• 26 فروری, 2024

کابل سے مہدی آباد تک

کربلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است درگریبانم

بے شک صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید نے وہ نمونہ دکھایا جو رہتی دنیا تک شہدائے احمدیت کے سروں کا تاج رہے گا۔ اس جوانمرد نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے براہ راست اکتساب نور کیا۔ قادیان دارالامان میں آپ کی صحبت میں بیٹھنے کاموقع ملا۔ آپ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف پایا۔ افغانستان واپسی پر صبر و رضا، ہمت و جوانمردی، شجاعت و دلیری، قوت ایمانی کا عظیم الشان نمونہ دکھایا کہ جس کی مثال ملنا محال ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی تعریف و توصیف میں یہ گواہی دے کر آپ کو اہل ایمان کی صفوں میں سب سے آگے کھڑا فرما دیا ہے:
’’اُس کی ایمانی قوت اِس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر مَیں اُس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہ دوں تو مَیں ڈرتا ہوں کہ میری تشبیہ ناقص نہ ہو‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ10)

صاحبزادہ صاحب نے جس انداز سے تاج شہادت اپنے سر پر سجایا وہ آپ ہی کی شان تھا اس پرسید الشہداء کا خطاب ملنا بھی آپ ہی کو جچتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ آپ جماعت کے لئے ایک نمونہ قرار پائے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اے عبداللطیف! تیرے پرہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جو لو گ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ60)

’’خدا سب کووہ ایمان سکھادے اور وہ استقامت بخشے جس کا اس شہید مرحوم نے نمونہ پیش کیا ہے۔۔۔ اس سلسلہ میں بہت داخل ہونگے مگر افسوس کہ تھوڑے ہیں کہ یہ نمونہ دکھائیں گے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ58)

روحانیت کا نیا پودہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپؓ کی شہادت سے نیک تفاؤل لیتے ہوئے فرمایا کہ اس قربانی کو دیکھ کر اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے جس سے نئے روحانی پودوں کی آبیاری ممکن ہوگی۔ آپؑ فرماتے ہیں:
’’جب میں اس استقامت اور جانفشانی کو دیکھتاہوں جو صاحبزادہ مولوی محمد عبداللطیف مرحوم سے ظہور میں آئی تو مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کر گئے۔ اس سے خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتاہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کر ے جو صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کی روح رکھتے ہوں اور ان کی روحانیت کا ایک نیا پودہ ہوں جیساکہ میں نے کشفی حالت میں واقعہ شہادت مولوی صاحب موصوف کے قریب دیکھا کہ ہمارے باغ میں سے ایک بلند شاخ سرو کی کاٹی گئی اور میں نے کہا کہ اس شاخ کو زمین میں دوبارہ نصب کر دو تاوہ بڑھے اور پھولے۔ سو میں نے اس کی یہی تعبیر کی کہ خدا تعالیٰ بہت سے ان کے قائم مقام پیدا کر دے گا۔ سو میں یقین رکھتاہوں کہ کسی وقت میرے اس کشف کی تعبیر ظاہر ہو جائے گی‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ75۔ 76)

11؍جنوری 2023ء کو مہدی آباد برکینافاسو میں صحرائے اعظم کے مکین صبر و استقامت اور جرأت ایمانی کا وہ معیا ر قائم کر گئے ہیں جو بلندیوں میں آسمانوں کو چھو رہا ہے۔ حضرت خبیب بن عدیؓ جیسی دلیری اور حضرت شہزادہ عبد اللطیفؓ جیسی استقامت کے اجتماع کا اظہار ہوا ہے۔ان جاں نثاروں کو معلوم تھا کہ جان بخشی کے لئے مطالبہ صرف ایک حرفی انکار ہی تو ہے۔ لیکن غیرت ایمانی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ ایسا اظہار ممکن نہ ہوا۔ دشمن مات کھا گیا۔ وہ باوجود طاقت ور ہونے کے ہار گیا۔اسلحہ ہاتھ میں رکھتے ہوئے بھی نہتے مومنین سے شکست کھا گیا۔ یہ بادیہ نشین ایمان کی وادیوں کے ایسے شہ سوار ثابت ہوئے کہ ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے لفظ چھوٹے پڑ گئے ہیں۔ ارض بلال پروہ کرامت ظاہر ہوئی ہے جو اپنی مثال آپ ہے اور جس کے اثمار صدیوں تک محسوس کئے جائیں گے۔ مہدی آبا دکے تماشق باشندوں کی جرأت کو سلام۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام ’’تذکرۃ الشہادتین‘‘ میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید ؓکا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بہت سے ان کے قائم مقام پیدا کردے گا۔پس ہم گواہ ہیں کہ آج افریقہ کے رہنے والوں نے اس کا نمونہ دکھادیا اورقائمقامی کا حق ادا کر دیا۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20؍جنوری 2023ء)

حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہید ؓکی نسبت لکھا ہے:
’’مولوی عبداللطیف صاحب شہید مرحوم کا نمونہ دیکھ لو کہ کس صبر اور استقلال سے انہوں نے جان دی ہے۔ ایک شخص کو باربارجان جانے کا خوف دلایاجاتاہے اور اس سے بچنے کی امید دلائی جاتی ہے کہ اگر تو اپنے اعتقاد سے بظاہر توبہ کردے تو تیری جان نہ لی جاوے گی مگر انہوں نے موت کوقبول کیا اور حق سے روگردانی پسند نہ کی۔ اب دیکھو اور سوچو کہ اسے کیا کیا تسلی اور اطمینان خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہوگاکہ وہ اس طرح پردنیا ومافیہا پردیدہ دانستہ لات مارتاہے اور موت کو اختیار کرتاہے۔اگر وہ ذرا بھی توبہ کرتے تو خدا جانے کیا کچھ ا س کی عزت کرنی تھی۔ مگر انہوں نے خدا کے لئے تمام عزتوں کو خاک میں ملایا اور جان دینی قبول کی۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ آخر دم تک اور سنگساری کے آخری لمحہ تک ان کو مہلت تو بہ کی دی جاتی ہے اور وہ خوب جانتے تھے کہ میرے بیوی بچے ہیں، لاکھ ہا روپے کی جائیداد ہے، دوست یار بھی ہیں۔ ان تمام نظاروں کو پیشِ چشم رکھ کر اس آخری موت کی گھڑی میں بھی جان کی پروا نہ کی۔

آخر ایک سروراور لذت کی ہوا ان کے دل پر چلتی تھی جس کے سامنے یہ تمام فراق کے نظارے ہیچ تھے۔اگر ان کو جبراً قتل کر دیا جاتا اور جان کے بچانے کا موقعہ نہ دیا جاتا تو اور بات تھی۔۔۔ مگر ان کو باربار موقعہ دیا گیا باوجود اس مہلت ملنے کے پھر موت اختیار کرنی بڑے ایمان کو چاہتی ہے‘‘

(ملفوظات جلد6 صفحہ196)

سر قلم کر دیں لیکن انکار ممکن نہیں

امام الحاج ابراہیم بی دیگا صاحب کے الفاظ کی بازگشت رہتی دنیا تک سنائی دے گی ’’میرا سر قلم کرنا ہے تو کر دیں لیکن میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔ جس صداقت کو میں نے پا لیا ہے اس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔‘‘

جس راہ حق پر چل کر امام ابراہیم بی دیگا صاحب قربان ہو گئےاسی راہ پرآپ کے بعد ایک ایک شہید چلتا رہا۔ رضائے یار میں سر پیش کرتےچلے گئے۔ گولیاں ٹھنڈی ہوتی رہیں لیکن انکار کے الفاظ ادا نہ کئے۔ دشمن حیران اور ششدر کہ کن دیوانوں سے واسطہ پڑ گیا ہے۔ پر اسے کیا معلوم کہ حلاوت ایمانی کیا ہوتی ہے۔ ہر ایک کو موت کا خوف دلایا جاتا ہے۔ ایک ایک کو جان بچانے کا موقع دیا جاتا ہے کہ اگر اپنے عقائد سے توبہ کر لے تو جان بخش دی جائے گی۔ لیکن ان جری سپوتوں نے بزدلوں کی طرح جینا پسند نہ کیا بلکہ بہادروں کی طرح مقتل میں کھڑ ے رہے۔حق کے ازلی دشمنوں سے زندگی کی بھیک لینا گوارہ نہ کیا۔وہ نمونہ جو حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہیدؓ نے دکھایا تھا وہ آج دور دراز کے صحرائی باشندوں نے زندہ کر دکھایا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’برکینا فاسو میں عشق ووفا، ایمان و یقین سےپُرجو نمونہ افریقن احمدیوں نے دکھایا وہ بے مثال ہے۔۔۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدؓ کی قربانی کے بعد دنیائے احمدیت میں قربانیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20؍جنوری 2023ء)

حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی
روح کو کامل یقین کے ساتھ پیغام

سال 1999ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ میں سید الشہداء صاحبزادہ عبد اللطیفؓ شہید کا ذکر خیر کرکے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی روح کو کامل یقین کے ساتھ ایک پیغام دیا۔ آپؒ فرماتے ہیں:
’’جماعت کی طرف سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی روح کو میں کامل یقین سے یہ پیغام دے سکتا ہوں۔ اے ہمارے آقا! تیرے بعد تیری جماعت انہی رستوں پر چلی ہے اور ان شاء اللّٰہ ہمیشہ چلتی رہے گی جو رستے صاحبزادہ عبد اللطیف شہید نے ہمارے لئے بنائے تھے گو ان سے نسبت کوئی نہیں مگر غلامانہ ہم انہی راہوں پر چل رہے ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 23؍اپریل 1999ء)

برکات بعد میں ظاہر ہوں گی

حضرت مولوی صاحب کی شہادت کے بعد آنے والی برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’اس تمام وحی الٰہی میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگرچہ ایسا امر ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتاہے۔ وَمَآ رَأَیْنَا ظُلْمًا اَغْیَظَ مِنْ ھٰذَا۔ لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ69-74)

مہدی آباد می ہونے والے سانحہ پر آج ہر دل مغموم ہے۔ افریقہ کی سر زمین پر جماعت احمدیہ نے ایسی قربانی اور ایسی تکلیف دہ صورت حال کا سامنا اس سے پہلے نہیں کیا۔ ہم افریقہ اور برکینا فاسوکو سامنے رکھ کر کہ سکتے ہیں وَمَآ رَأٓیْنَا ظُلْمًا اَغْیَظَ مِنْ ھٰذَا۔ لیکن قدرتوں کے مالک خدا سے امید رکھتے ہیں کہ یقیناً مہدی آباد کے شہیدوں کا لہو بھی رنگ لائے گا اور سر زمین برکینا فاسو خداتعالیٰ کی توحیدکے نور سے چمک اٹھے گی۔ ان قربانیوں کے اثمار سےآئندہ آنے والی کئی نسلیں مستفید ہوں گی۔ ان شاء اللّٰہ۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اس خون کی بے شمار برکات ظاہر ہوتی چلی جائیں۔

سانحہ کابل اور سانحہ مہدی آباد
میں بعض مشابہتیں

سانحہ کابل اور سانحہ مہدی آباد پر اگر غو رکیا جائے تو اس میں کئی مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس میں کیا حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ سر زمین افریقہ کو ان شہادتوں کے کون کون سے ثمرات عطا ہونے والے ہیں اور دشمنان حق کے لئے کس طرح یہ واقعہ روسیاہی کا باعث بننے والا ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

سانحہ کابلسانحہ مہدی آباد
1۔ زبان
حضرت صاحبزادہ صاحب عربی، فارسی، پشتو اوراردو زبان جانتے تھے۔
آپ بھی چار زبانیں عربی، تماشق، فل فل دے اور فرنچ زبان جانتے تھے۔
2۔ قابلیت
’’وہ امیر کابل کی نظرمیں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے جاتے تھے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ10)
’’قبول احمدیت سے قبل امام ابراہیم بی دیگا صاحب کئی دیہات کے چیف امام تھے۔ اس زون کے دیگر علماء آپ کے پاس آ کر بیٹھنے اور اکتساب علم کرنے کو اپنی شان سمجھتے تھے چنانچہ ہر سال کم از کم ایک دفعہ علاقے بھر کے علماء معلمین اور ائمہ آپ کے پاس آ کر قیام کرتے اور فیض پاتے۔ یہ تعداد پانچ سو تک بھی چلی جاتی اور قیام ایک ہفتہ تک ہوتا۔کہا جا سکتا ہے کہ علاقے کے علماء اور ائمہ کی سالانہ میٹنگ آپ کے پاس ہوا کرتی تھی۔‘‘
(خطبہ جمعہ 20؍جنوری 2023ء)
3۔ تلاش حق
حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاحبزادہ صاحب کا بیان تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ایسا ہی میں دیکھ رہا تھا کہ اسلام ایک مردہ کی حالت میں ہو رہاہے اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ پردۂ غیب سے کوئی منجانب اللہ مجدّدِ دِین پید اہو۔ بلکہ میں روز بروز اس اضطراب میں تھا کہ وقت تنگ ہوتاجاتاہے۔ انہی دنوں میں یہ آواز میرے کانوں تک پہنچی کہ ایک شخص نے قادیان ملک پنجاب میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ10۔11)
امام الحاج ابراہیم بی دیگا صاحب کے شاگرد بیان کرتے ہیں:
قبول احمدیت سے قبل امام صاحب اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ ابھی صداقت ظاہر نہیں ہوئی۔ کیونکہ حق اور صداقت کو ماننے والے تھوڑے ہوتے ہیں۔ جس طرح سینکڑوں کی تعداد میں یہ آئمہ میرے پاس آکر بیٹھتے اوربظاہر ایک دوسرے کو مسلمان خیال کرتے ہیں لیکن جب صداقت ظاہر ہوگی ماننے والے تھوڑے ہوں گے۔ یہ لوگ میرے پاس سے بھی اٹھ کر چلے جائیں گے۔
4۔ امام وقت سے ملاقات اور وفور محبت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’وہ اجازت حاصل کر کے قادیان میں پہنچے اور جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم ہے اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعویٰ کی تصدیق میں ایسا فناشدہ پایاکہ جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتاہے۔ ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ10)
مکرم ناصر سدھو صاحب بیان کرتے ہیں:
جب امام ابراہیم بی دیگا صاحب 2000ء میں جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ علیہ سے ملاقات کے بعد باہر نکلے تو کہنے لگے کہ آنحضرت ﷺ کے نور کے متعلق تو ہم سُنتے اور پڑھتے تھے مگر کبھی دیکھا نہیں تھا۔ آج اس کے غلام ابن غلام میں اُس نور کو دیکھا ہے اور روحانی لذت محسوس ہوئی ہے۔
آپ کو 2004ء میں برکینا فاسو میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے شرف ملاقات عطا ہوا۔ اسی طرح 2008ء میں گھانا میں خلافت جوبلی کے جلسہ میں شرکت کی اور حضور انور سے ملاقات کا شرف پایا۔
جب 2004ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی تو پھر وہی بات کہی جو خلیفۃ المسیح الرابع ؒسے ملاقات کے بعد کہی تھی دیکھویہ وہی نورہے اور لذت بھی وہی مگر میں سیر نہ ہو سکا۔ حضور انور سے مصافحہ کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اپنے جسم پر ملتے کبھی اپنے بچوں کے جسموں پر ملتے رہے۔
5۔ آخری وقت تک تبلیغ
حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف شہیدؓ آخری وقت تک اپنے قاتلوں کو دلائل سے قائل کرتے رہے۔آپ کے ساتھ علما کا ایک مباحثہ بھی منعقد ہوا۔ یہ مباحثہ جامع مسجد واقعہ بازار کتب فروشی کے مدرسہ سلطانیہ کے احاطے میں طے پایا تھا۔
امام ابراہیم بی دیگا اور آپ کے ساتھی بھی آخری وقت تک دلائل کے ساتھ اپنے قاتلوں کو قائل کرتے رہے اور یہ بحث و مباحثہ مسجد میں ہوا۔
6۔ حقائق ومعارف کا دودھ
حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’بکری کی صفتوں میں سے ایک دودھ دینا ہے اور ایک اس کا گوشت ہے جو کھایا جاتا ہے۔ یہ دونوں بکری کی صفتیں مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے پوری ہوئیں کیونکہ مولوی صاحب موصوف نے مباحثہ کے وقت انواع اقسام کے معارف اور حقائق بیان کرکے مخالفوں کو دودھ دیا۔ گو بدقسمت مخالفوں نے وہ دودھ نہ پیا اور پھینک دیا اور پھر شہید مرحوم نے اپنی جان کی قربانی سے اپنا گوشت دیا اور خون بہایا تا مخالف اس گوشت کو کھاویں اور اس خون کو پیویں یعنی محبت کے رنگ میں اور اس طرح اس پاک قربانی سے فائدہ اٹھاویں اور سوچ لیں کہ جس مذہب اور جس عقیدہ پروہ قائم ہیں اور جس پر ان کے باپ دادے مر گئے کیا ایسی قربانی کبھی انہوں نے کی؟ کیا ایسا صدق اور اخلاص کبھی کسی نے دکھلایا؟ کیا ممکن ہے کہ جب تک انسان یقین سے بھر کر خدا کو نہ دیکھے وہ ایسی قربانی دے سکے؟ بے شک ایسا خون اور ایساگوشت ہمیشہ حق کے طالبوں کو اپنی طرف دعوت کرتا رہے گا جب تک کہ وہ دنیا ختم ہو جاوے۔‘‘
احمدیہ مسجد مہدی آباد میں دہشت گردوں کے ساتھ جماعت احمدیہ کے عقائدپر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ امام بی دیگا صاحب حقائق ومعارف بیان کرتے رہے۔ لیکن بدقسمتی سے انہوں نے حقائق کا وہ دودھ نہ پیا اور پھینک دیا۔ پھر ان شہداء نے اپنی جانوں کی قربانی سے اپنا گوشت دیا اور خون بہایا۔
7۔ حق سے انکار ممکن نہیں
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’امیر صاحب جب اپنے اجلاس میں آئے تو اجلاس میں بیٹھتے ہی پہلے اخوند زادہ صاحب مرحوم کو بلایا اور کہاکہ آپ پر کفرکا فتویٰ لگ گیا ہے۔اب کہو کہ کیاتوبہ کروگے یا سزا پاؤگے تو انہوں نے صاف لفظوں میں انکار کیااور کہا کہ میں حق سے توبہ نہیں کرسکتا۔ کیا میں جان کے خوف سے باطل کو مان لوں۔ یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔ تب امیر نے دوبارہ توبہ کے لئے کہا اور توبہ کی حالت میں بہت امید دی اور وعدہ معافی دیا۔ مگرشہید موصوف نے بڑے زور سے انکار کیا اور کہا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں سچائی سے توبہ کروں۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ56-57)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’مسجد کے صحن میں کھڑا کر کے امام ابراہیم بی دیگا صاحب سے کہا کہ اگر وہ احمدیت سے انکار کر دیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ امام صاحب نے جواب دیا کہ میرا سر قلم کرنا ہے تو کر دیں لیکن میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔ جس صداقت کو میں نے پا لیا ہے اس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ ایمان کے مقابلے میں جان کی حیثیت کیا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 20؍جنوری 2023ء)
8۔ وقت شہادت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ایک گھنٹہ تک برابر ان پرپتھر برسائے گئے حتی کہ ان کا جسم پتھروں میں چھپ گیا مگر انہوں نے اف تک نہ کی، ایک چیخ تک نہ ماری۔‘‘
(الحکم 6؍مارچ 1908ء ملفوظات جلد10 صفحہ140)
مہدی آباد میں دہشت گردوں کےمسجد میں آنے سے لے کر تمام افرادکو شہید کرکے جانے تک گھنٹہ سے ڈیڑھ گھنٹہ کاوقت بنتا ہے۔ اس سارے عرصہ میں وقت شہادت تک ان شہداء نےاف کی، نہ واویلا کیا، نہ شور شرابہ کیا، نہ چیخ ماری۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’دہشت گردوں نے مسجد میں ڈیڑھ گھنٹہ گزار کر اس قدر خوف کی فضاء پیدا کی تھی کہ جس مقام پر شہادتیں ہوئیں شہداء کی لاشیں رات بھر اسی جگہ پڑی رہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 20؍جنوری 2023ء)
9۔ نعش مبارک مقام شہادت پر پڑی رہی
’’میاں احمد نور جو حضرت صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب کے خاص شاگرد ہیں۔ 8؍نومبر 1903ء کو مع عیال خوست سے قادیان پہنچے ان کا بیا ن ہے کہ مولوی صاحب کی لاش برابر چالیس دن تک ان پتھروں میں پڑی رہی جن میں سنگسار کئے گئے تھے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ126)
شہداء مہدی آبا دکی لاشیں وقت شہادت سے لے کر صبح نوبجے تک کم از کم بارہ تیرہ گھنٹے مقام شہادت پر پڑی رہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جس مقام پر شہادتیں ہوئیں شہداء کی لاشیں رات بھر اسی جگہ پڑی رہیں کیونکہ خدشہ تھا کہ دہشت گرد گاؤں سے باہر نہیں گئے اور اگر کوئی لاش اٹھانے گیا تو اسے بھی مار دیا جائے گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ 20؍جنوری 2023ء)

(چوہدری نعیم احمد باجوہ۔پرنسپل جامعۃ المبشرین برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

سو سال قبل کا الفضل

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جنوری 2023