• 30 ستمبر, 2020

اگر یہ تکبر ختم ہو جائے تو دنیا سے فساد بھی مٹ جائے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
انسان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ کس بات کی اکڑ فوں ہے۔ بعض لوگ کنویں کے مینڈک ہوتے ہیں، اپنے دائرہ سے باہر نکلنا نہیں چاہتے۔ اوروہیں بیٹھے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم بڑی چیزہیں۔ اس کی مثال اس وقت مَیں ایک چھوٹے سے چھوٹے دائرے کی دیتا ہوں، جو ایک گھریلو معاشرے کا دائرہ ہے، آپ کے گھر کا ماحول ہے۔ بعض مرد اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کررہے ہوتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔ بعض بچیاں لکھتی ہیں کہ ہم بچپن سے اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہیں اور اب ہم سے برداشت نہیں ہوتا۔ ہمارے باپ نے ہماری ماں کے ساتھ اور ہمارے ساتھ ہمیشہ ظلم کا رویہ رکھا ہے۔ باپ کے گھر میں داخل ہوتے ہی ہم سہم کر اپنے کمروں میں چلے جاتے ہیں۔ کبھی باپ کے سامنے ہماری ماں نے یاہم نے کوئی بات کہہ دی جو اس کی طبیعت کے خلاف ہوتو ایسا ظالم باپ ہے کہ سب کی شامت آجاتی ہے۔ تو یہ تکبر ہی ہے جس نے ایسے باپوں کو اس انتہا تک پہنچا دیا ہے اور اکثر ایسے لوگوں نے اپنا رویہّ باہر ایسا رکھا ہوتاہے، بڑا اچھا رویہ ہوتا ہے ان کا اور لوگ باہر سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان جیسا شریف انسان ہی کوئی نہیں ہے۔ اور باہر کی گواہی ان کے حق میں ہوتی ہے۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو گھرکے اندر اور باہر ایک جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہوتے ہیں ان کا تو ظاہر ہو جاتاہے سب کچھ۔ تو ایسے بدخُلق اور متکبر لوگوں کے بچے بھی، خاص طورپر لڑکے جب جوان ہوتے ہیں تو اس ظلم کے ردّعمل کے طورپر جو انہوں نے ان بچوں کی ماں یا بہن یا ان سے خود کیاہوتاہے، ایسے بچے پھر باپوں کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور پھر ایک وقت میں جا کر جب باپ اپنی کمزوری کی عمر کو پہنچتاہے تو اس سے خاص طورپر بدلے لیتے ہیں۔ تو اس طرح ایسے متکبرانہ ذہن کے مالکوں کی اپنے دائرہ اختیار میں مثالیں ملتی رہتی ہیں۔ مختلف دائرے ہیں معاشرے کے۔ ایک گھر کا دائرہ اور اس سے باہر ماحول کا دائرہ۔ اپنے اپنے دائرے میں اگر جائزہ لیں تو تکبر کی یہ مثالیں آپ کو ملتی چلی جائیں گی۔

پھر اس کی انتہا اس دائرے کی اس صورت میں نظر آتی ہے جہاں بعض قومیں اور ملک اور حکومتیں اپنے تکبر کی وجہ سے ہر ایک کو اپنے سے نیچ سمجھ رہی ہوتی ہیں۔ اور غریب قوموں کو، غریب ملکوں کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھا ہوتاہے۔ اور آج دنیا میں فساد کی بہت بڑی وجہ یہی ہے۔ اگر یہ تکبر ختم ہو جائے تو دنیا سے فساد بھی مٹ جائے۔ لیکن ان متکبر قوموں کو بھی، حکومتوں کو بھی پتہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تکبر کرنے والوں کے غرور اورتکبر کو توڑتاہے تو ان کا پھر کچھ بھی پتہ نہیں لگتا کہ وہ کہاں گئے۔

اللہ تعالیٰ قرآ ن شریف میں فرماتاہے: {وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللّٰہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} (لقمان 19)۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: اور (نخوت سے) انسانوں کے لئے اپنے گال نہ پھلا اور زمین میں یونہی اکڑتے ہوئے نہ پھر۔ اللہ کسی تکبر کرنے والے (اور) فخرومباہات کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

جیساکہ اس آیت سے بھی ظاہر ہے اللہ تعالیٰ ہمیں فرمارہاہے کہ یونہی تکبر کرتے ہوئے نہ پھرو۔ اپنے گال پھلاکر، ایک خاص انداز ہوتاہے تکبرکرنے والوں کا اور گردن اکڑا کر پھرنا اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے اکڑ دکھا رہے ہوتے ہیں اور اپنے سے اوپر والے کے سامنے بچھتے چلے جاتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں میں منافقت کی برائی بھی ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔تو یہ تکبر جوہے بہت سی اخلاقی برائیوں کا باعث بن جاتاہے اورنیکی میں ترقی کے راستے آہستہ آہستہ بالکل بند ہو جاتے ہیں۔ اورپھر دین سے بھی دورہوجاتے ہیں ، نظام جماعت سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔اور جیسے جیسے ان کا تکبر بڑھتاہے ویسے ویسے وہ اللہ اور رسول کے قرب سے، اس کے فضلوں سے بھی دور چلے جاتے ہیں۔

(خطبہ جمعہ 29 اگست 2003)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جون 2020ء