• 9 جولائی, 2020

بھائیو! اپنے مستقبل پر نظر رکھو اور اپنی اولاد کی فکر کرو

تبرکات: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ

یہ کوئی مضمون نہیں بلکہ بستر پر لیٹے لیٹے یا سہارے سے بیٹھے بیٹھے اپنے مخلص بھائیوں کے نام ایک درد مند دل کی نصیحت ہے جس کا مخاطب سب سے پہلے میرا اپنا نفس ہے اور اس کے بعد ہمارے خاندان کے افراد ہیں اور پھر ساری جماعت ہے جو خدا کی طرف سے اخوت کی تاروں میں باندھی گئی ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ ہم خدا کے مامور و مرسل کے زمانہ سے دن بدن اور لحظہ بہ لحظہ دور ہوتے جا رہے ہیں اور وقت کے قرب کی زبردست مقناطیسی طاقت سے ہر آن محروم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ بھاری نقصان ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد بھی مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔ چنانچہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کا آخری نقشہ آپ لوگوں کے سامنے ہے جسے اس جگہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اب تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک صحابہ کا زمانہ بھی جلد جلد ختم ہو رہا ہے اور یہ روحانی روشنی پہنچانے والے اور تاریکی میں رستہ دکھانے والے چاند ستارے بڑی سرعت کے ساتھ افقِ قریب میں غروب ہوتے جا رہے ہیں۔ دوستو اور عزیزو! کیا آپ لوگوں نے کبھی اس نقصان کا جائزہ لیا؟ اور اس کے تدارک اور تلافی کی تدبیر سوچی ؟ اگر نہیں سوچی تو آخر کب سوچیں گے ؟ کیا اس وقت سوچیں گے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روحانی چہرہ کو دیکھنے والے اور آپ علیہ السلام کی پاک صحبت سے مستفیض ہونے والے اور آپ علیہ السلام کے مبارک کلام کو سننے والے لوگ سب کے سب اپنی اپنی قبروں میں جا سوئیں گے؟

خدا کرے کہ ایسا نہ ہو مگر سوال یہ ہے کہ اس کا علاج کیا ہے؟ ایک سیدھا سادہ علاج مگر بہت مشکل علاج، بہت ہی مشکل علاج۔ بلکہ شاید اس زمانہ کے لحاظ سے ناممکن علاج میں بتائے دیتا ہوں۔ یہ علاج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیر معمولی عبادات اور ریاضات اور صوم و صلوٰۃ اور دردمندانہ دعاؤں اور تلاوتِ کلام پاک اور مطالعہ حدیث و اقوالِ بزرگانِ سلف اور محبتِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ اور انقطاع الی اللہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے عجیب و غریب نظاروں میں ملتا ہے جس کے نتیجہ میں آپ تیرہ سو سال پیچھے آنے کے باوجود آگے نکل گئے۔ حتی کہ خدا نے آپ علیہ السلام کو مخاطب کر کے بڑی محبت و اکرام کے ساتھ فرمایا کہ :

’’آسمان سے کئی تخت اُترے مگر سب سے اونچا تیرا تخت (رسول پاکؐ کے بعد) سب سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘

(تذکرۃ ایڈیشن چہارم صفحہ 323)

اور خود رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عالمِ کشف میں اپنے اس خادم اور نائب کی بے نظیر خدمات اور ترقیات کا نظارہ دیکھ کر فرمایا کہ: یُدْفَنُ مَعِیْ فِیْ قَبْرِیْ یعنی میرے سلسلہ کے مسیح کی وہ شان ہے کہ مرنے کے بعد اسے میرے ساتھ جگہ دی جائے گی۔

اس الہام الٰہی اور اس حدیث نبوی ﷺ میں یہ عظیم الشان بشارت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر غیر معمولی جذب پیدا کرے اور خدا کے خاص فضل و نصرت کا جاذب بنے تو ایک انسان وقت کی حدود کو توڑ کر پہلے آنے والوں سے آگے نکل سکتا ہے۔ اسی بشارت کے فلسفہ کی تشریح میں قرآن مجید نے اَلسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کی دو لطیف اصطلاحیں بیان کی ہیں جس میں یہی اشارہ ہے کہ بعض لوگ (یعنی اوّلون) تو وقت کے لحاظ سے آگے آ کر فضیلت حاصل کر لیتے ہیں مگر بعض خوش قسمت لوگ (یعنی سابقون) ایسے بھی ہوتے ہیں کہ پیچھے آتے ہیں مگر آگے پیچھے کی زنجیروں کو توڑ کر پہلے آنے والوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ جس طرح مثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ چھ سال تک شدید مخالفت کرنے کے بعد مسلمان ہوئے مگر باوجود اس کے کہ وہ اپنی شاندار خدمات اور غیر معمولی اوصاف کی وجہ سے مینار کی طرح بلندو بالا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے سوا جو ہر جہت سے اول بھی تھے اور سابق بھی تھے تمام صحابہ سے جن میں حضرت عثمان اور حضرت علی اور حضرت ابوعبیدہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر اور قدیم صحابہ ؓ بھی شامل تھے آگے نکل گئے۔ وَالْفَضْلُ بِالْخَیْرَاتِ لَابِزَمَانِ۔

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وقت اور زمانہ کی قیود کو توڑ کر آگے نکل جانے والوں میں حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہیدؓ کی مثال بھی بیان فرمائی ہے جن کی شہادت کی خبر سن کرآپ علیہ السلام نے اپنی ایک نظم میں یہ حکیمانہ شعر فرمائے کہ:

صد ہزاراں فرسخے تا کوئے یار
دشت پُر خار و بلائش صد ہزار
بنگر ایں شوخی ازاں شیخِ عجم
ایں بیاباں کرد طے از یک قدم
او پئے دلدار از خود مردہ بود
از پئے تریاقِ زہرِ خوردہ بود
زیر ایں موت است پنہاں صد حیات
زندگی خواہی بخورِ جامِ ممات

(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20صفحہ 61-60)

یعنی خد اکے کوچہ تک پہنچنے کے لئے لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اس میں کانٹوں کے جنگل ہیں اور ان جنگلوں میں بے شمار قسم کی بلائیں اور تکلیفیں اور آزمائشیں ہیں مگر ذرا اس کابلی بزرگ کی ہمت اور تیز رفتاری ملاحظہ کرو کہ اس نے یہ سارے خطرناک جنگل صرف ایک قدم میں ہی طے کر لئے۔ یہ اس لئے کہ وہ اپنے محبوب خدا کی خاطر اپنے نفس پر موت وارد کر چکا تھا۔ اس نے رضائے الٰہی کا تریاق حاصل کرنے کی غرض سے قربانی کا زہر کھا کر اپنے نفس کی لذّات کو ختم کر دیا تھا۔ اس قسم کی موت کے نیچے سینکڑوں زندگیاں پوشیدہ ہیں۔ لہٰذا اگر تم خدا کے رستہ میں خاص الخاص زندگی کے خواہاں ہو تو آؤ تم بھی ایسی موت کا پیالہ چکھ کر زندہ و جاوید ہو جاؤ۔

پس دوستو اور عزیزو! ایک علاج تو یہی ہے جس سے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک زمانہ سے دوری کے اثر کو کسی قدر کم اور صحابہ کرام کی صحبت سے محرومی کی کمی کو کسی قدر پورا کر سکتے ہیں مگر یہ علاج بڑا مشکل، بڑا کٹھن اور بڑی جان جوکھوں کا کام ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ اس کے لئے ایک بڑی تلخ موت کے دروازے میں سے گزر کر ’’از جہاں دباز بیروں از جہاں‘‘ کا نظارہ پیش کرنا پڑتا ہے بلکہ در اصل اس شعر والی سُولی پر چڑھنا پڑتا ہے کہ:

درمیانِ قعر دریا تختہ بندم کردہی
بازمی گوئی کہ دامن تر مکن ہوشیار باش

اس کے لئے اس پُر آشوب مادی زمانہ میں کتنے لوگ تیار ہیں؟ کم، بہت کم، بہت ہی کم بلکہ شاید لاکھوں انسانوں میں سے ایک بھی مشکل سے ملے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب کشتیٔ نوح کو دیکھو۔ اس پیمانہ پر کتنے احمدی نوجوانوں کو معیاری احمدی سمجھا جا سکتا ہے؟ مجھے جواب دینے کی ضرورت نہیں اپنی آنکھوں سے دیکھو اور اپنے دل سے جواب مانگو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ تعداد خدا کے فضل سے بہت کافی تھی مگر اس کے بعد زمانہ کی دوری اور مخلص صحابہ کی اموات کی کثرت نے قدیم سنت کے مطابق آہستہ آہستہ نقشہ بدلنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ باغِ احمد میں شیریں پیوندی پودوں کی جگہ سے ملے جُلےکھٹے میٹھے تخمی پودوں (یعنی نسلی احمدیوں) کی کثرت شروع ہو گئی اور اس کثرت کی شرح فی صد دن بدن خطرناک طور پر بڑھتی جا رہی ہے۔ اسلام کے دورِ اول یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کے زمانہ میں بھی اسلام کو یہی خطرہ پیش آیا تھا مگر اس وقت جہاد کا رستہ کھلا ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کے جوشِ اخلاص و قربانی میں طبعی کمی کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا گیا تھا مگر یہاں ہماری تبلیغ میں بھی بھاری روکیں حائل ہیں۔ کہیں مالی روکیں، کہیں بیرونی تنظیم کی روکیں اور کہیں اندرونی روکیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:

مرا درد ایست اندر دل اگر گوئم زباں سوزد
وگردم در کشم ترسم کہ مغزِ استخواں سوزد

اگر یہ روکیں دور ہو جائیں تو اس وقت حالات ایسے ہیں کہ خدا کے فضل سے قلیل عرصہ میں اسلام اور صداقت کے حق میں بھاری تغیر پیدا کیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک ضروری لازمہ کے طور پر ہمارے نوجوانوں میں اور نسلی احمدیوں میں بھی زندگی کی نئی روح پیدا ہو سکتی ہے۔ وَمَا ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ۔ تاریخ عالم کا یہ ایک ازلی مشاہدہ ہے کہ جب کسی قوم کا خارجی محاذ کمزور پڑ جاتا ہے تو وہ اندرونی خلفشار کا شکار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ نیکی کی روح میں انحطاط، قربانی کے جذبہ میں کمی، باہمی اختلافات، عملی کمزوریاں، اعتراض کرنے میں جلد بازی وغیرہ وغیرہ کئی قسم کی اخلاقی اور روحانی بیماریاں جماعتی معاشرہ میں ابھرنے لگ جاتی ہیں۔

مگر قربان جائیے اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم پر کہ آپ ؐ نے اپنی امت کو کسی حالت میں بھی مناسب نگرانی اور مناسب علاج کے بغیر نہیں چھوڑا اور ہر عارضہ کے لئے حکیمانہ شفا اور حکیمانہ ماحول مہیا فرمایا ہے۔ چنانچہ جب آپؐ کو ایک وقت اپنے غزوات کے ہجوم کے دوران میں کچھ عرصہ کے لئے مہلت میسر آئی اور آپؐ نے محسوس کیا کہ کہیں اوپر تلے کے غزوات اور سرایا کی غیرمعمولی گہما گہمی سے وقتی فراغت پا کر صحابہ کی جماعت ایک گونہ بیکار اور سست ہو کر نہ بیٹھ جائے تو آپؐ نے اس وقت کمال حکمت سے صحابہؓ کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ

رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِھَادِ الْاَکْبَرِ

یعنی اب ہم چھوٹے جہاد (مراد تلوار کے جہاد) سے فارغ ہوکر بڑے جہاد (مراد اخلاقی اور روحانی تربیت کے جہاد) کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

اللہ اللہ! یہ کس شان کا کلام تھا جو آج سے چودہ سو سال پہلے عرب کے اس امّی نبی کے منہ سے نکلا جس کی حکمت کے سامنے آج کی ترقی یافتہ دنیا کا سارا فلسفہ گرد ہے۔ تلوار کے جہاد سے واپس لوٹتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب ہمارے لئے چھوٹے جہاد سے فارغ ہو کر بڑے جہاد میں مصروف ہونے کا وقت ہے جو نفس کا جہاد اور جماعتی تربیت کا جہاد اور قومی تنظیم کا جہاد ہے۔ اس موقع پر جماعتی تربیت کے سوال کو بڑا جہاد قرار دینے میں دو عظیم الشان نفسیاتی نکتے مضمر ہیں۔ اول اس میں علم النفس کے اس لطیف اصول کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ کسی سوال کی اہمیت صرف ذاتی ہی نہیں ہوا کرتی بلکہ اضافی اور نسبتی بھی ہوا کرتی ہے جو ماحول اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ کم و بیش ہوتی رہتی ہے اور چوکس مومنوں کا فرض ہے کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق پیش آمدہ مسائل کی طرف توجہ دیں اور آنکھیں بند کر کے صرف ایک بات کی طرف ہی جھکے نہ رہیں۔ اس طرح مختلف حالات میں جہادِ اکبر اور جہادِ اصغر کی تعریف بدلتی رہے گی۔ کسی وقت جب کوئی ظالم دشمن اسلام کو تلوار کے زور سے مٹانے کے لئے اٹھے گا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا تو اس وقت جہاد بالسیف کے ذریعہ اپنا دفاع کرنا اور ترقی کا راستہ کھولنا جہادِ اکبر ہو گا۔ لیکن اگر دشمن علمی اعتراضوں کے ذریعہ اسلام پر حملہ آور ہو گا تو علمی تبلیغ کے ذریعہ اسلام کی فوقیت ثابت کرنا اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت کرنا اور مالی امداد کے ذریعہ اسلام کی مضبوطی کا انتظام کرنا جہادِ اکبر بن جائے گا اور بعض اوقات جب قوم اسلامی تربیت کو کھو کر تنزل کے گڑھے میں گر رہی ہو گی تو ایسے وقت میں مسلمان نوجوانوں کو عمدہ اخلاقی اور روحانی تربیت کے ذریعہ اوپر اٹھانا جہادِ اکبر ہو گا اور باقی جہاد جہادِ اصغر کا رنگ اختیار کر لیں گے اور یہی وہ نفسیاتی نکتہ ہے جس کی طرف ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر والے زرّیں ارشاد میں توجہ دلائی ہے۔ یعنی یہ کہ وہی جہادِ اکبر ہے جو وقت کے تقاضے کے مطابق کیا جائے۔ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں یہ ضمنی اشارہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو کسی وقت بھی بے کار اور سست ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ وقت اور حالات کے تقاضے کے مطابق بہر حال کوئی نہ کوئی دینی جہاد جاری رکھنا چاہئے کیونکہ قوموں کی باہمی دوڑ میں جو قوم بھی سست ہو گی اور رُکے گی وہ فوراً گر کر دوسروں کے پاؤں کے نیچے روندی جائے گی۔ یہ خدا کا ازلی اور اٹل قانون ہے۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً۔

دوسرا متقابل نکتہ، بہت بڑا نکتہ، بڑا عظیم الشان نکتہ، قوموں میں دائمی زندگی پیدا کرنے والا نکتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کے اس ارشاد میں کہ ’’اب ہم چھوٹے جہاد سے فارغ ہو کر بڑے جہاد کی طرف لوٹ رہے ہیں‘‘ یہ ہے کہ آپ ﷺنے نسبتی لحاظ سے نہیں بلکہ واقعی اور حقیقتاً نفس کے جہاد اور تربیت والے جہاد کو تلوار کے جہاد سے افضل قرار دیا ہے اور اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کرنے والے لوگ جانتے ہیں کہ یہی درست ہے۔ کیونکہ اسلام مذہب کی اشاعت میں ہرگز ہرگز جبر کی تعلیم نہیں دیتا جیسا کہ قرآن صاف الفاظ میں فرماتا ہے لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ۔ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ۔ یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں بلکہ اے رسول! تمہارا کام صرف یہ ہے کہ خدا کے دین کی طرف حکمت اور پند و نصیحت کے طریق پر بلاؤ۔ تلوار کے استعمال کی اجازت صرف مظلوم ہونے کی حالت میں دی گئی ہے بلکہ دشمن تلوار کے زور سے اسلام کو مٹانے کا اقدام کرے اور بربادی پر مصر ہو ورنہ اسلام کا اصل بنیادی نظریہ پُر امن تبلیغ اور علمی اور روحانی ذرائع کے استعمال سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوات و سرایا سے کسی قدر مہلت پائی آپؐ نے اسلام کے بنیادی فریضہ کے پیشِ نظر مسلمانوں میں اعلان فرمایا کہ اب اس فراغت کو غنیمت جانتے ہوئے ہمیں جہادِ اکبر یعنی نفس کے جہاد اور علمی جہاد اور جماعتی تربیت کے جہاد میں مصروف ہو جانا چاہئے جو ہمارا اصل جہاد ہے۔

پس اے ہمارے دوستو اور بھائیو اور عزیزو! اس وقت ہمارے رستہ میں بھی بعض تبلیغی روکیں حائل ہیں بعض ملکوں میں تو ہمارا رستہ ملکی قانون کے ماتحت بالکل ہی بند ہے اور بعض میں رستہ تو کھلا ہے مگر توسیع کے کام میں بھاری مالی تنگی روک ہے اور ہم اپنے کام کو محدود رکھنے پر مجبور ہیں اور بعض میں قانونی روک تو شاید نہیں ہے مگر ملکی مصالح سدّ راہ ہو رہے ہیں۔ ایسی صورت میں کمزور طبائع میں مذہبی جذبہ کی کمی کا پیدا ہو جانا اور دینی ولولہ کا کمزور پڑ جانا ایک حد تک طبعی امر ہے۔ اس کمی اور اس کمزوری کو دور کرنے کا وہی حکیمانہ نسخہ ہے جو ہمارے آقا (فداہ نفسی) نے بیان فرمایا ہے یعنی اس صورت میں ہمیں جہادِ اصغر (یعنی بے وقت جہاد) سے جہادِ اکبر (یعنی وقت کے مناسبِ حال جہاد) کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جہاد کی موٹی اقسام یہ تین ہیں:

  1. تلوار کا جہاد یعنی تلوار کے ذریعہ حملہ آور ہونے والے دشمن کا جو اسلام کو تلوار کے زور سے مٹانا چاہتا ہو تلوار سے مقابلہ کرنا۔
  2. تبلیغ کا جہاد یعنی دلائل و براہین اور روحانی ذرائع سے اسلام کی اشاعت اور استحکام اور ترقی کا انتظام کرنا۔
  3. تربیت کا جہاد یعنی مسلمانوں کو سچا مسلمان بنانے اور نوجوانوں کو اسلامی طریق کے مطابق تربیت دینے کا انتظام کرنا۔

جہاں تک تلوار کے جہاد کا سوال ہے نہ تو اس وقت اس کے حالات موجود ہیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعودؑ کے زمانہ میں اس کی اجازت ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحیح بخاری میں مسیح موعود کے نزول کے ذکر کے تعلق میں صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ یَضَعُ الْحَرْبَ یعنی جب میری امت کا مسیح آئے گا تو وہ تلوار کے جہاد کو ملتوی کر دے گا کیونکہ اس کی ضرورت نہیں ہو گی۔ عقلاً بھی ظاہر ہے کہ تلوار کی ضرورت صرف تلوار کے مقابلہ پر ہی پڑ سکتی ہے ورنہ اسلام تو درکنار کوئی معقول مذہب بھی اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ یونہی لوگوں کی گردنیں اڑاتے پھرو۔ باقی رہے دو قسم کے جہاد یعنی تبلیغ کا جہاد اور تربیت کا جہاد۔ سو وہ بے شک اسلام کی دائمی اور ہمیشہ قائم رہنے والی تعلیم کا ضروری حصہ ہیں اور عام حالات میں ہر الٰہی جماعت کو رتھ کے دو پہیوں کی طرح ان دونوں قسم کے جہادوں کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔ مگر بعض اوقات مخصوص قومی یا ملکی حالات کے ماتحت یا خاص قسم کے اندرونی یا خارجی تقاضوں کے مطابق ان کے باہمی توازن میں فرق پڑجاتا اور کمی بیشی ہو جاتی ہے۔ یعنی بعض حالات میں تبلیغ پر زیادہ زور دینا پڑ تا ہے اور بعض دوسری قسم کے حالات میں تربیت کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پیش آتی ہے خواہ یہ ضرورت اختیاری صورت میں ہو یا کہ مجبوری کی صورت میں جیسا کہ آج کل ملک کے اندرونی حالات کا تقاضا ہے۔ بہرحال آج کل ہماری بڑی پرابلم جماعت کے نوجوانوں اور خصوصاً نسلی احمدیوں کی تربیت ہے تاکہ انہیں زمانہ کی شرر بار ہواؤں سے بچا کر اور مادیت کے زہریلے اثرات سے محفوظ رکھ کر اسلام اور احمدیت کی روح پر قائم رکھا جا سکے اور یہی میرے اس مضمون کا مرکزی نقطہ اور حقیقی مآل ہے اور اسی کی طرف اس وقت اندرونِ ملک میں جماعت کی خاص توجہ مبذول ہونی چاہئے۔یہ کام کس طرح سر انجام دیا جائے؟ اس کے لئے کسی لمبی چوڑی تلقین کی ضرورت نہیں۔ قرآن و حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اس معاملہ میں زرّیں ہدایات سے بھری پڑی ہیں۔ اصل چیز جس کی ضرورت ہے وہ احساس اور توجہ ہے۔ اگر جماعت میں نوجوانوں کی تربیت کا احساس پیدا ہو جائے اور وہ اس سوال کی عظیم الشان اہمیت کو سمجھ لے تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے قرب کی وجہ سے نیز خلافت جیسی الٰہی نعمت کے موجود ہونے کے نتیجہ میں ہمارے اندر ایمان و اخلاص کی زبردست چنگاریاں موجود ہیں۔ بس ذرا سی ہوا دینے سے وہ بھڑک اٹھنے کے لئے تیار ہیں وَلَوْ لاَ تَمْسَسْہُ نَارٌ۔

پس دوستو اور عزیزو! خدا کے لئے اس طرف توجہ دو اور اپنی اولادوں کے مستقبل کی فکر کرواور جماعت کے قدم کو نیچے کی طرف جانے سے بچاؤ اور ان کے اندر اسلام اور احمدیت کی ایسی شمع روشن کردو جس سے ہر اگلی نسل کی شمع خود بخود روشن ہوتی چلی جائے۔ اور قرآن کے اس زبردست انداز کو ہمیشہ یاد رکھو کہ قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلِیْکُمْ نَاراً اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس ڈرا دینے والے شعر کو بھی کبھی نہ بھولو کہ

ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں
آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو

میں چاہتا تھا کہ تربیت کے متعلق بھی کچھ تفصیلی ہدایات نوٹ کر دیتا مگر میں نے اپنی موجودہ علالت اور کمزوری اور تکان کی حالت میں یہ نوٹ بھی بڑی مشکل سے رُک رُک کر لکھا ہے اور اب میں تھک گیا ہوں اس لئے فی الحال اسی پر اکتفاکرتا ہوں۔ البتہ دوستوں کے مشورہ کے لئے اس قدر بتائے دیتا ہوں کہ یوں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اکثر کتب تربیتی مضامین سے بھری پڑی ہیں مگر خاص طور پر دو کتابیں اس میدان میں بڑی شاندار ہیں انہیں دوست خود بھی ضرور مطالعہ کریں اور اپنے بیوی بچوں کو بھی ضرور پڑھائیں اور بار بار پڑھاتے رہیں کہ ان سے انشاء اللہ انہیں عظیم الشان فوائد حاصل ہوں گے۔ یہ دو کتابیں یہ ہیں :

(اول) کشتیٔ نوح یا اس کا خلاصہ یعنی ہماری تعلیم
(دوم) ملفوظات یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈائریاں جن کے اس وقت تک دو حصے چھپ چکے ہیں۔

یہ دونوں کتابیں تربیت کے میدان میں جواہرات کی عدیم المثال کانیں ہیں جن کی اس زمانہ میں کوئی نظیر نہیں۔ انہیں کی ادنیٰ تشریح میں اور بعض مزید قرآن و حدیث کے حوالوں کے لئے اگر اس خاکسار کی تصنیف ’’جماعتی تربیت اور اس کے اصول‘‘ کا بھی مطالعہ کیا جائے اور نوجوانوں کو پڑھا کر اس میں ان کا امتحان لیا جائے تو ان شاء اللہ مفید ہو گا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہمارے بچوں کو اور ہماری آئندہ نسلوں کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے اور ہمارا انجام اس کی رضا پر ہو۔ آمِیْنَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔

(محررہ 15اگست 1961ء)

(روزنامہ الفضل ربوہ 19 اگست 1961ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جون 2020ء