• 9 جولائی, 2020

چندوں کی تحریک ہمیشہ ہوتی رہے گی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
چندوں کی تحریک تو ہمیشہ جماعت میں ہوگی ،ہوئی اور ہوتی رہے گی کہ ایمان میں مضبوطی کے لئے یہ ضروری ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہمیں بتایا ہے۔ دنیا کی تمام منصوبہ بندیوں میں مال کی ضرورت پڑتی ہے، اس کا بہت زیادہ دخل ہے اور یہ منصوبہ بندی جس میں مال دین کی مضبوطی کے لئے خرچ ہو رہا ہو اور جس کے خرچ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ یہ ضمانت دے رہا ہو کہ تمہارے خوف بھی دور ہوں گے اور تمہارے غم بھی دور ہوں گے اور اجر بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اتنا اجر ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں تو اس سے زیادہ مال کا اور کیا بہتر استعمال ہو سکتا ہے۔ ہر دینے والا جب اس نیت سے دیتا ہے کہ مَیں دین کی خاطر دے رہا ہوں تو اس نے اپنا ثواب لے لیا۔ کس طرح خرچ کیا جا رہا ہے،اول تو صحیح طریقے سے خرچ ہوتا ہے ۔ اور اگر کہیں تھوڑی بہت کمزوری ہے بھی تو چندہ دینے والے کو بہرحال ثواب مل گیا۔ اس لئے ہمیشہ ہر وہ احمدی جس کے دل میں کبھی انقباض پیدا ہو وہ اپنے اس انقباض کو دور کرے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس لگا کر وصول کرتی ہیں اور یہاں ہم رضا اور ارادےپرچھوڑتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ بندے کی مرضی پر چھوڑ کر پھر اس کا اجر بھی بے حساب دیتا ہے۔ پابند نہیں کر رہا کہ اتنا ضرور دینا ہے۔ چھوڑ بھی بندے کی مرضی پر رہا ہے، ساتھ فرما رہا ہے جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا اجر بھی دوں گا۔ صرف یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کی نیت نیک ہونی چاہئے ۔اس سے زیادہ سستا اور عمدہ سودا اور کیا ہو سکتا ہے۔…

(خطبہ جمعہ فرمودہ12؍جنوری2007ء، الفضل انٹرنیشنل02؍فروری تا08؍فروری 2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جون 2020ء