• 9 جولائی, 2020

اسلام اور نسلی تفاخر

اس دنیا میں سات براعظم ہیں اور دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں الگ الگ اقوام اور مختلف قسم کے لوگ آباد ہیں ۔قومی برتری کے خیالات اس دنیا کے ہر گروہ میں موجود ہیں۔ ہر شخص اپنے خاندان، اپنے قبیلے، اپنی قوم اور اپنی نسل کو دیگر سے ممتاز خیال کرتا ہے۔ بہت سے افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی برادری برتر ہے جبکہ باقی سب کمتر ہیں۔ یہی تفاخر اور غرورآگے چل کر نفرتوں، چپقلشوں، مقابلوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جن کے نتیجے میں دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔

نسل انسانی کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یہ بات بالبداہت ثابت ہوتی ہے کہ فساد اور لڑائی کی بنیادی وجہ تفاخر ہے۔ یہ اسی تکبر اور تفاخر کا ہی نتیجہ تھا کہ ہابیل کا قابیل کے ہاتھوں قتل ہوا۔ انسانی تاریخ میں کئی جنگیں اس تفاخر کی وجہ سے لڑی گئیں۔ چاہے وہ تفاخر نسلی ہو،لسانی ہو یا پھر علاقائی ہو، یہ ایک معاشرے کیلئے سم قاتل کی سی حیثیت رکھتا ہے ۔

چند روز قبل ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص کی موت کے باعث انتشار کی سی کیفیت ہے۔پورے ملک بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں اس ناانصافی کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ سیاہ فام لوگوں کے ساتھ صدیوں سے جاری ناروا سلوک کا خاتمہ کیا جائے۔ ساری دنیامیں BlackLivesMatter# ایک trend# بن چکا ہے۔

تمام انسان برابر ہیں

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہےجو اپنے اندر ایک عالمگیریت رکھتا ہے۔ اسلام کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً

(النساء: 2)

ترجمہ: اے لوگو! اپنے ربّ کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں میں سے مردوں اور عورتوں کو بکثرت پھیلا دیا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر نسلی تعصب کی نفی فرما رہا ہے نیز یہ بھی فرما رہا ہے کہ ہم نے انسان کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر آگے انسان کی نسل کو بڑھایا۔ گویا کہ دوسرے الفاظ میں یہ بتا دیا کہ ہم سب ایک آدم کی اولاد ہیں ۔

اسی طرح خدا تعالی ایک اور جگہ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ

(الحجرات: 14)

ترجمہ: اے لوگو! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلا شبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متّقی ہے۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) ہمیشہ باخبر ہے۔

یہ آیت کریمہ بھی واضح طور پر نسلی تفاخر کے مضمون کو جھٹلاتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ کسی بھی قبیلے، رنگ اور نسل کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ سب چیزیں صرف انسان کے تعارف اور پہچان کیلئے بنائی گئی ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک فضیلت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ ہے۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی قسم کے نسلی و قومی تفاخر کی ببانگ دہل نفی فرمائی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں اس تصور کی مکمل بیخ کنی کر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’اے لوگو !بے شک تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ بے شک عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی عجمی کو عربی پر۔ اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں اور کالے کو گورے پر، سوائے تقویٰ کے۔‘‘

(حلیۃ الاولیاء لابی نعیم)

بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ رہتی دنیا تک تمام عالم کیلئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ خدائی تعلیم ہے جس پر عمل کر کے اس دنیا کا نظام بطریق احسن چلایا جا سکتا ہے۔ آج دنیا میں نسلی تعصب ایک کڑوا سچ بن چکا ہے۔ لوگوں سے رنگ و نسل کی بنیاد پر سلوک کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر روز نئے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی میں متعدد بار عملی طور پر نسلی امتیاز ختم کر کے ہمارے لئے اپنا قابل تقلید نمونہ قائم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا تھمایا اور فرمایا کہ جو کوئی بھی بلال ؓکے جھنڈے کے نیچے آئے گا اس کو بھی امان دی جائے گی۔ غرضیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے تعصب کی نفی فرمائی۔

ہر قسم کے تعصب کی نفی

اسلام نے نہ صرف رنگ و نسل کے امتیاز کی نفی کی ہے بلکہ ہر قسم کے تعصب کو جھٹلایا ہے ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِؕبِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

(الحجرات: 21)

ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! (تم میں سے) کوئی قوم کسی قوم پر تمسخر نہ کرے۔ ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوجائیں۔ اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں)۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوجائیں۔ اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام بگاڑ کر نہ پکارا کرو۔ ایمان کے بعد فسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے۔ اور جس نے توبہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں ۔

اس آیت کریمہ میں خدا تعالیٰ نے ہر قسم کے تعصب کی نفی فرمائی ہے نیز یہ ہدایت فرمائی ہے کہ کسی بھی قوم کو کمتر سمجھ کر ان سے ہنسی ٹھٹھا نہ کرو کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں کیسی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساری دنیا کی اصلاح کے لئے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام عالمگیر حیثیت رکھتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب ہر رنگ و نسل اور ہر ملک و ملت کے لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والوں میں امیر بھی ہیں اور غریب بھی ہیں۔عربی بھی ہیں اور عجمی بھی۔ سیاہ فام بھی ہیں اور سفید فام بھی ۔ مگر فضیلت کا معیار اور پیمانہ کوئی رنگ یا نسل نہیں بلکہ صرف اور صرف تقویٰ ہے۔

خدا تعالیٰ قرآن کریم میں تمام ماننے والوں کو اکٹھا ہونے اور تفرقہ بازی سے اجتناب کا حکم دیتا ہے ۔ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَ کُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ

(آل عمران: 401)

ترجمہ: اور اللہ کی رسّی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر (کھڑے) تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ شاید تم ہدایت پا جاؤ۔

جب اس آیت کریمہ میں خدا تعالی نے ہم سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا اور کسی رنگ،نسل اور قبیلے کا ذکر نہیں کیا تو پھر انسان کی کیا حیثیت ہے کہ وہ اپنی ذات پات یا رنگ و نسل کو بنیاد بنا کر تکبّر کرے؟

خدا تعالی ہم سب کو اپنا فرمانبردار بندہ بنائے اور ہر قسم کے فخر و مباہات و تکبر سے بچائے۔ آمین

٭…٭…٭

(راجہ اطہر قدوس)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جون 2020ء