• 9 جولائی, 2020

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کی اہمیت و ضرورت

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت میں آنے والے امام مہدی اور مسیح موعودؑ کی بے شمار علامتیں بیان فرمائی ہیں۔ اُن میں سے ایک علامت یہ تھی کہ:۔

وَیَفِیْضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہٗ اَحَدٌ۔

(صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم علیہما السلام، روایت نمبر 3448)

یعنی آنے والے امام مہدی اور مسیح موعود کے وقت اس قدر اموال کے خزانے دنیا میں پیش کئے جائیں گے کہ کوئی انہیں قبول نہ کرے گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مبارک الفاظ میں اس حدیث کا معنی بیان کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ آپؑ بیان فرماتے ہیں:۔
’’علم اور حکمت کی مانند کوئی مال نہیں۔ یہ وہی مال ہے جس کی نسبت پیشگوئی کے طور پر لکھا تھا کہ مسیح دنیا میں آ کر اس مال کو اس قدرتقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے۔ … مومن کا مال درم و دینار نہیں بلکہ جواہر حقائق و معارف اُس کا مال ہیں۔ یہی مال انبیاء خدائے تعالیٰ سے پاتے ہیں اور اِسی کو تقسیم کرتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3صفحہ 455)

پس اس حدیث کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی علوم کا ایک ایسا خزانہ دنیا میں بہایا ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اور قرآن کریم کے بعد اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ علوم کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا جو آپؑ کے سینے سے ساری زندگی نکلتا رہا۔ جب آپؑ کی وفات ہوئی تو مولانا ابوالکلام آزاد بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ:۔

’’وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔ جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی بیٹریاں تھیں۔ وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔ جو شورِ قیامت ہو کے خفتگانِ خوابِ ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دنیا سے اٹھ گیا۔… ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔ یہ نازش فرزندانِ تاریخ بہت کم منظرِ عالَم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔…

مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر اُن سے ظہور میں آیا قبولِ عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ … غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گراں بار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایتِ اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے گا، قائم رہے گا۔‘‘

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 560-561)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مخالفین کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:۔
’’ان کو کیا معلوم ہے کہ جب مَیں عربی لکھتا ہوں تو کس طرح افواج کی طرح الفاظ اور فقرے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔

(ملفوظات جلدسوم صفحہ300-301)

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’خدایا مجھے ایسے الفاظ عطا فرما اور ایسی تقریریں الہام کر جو اُن دلوں پر اپنا نور ڈالیں اور اپنی تریاقی خاصیت سے اُن کی زہر کو دور کر دیں۔‘‘

(شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6صفحہ 403)

اللہ تعالیٰ نے ایسی بلند شان کے ساتھ حضورؑ کی اس دعا کو قبول فرمایا کہ آج بھی ہم آپؑ کی تحریرات کو پڑھتے اور سنتے ہیں تو ایک انقلاب پڑھنے اور سننے والوں کی ہستیوں پر وارد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور ہمیں خود معلوم ہو جاتا ہے کہ واقعی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا ایک ایک لفظ ہمارے اندر سے ہمارے اُن مخفی زہروں کو بھی دور کر دیتا ہے جن کا ہمیں بھی علم نہیں ہوتا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’مَیں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ مَیں سچ پر ہوں اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک میں دُور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ مَیں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر مَیں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پُتلی کی طرح اس مُشت ِخاک کو کھڑا کردیاہے۔‘‘

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3صفحہ 405)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو کہ یہی اعتراض ہمیشہ مسیح پر رہا کہ اس نے کوئی معجزہ تو دکھایا ہی نہیں یہ کیسا مسیح ہے۔ کیونکہ ایسا مُردہ تو کوئی زندہ نہ ہوا کہ وہ بولتا اوراُس جہان کا سب حال سُناتا اور اپنے وارثوں کو نصیحت کرتا کہ میں تو دوزخ میں سے آیا ہوں تم جلد ایمان لے آؤ … ایسا ہی یہ عاجز بھی خالی نہیں آیا بلکہ مُردوں کے زندہ ہونے کے لئے بہت سا آبِ حیات خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھی دیا ہے بے شک جو شخص اس میں سے پئے گا زندہ ہوجائے گا۔بلاشبہ میں اقرارکرتا ہوں کہ اگر میرے کلام سے مردے زندہ نہ ہوںاور اندھے آنکھیں نہ کھولیں اور مجذوم صاف نہ ہوں تو میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے آپ اپنے پاک کلام میں میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ بندگانِ خداکو بہت صاف کررہا ہے اس سے زیادہ کہ کبھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیاگیا ہو۔

یقیناً سمجھو کہ روحانی حیات کا تخم ایک رائی کے بیج کی طرح بویا گیا مگر قریب ہے ہاں بہت قریب ہے کہ ایک بڑادرخت ہو کر نظر آئے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3صفحہ 334-335)

پس اے مسیحِ محمدی کے درختِ وجود کی سرسبز شاخو! آؤ کہ اس پاک مسیح کی مبارک تحریرات کو حرزِ جان بنا لیں۔ اٹھو اور دوڑو کہ! آبِ حیات ہمارے سامنے ہے۔ ہاں وہی آبِ حیات جس میں کود جانے کے نتیجے میں مولا کریم ہمیں ایک نئی زندگی عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریراتِ مبارکہ کو دل و جان سے پڑھنے اور اُنہیں سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے۔ جس کو علم نہیں ہوتا وہ مخالف کے سوال کے آگے حیران ہو جاتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 8 صفحہ 8)

ایک روایت میں تین مرتبہ مطالعہ کرنے کے حوالہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الفاظ ملتے ہیں کہ:۔
’’جو شخص ہماری کتابوں کو کم از کم تین دفعہ نہیں پڑھتا اس میں ایک قسم کا کبر پایا جاتا ہے۔‘‘

(سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم صفحہ 365 روایت نمبر 410)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات کے متعلق بیان فرماتے ہیں :۔
’’جو کتابیں ایک ایسے شخص نے لکھی ہوں جس پر فرشتے نازل ہوتے تھے ان کے پڑھنے سے بھی ملائکۃ اللہ نازل ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت صاحب کی کتابیں جو شخص پڑھے گا اس پر فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ ایک خاص نکتہ ہے کہ کیوں حضرت صاحب کی کتابیں پڑھتے ہوئے نکات اور معارف کھلتے ہیں اور جب پڑھو جب ہی خاص نکات اور برکات کا نزول ہوتا ہے … حضرت صاحب کی کتابیں بھی خاص فیضان رکھتی ہیں۔ ان کا پڑھنا بھی ملائکہ سے فیضان حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور ان کے ذریعہ سے نئے علوم کھلتے ہیں۔‘‘

(ملائکۃ اللہ ۔ انوار العلوم جلد 5صفحہ 560)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ بیان فرماتے ہیں:۔
’’اگر آپ یہاں سے یہ عہد کر کے جائیں گے کہ ہم روزانہ پانچ صفحات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے پڑھیں گے بلکہ میں پانچ کی شرط کو بھی چھوڑتا ہوں اگر آپ تین صفحات روزانہ پڑھنے کا بھی عہد کریں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تھوڑے عرصہ ہی میں آپ کے اندر ایک عظیم انقلاب پیدا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں گی اور خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے آپ کو اس قدر حصہ ملے گا کہ آپ دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے والے ہوں گے۔ تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے اس کے بعد آپ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس کے ایسے بندے بن جائیں گے جو اس کے پسندیدہ بندے ہوتے ہیں۔ آپ دنیا کے راہنما اور قائد بن جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ حاصل کریں گے لیکن اس قیادت اور راہنمائی اور خدا تعالیٰ کے فضل اور برکتوں کا حصول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان کردہ تفسیر قرآن کریم سے باہر نہیں ہو سکتا۔ سو میں آپ کو بار بار تاکید کروں گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کی عادت ڈالیں تین صفحات روزانہ پڑھنا شروع کر دیں گے تو پھر آپ کو اس کی عادت پڑ جائے گی اور اس کے نتیجہ میں آپ کی پڑھائی پر یا اگر آپ کوئی کام کر رہے ہیں تو آپ کے کام پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ یہ مطالعہ ان پر اچھا اثر ڈالے گا اگر آپ میں کوئی پڑھنے والا ہے تو اس مطالعہ کے نتیجے میں اس کے ذہن میں جلا پیدا ہو گی اور اس کے اندر ایک نور پیدا ہوگا اور پھر وہ دوسرے مضامین کیمسٹری اور انگریزی وغیرہ کو باآسانی سمجھنے لگے گا اور امتحان میں اسے اچھے نمبر ملیں گے اور اگر وہ کوئی کام کر رہا ہے تو اس کے کام میں Efficiency پیدا ہو جائے گی…پس آج آپ کو میری نصیحت یہی ہے اور یہ بڑی بنیادی اور اہم نصیحت ہے اور میں اسے بار بار دہرانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کی عادت ڈالیں اس کے نتیجہ میں آپ شیطان کے بیسیوں حملوں سے محفوظ ہو جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں آپ کی عزت ہو گی اور آپ کی زندگی کے کاموں میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے گا اور جب وہ وقت آئے گا کہ دنیا پکارے گی ہمیں استاد چاہئیں۔ ہمیں سکھانے والے چاہئیں تو آپ میں سے ہر ایک اس قابل ہو گا کہ وہ استاد بن سکے۔‘‘

( مشعل راہ جلددوم ص45-46)

ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس ضمن میں فرماتے ہیں:۔
’’سب سے پہلے تو قرآن کریم کا علم حاصل کرنے کے لئے ، دینی علم حاصل کرنے کے لئے ہمیں حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے جو بے بہا خزانے مہیا فرمائے ہیں اُن کو دیکھنا ہو گا۔ اُن کی طرف رجوع کریں۔ ان کو پڑھیں کیونکہ آپؑ نے ہمیں ہماری سوچوں کے لئے راستے دکھا دیے ہیں۔ اُن پر چل کر ہم دینی علم میں اور قرآن کے علم میں ترقی کر سکتے ہیں اور پھر اسی قرآنی علم سے دنیاوی علم اور تحقیق کے بھی راستے کھل جاتے ہیں۔‘‘

(مشعلِ راہ جلد پنجم حصہ دوم صفحہ 35)

ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک جگہ بیان فرماتے ہیں:۔
’’بہت سارے لوگ جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں یا جن کو اعتراضات پیدا ہو جاتے ہیں یا جو بعض لوگ صرف اس لئے احمدیت پر یا دین پر قائم ہوتے ہیں کہ ہمارے رشتہ دار احمدی ہیں ان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر وہ علم حاصل کریں تو جتنے شکوک و شبہات ہیں وہ دور ہو سکتے ہیں اور پھر قدم نہیں ڈگمگائیں گے۔ پھر شیطان حملہ نہیں کرے گا۔ پس جیسا کہ پہلے قرآن کریم پر غور اور فکر کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تلقین فرمائی تھی اسی طرح آپ کی کتب کو بھی پڑھنے اور دینی علم بڑھانے کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 13 اپریل 2018ء الفضل انٹرنیشنل مورخہ04 مئی 2018ء تا 10مئی 2018ء جلد25 شمارہ18 صفحہ8)

ایک اور موقع پر ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیان فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو ہمیں خاص طور پر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے انہی سے ہمارا دینی علم بھی بڑھے گا اور ہمیں تبلیغ کا شوق بھی پیدا ہو گا۔ ہمارے علم میں برکت بھی پڑے گی اور دنیا کو ہم اسلام کے جھنڈے تلے لانے کے قابل ہوں گے۔

اصل برکت تو یہ ہے کہ بادشاہوں کو اسلام کا حقیقی علم حاصل ہو اور وہ اس کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالیں ورنہ تو بہت سے بلکہ اکثریت بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اِلّا ماشاء اللہ اس وقت سب کے سب جو مسلمان بادشاہ ہیں اور جو لیڈر ہیں وہ اسلام کی تعلیم کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ منہ پر تو اسلام کا نام ہے اور دل ذاتی مفادات کے حصول کے پیچھے ہیں۔ ان سے ظلم ہو رہے ہیں۔

پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے اسلام پھیلنا ہے اور آپ کے ذریعہ سے، کپڑوں سے لوگوں نے برکت حاصل کرنی ہے۔ جو بادشاہ آئیں گے وہ آپ کے ذریعہ سے اسلام کی حقیقی تعلیم کو سمجھ کر آئیں گے اور یہی حقیقی برکت ہے اوراس کے لئے ہمیں بھی اس حقیقی تعلیم کا علم ہونا چاہئے اور اس کے مطابق تبلیغ ہونی چاہئے اور نوجوانوں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ تبھی الہام ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ کی صحیح حقیقت آشکار ہو سکے گی اور اس کی ہمیں سمجھ بھی آئے گی اور ہم تبلیغ کے اعلیٰ معیار پیدا کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو سمجھنے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد 14 صفحہ 45-46)

اسی طرح ایک اور موقع پر ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت مصلح موعودؓ کے حوالہ سے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’ایک واقعہ حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں جو خواجہ کمال الدین صاحب سے متعلق ہے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی تھی لیکن پھر خلافت ثانیہ کے انتخاب کے وقت فتنہ میں مبتلا ہو گئے اور غیر مبائعین کے لیڈروں میں سے ہو گئے۔ بہرحال ان کو لیڈری چاہئے تھی وہ ان کو وہاں مل گئی۔ ان کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے کہ انہوں نے اپنے علم کو کس طرح بڑھایا تھا اور ان کے اچھے لیکچروں اور تقریروں کا راز کیا تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب کی کامیابی کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کر کے ایک لیکچر تیار کرتے تھے۔ پھر قادیان آکر کچھ حضرت خلیفہ اولؓ سے پوچھتے اور کچھ دوسرے لوگوں سے اور اس طرح ایک لیکچر مکمل کر لیتے۔ پھر اسے لے کر ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے اور خوب کامیاب ہوتے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ خواجہ صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر بارہ لیکچر آدمی کے پاس تیار ہو جائیں تو اس کی غیرمعمولی شہرت ہو سکتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابھی سات لیکچر تیار کئے تھے کہ ولایت چلے گئے۔ یہاں انگلستان آ گئے۔لیکن وہ ان سات لیکچروں سے ہی بہت مقبول ہو چکے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک لیکچر بھی اچھی طرح تیار کر لیا جائے تو چونکہ وہ خوب یاد ہوتا ہے اس لئے لوگوں پر اس کا اچھا اثر ہو سکتا ہے۔

پس پہلی چیز تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب ہیں جن کوپڑھنا ضروری ہے۔ پھر اس کو سمجھنا اور آگے اس سے لے کر لیکچر تیار کرنا۔

حضرت مصلح موعودؓ پھر تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں اسی طرح ہوتا تھا کہ صَرف میر کا الگ استاد ہوتا تھا۔نحو میر کا الگ استاد ہوتا تھا۔پکی روٹی کا الگ استاد ہوتا تھا اورکچی روٹی کا الگ استاد ہوتا تھا۔اب ایک زمانہ دوبارہ آ گیا ہے جہاں سائنس نے ترقی کی ہے تو پھر یہ تخصص، specialities اور specialisation کا زمانہ شروع ہو چکا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ چاہئے بھی اسی طرح کہ جو لیکچرار ہوں ان کو مضامین خوب تیار کر کے دئیے جائیں اور وہ باہر جا کر وہی لیکچر دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سلسلہ کے مقصد کے مطابق تقریریں ہوں گی اور ہمیں یہاں بیٹھے بیٹھے پتا ہو گا کہ انہوں نے کیا بولنا ہے۔ اصل لیکچروہی ہوں گے اس کے علاوہ اگر مقامی طور پر ضرورت ہو تو تائیدی لیکچروں کے طور پر وہ اور کسی مضمون پر بھی بول سکتے ہیں ۔

(الفضل مورخہ 7 نومبر 1945ء جلد 33نمبر 261صفحہ 3)

پس یہ رہنما اصول مبلغین کے لئے بھی ہے اور داعیین الی اللہ کے لئے بھی اور ان لوگوں کے لئے بھی جو علمی نشستوں میں جاتے ہیں۔ اگر لیکچر اس طرح تیار کیا گیا ہو تو بڑے بڑے پروفیسر اور بعض نام نہاد دین کے عالم اور بعض ایسے لوگ جو دین پر اعتراض بھی کرتے ہیں وہ بھی متأثر ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں یہاں بھی شاید شعبہ تبلیغ کے تحت ایک پروگرام تھا جس میں اسرائیل سے ایک بڑے یہودی پروفیسر بھی شامل ہوئے تھے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ اس میں ایک ہمارے نوجوان مربی نے بھی اچھی تیاری کر کے لیکچر دیا تھا۔ پروفیسر صاحب اس سے بڑے متأثر ہوئے تھے۔ پروفیسر صاحب نے وہاں بڑی ہوشیاری سے اسلام کے، خلافت کے حق میں بعض باتیں کیں لیکن اسلام کے خلاف بھی کہا تو ہمارے اس نوجوان نے بڑے اچھے رنگ میں اس کا جواب دیا۔ بعد میں پروفیسر صاحب مجھے ملنے یہاں بھی آئے اور کہنے لگے کہ تمہارا وہ مربی، وہ مقرر جو تھا بڑا ہوشیار ہے۔ اصل میں تو اسلام پر حملہ کرنے والے لوگ، غیر احمدی سکالروں کے سامنے بعض باتیں کر کے ان کے دلائل ردّ کر دیتے ہیں یا ان کے پاس وہ دلائل نہیں۔ لیکن جماعت کے پاس تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دیا ہوا علم کلام اتنا ہے کہ اگر اچھی طرح تیاری ہو تو کسی کا بھی منہ بند کیا جا سکتا ہے۔ ان کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ بھی ہمارے لئے ضروری ہے تا کہ ہمارا دینی علم بھی بڑھے اور اس کے ساتھ ہی ان کتب کی وجہ سے ہماری روحانیت میں بھی ترقی ہوتی ہے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد 14 صفحہ 377تا 379)

2015ء میں جب پاکستان میں حکومتِ پنجاب نے جماعت احمدیہ کے بعض جرائد اور کتب پر پابندی لگائی تو اس وقت ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
’’ہمیشہ کی طرح ان مخالفین کے یہ عمل ہمارے ایمانوں میں جلاء پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تعلق میں بڑھنے کے لئے کھاد کا کام دینے والے ہونے چاہئیں۔ اگر ہماری حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ کم تھی تو اب زیادہ توجہ پیدا ہونی چاہئے۔ ایک پنجاب کی حکومت کی روک سے تو کیا تمام دنیا کی حکومتوں کی روکوں سے بھی یہ کام نہیں رک سکتا کیونکہ یہ انسانی کوششوں سے کئے جانے والے کام نہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں۔ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو علم و معرفت کے خزانوں کے ساتھ بھیجا ہے اور کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔ ہمیشہ ہم نے یہی دیکھا ہے کہ بڑی بڑی روکوں اور مخالفتوں کے بعد جماعت کی ترقی زیادہ ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اپنے زعم میں ہمارے خلاف جو یہ قدم اٹھایا گیا ہے یہ تو ایک معمولی سی روک ہے۔ ہمیں تو جتنا دبایا جائے اتنا ہی اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کو بڑھاتا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اب بھی بہتر ہوگا۔ اس لئے کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔ اس لئے زیادہ فکر اور پریشانی کی ضرورت نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب اب تو دنیا کے اور ممالک میں بھی چھپ رہی ہیں۔ ویب سائٹ پر بھی میسر ہیں۔ آڈیو میں بھی بعض کتب میسر ہیں اور باقی بھی ان شاء اللہ تعالیٰ جلدی مہیا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایک زمانہ تھا جب یہ فکر تھی کہ اشاعت پر پابندی سے نقصان ہو سکتا ہے۔ اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ علم و معرفت کے جو خزانے ہیں یہ فضاؤں میں پھیلے ہوئے ہیں جو ایک بٹن دبانے سے ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام اور کتب سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔

ایم ٹی اے پر بھی میں نے اب سوچا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا درس پہلے سے زیادہ وقت بڑھا کر دیا جائے گا اور اس طرح پاکستان کے ایک صوبے کے قانون کی وجہ سے دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا فائدہ ہو جائے گا۔ ہر جو روک ہوتی ہے، مخالفت ہوتی ہے ہمیں فائدہ پہنچاتی ہے۔ نئے راستوں اور ذرائع کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اور پھر یہ بھی ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ کہ اس سے نہ صرف اصل زبان میں کتابیں چھپیں گی یا درس ہوں گے بلکہ بہت ساری قوموں کی مقامی زبانوں میں بھی یہ مواد میسر آ جائے گا۔ پس جن کے دلوں میں کسی بھی قسم کی پریشانی ہے کیونکہ لوگ لکھتے ہیں اس لئے مجھے کہنا پڑ رہا ہے وہ اپنے دلوں سے نکال دیں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد 13 صفحہ 299-300)

اے خدا! تُو ہم سب کو اس زمانہ کے مسیح موعود و مہدی معہود اور حکم و عدل کی تحریرات کو پڑھنے اور انہیں سمجھنے کی توفیق عطا فرما جس کے ذریعہ ہم دینِ اسلام کے کمالات اور نبی اکرم ﷺ کی بلند شان کا حقیقی ادراک حاصل کرنے والے ہوں۔

٭…٭…٭

(ظہور الٰہی توقیر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جون 2020ء