• 30 نومبر, 2021

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی پیغام مورخہ 27 مارچ 2020ء بمقام دفتر اسلام آباد،ٹلفورڈ یو کے

km5

ان حالات میں باقاعدہ جب تک واضح نہیں ہو جاتا جمعہ ادا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس لئے میں نے آج مشورے کے بعد یہی فیصلہ کیا ہے کہ دفتر سے ہی خطبہ کے بجائے ایک پیغام کی شکل میں آپ سے بات کر لوں اور مخاطب ہو جاؤں

گھروں میں احباب جماعت کو چاہئے کہ باجماعت نماز کا اہتمام کریں اور جمعہ بھی گھر کے افراد مل کر پڑھیں اور ملفوظات میں سے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دوسری کتب میں سے یا الفضل میں سے یا الحکم سے کوئی بھی اقتباس پڑھ کر خطبہ دیا جا سکتا ہے

ایم۔ٹی۔اے پر بڑے اچھے پروگرام آتے ہیں کچھ وقت ان پروگراموں کو بھی اکٹھے بیٹھ کر دیکھنے کی کوشش کریں

حکومت نے عوام کی بہتری کے لئے آپ کی صحتیں قائم رکھنے کے لئے جو ہدایات دی ہیں جو قانون بنائے ہیں اس کی بھی پوری پابندی کریں

دُعاؤں کی طرف بہت توجہ دیں۔ دُعاؤں سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو ہم جذب کر سکتے ہیں اور اپنی روحانی اور جسمانی حالت کو صحت مند کر سکتے ہیں

سب سے زیادہ ضروری بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے گناہوں کی معافی چاہیں دل کو صاف کریں اور نیک اعمال میں مصروف ہو جائیں

دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے اللہ تعالیٰ اس وباء سے دُنیا کو جلد پاک کرے اور سب دُنیا کو انسانیت کے تقاضے پورے کرنے والا بنائے اور خدا تعالیٰ کو پہچاننے والے ہوں

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ27 مارچ 2020ء کو اپنے دفترواقع اسلام آباد ٹلفورڈ یوکے میں احباب جماعت احمدیہ عالمگیر کو ایک خصوصی پیغام ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اےانٹر نیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔

تشہد، تعوذاور تسمیہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج کل جو وباء پھیلی ہوئی ہے وائرس کی اس کی وجہ سے حکومت نے پابندیاں لگائی ہیں دنیا میں بہت ساری حکومتوں نے اور یہاں برطانیہ کی حکومت نے بھی کہ مسجد میں باجماعت نماز ادا نہیں ہو سکتی یا اگر ہو سکتی ہے تو دو یا چند افراد سے زیادہ نہ ہوں اور وہ بھی قریبی لوگ ہوں۔ ابھی قانون واضح نہیں ہو رہا۔ کوئی تشریح کچھ کرتا ہے اور کوئی کچھ کہ یہ صرف جیسا کہ میں نے کہاکہ قریبی رشتہ دار ہوں تبھی ہو سکتا ہے اور کوئی کہہ رہا ہے کہ دوست یا ساتھ رہنے والے ہوں تو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ تو بہرحال ان حالات میں باقاعدہ جب تک واضح نہیں ہو جاتا جمعہ ادا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جمعہ میں بھی بعض چیزیں وضاحت طلب ہیں۔ اس لئے میں نے آج مشورے کے بعد یہی فیصلہ کیا ہے کہ دفتر سے ہی خطبہ کے بجائے ایک پیغام کی شکل میں آپ سے بات کر لوں اور مخاطب ہو جاؤں۔ جمعہ باقاعدہ نہ پڑھا جائے۔ جمعہ کے روز ایم۔ٹی۔اے پر خطبہ سننا خلیفہ وقت کا خطبہ سننا ایسا ہے کہ جس کی اب لوگوں کو عادت پڑ چکی ہے۔ اگر آج اس وقت میں جماعت سے مخاطب نہ ہوا تو لوگوں کو بعض دفعہ مایوسی بھی ہوتی ہے اور پھر اس کے علاوہ مختلف قسم کی قیاس آرائیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں اس لئے میں نے یہی بہتر سمجھا کہ کسی نہ کسی رنگ میں جماعت سے مخاطب ہو جاؤں اور اس کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا گیا کہ دفتر سے بیٹھ کر ایک پیغام کی صورت میں آپ سے مخاطب ہو جاؤں۔

بہرحال جیسا کہ میں نے کہا آج جو جمعہ ہے وہ ہم تو نہیں پڑھیں گے اور آئندہ کے لئے انشاء اللہ کیا طریق اختیار کرنا ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ بتا دیا جائے گا۔ لمبا عرصہ ہم جمعہ چھوڑ بھی نہیں سکتے۔ میرا جماعت سے جیسا کہ میں نے کہا رابطہ بھی ضروری ہے اور آج کل کے حالات میں خاص طور پر اور بھی زیادہ ضروری ہے اس لئے وکلاء اور متعلقہ لوگوں کے ساتھ مشورے کے بعد انشاء اللہ اس کا ہم حل نکال لیں گے۔

افراد جماعت کو بھی میں یہ کہوں گا کہ جیسا کہ جہاں مسجد میں آنے پر حکومت نے اس بیماری کی وجہ سے پابندی لگائی ہے یا پابندی تو نہیں لگائی یہاں مثلاً یو۔کے میں یہ ہے کہ انفرادی طور پر مسجد میں آ کر نماز پڑھ سکتے ہیں یا چند فیملی ممبران بھی آ کر نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن وہاں یہی ہے کہ فاصلہ اتنا ہو کہ جو حکومت نے بتایا کہ آپس میں قریبی رابطہ نہ ہو لیکن اس کے باوجود باجماعت نماز اس طرح نہیں پڑھی جا سکتی سارے اکٹھے ہو کے آئیں۔ تو اسی صورت میں گھروں میں احباب جماعت کو چاہئے کہ باجماعت نماز کا اہتمام کریں اور جمعہ بھی گھر کے افراد مل کر پڑھیں اور ملفوظات میں سے یا جماعتی کتب میں سے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دوسری کتب میں سے یا الفضل میں سے یا الحکم سے یا کسی اور رسالے سے کوئی بھی اقتباس پڑھ کر خطبہ دیا جا سکتا ہے اور گھر کے افراد میں سے کوئی بالغ لڑکا یا مرد جمعہ بھی پڑھا سکتا ہے اور نمازیں بھی پڑھا سکتا ہے۔ جمعوں کو بہرحال لمبا عرصہ ترک نہیں کیا جا سکتا۔ خطبہ کے لئے جب گھروں میں لوگ جمعہ پڑھائیں گے اور اس کی تیاری کریں گے تو مطالعہ کریں گے اس سے علم بھی بڑھے گا اور یوں حکومتی پابندی کی وجہ سے گھر بیٹھنا بھی دینی اور روحانی فائدہ کا موجب ہو جائے گا علمی فائدے کا موجب ہو جائے گا بلکہ الحکم نے آجکل جو لوگوں کی رائے کا سلسلہ شروع کیا ہے کہ ہم اس پابندی کی وجہ سے گھر بیٹھ کر کس طرح وقت گزارتے ہیں اس میں اکثر لوگ یہ لکھ رہے ہیں کہ جماعتی قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور جماعتی لٹریچر پڑھ کر ہم اپنے علم میں اضافہ کر رہے ہیں اور بہت سے تبصرے تو آج کل مختلف دنیاوی سائٹس پر دنیادار بھی کر رہے ہیں کہ اس وجہ سے ہمیں بھی اپنی گھریلو زندگی کو اپنی حالتوں کو بہتر کرنے کی توفیق مل رہی ہے اور ہماری گھریلو زندگی واپس آ گئی ہے۔ پس ہمیں بھی اپنی گھریلو زندگی کو اپنی حالتوں کو سنوارتے ہوئے اور بچوں کی تربیت کرتے ہوئے گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایم۔ٹی۔اے پر بڑے اچھے پروگرام آتے ہیں کچھ وقت ان پروگراموں کو بھی اکٹھے بیٹھ کر دیکھنے کی کوشش کریں اور اس کے علاوہ حکومت نے عوام کی بہتری کے لئے جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں آپ کی صحتیں قائم رکھنے کے لئے جو ہدایات دی ہیں جو قانون بنائے ہیں اس کی بھی پوری پابندی کریں اور سب سے بڑھ کر جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبات میں کہا تھا کہ دُعاؤں کی طرف بہت توجہ دیں۔ دُعاؤں سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو ہم جذب کر سکتے ہیں ا ور اپنی روحانی اور جسمانی حالت کو صحت مند کر سکتے ہیں اور یہی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بار بار نصیحت فرمائی ہے اور ایسے حالات میں بھی یہی نصیحت فرمائی ہے کہ سب سے زیادہ ضروری بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے گناہوں کی معافی چاہیں دل کو صاف کریں اور نیک اعمال میں مصروف ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے دُعا کا ایک بہت بڑا ہتھیار ہمیں دیا ہے اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے اور اس طرف توجہ دینی چاہئے۔

جہاں تک جمعہ نہ پڑھنے کا سوال ہے بعض حالات میں باجماعت نماز اور جمعہ کی بعض حدیثوں سے بھی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ چھوڑے جا سکتے ہیں مثلاً بخاری کی ایک حدیث ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے بارش والے دن میں اپنے مؤذن سے فرمایا کہ تم اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمّدً رَّسُوْلُ اللّٰہ کہو تو اس کے بعد حَیَّ عَلٰی الصَّلٰوة نہ کہنا بلکہ صَلُّوْا فِیْ بُیُوْتکُمْ کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھو کے الفاظ کہنا۔ پس گویا لوگوں کو یہ بات نئی لگی اور انہوں نے اس پر تعجب کیا اس پر حضرت ابن عباس ؓنے فرمایا کہ یہی فعل انہوں نے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھے۔ اگرچہ جمعہ پڑھنا ضروری ہے مگر میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں بھی بعض الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ ناپسند کرتا ہوں کہ تم لوگوں کو اس تکلیف میں ڈالوں کہ تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔ یہ مسلم میں بھی یہ روایت بعض الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ اس طرح آئی ہے حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے بارش والے دن میں اپنے مؤذن سے فرمایا کہ تم اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمّدً رَّسُوْلُ اللّٰہ کہو تو اس کے بعد حَیَّ عَلٰی الصَّلٰوة نہ کہنا بلکہ صَلُّوْا فِیْ بُیُوْتکُمْ کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھو کے الفاظ کہنا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں کی یہ بات نئی لگی تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو۔ یہ کام انہوں نے کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے اگرچہ جمعہ پڑھنا ضروری ہے مگر میں اسے پسند کرتا ہوں کہ تمہیں اس حال میں باہر نکالوں کہ تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔

علامہ امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اور اس حدیث میں بارش وغیرہ کی مجبوری کی بناء پر جمعہ کو ساکت کرنے کی دلیل موجود ہے اور یہی مسلک ہمارا ہے لکھتے ہیں وہ کہ یہی مسلک ہمارا ہے اور دوسرے فقہاء کا ہے جبکہ امام مالک کا مؤقف اس کے خلاف ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔

اسی طرح فقہاء نے جمعہ اور باجماعت کوترک کرنے کے عذروں میں ایسی بیماری جس کے ساتھ مسجد میں حاضر ہونا مشکل ہو اس کو شامل کیا ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے دین میں کسی قسم کی تنگی روا نہیں رکھی۔ اسی بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ مسجد جانے سے رُک گئے اور فرمایا کہ ابوبکر سے کہا کہ وہ لوگوں کی امامت کرائے۔ یہ صحیح بخاری میں بھی ہے اور مسلم میں بھی ہے یہ حدیث۔ اسی طرح کسی بیماری کے پیدا ہونے سے خوفزدہ شخص بھی معذور قرار دیا ہے اور اس کی دلیل حضرت ابن عباس کی وہ روایت ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر کی تفسیر خوف اور بیماری سے فرمایا یہ سنن ابی داؤد کی درج ہے۔

بہرحال یہ بیماری جس میں بیماری پھیلنے کا بھی خطرہ ہے اور جس کے لئے حکومت نے بھی بعض قواعد اور قانون بنائے ہیں اور ملکی قوانین کے تحت ان پر چلنا بھی ضروری ہے ان صورتوں میں جمع ہونا ایک جگہ جمع ہونا اور نماز باجماعت ادا کرنا یا جمعہ پڑھنا مشکل ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا اپنے گھروں میں نماز باجماعت کی عادت ڈالیں جہاں بچوں کو یہ علم ہو گا کہ نمازیں پڑھنا ضروری ہیں اور باجماعت پڑھنا ضروری ہے اور آج کل کے حالات کی وجہ سے ہم مسجد نہیں جا سکتے لیکن اس فرض کو اپنے گھروں میں نبھانا ضروری ہے اس کو پورا کرنا ضروری ہے اس پر خاص طور پر توجہ دیں۔ بعض دفعہ سفروں میں ایسے حالات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھی آئے تھے جب آپ نے جمعہ ادا نہیں کیا تو بہرحال بہت ساری روایات ہیں ایسی جس سے اس بارے میں بھی وضاحت ہوتی ہے کہ متعدی بیماریوں میں جمع ہونا یا بیماریوں میں ایک دوسرے سے ملنا ٹھیک نہیں ہے اس کے لئے علیحدہ رہنا چاہئے اور علیحدہ رکھو۔ بہرحال جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہم مستقل تو یہ نہیں چھوڑ رہے اور اس کے لئے متبادل انتظام بھی کر رہے ہیں کہ گھروں میں جمعہ ادا کریں میں بھی کوئی انتظام کرنے کی کوشش کروں گا۔

اب یہ بھی ضروری ہے کہ یہ دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس وباء سے دُنیا کو جلد پاک کرے اور سب دُنیا کو انسانیت کے تقاضے پورے کرنے والا بنائے اور خدا تعالیٰ کو پہچاننے والے ہوں سب۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

السّلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ