• 9 اگست, 2022

کسی جان کو جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت بخشی ہے، قتل نہ کرو

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
پھر اگلا حکم خدا تعالیٰ نے ان آیات میں یہ دیا ہے کہ وَلَا تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ (الانعام: 152) اور کسی جان کو جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت بخشی ہے، قتل نہ کرو۔ یہ حکم اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ معاشرے کے حقوق ادا کرو۔ اپنے بھائیوں، اپنے دوستوں، اپنے سے واسطہ پڑنے والوں کے حقوق عدل و انصاف سے ادا کرو۔ قتل صرف جان کا قتل نہیں ہے بلکہ تعلقات کو توڑنا، نا انصافی سے دوسروں کے حقوق پامال کرنا، یہ بھی قتل ہے۔ دوسروں کو جذباتی طور پر مجروح کرنا، یہ بھی قتل ہے۔ کسی کو اتنا زیادہ ذلیل و رسوا کرنا کہ گویا عملاً اُسے قتل کر دیا ہے، یہ بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔ اُس کی عزتِ نفس کو برباد کر دینا، یہ بھی قتل ہے۔ اسی طرح روحانی طور پر بھی قتل ہوتا ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب قتل ایسے ہیں جن سے خدا تعالیٰ تمہیں منع کرتا ہے۔۔ ہر قتل کا آخری نتیجہ معاشرے میں فتنہ و فساد اور محرومیاں ہیں اور یہ چیزیں خدا تعالیٰ کو انتہائی ناپسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِلَّا بِالْحَقِّ سوائے اس کے جو سزا کا حقدار ہے، لیکن اس کے لئے بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔ بدلے لینے کے لئے، اپنے کینے اور بغض نکالنے کے لئے قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔ جو سزا کا حقدار ہے اُسے سزا دی جائے تو اس قدر سزا جتنا اُس کا جرم ہے۔ اور اس لئے سزا دی جائے کہ جرم کرنے والے کی اصلاح ہو اور معاشرے کا بہتر حصہ بن کر معاشرے کے فتنہ و فساد کو ختم کرنے کا ذریعہ بن سکے۔ لیکن یہاں بھی یہ بات واضح ہو کہ سزا دینے اور بدلے لینے کا حق ہر ایک کو نہیں ہے بلکہ قانون کو ہے۔ اور قانون انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے سزا دے، نہ کہ ظلم کرتے ہوئے۔ حتی کہ کسی قاتل کی سزا جو ہے اُس کا اختیار بھی کسی شخص یا مقتول کے ورثاء کو نہیں دیا گیا بلکہ یہ حق قانون کا ہے۔ یہ قانون تو آجکل بنائے جا رہے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت پہلے سے یہ حکم دیا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تم اپنے مجرم کو سزا دو۔ اور اگر ایک قاتل کو بھی پھانسی کی سزا دینی ہے تو ایک قانون ہی دے گا۔ اسی طرح معاشرے میں قانون کے تحت دوسری سزائیں ہیں، قتل کا اگر ایک مطلب تعلقات کو ختم کرنا یا مقاطعہ کرنا یا بائیکاٹ کرنا ہے تو یہ اختیار بھی ذمہ دار ادارے کو ہے۔ ہماری جماعت میں بھی اگر سزا کا نظام رائج ہے تو اصلاح کے لئے، نہ کہ کسی ظلم اور زیادتی کے لئے۔ یا کسی بھی قسم کی ایسی سزا جو دی جاتی ہے وہ اصلاح کے لئے دی جاتی ہے، کسی ظلم کے لئے نہیں دی جاتی۔ کیونکہ یہ ناحق ظلم و زیادتی جو ہے یہ بھی قتل کے مترادف ہے۔ یہ میں نے دیکھا ہے اور کئی دفعہ نوٹ بھی کیا ہے کہ اگر فریقین میں مسئلہ پیدا ہو جائے، لڑائی ہو جائے، مقدمہ بازی ہو جائے تو ظاہر ہے کہ فیصلہ کرنے والا ادارہ اپنی عقل اور شواہد کے مطابق ایک فریق کو ذمہ دار قرار دے گا، قصور وار قرار دے گا۔ اور اُس کے لئے پھر اس کی سزا کی بھی سفارش ہوتی ہے۔ تو جو دوسرا فریق ہے، جس کو نقصان پہنچا ہوتا ہے وہ بعض دفعہ اس بات پر ناراض ہو جاتا ہے کہ تھوڑی سزا دی ہے، اس سے زیادہ دیں۔ یعنی فیصلہ اُن کے مطابق ہو۔ اگر اسی طرح فریقین کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو ایک قتل کے بعد دوسرا قتل ہوتا چلا جائے گا۔ اور قرآن ہمیں یہ کہتا ہے کہ تم اس سے بچو۔ اصل مقصد سزا کا معاشرے سے ظلم کو ختم کرنا ہے اصلاح کرنا ہے، ظالم کو اپنے ظلم کا احساس دلانا ہے۔ اور دو مومنوں کے درمیان اگر ایسا مسئلہ ہے تو ظاہر ہے اُن کو جب احساس دلایا جائے تو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ پس یہ اصل غرض ہے یا سزا کا اصل مقصد ہے کہ اصلاح کی جائے اور اس ناحق قتل کو روکا جائے جو آپس کے جھگڑوں اور فسادوں کی وجہ سے معاشرے میں پیدا ہوتا ہے۔

(خطبہ جمعہ 2؍اگست 2013ء بحوالہ الاسلام)

پچھلا پڑھیں

صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جون 2022