھ بیالیس ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے

أَشْھَدُ أَنْ لَّٓا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ يَوۡمِ الدِّيۡنِؕ﴿۴﴾ إِيَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِيَّاکَ نَسۡتَعِيۡنُؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ﴿۶﴾  صِرَاطَ الَّذِيۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡہِمۡ ۬ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّيۡنَ﴿۷﴾

اللہ تعاليٰ نے قرآن کريم ميں مومنين کي جو خصوصيات بيان فرمائي ہيں ان ميں سے ايک يہ ہے کہ وہ اپنے

پاک مال سے اللہ تعاليٰ کي رضا کے ليے اللہ تعاليٰ کي راہ ميں خرچ

کرتے ہيں۔ اللہ تعاليٰ نے قرآن کريم ميں مال کے خرچ کے حوالے سے جب کہيں باتيں کي ہيں تو صرف يہي بتايا کہ مال خرچ کرنے والے مومن ہيں۔ کہيں صدقات کي طرف توجہ دلاتے ہوئے صدقات کے حوالے سے بات کي ہے۔ کہيں زکوٰة کے حوالے سے اللہ تعاليٰ نے خرچ کا فرمايا ہے۔ پھر جو قرباني کرنے والے اپنا مال خدا تعاليٰ کي راہ ميں ديتے ہيں اس مال کا مصرف بھي بتايا کہ کس طرح خرچ کرنا ہے، کہاں خرچ کرنا ہے جيسا کہ الٰہي جماعتوں کا طريق ہے کہ وہ اپنے مال کو پاک کرنے کے ليے، اللہ تعاليٰ کے فضل حاصل کرنے کے ليے، اللہ تعاليٰ کي رضا حاصل کرنے کے ليے خدا تعاليٰ کي راہ ميں خرچ کرتي ہيں۔

جماعت ميں بھي اسي طرح مالي قربانيوں کا سلسلہ قائم ہے۔

جماعت کے افراد کو بھي پتہ ہے کہ اللہ تعاليٰ کا يہ حکم ہے اور جو قربانياں وہ ديتے ہيں وہ کس طرح پھر خرچ کي جاتي ہيں۔ حضرت مسيح موعود عليہ الصلوٰةوالسلام جس مشن کو لے کر آئے تھے يعني اللہ تعاليٰ کي توحيد کو دنيا ميں قائم کرنا اور اسلام اور آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کا جھنڈا دنيا ميں لہرانا۔ يہ کام کوئي معمولي کام نہيں ہے، بڑا وسيع کام ہے دنيا ميں اس پيغام کو پھيلانا۔ اور بہرحال اس کے ليے اخراجات کي ضرورت ہوتي ہے اور اللہ تعاليٰ کے فضل سے احباب جماعت اللہ تعاليٰ کے اس حکم کو سمجھتے ہوئے کہ اپنا مال خدا تعاليٰ کي راہ ميں خرچ کرو، يہ اخراجات پورے کرنے کي کوشش کرتے ہيں۔ دنيا کے مختلف ممالک ميں پھيلے ہوئے احمدي اپني مالي قربانيوں کے ايسے ايسے نمونے پيش کرتے ہيں کہ جنہيں ديکھ کر انسان اس يقين پر پہلے سے بڑھ کر قائم ہو جاتا ہے کہ

يقيناً حضرت مسيح موعود عليہ السلام اللہ تعاليٰ کے وہي فرستادے ہيںجن کے ذريعہ سے آخري زمانے ميں اسلام کي خوبصورت تعليم دنيا ميں پھيلني تھي۔

اگر اس ايک نشان کو مخالفين غور سے ديکھيں اور اپنے دلوں کے بغضوں کو نکال کر انصاف سے کام ليں تو احمديت کي سچائي کي يہي نشاني ان کے دل بلا وجہ کي مخالفت سے پاک کر سکتي ہے ليکن ان کے دل تو پتھروں سے بھي زيادہ سخت ہيں خاص طور پر علماء کے، نام نہاد علماء کے۔ بہرحال ان کا معاملہ خدا تعاليٰ کے ساتھ ہے۔

جيسا کہ ميں نے کہا کہ احمدي اپنے مال خدا تعاليٰ کي راہ ميں خرچ کرتے ہيں تو اس سوچ کے ساتھ کہ انہوں نے حضرت مسيح موعود عليہ السلام کے مشن کي تکميل ميں مدد کرني ہے، آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کا جھنڈا دنيا ميں لہرانا ہے۔ بےشک يہ اللہ تعاليٰ کا مومنين سے وعدہ ہے کہ تم جو بھي خرچ کرتے ہو، جو مال بھي اللہ تعاليٰ کي راہ ميں ديتے ہو اسے ميں کئي گنا بڑھا کر لوٹاؤں گا ليکن بہت سے احمدي ايسے ہيں جو يہ سوچ رکھتے ہيں کہ ہميں خداتعاليٰ کي رضا مقصود ہے۔ اگر دنياوي فائدہ پہنچتا ہے تو يہ اللہ تعاليٰ کا فضل ہے۔ ان کي يہ سوچ ہے کہ قرباني سے اللہ تعاليٰ ہمارے سے راضي ہو اور ہماري عاقبت سنورنے کے سامان پيدا ہو جائيں۔

جماعت احمديہ کوئي ارب پتيوں کي جماعت نہيں ہے۔ ايسي جماعت ہے جس کي اکثريت غريب لوگوں پر يا اوسط درجہ کے لوگوں پر مشتمل ہے ليکن اس کے باوجود قرباني کا ايک جذبہ ہے۔ اس کوشش ميں رہتے ہيں کہ اسلام کي نشأةِثانيہ ميں ہمارا بھي حصہ ہو جائے اور پھر ان کي

معمولي قربانياں بھي اللہ تعاليٰ کے ہاں مقبول ہو کر
لاکھوں کروڑوں پاؤنڈ کے برابر پھل لاتي ہيں۔

پس اصل چيز اللہ تعاليٰ کے ہاں مقبوليت ہے۔ اللہ تعاليٰ کے فضل سے جماعت اپنے محدود وسائل کے ساتھ جس کام کو بھي شروع کرتي ہے اللہ تعاليٰ اس ميں ايسي برکت ڈالتا ہے کہ ديکھنے والے سمجھتے ہيں کہ شايد يہ اس کام ميں کئي ملين پاؤنڈز کا خرچ کر رہے ہيں ليکن انہيں پتہ نہيں کہ يہ غريب لوگوں کے پيسے ہيں جن ميں اللہ تعاليٰ کي طرف سے برکت پڑتي ہے اور اس کے نتيجہ ميں ہمارے چھوٹے کام بھي بڑے ہو کر نظر آتے ہيں۔

يہاں يہ بھي بتا دوں کہ جب جماعت بڑھتي ہے تو مختلف قسم کي سوچ رکھنے والے اور کم تربيت والے يا پرانے احمديوں ميں سےبھي تربيت کي کمي کي وجہ سے ايسي سوچ رکھنے والے نظر آ جاتے ہيں، گھروں ميں بھي باتيں کرتے ہيں، بچوں کے سامنے بھي باتيں کرتے ہيں، بچوں کے ذہنوں ميں بھي سوال اٹھنے شروع ہو جاتے ہيں جو يہ سوال کرتے ہيں کہ ہم کيوں اور کس ليے چندہ ديں؟ تو پہلے تو يہ عہديداروں کا کام ہے کہ اپنے رويوں اور عمل سے لوگوں کے شکوک دور کريں۔ لوگوں ميں اعتماد قائم ہو۔ پتہ ہو کہ جو چندہ لوگ دے رہے ہيں اس کا ايک خاص مصرف ہے اور وہ اسي مقصد کے ليے خرچ ہوتا ہے۔ دوسرے پيار سے انہيں سمجھائيں کہ مالي قرباني کي کيا اہميت ہے۔ خدا تعاليٰ کي نظر ميں يہ چيز کتني اہم ہے اور يہ مالي قرباني جو کر رہے ہوتے ہيں تو اس کے بدلے ميں اللہ تعاليٰ کي رضا ان کو ملتي ہے۔ اور پھر يہ بھي کہ يہ قرباني کہاں خرچ ہوتي ہے۔ اشاعتِ اسلام پر خرچ ہوتي ہے۔ ٹي وي چينل ہمارا چل رہا ہے اس پر بے شمار خرچ ہوتا ہے ۔کتب شائع ہو رہي ہيں۔ قرآن کريم کي اشاعت ہو رہي ہے۔ غريب بچوں کي تعليم پر خرچ ہو رہا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے پر خرچ ہو رہا ہے۔ مبلغين کي تعليم اور ان کے ذريعہ تبليغ پر خرچ ہو رہا ہے۔ مساجد بن رہي ہيں۔ اسي تعلق ميں اَور بہت سے جماعت کے خرچ ہيں۔ تو يہ بات ميں نے اس ليے نہيں کہي کہ خدا نخواستہ لوگوں ميں بہت زيادہ سوال اٹھنے لگ گئے ہيں۔ اس ليے بتائي ہے کہ

جب جماعت پھيلتي ہے تو پھيلاؤ کي وجہ سے شر پھيلانے والے اور شيطاني وساوس پيدا کرنے والے بھي آ جاتے ہيں جو فتنہ کي کوشش کرتے ہيں اور کم تربيت يافتہ ذہنوں ميں شکوک پيدا کرنے کي کوشش کرتے ہيں۔ اللہ تعاليٰ کا فضل ہے کہ جماعت کے افراد ايسي پختہ سوچ رکھتے ہيں کہ انہيں پتہ ہے کہ نظام جماعت چلانے کے ليے اخراجات کي ضرورت ہے اور يہ اللہ تعاليٰ کا حکم ہے کہ اس کي راہ ميں خرچ کرو۔

پس جماعت ميں ايسي بےشمار مثاليں ہيں کہ لوگ اپنے پاس کچھ نہ ہونے کے باوجود اللہ تعاليٰ کي رضا کے ليے کسي نہ کسي ذريعہ سے انتظام کر کے خرچ کر ديتے ہيں اور پھر اللہ تعاليٰ بھي ايسي قربانيوں کو ضائع نہيں کرتا۔ اللہ تعاليٰ انہيں اپنے وعدہ کے مطابق کہ وَ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ اور اس کو وہاں سے رزق دے گا اور ديتا ہے جہاں سے رزق آنے کا اسے خيال بھي نہيں ہو گا۔ اللہ تعاليٰ بھي اس طرح اپنا وعدہ پورا کرتا ہے اور احمدي يہ نہيں کہ صرف قرآن کريم ميں پڑھتے ہيں بلکہ آج بھي اس کو پورا ہوتے ديکھتے ہيں۔ اس بارے ميں اپنے تجربات لکھتے ہيں۔ ميں اس کي مثاليں بھي پيش کروں گا۔ يہ کوئي پراني باتيں نہيں ہيں کہ پرانے لوگوں کي کہانياں ہم سن رہے ہوں بلکہ ايسے تجربات سے اللہ تعاليٰ آج بھي مومنوں کے ايمان مضبوط کرتا ہے اور نہ صرف جن پر اللہ تعاليٰ کے فضل ہوتے ہيں، جو براہ راست فضل حاصل کر رہے ہيں ان کو فائدہ ہوتا ہے اور ان کا ايمان مضبوط ہوتا ہے بلکہ جو ان کے قريب رہنے والے ہيں ان کے بھي ايمان مضبوط ہوتے ہيں۔ انہيں بھي اس مالي قرباني کا اس وجہ سے احساس ہوتا ہے اور وہ بھي پھر اپني قربانيوں ميں بڑھنے کي کوشش کرتے ہيں تا کہ اللہ تعاليٰ کي رضا حاصل کرنے والے بنيں۔ جيسا کہ ميں نے کہا کہ ميں مثاليں پيش کروں گا تو جو لوگ مجھے اپني قربانيوں کے بارے ميں خط لکھتے ہيں، ان کي چند مثاليں پيش کرتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعاليٰ نوازتا ہے۔

گني کناکري

کي ايک مثال ہے۔ مبلغ انچارج نے لکھا کہ جب ميرے خطبے ميں سے جو مَيں نے تحريک جديد کے چندے کے بارےميں ديا تھا بعض ايمان افروز واقعات پڑھ کے جماعت کو سنائے اور ان کو کہا کہ يہ نمونے تمہيں بھي دکھانے چاہئيں تو ايک خاتون ميمونہ صاحبہ کا فون آيا اور انہوں نے کہا کہ گھر ميں اخراجات کے ليے رقم نہيں تھي اور ان کے شوہر اپنے کام کے سلسلہ ميں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ جمعہ کي نماز کے بعد ان کے والد نے انہيں ايک لاکھ گني فرانک کي رقم تحفةً دي جس پر وہ بتاتي ہيں کہ ميں اس شش و پنج ميں تھي کہ چندہ دوں يا گھر کے اخراجات کے ليے اس رقم کو استعمال کروں۔ پھر ميںنے دعا کر کے آدھي رقم يعني پچاس ہزار فرانک چندہ تحريک جديد ميں ادا کر دي۔ وہ کہتي ہيں کہ اس بات کو چوبيس گھنٹے نہيں گزرے تھے کہ اللہ تعاليٰ نے مجھے تين لاکھ فرانک کي رقم معجزانہ طور پر عطا کي جہاں سے مجھے کوئي گمان بھي نہيں تھا کہ رقم ملے گي۔ اس پر ميں نے اللہ تعاليٰ کا شکر ادا کيا کہ اس نے مجھے صحيح فيصلہ کرنے کي توفيق عطا فرمائي اور کہتي ہيں کہ ميرے ايمان ميں بھي بہت اضافہ ہوا۔

کينيڈا

کي ايک مجلس کي صدر کہتي ہيں کہ سيکرٹري تحريک جديد نے بجٹ کو پورا کرنے کي تحريک کي تو نادہندگان ممبرات کے بقايا جات کے ٹوٹل جب دريافت کيے گئے تو وہاں کے لحاظ سے وہ 325 ڈالر کي ايک معمولي رقم تھي۔کہتي ہيں ميں نے سوچا کہ ميں اپنے پاس سے ہي ادا کر ديتي ہوں ليکن جب ميں نے بنک اکاؤنٹ ديکھا تو وہاں تو کوئي رقم نہيں تھي بلکہ مائنس ميں اکاؤنٹ تھا۔ تين ڈالر زائد خرچ ہوئے ہوئے تھے ليکن کہتي ہيں اگلے دن جب ميں نے اکاؤنٹ چيک کيا تو ميري حيرت کي انتہا نہ رہي کہ ميرے اکاؤنٹ ميں تين ہزار ڈالر سے بھي کچھ زائد رقم تھي۔ کہتي ہيں کہ يہ وہ رقم تھي جو بہت عرصہ سے pending تھي اور اس کے ملنے کي بھي کوئي صورت نہيں تھي ليکن اللہ تعاليٰ کے فضل سے جب يہ نيت ديکھي کہ ميں بقايا ادا کرتي ہوں تو اللہ تعاليٰ نے اس کي ادائيگي کے سامان پيدا کر ديے اور فوري طور پر وہ رقم جو کافي عرصہ سے pending تھي وہ مل گئي۔ پھر

ساؤتھ افريقہ

سے ايک دوست شاہين صاحب کہتے ہيں کہ ميں نے تحريک جديد کے چندوں کي ادائيگي کي اور اپنے بنک اکاؤنٹ ميں موجود آدھي رقم اس مدّ ميں دے دي۔ کہتے ہيں يہ کوئي بڑي رقم نہيں تھي مگر ان کو مدنظر يہ تھا کہ تحريک جديد کي ادائيگي کا يہ آخري مہينہ ہے۔ اگر اب چندہ نہ ديا تو پھر موقع ملے يانہ ملے۔ چنانچہ کہتے ہيں کہ ميں نے يہ ادائيگي کر دي اور کہتے ہيں اسي دن ان کے والد صاحب بھي انہيں ملنے آئے اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے کچھ رقم ٹرانسفر کي ہے جو انہيں مل جائے گي اور ضروريات پوري ہو جائيںگي۔ شاہين صاحب کہتے ہيں جو رقم ان کے والد صاحب سے ملي وہ چندہ تحريک جديد ميں دي گئي رقم سے بيس گنا زيادہ تھي۔ چنانچہ انہوں نے والد صاحب سے ملنے والي اس رقم پر پھر چندہ ادا کر ديا اور پھر کہتے ہيں کہ جب ميں نے کہا کہ ميري آمد بڑھ گئي اور مجھے کہيں سے رقم اللہ تعاليٰ نے دے دي جہاں سے مجھے اميد نہيں تھي پھر جب چندہ ادا کيا تو اسي دن شام کو ان کے کام کي جگہ سے مالکن کا فون آيا کہ تم اگر خواہش رکھتے ہو تو ہم تمہيں دبئي ميں ايک نوکري دينا چاہتے ہيں۔ بہرحال انہوں نے ہاں کر دي اور اس طرح ان کو بيرون ملک ميں ايک بہت اچھے روزگار کا بھي بندوبست ہو گيا۔ کہتے ہيں يہ دو واقعات اتفاقي نہيں ہيں بلکہ مجھے يقين ہے کہ اللہ تعاليٰ کا يہ فضل محض چندہ دينے سے اور قرباني کرنے سے ہوا ہے۔ پھر

آسٹريليا

کے مربي صاحب لکھتے ہيں کہ جماعت کے ايک ممبر بتاتے ہيں کہ انہوں نے چندہ دينے کا وعدہ کيا۔ ان کے مالي حالات ٹھيک نہيں تھے۔ وعدے کے مطابق جب چندہ ادا کيا تو دل ميں يقين تھا کہ اللہ تعاليٰ کا وعدہ ہے توخدا تعاليٰ مجھے سو گنا بڑھا کر دے گا۔ اس طرح بھي بعض سوچ رکھتے ہيں۔ انہوں نے ايک پلاٹ خريدا ہوا تھا جس کي ويليو بڑھنے کي کوئي خاص اميد نہيں تھي ليکن چندے کي ادائيگي کے بعد کہتے ہيں کہ معجزانہ طور پر اس پلاٹ کا منافع سو گنا سے بھي زيادہ بڑھ گيا اور کہتے ہيں اس بات پر ميرا پختہ يقين ہو گيا کہ اللہ تعاليٰ نے اس مالي قرباني کو قبول کرتے ہوئے يہ فضل فرمايا۔ پھر مبلغ

قزاخستان

لکھتے ہيں کہ وہاں ايک لوکل مخلص احمدي علي بيگ صاحب ہيں۔ انہوں نے دس ہزار تینگے (Tenge) جو اُن کي کرنسي ہے تحريک جديد وغيرہ ميں ادا کيے اور کہتے ہيں اس کے بعد ميں کام پر چلا گيا۔ کچھ ہي دنوں کے بعد کمپني کے اعليٰ افسر نے مجھے بلايا اور کہا کہ ہماري کمپني کو اس دفعہ بہت منافع ہوا ہے۔ اس ليے ہم نے فيصلہ کيا ہے کہ پوري کمپني ميں سے تين لوگوں کو اچھا کام کرنے پر ايک لاکھ کا بونس ديں گے اور کہتے ہيں کہ اللہ تعاليٰ نے اس چندے کي وجہ سے دس گنا کر کے مجھے عطا کر ديا اور اس کي مجھے کوئي اميد نہيں تھي۔ پھر

برمنگھم يوکے

سے بھي ايک صاحب ہيں۔ وہ کہتے ہيں ميں نے اپني فيملي کے ساتھ 2016ء ميں بيعت کي تھي اور بيعت سے پہلے مالي حالات کافي خراب تھے اور قرض بھي بہت زيادہ تھا۔ جماعت ميں آ کے جب اپني حيثيت کے مطابق چندوں کي ادائيگي شروع کي بلکہ بعض دفعہ حيثيت سے بڑھ کر بعض تحريکات ميں حصہ لينا شروع کيا تو کہتے ہيں بيعت کے ابتدائي ايام کا واقعہ ہے کہ ميري اہليہ کو ايک سکول کے پروگرام ميں تبليغي سٹال لگانا تھا، ميں نے اپنے کام سے چھٹي لے لي تا کہ بچوں کو سنبھال سکوں۔ اس چھٹي کي وجہ سے سو پاؤنڈ کا نقصان ہونا تھا۔ اس وقت کے مالي حالات اچھے نہيں تھے اور ہمارے ليے يہ بہت بڑي رقم تھي۔ بہرحال کہتے ہيں کہ ميں نے سوچ کر کہ اللہ تعاليٰ کے کام کے ليے چھٹي ليني ہے قرباني ديني چاہيے تو ميں نے رخصت لے لي ليکن اللہ تعاليٰ نے کچھ اَور سوچ رکھا تھا۔ کہتے ہيں جب ميري اہليہ اپنا کام ختم کر کے گھر پہنچي ہيں تو ميرے باس کا فون آيا کہ اگر ہو سکے تو ايک گھنٹے ميں کام کي جگہ پہنچ جاؤ کيونکہ ايمرجنسي کام آگيا ہے۔ کہتے ہيں ميں نے فوراً روانگي کي۔ اس دن صرف ايک گھنٹہ کام کيا اور پورے دن کے پيسے سو پاؤنڈ مل گئے۔ گھر آ کر ميں نے اپني اہليہ کو بتايا۔ دونوں نئے نئے احمدي ہوئے تھے۔ کئي روز تک ہم اللہ تعاليٰ کي طرف سے انعام پا کر خوش ہوتے رہے اور اللہ تعاليٰ کا شکر ادا کرتے رہے۔

وکيل المال تحريک جديد قاديان کہتے ہيں:

جماعت احمديہ کرولائي صوبہ کيرالہ، انڈيا

کے ايک دوست ہيں، بڑے صاحب حيثيت ہيں۔ اچھے کاروباري ہيں اور تحريک جديد کي ادائيگي ميں غير معمولي جوش بھي رکھتے ہيں۔ ہر سال بڑي خطير رقم پيش کرتے ہيں۔ کہتے ہيں اس سال کورونا کے حالات کي وجہ سے مالي وسائل ايسے نہيں تھے کہ بڑي رقم دے سکيں۔ حصہ آمد وغيرہ دوسرے چندوں کي ادائيگي تو کر دي ليکن تحريک جديد کي ادائيگي کے ليے گنجائش نہيں تھي۔ کہنے لگے کہ ہميشہ اللہ تعاليٰ چندے کي ادائيگي کي توفيق عطا فرماتا ہے ابھي بظاہر کوئي صورت نظر نہيں آ رہي ليکن بہرحال توکّل تھا کہ اللہ تعاليٰ ضرور انتظام کر دے گا تو ميں ادا کروں گا۔ کہتے ہيں اختتام سے صرف دو دن پہلے دس لاکھ روپے کي بڑي رقم انہوں نے تحريک جديد ميں پيش کي۔ کہتے ہيں جمعہ کے دن مربي صاحب نے خطبہ کے دوران چندہ تحريک جديد کي ادائيگي کي طرف پھر توجہ دلائي اور کچھ پرانے واقعات ميرے خطبہ ميں سے پڑھ کے ان لوگوں کو سنائے۔ بہت متاثر ہوا اور دس لاکھ کے بجائے تقريباً اٹھارہ لاکھ روپے کا چندہ پيش کيا اور اس کے بعد ان کو اميد ہے کہ ايک پراجيکٹ جو سرکاري تھا وہ مل جائے گا اور يہ کہتے ہيں اگر وہ مجھے مل گيا تو تحريک جديد ميں اَور بڑي رقم بھي ادا کروں گا۔ بہرحال امراء ميں بھي اللہ تعاليٰ کے فضل سے احمديوں ميں ايسا طبقہ ہے جو قرباني کا جذبہ رکھتا ہے اور جو پيسے آتے ہيں تو چھپاتے نہيں بلکہ اللہ تعاليٰ کي راہ ميں خرچ کرنے کي کوشش کرتے ہيں۔

برکينا فاسو

کے مبلغ حبيب صاحب لکھتے ہيں کہ ايک ممبر ہمارے سورے سعيدو (Sore Seydou) صاحب ہيں۔ سترہ سو فرانک سيفا ان کا بقايا تھا اور سال ختم ہونے ميں صرف ايک ہفتہ باقي رہ گيا تھا تو بہرحال انہوں نے کوشش کر کے دو ہزار سيفا ادا کر ديا جو بقايا سے کچھ زيادہ تھا۔ کہتے ہيں کہ چندہ ادا کيے ابھي ايک گھنٹہ بھي نہيں ہوا تھا کہ کسي واقف کار نے دس ہزار فرانک مجھے بھيج ديا اور پھر ايک گھنٹے ميں مزيد دس ہزار فرانک سيفابھيج ديا اور ساتھ فون کر کے کہا کہ يہ کُل بيس ہزار فرانک سيفا بطور تحفہ ميں نے تمہيں بھيجے ہيں تو سعيدو صاحب کہتے ہيں کہ اس واقف کار نے آج تک مجھے کوئي پيسے نہيں بھيجے اور يہ پہلي دفعہ ہوا ہے۔ کہتے ہيں کہ ميں نے دو ہزار فرانک بقايا ادا کيا تو اللہ تعاليٰ نے بڑھا کر بيس ہزار فرانک سيفا دو گھنٹے کے اندر اندر ادا کروا ديا تو اس طرح لوگوں کے ايمان بھي بڑھتے ہيں۔

سيراليون

ميں ايک جگہ لنگي (Lungi) ہے۔ اس ريجن کے معلم عبداللہ صاحب لکھتے ہيں کہ بڑي عمر کے ايک ممبر پاءجے۔ايم۔کائن (Pa J.M.Kaine) صاحب ہيں۔ ان کا پچھلے سال تحريک جديد کا وعدہ پچيس ہزار ليون تھا اور اس سال انہوں نے وعدہ پچاس ہزار ليون لکھوايا۔ وہ مالي لحاظ سے مشکلات کابھي شکار تھے جب تحريک جديد کي وصولي کے بارے ميں اعلان کياگيا تو انہوں نے لوکل مشنري سے پوچھا کہ ميرا وعدہ کتنا ہے؟ جب انہوں نے بتايا کہ پچاس ہزار ليون تو بڑي حيرت ہوئي۔ انہوں نے کہا يہ کس طرح ميں نے لکھوا ديا ہے۔ ميں تو خود ادا نہيں کر سکتا۔ بہرحال ان کو کہا کہ يہ آپ نے خود ہي لکھوايا ہے۔ بہرحال خاموش ہو گئے۔ اگلے ہفتے کہتے ہيں انصار کي ميٹنگ تھي اور آ کے بتايا کہ ميرے پاس ساٹھ ہزار ليون تھے۔ بيس ہزار ليون ميں گھر چھوڑ آيا ہوں اور چاليس ہزار ليون چندہ تحريک جديد ميں ادا کرنے کے ليے لايا ہوں۔ اب ميرے پاس واپس جانے کا کرايہ بھي نہيں ہے۔ بہرحال کہتے ہيں ميں نے انہيں کہا کہ آپ نے قرباني کي۔ اللہ تعاليٰ آپ کا انتظام کر دے گا۔ کہتے ہيں پيدل ہي گھر جا رہے تھے کہ رستے ميں ايک پرانا جاننے والا مل گيا۔ بڑے عرصے بعد اس سے ملاقات ہوئي تھي اور دوست سے باتيں کرتے رہے۔ جب وہ دوست جانے لگا تو جاتے جاتے تيس ہزار ليون نکال کے ان بزرگ کو تحفہ دے ديا۔ پھر يہ بزرگ بيان کرتے ہيں کہ اس کے بعد ايک جاننے والي خاتون تھيںان کا پتہ کرنے کے ليے ان کي صحت کے بارے ميں پوچھنے کے ليے گھر چلا گيا۔ جب وہاں سے اٹھ کے جانے لگا تو اس نے دس ہزار ليون ديا اور کہنے لگي يہ کرايہ کے طور پر استعمال کر ليں اور کہتے ہيں: اللہ تعاليٰ نے ان کي چندے ميں دي ہوئي رقم ان کو اسي طرح لوٹا دي۔ پھر انہوں نے اس سے وعدہ بھي پورا کر ديا جو پچاس ہزار کا تھا۔ پھر کہتے ہيں کہ صرف يہي نہيں اس کے بعد ايک اَور فضل بھي ہوا کہ ايک عزيز بيرون ملک مقيم تھے۔ ان کا فون آيا اور انہوں نے کہا کہ کافي عرصہ سے آپ سے رابطہ نہيں ہو سکا اور ميں آپ کو بطور تحفہ چار لاکھ ليون بھجوا رہا ہوں۔ صرف برابر کي رقم نہيں دي بلکہ دس گنا بڑھا کے بھي اللہ تعاليٰ نے عطا کروا دي اور اس طرح کہتے ہيں کہ مجھے اپني قرباني کرنے کي بھي توفيق مل گئي اور ميرے ايمان ميں بھي اضافہ ہوا۔ پھر

گني کناکري

کا ريجن بوکے (Boke) ہے۔ وہاں کے ايک گاؤں کے مشنري کہتے ہيں کہ تحريک جديد کے چندوں کي وصولي کے سلسلہ ميں ہفتہ تحريک جديد منايا گيا۔ خطبہ جمعہ ميں توجہ دلائي۔ انفرادي طور پر گھروں ميں دورہ بھي کيا۔ ايک مخلص احمدي دوست جبريل صاحب ہيں جو پيشے کے لحاظ سے بڑھئي ہيں۔ ان کے گھر گئے اور انہيں چندے کي ادائيگي کي طرف توجہ دلائي تو انہوں نے کہا کہ ميں نے آج کے اخراجات کے ليے بيس ہزار فرانک رکھے ہوئے تھے وہ ميں سب چندے ميں ادا کرتا ہوں۔ اب اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہيں ليکن دعا ہے کہ اللہ تعاليٰ ہماري قرباني قبول فرمالے۔ جبريل صاحب بتاتے ہيں کہ پچھلے تين ماہ سے انہوں نے ايک لکڑي کا بيڈ فروخت کرنے کے ليے تيار کيا ہوا تھا ليکن کوئي خريدار نہيں آ رہا تھا۔ چندے کي ادائيگي کے کچھ ہي دير بعد ايک شخص بيڈ خريدنے آ گيا اور اس نے ايک ملين اور پانچ لاکھ فرانک ميں وہ خريد ليا۔ اس پر جبريل صاحب نے فوراً ہمارے مشنري کو فون کيا کہ اللہ تعاليٰ نے نہ صرف ہماري قرباني کو قبول کيا بلکہ کئي گنا بڑھا کر اس نے ہميں لوٹا دياہے اور يہ بات وہ اپنے دوستوں کو بھي بتاتے ہيں تا کہ ان کے بھي ايمان مضبوط ہوں۔

منير حسين صاحب فري ٹاؤن

سيراليون

کے مبلغ ہيں۔ کہتے ہيں کہ خادم صوفي سونگو (Sufi Songo) صاحب پڑھائي کر رہے ہيں۔ طالب علم ہيںا ور پڑھائي کے سلسلہ ميں مسجد ميں مقيم ہيں۔ جب انہوں نے ميرا خطبہ سنا۔ ريکارڈنگ سني ہو گي يا گذشتہ سال کا تحريک جديد کا خطبہ سنا ہو گا جس ميں مالي قرباني کرنے والے لوگوں کا ميں نے ذکر کيا تھا تو کہتے ہيں: ميں نے بڑي توجہ سے سارا خطبہ سنا اور ميرے اندر اس بات کا بہت جوش اور جذبہ پيدا ہوا کہ کاش ميں بھي مالي قرباني ميں حصہ لے سکتا ليکن مشکل يہ تھي کہ ميں طالب علم ہوں اور کوئي بھي کام نہيں کرتا اور پڑھائي کا خرچہ بھي مشکل سے پورا ہوتا ہے ليکن ان تمام مشکلات کے باوجود ميرے اندر بہت بےقراري پيدا ہوئي۔ ميں نے سيکرٹري تحريک جديد کو اپنا پانچ لاکھ ليون کا وعدہ لکھوا ديا جو کہ ميرے ليے بہت مشکل تھا۔ اس کے بعد ميں ان کي ادائيگي کے ليے کچھ پريشان ہوا اور رات دن ميں نے دعائيں کرني شروع کر ديں۔ اللہ تعاليٰ کوئي سامان پيدا فرمائے اور ميں اپنا وعدہ پورا کر سکوں۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد ميرا ايک رشتہ دار اپنے بيٹے کو لے کر آيا کہ اسے احمديہ سکول ميں داخل کروانا ہے۔ ميں نے سکول کے پرنسپل سے بات کي تو انہوں نے بچے کو داخلہ دے ديا۔ بچے کے والد نے مجھے ايک لاکھ ليون ديے اور کہا کہ تمہارے کھانے وغيرہ کے کام آئيں گے يہ رکھ لو۔ اس دن کہتے ہيں ميرے پاس کھانے کے ليے بھي کچھ نہيں تھا ليکن ميں نے يہ ساري رقم چندہ تحريک جديد ميں ادا کر دي کہ وعدہ جو ہے اس کا کچھ حصہ تو پورا ہو۔ کچھ دن بعد کہتے ہيں کہ ايک نامعلوم نمبر سے فون آيا کہ ايک کام کرنا ہے اور اس کا اچھا معاوضہ بھي ادا کريں گے۔ کيا تم تيار ہو؟ ميں نے فوراً حامي بھر لي اور اللہ تعاليٰ کے فضل سے اس کام کے معاوضہ کے طور پہ مجھے ايک ملين ليون ملے جس سے ميں نے اپنا وعدہ تحريک جديد فوري طور پہ ادا کر ديا۔

گيبون

کے مبلغ انچارج لکھتے ہيں ايک نومبائع عيسيٰ ديندانے (Dindane Issa) صاحب ہيں۔ انہوں نے بتايا کہ بيعت اور باقاعدگي کے ساتھ چندہ کي ادائيگي سے قبل ميري حالت يہ تھي کہ بسا اوقات دو ہفتے يا تين ہفتے گزر جاتے تھے مگر کام نہيں ملتا تھا مگر جب سے باقاعدگي سے چندہ ادا کرنا شروع کيا ہے تو اب تقريباً روزانہ ہي کام مل جاتا ہے اور يہ بڑي دور سے آ کے باقاعدہ چندہ ادا کرتے ہيں بلکہ جتنا چندہ ادا کرتے ہيں اتنا ہي ٹيکسي کا کرايہ بھي ديتے ہيں اب ان کا انتظام کيا گيا ہےکہ بجائے دوہرا خرچ کرنے کے اپنے گھر سے ہي چندہ بھجوا ديا کريں۔

اردن

سے ايک خاتون فجر عطايا صاحبہ کہتي ہيں کہ مجھے احمديت ميں داخل ہوئے بائيس سال ہو گئے ہيں۔ جب سے ميں احمدي ہوئي ہوں ميں نے ديکھا ہے کہ ميں جب بھي چندہ دينے کي نيت کرتي ہوں اللہ تعاليٰ غيب سے مدد فرما کر پيسوں کا انتظام کر ديتا ہے۔ بعض دفعہ تو بالکل اتنے ہي پيسے آ جاتے ہيں جتنے چندہ دينے کي نيت ہوتي ہے۔ يہ جماعت کي برکت ہے۔ کہتي ہيں ميں نے انجنيئرنگ کي ہوئي ہے۔ گھر پر ہي کچھ کام مل جائے تو کر ليتي ہوں۔ ميري عادت ہے کہ چندہ جات کے ليے اپنے خاوند سے پيسے نہيں ليتي کيونکہ اکثر ان کا ہاتھ تنگ ہوتا ہے بلکہ اپني ذاتي کمائي سے چندہ ديتي ہوں۔ اس سال ميں نے سمجھا کہ ميں نے تحريک جديد چندہ ادا کر ديا ہے ليکن درحقيقت ميں بھول گئي تھي۔ جب ياددہاني کروائي گئي تو ميرے پاس ايک دينار بھي نہيں تھا۔ ميں اسي فکر ميں تھي کہ چندہ کيسے ادا ہو گا؟ ليکن ايک طالبہ ميرے پاس آئي کہ مجھے ٹيوشن پڑھا ديا کريں ۔ اللہ تعاليٰ کے فضل سے ٹيوشن فيس سے چندہ بھي ادا ہو جائے گا اور کچھ بچ بھي جائے گا۔

برکينا فاسو

کي بوکوبَدَالہ (Bokubadala) ايک جماعت ہے۔ وہاں کے صدر جماعت بيان کرتے ہيں کہ ميرے پاس کچھ غيراز جماعت دوست آئے اور کہنے لگے کہ ہم لوگ آپ لوگوں کي فصلوں کو ديکھ کر حيران ہيں کيونکہ ہم نے ديکھا ہے کہ آپ لوگوں نے جماعت کے تعمير ہونے والے سکول ميں زيادہ وقت ديا ہے جبکہ آپ کي فصلوں کي ديکھ بھال کرنے والا پيچھے کوئي نہيں تھا ليکن باوجود اس کے آپ کي فصليں ہماري نسبت زيادہ اچھي ہيں۔ اس کے برعکس ہم لوگوں نے اپنا سارا وقت اپني زمينوں کو ديا ہے ليکن پھر بھي ہماري فصليں اتني اچھي نہيں ہوئيں جتني آپ لوگوں کي ہوئي ہيں۔ اس پر صدر صاحب نے انہيں بتايا کہ ہم سب لوگوں نے يہ وقار عمل اللہ تعاليٰ اور جماعت کے ليے کيا تھا اور جتنا وقت ہم سکول کو ديتے تھے ساتھ يہ دعا بھي کرتے تھے کہ اللہ تعاليٰ تُو ہي ہماري فصلوں کي حفاظت کرنا کيونکہ ہم نے تجھ پر ہي توکّل کيا ہے۔ اس ليے اللہ تعاليٰ نے ہماري دعاؤں کو سن ليا اور ہماري فصل بھي اچھي ہو گئي اور اب ہم نےچندہ بھي اس کے مطابق ادا کر ديا۔

بچے بھي کس طرح قرباني کا شعور رکھتے ہيں۔

ايسے بچے جو غريب ممالک ميں ہيں اور ايسا شعور ہے کہ ترقي يافتہ ممالک کے بچوں کو، پڑھے لکھے بچوں کو بھي بعض جگہ يہ شعور نہيں ہے۔ اس کا واقعہ يوں ہے کہ حسين يوسف صاحب زنجبار کے علاقے کے مبلغ کہتے ہيں۔ بچے مسجد سے باہر کھيل رہے تھے تو ايک بزرگ وہاں سے گزرے انہوں نے خوش ہو کر بچوںکو ٹافياں خريدنے کے ليے چودہ سو شلنگ ديے۔ بچے پيسے لے کر ايک احمدي دکاندار کے پاس گئے اور ان پيسوں کے سکے تبديل کروا ليے۔ چھوٹا چينج کروا ليا۔ اور اپنے اپنے حصوں کے پيسے بجائے ٹافياں خريدنے کے چينج کرا ليے۔ نوٹ تڑوا ليا اور سب بچے سکے لے کر مسجد آئے اور اپنے اپنے حصے کے پيسوں ميں سے ايک ايک سو شلنگ چندہ ادا کيا اور بڑي خوشي سے اپني اپني رسيد اپنے پاس رکھي۔ جب احمدي دکاندار کو علم ہوا کہ بچوں نے چندہ ادا کرنے کے ليے سکے تبديل کروائے تھے تو اس کي بھي حيرت کي انتہا نہيں رہي۔ اور يہي بچے ہيں جو ان شاء اللہ جماعت احمديہ کي مضبوط بنياديں بن جائيں گے۔ پھر

بچوں کي قرباني کا ايک اور عجيب نظارہ

ہے۔ يہ بھي تنزانيہ کا ہي ہے۔ اس کے بارے ميں سموئے (Samuye) کے معلم لکھتے ہيں کہ جماعت ميں تين بچے ہيں جو چوتھي جماعت ميں پڑھتے ہيں، باقاعدگي سے مسجد ميں تعليمي اور تربيتي کلاسز ميں شامل ہوتے ہيں۔ تينوں بچوں کے گھرانے مالي لحاظ سے غريب ہيں۔ کوئي مستقل آمدني کا ذريعہ نہيں۔ گذشتہ ماہ سے يہ آپس ميں مقابلہ کرتے تھے اور مقابلے ميں چندہ تحريک جديد ادا کرنے کي طرف ان کي دوڑ لگي ہوئي تھي۔ ہر ايک عليحدگي ميں اپنا چندہ لاتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ جتني بھي رقم اس کے پاس موجود ہے وہ ادا کرے اور اس طرح انہوںنے کسي نے پانچ سو ،کسي نے چار سو، سات سو شلنگ جو بھي ان کے پاس تھا ديا اور کہتے ہيں کہ جب ايک دفعہ ميں نے ان سے پوچھا کہ تم جو يہ چندہ تحريک جديد لاتے ہو، يہ پيسے کہاں سے لے کے آتے ہو؟ ايک نے بتايا کہ اپني والدہ کے ساتھ جنگل ميں لکڑياں کاٹنے ميں مدد کرواتا ہوں تو جيب خرچ کے طور پر جو پيسے ملتے ہيں اس ميں سے چندہ تحريک جديد کے ليے رکھ ليتا ہوں اور کہتے ہيں کہ جب سے ميں نے چندہ ادا کرنا شروع کيا ہے ہميشہ لکڑيوں کے گاہک فوري طور پہ مل جاتے ہيں اور کبھي نقصان نہيں ہوا۔ دوسرے بچے نے بتايا کہ وہ بھي اپني جيب خرچ ميں سے چندے کي رقم عليحدہ کرتا ہے۔ تيسرے بچے نے بتايا کہ اس کے گھر کے قريبي درختوں پر پھل وغيرہ لگتے ہيں ۔کبھي کبھار وہ اپنے کھانے کے ليے پھلوں سے زائد کو بيچ بھي ديتا ہے جس سے حاصل ہونے والي رقم سے چندہ ادا کر ديتا ہے۔ ان تينوں بچوں نے چندے کي برکات کا بھي بيان کيا کس طرح چندہ کي ادائيگي سے ان کي زندگي ميں سکون محسوس ہوتا ہے۔ اللہ تعاليٰ ان بچوں کو ايمان و اخلاص ميں بڑھاتا چلا جائے۔ يہ ہے ايمان جس سے ہمارے بچے بھي مزہ لوٹتے ہيں۔

بيليز، دنيا کے بالکل دوسرے کونے سے ايک اَور بچے کي مثال۔

ايک، ايک کونہ، ايک دوسرا کونہ ليکن سوچيں کيسي ايک جيسي مثاليں ہيں۔ مبلغ انچارج بيليز لکھتے ہيں کہ بيليز ميں ايک چودہ سال کے بچے نے مسجد کي تعمير کے دوران اپني ساري جمع پونجي مسجد کے ليے پيش کي۔ اس نے تحريک جديد ميں بھي قرباني کي ايک اعليٰ مثال پيش کي ہے۔ بچہ بہت غريب ہے۔ بہت غريب گھرانے سے اس کا تعلق ہے۔ مشکل سے ان کے والد گھر کي ضروريات پوري کرتے ہيں۔ کہتے ہيں جب مربي صاحب نے تحريک جديد کي اہميت کے بارے ميں بتايا تو اس بچے نے ايک ڈالر پيش کيا اور کہا کہ يہ ميرے گھر والوں کي طرف سے ہے اور مربي صاحب بہت خوش ہوئے کيونکہ ان کے ليے مالي لحاظ سے اتني قرباني کرنا بھي بہت بڑي بات تھي ليکن اس بچے دانيال نے کہا کہ ميرا نام اس ميں نہ لکھيں۔ يہ ميں نے اپنے گھر والوں کي طرف سے ديا ہے۔ ميں اپنا حصہ بعد ميں دوں گا۔ چنانچہ اگلے دن اس بچے نے مزيد دس ڈالر پيش کيے اور کہا مجھے يقين ہے کہ اللہ ہمارے گھر والوں پر ضرور فضل کرے گا۔ اپني طرف سے بھي ساتھ ہي پيش کر ديے۔

کس طرح اللہ تعاليٰ نئے شامل ہونے والوں کے دل ميں قرباني کا جوش پيدا فرماتا ہے اور کس طرح انہيں نوازتا ہے۔ اس بارے ميں

 مراکش

کے ايک صاحب نور الدين صاحب کہتے ہيں 2017ء ميں بيعت کے بعد مالي قرباني ميں حصہ لينا شروع کيا تو اس وقت ميري آمدن بالکل معمولي تھي۔ کہتے ہيں ايک دن جماعت کي ويب سائٹ پر انہوں نے ميرا خطبہ سنا جہاں ميں حضرت مسيح موعود عليہ السلام کے صحابہ اور ديگر احمديوں کي مالي قربانيوں کا بتا رہا تھا ۔ تو کہتے ہيں کہ اس سے ميرے دل ميں ايک جوش پيدا ہوا اور چند دن کے بعد صدر جماعت مراکش سے ميں نے کہا کہ ميں نظام وصيت ميں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ انہوںنے بعض شرائط اور فرائض بتائے جس سے ميرا جوش مزيد بڑھا اور وصيت کر لي۔ پھر چند ماہ بعد ميرے حالات بہتر ہو گئے اور مجھے ايک کمپني ميں اچھي تنخواہ والا جاب مل گيا۔ ميں اب اسي کمپني ميں ايک اَور شہر ميں بطور مينيجر کام کر رہا ہوں۔ ميري تنخواہ صرف تين سال ميں تين گنا ہو چکي ہے۔ کمپني کا اعتماد مجھ پر اس حد تک بڑھا کہ جب ميں مراکش کے دارالحکومت سے دوسرے شہر جانے لگا تو مجھے مينيجر نے کہا کہ

اگر تمہاري طرح کام کرنے والا کوئي اور احمدي ہو اور جاب چاہتا ہو تو بتاؤ۔

کہتے ہيں يہ سن کر ميں بڑا جذباتي ہوا۔ آنکھوں ميں آنسو آئے۔ ميں نے اپنے شہر کے ايک احمدي دوست سے بات کي اور اسے يہ جاب مل گئي۔ اسے بھي اب مينيجر بنا ديا گيا ہے۔ تو کہتے ہيں چندہ دينے کي وجہ سے ميري فيملي کا مجھ پر پريشر ہے اور بعض رشتہ داروں کي طرف سے بھي استہزاکا سامنا ہے ليکن اللہ کا شکر ہے کہ مجھے چندے کي ادائيگي کي وجہ سے کبھي مالي مشکلات کا سامنا نہيں کرنا پڑا۔

آسٹريليا

کے مربي صاحب پرتھ سے لکھتے ہيں کہ ايک خادم ہے جس نے ابھي اس سال کا تحريک جديد کا چندہ ادا نہيں کيا ہوا تھا۔ چندہ ادا کرنے کي طرف توجہ دلائي تو اس نے بتايا کہ کووِڈ کي وجہ سے کام نہيں ملا۔ مالي مشکلات ہيں ليکن چند روز بعد دوبارہ ملا تو اس نے بتايا کہ ميں نے اپنا چندہ پورا کرنے کے ليے گھر کا کچھ سامان تھا وہ بيچا ہے تا کہ چندہ ادا کر سکوں اور کہتے ہيں جيسے ہي ميں نے ايسا کيا ابھي کچھ دن گزرے تھے کہ مجھے کام کے اعتبار سے چار نئے کنٹريکٹ مل گئے اور ساتھ ہي ايک نئي جاب بھي مل گئي جو سارے ايکسپينسز، (All Expenses Paid Job) تھي اور اس کي انکم بھي پہلے سے زيادہ بڑھ کر تھي اور پھر ميں نے ديکھا کہ يہ اللہ تعاليٰ کا فضل ہے جو اپنے گھر کا سامان بيچ کے ميں نے چندہ ادا کيا تھا تو اللہ تعاليٰ نے فوراً لوٹا بھي ديا۔

پھر آسٹريليا ساؤتھ کے ايک دوسرے شہر کے سيکرٹري تحريک جديد کہتے ہيں۔ ايک مخلص دوست کا چندہ تحريک جديد بقايا تھا۔ جب توجہ دلائي گئي تو وہ کہتے ہيں ميں نے اپنا گھر بيچنے کے ليے لگايا ہوا ہے جونہي گھر بکے گا ميں ادائيگي کر دوں گا۔ دو دن کے بعد اس کو فون آيا اور انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ميرا گھر غير متوقع طور پر منافع ميں بکا ہے اور انہيں يقين تھا کہ چندہ کي ادائيگي کے وعدہ کي وجہ سے ايسا ہوا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے وعدے سے چھ گنا زيادہ تحريک جديد ميں چندہ کي ادائيگي کر دي۔ اللہ تعاليٰ جب دنياوي منافعوں سے بھي نوازتا ہے تو اس سے بھي ايک احمدي کي اس طرف توجہ ہوتي ہے کہ يہ ميرے کسي کمال کي وجہ سے نہيں بلکہ قرباني کا نتيجہ ہے اور يہ ايک احمدي کي سوچ ہے کسي اور کو يہ سوچ نہيں آ سکتي۔

ارجنٹائن

کے مبلغ لکھتے ہيں کہ مَيں نے مالي قرباني کي طرف توجہ دلانے کے ليے ايک مضمون لکھا اور اس ميں ميرے خطبہ کے يہ الفاظ لکھے کہ

نومبائعين کو بتايا جائے کہ مالي قرباني ديني ضروري ہے۔ ان کو بتائيں کہ
تمہارے پاس جو احمديت کا پيغام پہنچا ہے يہ تحريک جديد ميں
مالي قرباني کرنے والوں کي وجہ سے پہنچا ہے

اس ليے اس ميں شامل ہوں تا کہ تم اپني زندگيوں کو بھي سنوارنے والے بنو اور اس پيغام کو آگے پہنچانے والے بھي بنو۔ يہ اقتباس انہوں نے ميرے خطبہ سے ليا اور شائع کيا۔ کہتے ہيں جب يہ مضمون افراد جماعت کو بھجوايا گيا تو ايک خادم انس حزقيل (Anas Ezequiel) صاحب نے ميرے سے رابطہ کيا اور کہا کہ وہ تحريک جديد کے چندے کي ادائيگي کے ليے مشن ہاؤس آنا چاہتے ہيں۔ سخت گرمي کے باوجود سکول کي چھٹي کے فوراً بعد پبلک بس پر ايک گھنٹے سے زائد سفر کر کے وہ مشن ہاؤس پہنچے اور ايک ہزار ارجنٹين پيسو (Argentine peso) تحريک جديد کے ليے پيش کيے۔ کہتے ہيں مجھے بڑا تعجب ہوا۔ ان کے معاشي حالات ايسے نہيں تھے اور ابھي خود سکول کے طالب علم ہيں۔ ان کي آمد کا خاص ذريعہ بھي نہيں تھا۔ فيملي کے حالات بھي اتنے اچھے نہيں تھے۔ کہتے ہيں پيسوں کي قلت کي وجہ سے اس دن موصوف نے خود بھي دوپہر کا کھانا نہيں کھايا ہوا تھا۔ پوچھنے پر انہوں نے بتايا کہ ان کے دل پر خليفہ وقت کے اس اقتباس نے خاص اثر پيدا کيا ہے کہ نومبائعين کو بھي تحريک جديد ميں اس ليے شامل ہونا چاہيے کيونکہ ان تک احمديت کا پيغام تحريک جديد کے توسط سے پہنچا ہے۔ کہنے لگے کہ ايک طرف ميں نے يہ الفاظ پڑھے اور دوسري طرف اسي دن قرآن کي آيت کا مطالعہ کيا جس ميں اللہ تعاليٰ فرماتا ہے کہ شہداء اور ان کي قربانيوں کو فوت شدہ مت خيال کرو بلکہ وہ ہميشہ کے ليے زندہ ہيں۔ کہنے لگے کہ ميرے دل ميں يہ خواہش پيدا ہوئي کہ ميں بھي ايسي قرباني کروں جس کے فوائد اور نتائج ميرے فوت ہونے کے بعد بھي زندہ رہيں۔ کہنے لگے کہ ميري فيملي نے جو سب غير مسلم ہيں ميري سالگرہ کے موقع پر کچھ رقم تحفہ کے طور پر دي تھي۔ چنانچہ اس رقم ميں سے جو بھي ميرے پاس اس وقت باقي تھا وہ سب کا سب ميں نے تحريک جديد ميں پيش کر ديا ہے تا کہ اس رقم سے دوسروں تک احمديت کا پيغام پہنچ سکے جس طرح کہ مجھ تک پہنچا ہے۔ يہ ہے جو احمديت قبول کرنے کے بعد لوگوں ميں انقلابي حالت پيدا ہوتي ہے۔

نئے احمدي ہوں يا پرانے ،کوئي بھي جب سنتا ہے کہ جماعت احمديہ کس طرح پيسے خرچ کرتي ہے اور کہاں کہاں خرچ کرتي ہے تو اس کا ايک خاص اثر ہوتا ہے۔

جن جماعتوں ميں اس طرف توجہ کم ہے اگر وہ اس طرف توجہ ديں اور
مقاصد بتائيں اور اہميت بتائيں تو ان کے چندے بڑھ سکتے ہيں۔

بہرحال

لائبيريا

کا ايک واقعہ ہے۔ ايک لوکل معلم مرتضيٰ صاحب ہيں اور ايک ايسي جماعت ميں ہيں جہاں زيادہ تر نومبائعين ہيں اور عيسائيت سے اسلام ميں داخل ہوئے ہيں۔ وہ بتاتے ہيں کہ تحريکِ جديد کے سلسلہ ميں اپني ايک جماعت کے دورے پر گئے جس وقت وہ گاؤں پہنچے تو دوپہر کا وقت تھا۔ زيادہ تر لوگ باہر اپنے کھيتوں ميں کام کے ليے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہاں موجود لوگوں کو بتايا کہ ميں آج رات يہيں قيام کروں گا اور اس وقت تک واپس نہيں جاؤں گا جب تک سو فيصد احباب اس بابرکت تحريک ميں شامل نہ ہو جائيں۔ رات کو جب سب لوگ گاؤں واپس آئے تو انہوں نے ساري جماعت کے سامنے تحريک جديد کي عظيم تحريک کا پس منظر اور اہميت بيان کي اور سب کو شامل ہونے کي تحريک کي۔ اللہ کے فضل سے سب احباب نے اور خواتين نے بڑھ چڑھ کر اس ميں حصہ ليا۔ اگلي صبح جب واپس جانے لگے تو کسي نے کہا کہ ايک دوست الفانسو صاحب ہيں جو دو ماہ سے باہر اپنے کھيتوں ميں رہ رہے ہيں اور وہ تحريک جديد ميں شامل نہيں ہوئے ليکن آپ ان کے پاس پہنچ نہيں سکتے کيونکہ ايک تو ان کي زمين بہت دور ہے۔ دوسرے بارشوں کي وجہ سے راستہ بھي بند ہے۔ معلم صاحب نے کہا کہ ميں ان کے پاس بھي پہنچوں گا تاکہ آپ کي جماعت کے سو فيصد احباب اس بابرکت تحريک ميں شامل ہوں۔ احباب جماعت نے روکنے کي کوشش کي ليکن انہوں نے اصرار کيا۔ کچھ دوست بہرحال ان کے ساتھ ہو ليے۔ اڑھائي گھنٹے کے پيدل سفر کے بعد جب يہ لوگ الفانسو صاحب کے پاس پہنچے تو ان کو بھي حيرت ہوئي اور خوشي بھي ہوئي۔ فوري طور پر انہوں نے تحريک جديد کا چندہ ادا کيا۔ الفانسو صاحب کے بيوي بچے بھي ان کے ساتھ ہي مقيم تھے۔ بيوي ابھي احمدي نہيں ہوئي تھي۔ يہ سارا منظر ديکھ کر اس کي بيوي نے کہا کہ ميں احمديوں کے دين کي خدمت کے جذبہ سے بہت متاثر ہوئي ہوں چنانچہ آج سے ميں بھي اس جماعت ميں داخل ہوتي ہوں اور ميرے بچے بھي اس جماعت کا حصہ ہوں گے۔ اس طرح اس کي برکت سے ايک خاندان کو احمديت ميں شامل ہونے کي بھي توفيق مل گئي۔

بيعت ميں آنے کے بعد کس طرح لوگوں کو ادراک ہوتا ہے کہ
مالي قرباني کس قدر ضروري ہے۔
مالي

سے ايک مبلغ لکھتے ہيں: ايک ريجن ميں ايک صاحب سيڈو صاحب ہيں۔ ايک روز احمديہ مشن ہاؤس کيتا ميں تشريف لائے اور يہ کہتے ہوئے اپنا تحريک جديد کا چندہ پيش کيا کہ تحريک جديد کا سال ختم ہونے والا تھا اور ميں کافي دنوں سے پريشان تھا کہ خدا تعاليٰ مجھے توفيق دے اور ميں تحريک جديد کا کيا ہوا وعدہ پورا کر سکوں اور آج مجھے خدا تعاليٰ نے توفيق دي ہے اور ميں آيا ہوں۔ ايک ٹانگ سے معذور تھے۔ ان کو جب کہا گيا کہ آپ نے کيوں تکليف کي، بتا ديتے ہم خود آپ کے پاس پہنچ جاتے۔ تو بڑے جوش سے بولے کہ ميں نے امام مہدي کو مانا ہے اور ميں ظاہري جسماني کمزوري کے باوجود اپنے آپ کو کچھ تندرست لوگوںسے زيادہ بہتر سمجھتا ہوں اور خدا تعاليٰ کے فضل سے دين کا درد رکھتا ہوں اور شايد ايسي حالت ميں ميرا خدا تعاليٰ کے دين کي بہتري کے ليے يہاں تک پيدل چل کر آنا اللہ تعاليٰ کے ہاں مقبول ہو جائے اور ميري بخشش کا سبب ہو جائے۔

بينن

سے مبلغ لکھتے ہيں کہ ايک لوکل معلم موتوواما (Moutowama) ہيں۔ انہوں نے بتايا کہ وہ اپنے زون کي ايک نومبائع جماعت ميں دورے پر گئے۔ وہاں کے صدر جماعت اسماعيل صاحب نے کہا ہم شروع سے مسلمان ہيں اور ہميشہ ہر سال کچھ نہ کچھ مالي قرباني يا في سبيل اللہ کے نام پر اللہ کي راہ ميں اپنے امام کو ديتے چلے آئے ہيں۔ يہ پہلا سال تھا کہ ہم احمدي ہوئے ہيں اور پہلي بار ہم نے جماعت احمديہ ميں مالي قرباني کي ہے۔ اس سے قبل امام کو ہم جو بھي ديتے تھے وہ انہي کے تصرف ميں آتا تھا ليکن جب ہم نے جماعت احمديہ کے مبلغ سلسلہ سے مالي قرباني ميں دي جانے والي رقم کے مصارف کے متعلق سوال کيا اور جواب ميں جو عظيم الشان مصارف انہوں نے ہميں مالي قرباني کے بتائے اس سے ہم ناآشنا تھے۔

جماعت اس معمولي سي دي گئي رقم کو بھي ضائع نہيں کرتي بلکہ اس معمولي دي گئي
رقم کو بھي پوري دنيا ميں ہونے والے چھوٹے بڑے ہر طرح کے
فلاحي کاموں اور اشاعت اسلام ميں صرف کرتي ہے اور
ايک شخص جو چند فرانک بھي چندہ ديتا ہے وہ اس کا بہترين اجر پاتا ہے۔

چنانچہ قرباني کے اس فلسفے کو سمجھ کر ہم نے تحريک جديد ميں چندہ ديا اور ہم نے محسوس کيا کہ اس سال ہمارے گھروں ميں مالي مشکلات بھي نہيں آئيں اور ہماري اور ہمارے بچوں کي صحت پر جو ہم آئے دن خرچ کرتے تھے وہ بھي امسال نہيں کرنا پڑا۔ ہماري نمازوں کي حاضري پہلے سے بہتر ہو گئي ہے اور اللہ تعاليٰ نے ہماري حفاظت فرمائي ہے اور اللہ تعاليٰ کے فضل سے اس بار مالي قرباني کے بعد ہميں دلي سکون اور اطمينان بھي تھا کہ ہماري قرباني رائيگاں نہيں گئي۔ اب لوگ کہتے ہيں کہ جي افريقہ ميں رہنے والے دُور دراز کے اَن پڑھ لوگ سوچ ہي نہيں رکھتے۔ يہ ايسي پختہ سوچ اور ايسے اعليٰ خيالات ہيں کہ بڑے پڑھے لکھے لوگوں کے بھي ذہنوں ميں نہيں آتے۔ کس طرح انہوں نے سارا کچھ بيان کيا اور مالي قرباني کي اہميت کس طرح ان پر واضح ہوئي۔

يہ ہے انقلاب جو بيعت کے بعد لوگوں ميں پيدا ہو رہا ہے۔

اللہ تعاليٰ ہم ميں سے ہر ايک کو اسلام کي اشاعت کے ليے قرباني کي توفيق عطا فرمائے اور اپني پاک کمائي سے قرباني کرنے والے ہوں۔ اللہ تعاليٰ کے ہاں يہ قرباني مقبول بھي ہو اور اللہ تعاليٰ ہم سے راضي ہو۔

اب ميں

تحريک جديد کے نئے سال کا اعلان

بھي کروں گا اور بعض کوائف بھي پيش کروں گا۔

اللہ تعاليٰ کے فضل سے ستاسيواں(87) سال 31؍ اکتوبر کو ختم ہوا تھا۔
اٹھاسيواں(88) سال شروع ہو چکا ہے

اور

اللہ کے فضل سے تحريک جديد کے مالي نظام ميں جماعت کو 15.3 ملين پاؤنڈ کي مالي قرباني کي توفيق ملي جو پچھلے سال سے آٹھ لاکھ بياليس ہزار پاؤنڈ زيادہ ہے۔
جرمني دنيا بھر کي جماعتوں ميں نماياں طور پر آگے ہے۔

پاکستان کے اقتصادي حالات بھي خراب ہيں۔ قربانيوں ميں تو وہ بڑھتے ہيں۔ ان کے ليے بھي دعا کريں۔ علاوہ اس کے آج کل ويسے بھي مشکلات ميں گرفتار ہيں۔ آئے دن کوئي نہ کوئي مقدمے بازي اور کسي نہ کسي کے خلاف کيس بنتا رہتا ہے اور قانون جو ہے وہ ان کو جتنا دبا سکتا ہے، تنگ کر سکتا ہے، کرنے کي کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعاليٰ ان کي پريشانيوں کو بھي دور کرے اور وہ بھي آزادي سے اپني تمام activitiesکر سکيں۔ اجتماعات بھي ہوں۔ جلسے بھي ہوں اور کھل کر اپني قربانيوں کے اظہار بھي کر سکيں۔ وہ تو اظہار نہيں کريں گے ليکن ان کے اظہار ہم کر سکيں۔ مجبوريوں کي وجہ سے ان کي بعض قربانيوں کا ذکر بھي نہيں کيا جا سکتا۔

بہرحال اس کے علاوہ جو قرباني کرنے والے ہيں جرمني کا تو ميں نے بتايا نمبر ايک ہے۔ اس کے بعد برطانيہ ہے۔ پھر امريکہ نمبر تين پہ ہے۔ نمبر چار پہ کينيڈا۔ نمبر پانچ پہ مڈل ايسٹ کي ايک جماعت ہے۔ نمبر چھ پہ بھارت ہے۔ نمبر سات پہ آسٹريليا۔ نمبر آٹھ پہ انڈونيشيا۔ نمبر نو پہ گھانا۔ نمبر دس پہ پھر مڈل ايسٹ کي ايک جماعت ہے۔

افريقن ممالک

ميں مجموعي وصولي کے لحاظ سے نماياں پوزيشن جو ہے وہ گھانا کي ہے۔ پھر نائيجيريا کي۔ پھر برکينا فاسو کي۔ پھر تنزانيہ کي۔ پھر سيراليون کي۔ سيراليون ميں پہلے بھي ميں نے کہا تھا کہ بہتري ہو سکتي ہے اور بہت بہتري کي گنجائش ہے ليکن جو توجہ ديني چاہيے وہ دے نہيں رہے۔ اگر صحيح طرح لوگوں کو بتايا جائے تو لوگ قرباني کرنے والے ہيں جيسا کہ ميں نے واقعات بتائے ہيں۔ پھر گيمبيا ہے۔ پھر بينن۔ پھر يوگنڈا۔ پھر کينيا۔ پھر لائبيريا۔

شاملين ميں اضافے کے لحاظ سے

نائيجيريا نمبر ايک پہ ہے۔ پھر گيمبيا ہے۔ پھر سينيگال ہے۔ پھر گھانا۔ پھر تنزانيہ۔ پھر گني کناکري۔ ملاوي۔يوگنڈا ۔گني بساؤ ۔کونگو کنشاسا۔ برکينا فاسو ۔کونگو برازاويل ۔

اور شاملين ميں افريقہ کے علاوہ جو دوسرے ملک ہيں ان ميں بڑي جماعتوں ميں جو اضافہ ہوا ہے اس ميں جرمني نمبر ايک پہ ہے۔ پھر برطانيہ ہے۔ پھر ہالينڈ ہے۔ پھر بنگلہ ديش ہے۔ پھر ماريشس ہے۔

دفتر اول کے کھاتے اللہ تعاليٰ کے فضل سے تمام جاري ہيں۔

جرمني کي پہلي دس جماعتيں

جو ہيں ان ميں روئڈر مارک(Rödermark)۔ نوئس (Neuss)۔ مہدي آباد (Mehdi-Abad)۔ کولون (Köln)۔ روڈگاؤ(Rodgau)۔ نيڈا (Nidda)۔ فلورس ہائم (Flörsheim)۔ پنےّ برگ(Pinneberg)۔فرانکنتھال (Frankenthal)اور اوسنا بروک(Osnabrück)۔

جو پہلي دس لوکل امارتيں

ہيں ان ميں ہيمبرگ (Hamburg)۔ فرينکفرٹ (Frankfurt)۔ گروس گيراؤ (Gross-Gerau)۔ ڈٹسن باخ (Dietzenbach)۔ ويزبادن (Wiesbaden)۔ مورفلڈن (Mörfelden)۔ ريڈشٹڈ (Riedstadt)۔ من ہائم (Mannheim)۔ ڈامشٹڈ (Darmstadt) اور روسلزہائم (Rüsselsheim)۔

پاکستان ميں تحريک جديد کي قرباني

ميں وصولي کے لحاظ سے لاہور اول ہے۔ پھر ربوہ ہے۔ پھر کراچي ہے۔ ضلعوں ميں اسلام آباد کا ضلع ہے۔ پھر گوجرانوالہ۔ سيالکوٹ ہے۔ پھر عمرکوٹ ہے۔ پھر ملتان ہے۔ ٹوبہ ٹيک سنگھ ہے۔ مير پور خاص ہے۔ اٹک ہے۔ مير پور آزاد کشمير ہے اور ڈيرہ غازي خان ہے۔

اور وصولي کے اعتبار سے زيادہ قرباني کرنے والي امارت ڈيفنس لاہور ہے۔ امارت گلشن اقبال کراچي ہے۔ امارت عزيز آباد کراچي ہے۔ امارت ٹاؤن شپ لاہور ہے۔ امارت ماڈل ٹاؤن لاہور ہے۔ امارت مغلپورہ لاہور ہے۔ امارت دہلي گيٹ لاہور ہے۔ امارت کلفٹن کراچي ہے۔ بہاولنگر شہر ہے۔ حافظ آباد شہر ہے۔

برطانيہ کے پہلے پانچ ريجن

جو ہيں ان ميں مسجد بيت الفتوح ريجن ہے۔ پھر نمبر دو پہ مسجد فضل ريجن ہے۔ پھر اسلام آباد ريجن ہے۔ پھر مڈلينڈز (Midlands) ريجن۔ بيت الاحسان ريجن۔ اور مجموعي وصولي کے لحاظ سے برطانيہ کي پہلي دس بڑي جماعتيں يہ ہيں: فارنہم (Farnham) پھر اسلام آباد۔ پھر ساؤتھ چيم (South Cheam)۔ پھر مسجد فضل۔ پھر ووسٹر پارک (Worcester Park)۔ برمنگھم (Birmingham)۔ ساؤتھ والسال (South Walsall)۔ آلڈر شاٹ (Aldershot)۔ جلنگھم (Gillingham)۔ ٹلفورڈ (Tilford)۔

مجموعي وصولي کے لحاظ سے امريکہ کي جو جماعتيں ہيں

وہ ہيں ميري لينڈ(Maryland) ۔ لاس اينجليس (Los Angeles)۔ ڈيٹرائٹ (Detroit)۔ سيليکون ويلي (Silicon Valley)۔ شکاگو (Chicago)۔ سيئٹل (Seattle)۔ سينٹرل ورجينيا (Central Virginia)۔ اوش کوش(Oshkosh) ۔ اٹلانٹا (Atlanta)۔ جارجيا (Georgia)۔ پھر ساؤتھ ورجينيا (South Virginia)۔ پھر ہيوسٹن (Houston)۔ پھر يارک (York)پھر بوسٹن(Boston)۔

وصولي کے لحاظ سے کينيڈا کي لوکل امارات

ہيں وان (Vaughan)۔ پھر پيس وليج (Peace Village) اور کيلگري (Calgary) دونوں برابر ہيں۔ پھر وينکوور (Vancouver)۔ پھر ٹورانٹو ويسٹ (Toronto West)۔ پھر ٹورانٹو (Toronto)۔

انڈيا کي پہلي دس جماعتيں

جو ہيں ان ميں قاديان نمبر ايک پہ ہے۔ پھر کوئمبٹور (Coimbatore) ہے۔ پھر حيدر آباد ہے۔ پھر کرولائي (Karulai) ہے۔ پھر پتھہ پريم۔ کلکتہ۔ بنگلور ۔کيرنگ۔ کالي کٹ۔ ميلا پالم ۔

اور قرباني کے لحاظ سے جو صوبہ جات ہيں ان ميں کيرالہ نمبر ايک پہ ہے۔ پھر تامل ناڈو۔ پھر جموں کشمير۔ پھر کرناٹک ۔تلنگانہ ۔اڑيسہ۔ پنجاب ۔بنگال۔ دہلي۔ لکش ديپ۔

آسٹريليا کي پہلي دس جماعتيں

يہ ہيں: ميلبرن لانگ وارِن(Melbourne Long Warren)۔ کاسل ہل(Castle Hill)۔ مارسڈن پارک(Marsden Park)۔ ميلبرن بيروک (Melbourne Berwick)۔ ايڈيليڈ ساؤتھ(Adelaide South)۔ پين رتھ(Penrith)۔ اےسي ٹي کينبرا(ACT Canberra)۔پيراماٹا (Paramatta)۔ ايڈيلائڈ ويسٹ(Adelaide West)۔

اللہ تعاليٰ تمام قرباني کرنے والوں کے اموال و نفوس ميں برکت عطا فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل 26نومبر 2021ء)

پچھلا پڑھیں

تقریب آمین

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 نومبر 2021