• 28 جنوری, 2023

This Week with Huzoor (16؍ستمبر 2022ء)

This Week with Huzoor
16؍ستمبر 2022ء

گزشتہ ہفتے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجلس خدام الاحمدیہ انگلستان اور مجلس اطفال الاحمدیہ انگلستان کے سالانہ نیشنل اجتماع میں شامل ہو کر اجتماع کو اعزاز بخشا۔ حضور کے اختتامی خطاب کی چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔

خطاب برموقع اجتماع خدام الاحمدیہ یو کے سے چند جھلکیاں

مجلس خدام الاحمدیہ یوکے کا سالانہ اجتماع جو کہ Old park Farm,Kingsley,Alton میں منعقد ہوا تھا۔اس کا اختتام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ایمان افروز خطاب سے ہوا۔یہ کووِڈ کی وباء کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ اجتماع تین دن کے لیے منعقد کیا گیا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق کچھ سر گرمیوں کو ملکہ برطانیہ کی وفات کے باعث مختصر طور پر کیا گیاجیسا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختتامی خطاب میں ذکر فرمایا تھا: ’’مجلس خدام الاحمدیہ نے اجتماع کے موقع پرپہلے ایک مکمل ورزشی پروگرام بنا یا ہوا تھا۔لیکن ملکہ برطانیہ کی وفات کے باعث میں نے صدر صاحب خدام الاحمدیہ کو ہدایت دی کہ ورزشی مقابلہ جات کو احتراماً مختصر کیا جائے۔میں نے اس بات کو ضروری جانا کیونکہ ملکہ برطانیہ ہماری ایک لمبا عرصے سے ملک کی سربراہ تھیں اور آپ نے ستر سال سے زائد عرصہ تک ملک کی قیادت بہت وقار اور عدل کے ساتھ کی۔ آپ کے راج میں برطانیہ تمام دنیا کے لیے مذہبی آزادی کے لیے مشعل راہ بنا رہا۔درحقیقت ملکہ نے خود بھی کئی موقعوں پر مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے وکالت کی۔پس ہم ایسی مہربان ملکہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔ایک احمدی مسلمان کی حیثیت سے ہمیں اور بھی زیادہ شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ ہمیں جماعت کا انٹرنیشنل مرکز حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی ہجر ت کے بعد برطانیہ میں ملکہ الزبتھ کے راج میں بنانے کا موقع ملا اور ہم آزادی کے ساتھ اپنے مذہب اسلام پر عمل کرتے رہے اور تبلیغ کرتے رہے۔ اس لحاظ سے ہم ملکہ الزبتھ،اس ملک کی حکومت اور اس ملک کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمارے نئے ملکی سربراہ King Charles III مذہبی آزادی اور تمام لوگوں کے لیے انصاف کو مسلسل یقینی بناتے رہیں اور تمام انسانوں کے حقوق ادا کئے جاتے رہیں۔‘‘

شاملین اجتماع کے تاثرات

حضور انور کی ہدایت کے مطابق اجتماع کے موقعہ پر ملکہ کی زندگی اور خدمات کے حوالے سے ایک نمائش بھی لگائی گئی اور ملک کے جھنڈے سرنگوں لہرائے گئے۔ اس سال ملکہ برطانیہ کی وفات کی وجہ سے یہ ایک بہت ہی افسوس ناک اور اداس موقع ہے۔ ملکہ برطانیہ مادر ملت تھیں اور انہوں نے ستر سال سے زائد اپنی قوم کی خدمت میں گزارےاور یہ بہت ہی افسوس ناک خبر ہے۔اجتماع کا پروگرام تو پہلے ہی بن چکا تھا۔ لیکن جمعرات کی شام کو یہ افسوس ناک خبر ملی کہ ملکہ برطانیہ فوت ہو گئی ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بطور خلیفۃالمسیح جماعت کے احساسات کا ذکر بھی فرمایا ہےاور ہمیں ملکہ کی وفات پر افسوس ہے اور چونکہ اجتماع ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے لیکن اس سال میں نے دیکھا ہے کہ تمام جھنڈے سرنگوں ہیں۔ اسی طرح میں نے ایک بہت ہی دلچسپ نمائش ملکہ کی یادگار کے طور پر دیکھی ہے۔ہماری دعائیں ملکہ اور ان کے تمام خاندان کے ساتھ ہیں۔ اجتماع کے اختتامی اجلاس میں ایک ویڈیو چلائی گئی جو کہ اجتماع کی جھلکیوں پر مبنی تھی۔

اختتامی اجلاس میں حضور نے اطفال اور خدام کی بہترین مجالس کوعلمِ انعامی کےانعامات سے نوازا۔پیارے حضور نے 2020ء تا 2021ء میں اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ کی بہترین مجالس میں سے مندرجہ ذیل مجالس کو علم انعامی کے انعامات دئیے جانے کی منظوری فرمائی ہے۔اطفال الاحمدیہ میں علم انعامی کا انعام ومبلڈن پارک قیادت کو دیا گیا۔

علم انعامی کے انعام دیے جانے کا اجراء حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 1939ء میں فرمایا اور یہ انعام بہترین مجلس کو دیا جاتا ہے۔ یہ مجلس کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلانے کےلیے دیا جاتا ہے جو اس جھنڈے کے ساتھ منسلک ہیں۔ خدام الاحمدیہ میں عَلَمِ انعامی کا انعام ملٹن کینز قیادت کو دیا گیا۔ عَلَمِ انعامی کی تقریب کے بعد حضور نے اختتامی خطاب فرمایا۔

اس خطاب میں حضور نے مجلس خدام الاحمدیہ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ باتیں بیان فرمائیں۔حضورانور ایدہ اللہ نے فرمایا ’’آج اس اختتامی اجلاس میں مَیں مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبران کی بعض بنیادی ذمہ داریوں اور فرائض کا ذکر کرنا چاہوں گا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کو کبھی بھی یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ وہ حقیقی مقصد جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو پید اکیا ہےوہ اس کی عبادت کے لیے ہےاور اس ضمن میں عبادت کی اولین شکل روزانہ کی پنج وقتہ نماز ہے یعنی صلوٰة یا نماز۔جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا ہےاس کے لئےضروری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ اپنی عبادت کی حفاظت کرےاور اس کے لیے لازم ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنی پنج وقتہ نمازیں پرخلوص طریقہ سے ادا کرے۔اللہ تعالیٰ نے جس وجہ سے نماز کی ادائیگی کو فرض قرار دیا ہے۔وہ یہ ہے کہ انسان اس کے بغیر روحانی طور پر زندہ نہیں رہ سکتادوسرے الفاظ میں صلوٰۃ انتہائی ضروری اور اہم ہےاور اس کے بغیر ایک انسان کا ایمان اور اس کی روحانیت قائم نہیں رہ سکتی۔اللہ کے فضل سے کئی نوجوان احمدی بڑی مستعدی سے نماز ادا کرتے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ذاتی تعلق پید اکیا ہوا ہے۔میں نے کئی نوجوان احمدیوں میں یہ روح دیکھی ہےاور یہ ان کے خطوط سے جو وہ مجھے لکھتے ہیں اس سے بھی واضح ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادت کے معاملہ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معیاروں کو کبھی بھی گرنے نہ دیں۔ہمیں مسلسل اپنے خالق کے تعلق کو مزید بہتر اور مضبوط بناتے رہنا چاہیے۔جس طرح ہمارا جسمانی بدن کھانے اور ہوا کا محتاج ہےاسی طرح ہماری روح کو بھی روحانی غذاکی ضرورت ہے…یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے ہماری جماعت کو ہر عمر کے لوگ عطا کیے ہیں جو کہ کسی بھی ڈیوٹی،خدمت اور قربانی کیلئے ہمہ وقت تیاررہتے ہیں انہیں جب بھی بلایا جاتا ہے تو لبیک کہتے ہیں اور ان کا دین جس بھی خدمت اور قربانی کا متقاضی ہوتا ہے اس کے لئےاپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔مثلاً ابھی جلسہ سالانہ یوکے پر ہزاروں مرد و خواتین اور بچوں نے اپنے کاموں اور روزانہ کے معمول کی مصروفیات کو جماعت کی خاطر چھوڑ کراپنے آپ کو ڈیوٹی کیلئے پیش کیااور اسی طرح کچھ حد تک اس اجتماع کی تیاری کیلئے بھی ایسا ہوا۔کئی لوگ تو کئی دنوں بلکہ کئی ہفتوں تک آرام کی نیند نہ سو سکےلیکن ایک دفعہ بھی نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنی ڈیوٹیوں میں تساہل برتی یا کسی بھی قسم کی بے چینی یا تھکاوٹ کا اظہار کیا۔اسی طرح جب انفاق فی سبیل اللہ کا سوال آتا ہےتودنیا بھر میں کئی احمدی ہیں کہ جب بھی کوئی مالی تحریک کا اعلان ہوتا ہے تو فراخ دلی سے رقوم پیش کرتے ہیں اور تبلیغ اسلام میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے بڑی بڑی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ اہم بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ صرف عارضی قربانیاں پیش کرنا یا عارضی چند دنوں کیلئے متقیانہ زندگیاں گزارنا کافی نہیں ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں ایک مستقل متقیانہ کیفیت چاہتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے واضح کردیا ہے کہ اس کے حصول کیلئے بنیادی چیز نماز ہے۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ ’’نماز کو قائم کر۔ یقیناً نماز بے حیائی اور ہر ناپسند یدہ بات سے روکتی ہے۔‘‘اور اللہ کا ذکر یقیناً سب (ذکروں) سے بڑا ہے۔اس زمانہ میں بہت سی برائیاں معاشرہ میں پھیلی ہوئی ہیں۔بہکا دینے والے گناہ ہر موڑ پر کھڑے ہیں جو معاشرہ کی بنیاد کواکھیڑنے میں مصروف ہیں۔ایک برائی جس کے بارےمیں مَیں خصوصاً آپ سب کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں وہ جھوٹ ہے۔معاشرے کی ہر سطح پر جھوٹ اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ کئی لوگ اپنی دنیاوی خواہشات اور فوائد کو پورا کرنے کیلئے سوچے سمجھے بغیر جھوٹ بولتے چلے جاتے ہیں اور اپنے جھوٹوں کو بہت ہی معمولی سمجھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو انتہائی بڑا گناہ قرار دیا ہےاور اسے اس فرد کیلئے اور پھر معاشرہ کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

ایک اور بات جو میں نو عمر خدام اور اطفال سے کرنی چاہتا ہوں جو ابھی تک اسکول میں زیر ِتعلیم ہیں وہ یہ ہے کہ ان کو اپنے ہم جلیسوں کے متعلق احتیاط سے کام لینا چاہیے۔آپ کی عمر میں آپ کے دوست اور ہم جلیس،جن کے ساتھ آپ وقت گزارتے ہیں وہ آپ کو باآسانی اپنے زیر اثر کر سکتے ہیں جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ اگر آپ بد صحبت اختیار کریں گے تو بد اخلاق اپنائیں گے،جیسے جھوٹ بولنا،بلا وجہ جھگڑنا یہاں تک کہ لڑائی کرنا۔بجائے اس کے کہ سچائی سے کام لیا جائے،نرم دلی اور ہمدردی دکھائی جائے۔چنانچہ نوجوان خدام اور اطفال کو اپنی صحبت کا بہت خیال رکھنا ہو گا۔ان لوگوں کےساتھ دوستیاں رکھیں جو مخلص اور ایماندار ہیں اور غیر اخلاقی اور بیہودہ کاموں میں ملوث نہیں ہیں نیز جیسےجیسے آپ کی عمر بڑھ رہی ہے اور آپ خود مختار ہو رہے تو کسی بھی قسم کی کمزوری نہ دکھائیں۔اپنے ایمان پر قائم رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کبھی بھی جھگڑا اور دوسروں کے ساتھ بد سلوکی نہیں کریں گے اور فحش زبان استعمال نہیں کریں گے یا دوسروں کو مشتعل کرنے والے انداز میں نہ بولیں گے۔بڑی عمر کے خدام کو بھی ان سب باتوں کا خیال رکھنا چاہیےورنہ حضرت مسیح موعودؑ کو قبول کرنے اور آپ کی تعلیم پر چلنے کے دعوے کے باوجود آپ ان باتوں کی خلاف ورزی کر رہے ہوں گے جن کی انہوں نے تعلیم دی اور تلقین کی۔لہٰذا احمدی نو جوانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قسم کی غلط بیانی اور دھوکہ دہی کے خلاف مہم اور تحریک کی قیادت کریں اور اپنا ذاتی نمونہ قائم کریں۔ہر خا دم اور طفل کو وعدہ کرنا چاہیے کہ وہ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولیں گےکیونکہ جھوٹ شرک کے مترادف ہے۔ایک طرف تو ہم فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی جماعت اور قوم ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ اس کے آگے جھکتے ہیں جبکہ ساتھ ہی ہمارے اندر ایسے بھی موجود ہیں جو اپنے مقاصد اور خواہشات کے حصول کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔یہ واضح ہو کہ جو لوگ جھوٹ کا سہار الیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی امید نہ رکھیں کیونکہ وہ ان کی دعاؤں کو قبول نہیں کرنے والا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اب وہ وقت ہے کہ ہر خادم اور ہر طفل یہ وعدہ کرے کہ وہ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولے گا۔اب وہ وقت ہے کہ آپ سچائی کو بر قرار رکھنے کیلئے ایک مہم چلائیں اور اللہ تعالیٰ کی احسن رنگ میں عبادت کرنے والے بن جائیں ا ور ایسے بن جائیں کے جن کے اخلاقی معیار اعلیٰ ترین ہوں۔اگر ہمارے نو جوان ہر قسم کے جھوٹ کورد کرنے والے بن جائیں اور ہمیشہ سچائی پر قائم ہو جائیں تب دیگر تمام اچھے اخلاق خودبخود ان کے اندر پیدا ہو جائیں گے۔میں ان نو جوان خدام کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں جنہوں نے ابھی خدام الاحمدیہ میں قدم رکھا ہےکہ وہ مت خیال کریں کہ ان کی عمر محض مزے اور تفریح کی عمر ہے۔آپ ایسی عمر کو پہنچ گئے ہیں جس میں آپ کے خیالات اور طرزِ عمل کو روزانہ پختہ ہونا چاہیے۔کچھ عرصہ سے میں اپنے خطبات جمعہ میں اسلام کی ابتدائی تاریخ بیان کر رہا ہوں جن میں مَیں نے اس وقت کے کئی نو جوانوں کے واقعات بیان کئے ہیں۔ وہ آپ سے عمر میں زیادہ نہ تھے جنہوں نے اسلام کی خاطر غیر معمولی قربانیاں دیں اور بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔یہ سب اس پر منحصر تھا کہ وہ اپنے مقصد اور درپیش چیلنج کو سمجھتے تھے۔وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ ان پر ہے کہ اپنی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ذریعہ حاصل کریں اور یہ ان پر ہے کہ ہر وقت اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں۔وہ بطور نوجوان مسلمان اپنی قدر و قیمت کو سمجھتے تھے،وہ اپنے تخلیق کے مقصد کو پہچانتے تھے اور اس بات نے یہ یقینی بنایا کہ انہوں نے معاشرے کو تبدیل کرنے میں ایک غیر معمولی کردار ادا کیا ایک ایسے معاشرے کو، جس کی پہچان بے حیائی اور جہالت تھی اسے ایک ایسے مخلص اور نیک معاشرے میں تبدیل کیا کہ دنیا میں نظیر نہیں ملتی اور جو ہمیشہ کے لیے پوری انسانیت کے لئے ایک مشعل راہ ثابت ہو گی۔جیسا کہ میں نے کہا اسلام کی ابتدائی تاریخ اس بات کا ثبوت ہےکہ نوجوان ہی تھے جنہوں نے واقعی یادگار اور شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔پس آپ اپنے آپ کو کبھی کمتر نہ سمجھیں یا یہ نہ سمجھیں کہ آپ کم عمر ہونے کی وجہ سے معاشرے میں ایک روحانی اور اخلاقی انقلاب نہیں لا سکتے۔چاہے آپ پندرہ،بیس،تیس، چالیس یا کسی بھی عمر کے ہوں اسلام کی خدمت کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں اور سمجھیں کہ گویا وہ آپ کا آخری موقع ہے۔بے شک ہر خادم اپنی عمر،علم اور تجربہ کے مطابق اسلام اور حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کی خدمت کر سکتا ہےجب تک وہ حقوق اللہ اور حقوق العبادبجا لاتا رہےاور کبھی بھی سچائی کو نہ چھوڑے ا ور اپنے وعدوں اور عہدوں کو پورا کرتا رہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو ایسا کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو احمدیت کے روشن ستارے بننے کی توفیق عطا فرمائےاور آپ کو ان میں سے بنائے جو اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ خدام لااحمدیہ پر ہر لحاظ سے فضل فرماتا رہے۔ آمین۔‘‘

خطاب کے بعد حضور نے اختتامی دعا کروائی اور دعا کے بعد حضور نے کتاب مشعل راہ کے انگریزی ترجمہ اور Salat Hub App کو لانچ کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘‘خدام الاحمدیہ یوکے، کے شعبہ اشاعت کو یہ سعادت ملی ہے کہ وہ کتاب مشعل راہ کی پہلی جلد کے پہلے نصف کا ترجمہ کر کے شائع کریں۔یہ کتاب خدام الاحمدیہ کے ابتدائی سالوں پر محیط ہے۔کتاب کا یہ انگریزی ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی 1938ءمیں خدام الاحمدیہ کے اجراء کے موقع پر پہلی تقریر سے لے کر کُل 26 تقاریر اور 12 نظموں پر مشتمل ہے۔میں نے اس مجموعہ کو Beacon for the Youth کا نام دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک مفید ذریعہ بنائے۔ آمین۔ پھر ایک اعلان Salat Hub Mobile Application کے بارہ میں ہے۔مجلس اطفال الاحمدیہ یوکے نے Salat Hub Mobile Application بنائی ہے۔ Salat Hub website کا پچھلے سال انعقاد ہوا تھااور اب موبائیل application نماز اور اس کا ترجمہ سیکھنے کے نئے ذرائع کو متعارف کرے گی۔ اس application میں دلچسپ مشاغل ہیں اس میں اطفال اپنے پیش رفت کو محفوظ کر سکتے ہیں اور سیکھنے کے لئے نئے لیول unlock کر سکتے ہیں۔ بچے اس میں بیجز بھی حا صل کر سکتے ہیں اور ان سب بیجز کے نام ایسے عربی الفاظ پر مشتمل ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے ان کے ساتھ ان الفاظ کی چھوٹی سی وضاحت بھی دی گئی ہے۔ہر عمر کے جماعت ممبران اس app کو استعمال کر سکتے ہیں۔یہ اس وقت IOS ایپ سٹور میں دستیاب ہے اور عنقریب android کے لئے بھی دستیاب ہو گی۔ ان شاءاللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ اس کو نماز سیکھنے اور سمجھنے کا مفید ذریعہ بنائے۔ آمین۔ پس خدام اور اطفال کو اس app سے استفادہ کرنا چاہیے۔’’

واپس تشریف لے جانے سے قبل حضور نے کتاب مشعل راہ اور Salat Hub App کا officially افتتاح کیا۔

(ٹرانسکرپشن و کمپوزنگ۔ ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 19۔ حصہ اول)