• 21 مئی, 2022

ساقیا آمدن عید مبارک بادت

احمدیت ہی ہے دنیا میں حقیقی اسلام
بات یہ بھی ہے کوئی آپ کو سمجھانے کی

مال قربان کیا جان بھی حاضر ہو گی
دیر ہے مرشد اسلام کے فرمانے کی

آپ بیتی مری دلچسپ ہے سن لیجئے گا
دل میں خواہش ہو کسی رات جو افسانے کی

رات دن تیرے ہی کوچہ میں پڑا رہتا ہے
زندگی ہے تو اسی میں ترے مستانے کی

لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں ہی لاکھوں کا رزق
خاک میں رل کے ترقی ہوئی یہ دانے کی

نہ تو مایوس ہی کرنا نہ ہی دامن بھرنا
اچی ترکیب ہے عشاق کے تڑپانے کی

سچ ہے ایمان ہے خوف اور رجا کے مابین
ہے یہی رہ کسی منزل میں پہنچ جانے کی

نیکی دشمن سے بھی کر اور اسے دریا میں ڈال
عادت اچھی نہیں احسان کے جتلانے کی

باندھ کر زانوے اشتر ہو توکل بہ خدا
یہ ہے تدبیر کسی گتھی کے سلجھانے کی

کوئی حاجت بھی ہو مانگ اپنے خدا سے دائم
کبھی خواہش نہ ہو مخلوق سے کچھ پانے کی

دل دکھایا کسی بے کس کا تو یہ یاد رہے
ہیچ ہے ہیچ ستمگر تری صدہا نیکی

دن کو روزے سے رہے رات دعا میں کاٹی
ہے خوشی سچی انہی لوگوں کو عید آنے کی

بھول جاؤ نہ سبق جو رمضان سے سیکھا
بات اکمل نے کہی ہے کسی فرزانے کی

(ظہور الدین اکمل)
(بحوالہ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ 10/نومبر 1939ء)

پچھلا پڑھیں

دنیا کے حالات اور اسیران کے لئے دعا کی تحریک

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ