• 7 اگست, 2020

عید اضحی مبارک

تشحیذالاذہان ماہ نومبر1912ء میں عیداضحی مبارک کے نام سے ایک طویل معلوماتی مضمون اسسٹنٹ ایڈیٹر صاحب قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کا لکھا ہوا شائع ہوا ہے جسے کسی قدر اختصار کے ساتھ الفضل کے قارئین کے لئے شکریہ کے ساتھ پیش کیا جارہاہے۔

1۔ قربانی کا رواج تمام قوموں میں: نورالدین میں بحوالہ انسائیکلوپیڈیا برطانیکا مرقوم ہے کہ ایران، انڈیا، یونان، روم، عرب، افریقہ، قدیم امریکہ اور روما میں قربانی کا عام رواج تھا۔ عبرانیوں میں بھی شکریہ، کفارہ، حمد الہٰی کے لئے، لڑکے کے تولد، ختنہ، شادی پر اور مہمان کے آنے پر فتحمندی، زمین کے جوتنے، کنوئیں کی بِنا، بنیاد عمارت، باہمی معاہدہ، مردہ کی سالانہ رسم، شکار کے بعد اور جب کسی کا جانور پہلا بچہ دے قربانی ہوا کرتی تھی بابلیوں میں انسان کی قربانی کا رواج تھا۔ روما میں سؤر کی، انگلستان میں دوروایڈیسن قوم میں قربانی تھی اور انڈیا کی تمام اقوام میں قربانیاں ہوتی تھیں۔

غرض کوئی قوم کوئی مذہب اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ اس میں کسی نہ کسی پہلو سے قربانی کا رواج نہیں یا نہ تھا۔ بائبل کو پڑھ جاؤ۔ جابجا قربانی کا ذکر ہے۔ قابیل اور ہابیل کی قربانی اور پھر اس پر قتل تک نوبت پہنچنا تو بہت ہی مشہور ہے وید بھی قربانیوں کے ذکر سے خالی نہیں۔ مہارشی دیوندر ناتھ ٹھاکر جی کی ایک کتاب کا ترجمہ شردھے پرکاش دیو جی نے اردو میں کیا ہے اس کے صفحہ 60 میں لکھا ہے کہ جو چیزیں خود ان (ہندوؤں) کوپسند تھیں انہی کی اگنی میں آہوتی دیتے تھے مثلاً گوشت، چاول کی روٹی، گھی دودھ۔ صفحہ 63 میں ہے کہ گھوڑے، بکرا، بھیڑ وغیرہ حیوانوں کے خاص خاص حصے دیوتاؤں کو آہوتی دیتے تھے۔ یعنی پرانے ہندو بھی مسلمانوں کی طرح جانوروں کی قربانی کرتے تھے۔ اس پرانے رواج کی یادگار اب بھی کئی مندروں میں قائم ہے۔ جے پور میں ہر روز ایک بکرے کی قربانی ہوتی ہے اسی طرح ایک اور جگہ دھرمپال میں قربانیوں کی کثرت کی وجہ سے مکھیوں کی بھنبھناہٹ کا ذکر کرتا ہے۔ اسے جانے دو۔ اگنی کنڈ میں اگنی دیوتا کے لئے جو کچھ ڈال دیا جاتا ہے اس میں شہد اور کستوری شامل ہے جو بہت سی جاندار مکھیوں اور ہرنوں کی قربانی کے سوا ملنی ناممکن ہے۔

2۔ اسلام کی قربانی پر اعتراض فضول ہے: باوجود ان مثالوں کے اسلام کی قربانی پر اعتراض کرنا فضول حرکت بلکہ دیدہ دانستہ ایک دل آزار حملہ ہے۔ ایسے لوگ یا تو خدا کے منکر ہیں یا قربانی کے اصول سے ناواقف اور پھر اسلامی فلاسفی سے مطلق جاہل۔ یہ لوگ اگر عام قانون قدرت کو دیکھیں تو بھی انہیں اپنا اعتراض واپس لینا پڑے۔

3۔ حیات عالم قربانیوں پر موقوف ہے: کیا وہ نہیں دیکھتے چھوٹی چیزیں بڑی چیزوں پر قربان ہوتی ہیں اور اس قربانی سے تباہی نہیں پڑتی بلکہ ترقی ہوتی ہے آکسیجن کی قربانی نہ ہو تو حضرت انسان زندہ نہ رہ سکیں بلکہ کوئی متنفس نہ دیکھا جائے۔ کاربن نہ ہو تو درخت سرسبز نہ ہوں پھر درخت قربان نہ ہوں جن میں ایک قسم کی روح مانی جاتی ہے تو انسان کو زندگی دوبھر ہو کوئی حیوان زندہ نہ رہے حیوان قربان نہ ہوں تو انسان کے لئے دنیا کی رہائش وبال جان ہو جائے جو لوگ بڑے رحمدل بنتے ہیں اور کہتے ہیں قربانی ایک ظلم ہے ان کے زخموں میں اگر کیڑے پڑ جائیں تو ان کی ہلاکت پر تو وہ بھی خوش دلی سے راضی ہیں اور اگر زخموں سے بچے رہیں تو کم از کم پانی پینے سے انکار نہیں کرسکتے جس میں ہزاروں لاکھوں کیڑوں کی قربانی ہو جاتی ہے یہ باتیں خدا کے منکروں اور خدا پرستوں دونوں پر حجت ہیں۔ پھر تمام مذاہب خصوصاً ہمارے آریہ معترض خدا تعالیٰ کو دیالو کرپالو، رحیم کریم مانتے ہیں خود اس کی مملکت میں ہم دیکھتے ہیں باز، شاہین، بلیاں، شیر، چیتے، بھیڑیئے اور مگر مچھ دوسرے جانوروں کو کھا جانے والے جانور موجود ہیں۔ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں یہ قانون ذبح آخر اُسی کا بنایا ہوا ہے پس قربانی پر اعتراض کرنا خدا کے فعل پر خدا کے قانون پر اعتراض کرنا ہے۔ بلکہ اس پہلو سے اگر دیکھیں کہ یہ معترض بھی آخر کار ان حیوانوں سے خدمت لیتے ہیں ان سے دودھ دوہتے ہیں ان پر بوجھ لادتے ہیں ان سے طرح طرح کی مشقتیں لیتے ہیں یہ بھی ایک قسم کی قربانی ہے اس کا حق ان کو کس طرح حاصل ہوا اگر کہیں کہ ہم ان کو کھلاتے پلاتے ہیں تو میں سوچتا ہوں جب ایک انسان اشرف المخلوقات کو چند روپے ماہوار تنخواہ دے کر بادشاہ کو حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ سپاہی اس پر اس کے بدلہ میں اپنی جان فدا کرے تو ایک جانور کی قربانی میں کیا محذور ہے؟خصوصاً ان لوگوں کے نزدیک جو تناسخ کے قائل ہیں کیونکہ ذبح اگر تکلیف دہ امر ہے تو بھی ان کے پچھلے جسم کے پاپوں کی سزا میں ہی ہوگا۔ اور یہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا کہ اگر جانورں کی قربانی چھوڑ دی جائے تو وہ پھر نہیں مریں گے۔ یا ان کی کثرت عرصہ عالم کو ان پر تنگ نہیں کردے گی۔

4۔ اسلام کی اصلاح مسئلہ قربانی میں : دنیا کو اسلام کا ممنون ہونا چاہئے کہ اس نے اس مسئلہ قربانی میں افراط و تفریط چُھڑا کر ایک وسطی راہ بتائی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اللہ تعالیٰ ہزار ہا سلام بھیجے اور لاکھوں رحمتیں نازل کرے جو یہودیوں، عیسائیوں، مجوسیوں (آریہ، سناتن سب مجوس ہی میں سے ہیں) اور اسلامیوں کے مانے ہوئے پیشوا ہیں آپ نے انسانی قربانی کی رسم کو اٹھا دیا اور اس کی بجائے دنبہ اور اس قسم کے حلال جانوروں کی قربانی قائم کی۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کررہا ہوں۔ (انی ارٰی فی المنام اَنی اذبحک) الصافات: 103 آپ نے حکم الہٰی کے ماتحت اس بیٹے کی بجائے ایک دنبہ ذبح کیا (و فدینٰہ بذبح عظیم) الصافات: 108 اور اس طرح پر انسانی قربانی کی اصل کو واضح کیا اورپھر یہ ایک نیک رسم پیچھے آنے والوں میں جاری کردی (و ترکنا علیہ فی الاٰخرین) الصافات :109 اسلام نے قربانی کے مسائل کو کھول کر بتایا ایک طرف ان لوگوں پر اتمام حجت کی جو اپنی دیوی دیوتاؤں اور بتوں کے نام پر قربانیاں کرتے تھے کہ دیکھو ہم ان کے نام کی قربانیاں نہیں کرتے مگر وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتےہماری قربانیاں تومحض اللہ کےنام کی ہیں۔ ان صلوٰتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین۔ (الانعام :163) تم بھی جو قربانی کرو اللہ کے نام کرو دوسری طرف جو خدا کے نام پر قربانی کرتے تھے ان کو سمجھایا کہ محض آگ میں جلادینے سے کچھ فائدہ نہیں خدا کو گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ اُس کو تمہار اتقویٰ پہنچتا ہے۔ لن یّنال اللہ لحومھا ولا دمآؤھا ولکن ینالہ التقوٰی منکم۔ (الحج:38) پس خدا کے نام پر جیسے اپنی اور متاع قربان کرتے ہو ایسے ہی اپنے قبضے کے جانور (کہ وہ بھی تمہارے خادم ہیں) ذبح کر کے خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ۔ فاذا وجبت جنوبھا فکلوا منھا وا طعموا القانع والمعتر کذالک سخّرنٰھالکم لعلکم تشکرون۔ (الحج:37)

5۔ اسلامی قربانی کی فلاسفی: اور پھر اس سے یہ سبق سیکھو کہ ہم بھی اپنے مولیٰ اپنے رب کے بندے ہیں تمام قویٰ اُسی کے دئے ہوئے ہیں ہمیں بھی چاہئے کہ جان و مال سے اُس کی محبت اُس کی اطاعت اُس کی فرمانبرداری میں فنا ہو جائیں۔ اور ابدی بقا حاصل کریں۔ چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا۔ پارہ 17 سورۃ حج رکوع 12 میں بعد حکم قربانی کے، کذالک سخّرھا لکم لتکبروااللہ علیٰ ما ھدکم و بشّر المحسنین۔ (الحج:38) پھر اس سے آگے جہاد کا ذکر ہے جس میں امن قائم کرنے کے لئے اپنی جانیں خدا کی راہ میں قربان کرنے کی اجازت فرمائی ہے۔

6۔ قربانی سنت ہے یا واجب: یہ اصطلاحیں بعد میں وضع ہوئی ہیں اس لئے ان جھگڑوں میں پڑنا ٹھیک نہیں۔ (اوّل) حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت ہے کہ فرمایا رسول کریمﷺ نے، من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقربنّ مصلّانا۔ (بلوغ المرام) یعنی جو باوجود استطاعت قربانی نہ کرے وہ ہمارے مصلے کے پاس تک نہ پھٹکے اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ قربانی واجب ہے۔ لیکن دوسرا فریق یہ متفق علیہ حدیث پیش کرتا ہے جس کے راوی براء ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلعم نے، و من ذبح بعد الصلوٰۃ فقد تمّ نسکہ و ا صاب سنّۃ المسلمین۔ کہ جس نے عید کی نماز پڑھ کر قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی اور وہ مسلمانوں کی سنت پر چلا (مشکوٰۃ باب العیدین)۔ (دوم) اصحاب رسول اللہ نے آپ ﷺ سے دریافت کیا۔ ما ھذہ الاضاحی۔ یہ قربانیاں کیا ہیں؟۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: سنّۃ ابیکم ابراھیم علیہ السلام۔ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی ایک امر مسنون ہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے ایک شخص کو کیا اچھا جواب دیا کہ قربانی کی پیغمبر خدا صلے اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے دو بار۔ اُس نے پھر پوچھا تو دوبارہ یہی جواب دیا۔ (ترمذی)

7۔ قربانی کا التزام اور فضیلت: ابن عمرؓ راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ مدینہ میں دس سال زندہ رہے اور آپﷺ قربانی فرماتے تھے(مشکوٰۃ) اور زید بن ارقم کی روایت سے ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا۔ بکُلّ شعرۃ حسنۃ اور بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ۔ بدلے ہر بال کے بلکہ پشم کے بال بال کے بدلے میں ایک ایک نیکی ہے۔ ایک اور حدیث ہے جس کی راویہ حضرت عائشہ صدیقہؓ ہیں۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما عمل ابن اٰدم من عمل یّوم النّحر احب الی اللہ من اھراق الدّم و انّہ لیاتی یوم القیامۃ بقُرونھا واشعارھا واظلافھا و انّ الدّم لیقعُ من اللہ بمکان قبل ان یّقع بالارض فطیبو بھا نفساً (رواہ الترمذی) فرمایا رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل نحر کے دن قربانی کرنا ہے وہ قربانی قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں کے ساتھ حاضر ہوگی اور قربانی کا خون، گرنے سے پہلے جناب الہٰی میں قبول ہوتا ہے پس خوشدلی سے قربانی دو۔ (مشکوٰۃ)

8۔ قربانی کس پر؟: 1۔ میں اس کے جواب میں کہوں گا ہر ایک مسلمان پر جو وسعت رکھے کوئی نصاب مقرر نہیں جب تک لوگوں میں خشیۃ اللہ ہے۔ اور شریعت پر عمل کرنے کا شوق، یہ واجب ہے لیکن بعض لوگ سستی کرتے ہیں اور پھر بعض حیلے تلاش کرتے رہتے ہیں زیادہ تعجب یہ ہے کہ اگر طعام تفاخر کا موقعہ ہو تو بے دریغ قرض لے کر بھی کئی بکرے ذبح کردینگے مگر قربانی کے دن مسئلہ پوچھیں گے کہ میں غریب آدمی ہوں قربانی کے بارے میں مجھے کیا ارشاد ہے۔ ان کے لئے فقہاء حنفیہ نے ضابطہ مقرر کردیا ہے کہ جس کے پاس جائداد بقدر نصاب شرعی ساڑھے باون روپے مسکن اور متاع مسکن اور سواری اور خادم کے سوا ہووے۔ اس پر قربانی لازم ہے زمین، زیور، اسباب تجارت، رہائشی مکان کے سوا دوسرے مکان کی مالیت جائداد میں محسوب ہوگی بلکہ بقول بعض کتب غیر دینی اور اس کے دہرے نسخے بھی۔

ہر ایک گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی ہے مخنّف بن سلیم روایت کرتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے حضور عرفات میں تھے تو میں نے سنا آپﷺ فرماتے تھے یایّھا النّاس انّ علیٰ کل اھل بیت فی کل عام اضحیّۃ۔ اے لوگو!ہر اہلبیت پر ایک سال میں ایک قربانی ہے۔

قربانی دوسروں کی طرف سے بھی کی جا سکتی ہے اپنی عورتوں کی طرف سے بچوں کی طرف سے مسافر کی طرف سے۔ ایک حدیث ہے جس کی راویہ حضرت عائشہ صدیقہؓ ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک سینگ والے دنبے کے لانے کا ارشاد فرمایا جس کے پاؤں سینہ پیٹ آنکھیں سیاہ تھیں۔ آپﷺ نے فرمایا عائشہؓ چُھری لانا اور اسے پتھر پر تیز کرلے۔ چنانچہ میں نے تیز کی پھر آپﷺ نے دنبے کو لٹایا۔ اور اسکو ذبح کیا یہ کہتے ہوئےکہ، بسم اللہ اللھم تقبّل من محمد و اٰل محمد و من امّۃ محمد (رواہ مسلم)۔ اللہ کے نام سے اے اللہ قبول کر محمدﷺ سے اور آل محمد سےاور امت محمد سے۔ اسی طرح بخاری شریف میں ہے حدثنا مسدد قال حدثنا سفیان عن عبدالرحمٰن بن القسم عن ابیہ عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم دخل علیھا و حاضت بسرف قبل ان تدخل مکۃ وہ ھی تبکی فقال ما لک انفستِ قالت نعم قال ان ھذا امر کتبہ اللہ علیٰ بنات اٰدم فاقضی ما یقضی الحاج غیر ان لا تطوفی بالبیت فلما کنّا بمنی اتیتُ بلحم بقر فقلت ما ھذا فقالوا ضحٰی رسول اللہ عن ازواجہ بالبقر۔ کہ نبی صلے اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں جب عائشہؓ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔ فرمایا کیا ہے حیض آگیا! عرض کیا ہاں فرمایا۔ یہ تو وہ بات ہے جو آدم کی تمام لڑکیوں کے واسطے مقدر ہے پس سوائے طواف بیت کے اور حاجیوں کی طرح تمام عبادات بجا لاؤ۔ پھر جب ہم منٰی میں گئے تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا یہ کیسا ہے؟ تو لوگوں نے کہا۔ رسول اللہﷺ نے اپنی بیبیوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ اس حدیث سے دو مسئلے نکلے ایک تو یہ کہ دوسرے کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے۔ دوم یہ کہ مسافرکو بھی قربانی دینی چاہئے۔

حنش سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو دیکھا دو دنبے ذبح کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ فرمایا رسول اللہﷺ نے مجھے وصیت کی تھی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں چنانچہ اس ارشاد کی تکمیل کرتا ہوں اس سے ثابت ہے کہ متوفٰی کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے۔

آجکل مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو قربانی کی فلسفی اور اسکی حکمت سے جاہل محض ہیں وہ کہتے ہیں قربانی کی قیمت کسی فنڈ میں دے دینی چاہئے یہ شریعت کی از سرنو ترمیم ہے اور ایسا ہرگز جائز نہیں۔

9۔ قربانی کون ذبح کرے اور کیا پڑھے؟: سب سے بہتر یہی ہے کہ قربانی اپنے ہاتھوں سے کرے بخاری شریف میں انسؓ سے روایت ہے کہ، ضحی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بکبشین املحین فرایتہ واضعا قدمہ علیٰ صفا حھما یُسمّی و یکبر فذبحھما بیدہ۔ نبی صلے اللہ علیہ وسلم نے دو ابلق دنبوں کی قربانی کی۔ پس میں نے آپﷺ کو اپنا قدم دونوں کے پہلوؤں پر رکھے ہوئے دیکھا (یہ طریق ذبح ہے یاد رکھئے) بسم اللہ و اللہ اکبر پڑھا اور پنے ہاتھ سے ذبح فرمائے۔

صابرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے پڑھا۔ انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض علیٰ ملۃ ابراھیم حنیفا و ما انا من المشرکین ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین۔ لا شریک لہ و بذلک امرت و انا من المسلمین ۔ اس کے بعد بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا اگر کوئی اور مرد یا عورت ذبح کردے تو بھی جائز ہے۔

10۔ قربانی کے جانور کی عمر: اونٹ، گائے بکری، دنبہ اور بھیڑ کی قربانی مسنون ہے۔ حدیث میں ہے۔ قال رسول اللہ صلعم لا تذبحوا الّا مسنّۃ الا ان یعسر علیکم فتذبحوا جذعۃ من الضان (رواہ مسلم) ۔ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ نہ ذبح کرو مگر مسنّہ، اگر نہ ملے تو پھر دنبہ کا جذعہ۔ یہ بات تو مسلمہ فریقین ہے کہ اونٹ پانچ سال کا چھٹے سال میں قدم رکھ کر۔ اور گائے بیل دو سال کا تیسرے سال میں قدم رکھ کر مسنّہ ہوتا ہے۔ ہدایہ میں بھی یہی ہے لیکن بکری اور بھیڑ کے بارے میں اختلاف ہے۔ میرے خیال میں جب دانت دیکھے جا سکتے ہیں تو زیادہ جھگڑے کی ضرورت کیا ہے۔ میں نے یہ مسئلہ حضرت الامام الحکم العادل سے دریافت کیا۔ آپؑ نے مجھے فرمایا۔ مولوی (نورالدین) صاحب سے پوچھ لو۔ تو آپؓ نے مجھے فرمایا کہ میری تحقیق میں بکری بھیڑ دو سال کی چاہئے پھر ایک دوسرے موقعے پر یہ فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تعامل میں کچھ اختلاف ہے۔ اس لئے مومن اس اختلاف سے بوقت حاجت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

11۔ قربانی کے شرکاء: گائے اور اونٹ میں سات آدمیوں کا شریک ہونا جائز ہے وعن جابر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال البقرۃ عن سبعۃ و الجزور عن سبعۃ رواہ مسلم یعنی جابر سے روایت ہے کہ نبی صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گائے سات کی طرف سے کفایت کرتی ہے علیٰ ہذا القیاس۔

یہ سات آدمی مسلمان ہونے چاہئیں۔ فقہ کی کتابوں میں صاف لکھا ہے کہ اگر ایک بھی کافر ہو تو قربانی ناجائز ہوگی اور ان کے حصے برابر برابر ہوں۔ غیر احمدی کی شرکت حضرت اقدس کو بہت نا پسند تھی یعنی ناجائز ہے۔ کیونکہ قربانی تو متقیوں سے اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے جیسا کہ قابیل و ہابیل کے قصے میں فرمایا۔ انّما یتقبل اللہ من المتقین (المائدہ :28)۔ وہ انسان کیونکر متقی کہلا سکتا ہے جو خدا کے فرستادے خدا کے نبی کا مکذب ہو یا اس کو مفتری کہتا ہو یا اپنے طرز عمل اور لاپرواہی سے مفتری جانتا ہو اور ان ہزار ہا نشانوں کو لغو سمجھتا ہو یا ان کا انکار کرتا ہو جو خدا نے اسکی تصدیق میں دکھائے۔

12۔ جانور کیسا ہو؟: بیمار نہ ہو وہلا نہ ہوبے آنکھ نہ ہو۔ کان چرا ہوا نہ ہو۔ لنگڑا نہ ہو۔

1۔ براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے پوچھا ہم کس قسم کے جانوروں کی قربانی میں اجتناب کریں تو آپﷺ نے ہاتھوں سے اشارہ فرمایا۔ اربعا العرجآء البیّن ظلعھا والعوراء البیّن عورھا والمریضۃ البیّن مرضھا والعجفاء التی لا تنقی (مشکوٰۃ) یعنی چار۔ ایک لنگڑی جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔ دوم کانی جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ سوم مریضہ جس کا مرض ظاہر ہو۔ چہارم دبلی جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔

دوسری حدیث حضرت علیؓ سے مروی ہے جو یہ ہے ۔ امر رسول اللہ صلعم ان نستشرف العین و الاذن و ان لا نضحّی بمقابلۃ ولا مدابرۃ ولا شرقاء ولا خرقاء (رواہ الترمذی)۔ ہمیں رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ ہم آنکھ اور کان کو دیکھ بھال لیا کریں۔ قربانی کا جانور ایسا نہ ہو کہ اس کا اگلی طرف یا پچھلی سے کان کٹا ہوا ہو یا اسکا کان چرا ہوا ہو یا پھٹا ہوا ہو۔ پھر فقہاء نے اسی پر قیاس کر کے دُم اور سُرین کو ملایا ہے۔ اور ایک حدیث میں سینگ کٹی بھی ممنوع ہے پھر اس بات میں بحث ہے کہ یہ کٹنا کس قدر ہو۔

13۔ آداب قربانی: 1۔ مسلم میں ایک حدیث ہے۔ من رای ھلال ذی الحجۃ و اراد ان یضحی فلا یاخذ من شعرہ ولا من اظفارہ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ جو حج کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ کرے تو اپنے بال اور ناخن نہ کٹائے۔

ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ عید گاہ میں ذبح فرماتے تھے حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یذبح ینحر بالمصلّٰی۔ (رواہ البخاری)

نماز عید سے بعد ذبح کرے اگر کسی نے پہلے کر دیا ہو تو وہ قربانی نہیں اس لئے پھر کرے۔ بخاری میں براء سے حدیث ہے کہ میں نے نبی صلے اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے اس روز سب سے اول ہم نماز پڑھتے ہیں پھر نماز سے فارغ ہو کر قربانیاں کرتے ہیں پس جس نے ایسا کیا وہ ہماری سنت پر چلا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل عیال کے لئے مہیا کرلیا قربانی نہیں۔ ان اوّل ما نبدء بہ من یومنا ھذا ان نصلی ثم نرجع فننحر فمن فعل ھذا فقد اصاب سنتناو من نحر فانما ھو لحم یقدمہ لاھلہ لیس من النسک فی شیء۔ (دوم) عن انس عن النبی صلعم قال من ذبح قبل الصلوٰۃ فلیعد۔ انسؓ سے روایت ہے نبی صلے اللہ علیہ وسلم سے فرمایا جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا وہ قربانی کے واسطے پھر ذبح کرے۔

14۔ ایّام قربانی: عید کے دن جسے یوم النحر کہتے ہیں اور یوم الاضحٰی اور اس کے بعد دو دن تک قربانی کی جاسکتی ہے بعض علماء نے تین دن بعد یعنی تیرہویں تاریخ تک فتویٰ دیا ہے۔ تیرہ تاریخ کے فتوے پر صاحب بحر لکھتا ہے لم یعمل بہ احد من الصحابۃ (کسی صحابی نے اس پر عمل نہیں کیا)۔

عن نافع ان ابن عمر قال الاضحی یومان بعد یوم الاضحٰی رواہ مالک و قال بلغنی عن علیّ ابن طالب مثلہ۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ قربانی عید کے بعد دو دن تک ہے اور علی ابن طالبؓ سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔

15۔ تقسیم قربانی: قربانی نام ہے ہراقتہ دم (خون بہانے کا) نہ کہ گوشت کے صدقہ کرنے کا جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہے جو بروایت حضرت عائشہؓ مشکوٰۃ میں موجود ہے۔ ما عمل ابن ادم من عمل یوم النحر احبّ الی اللہ من اھراق الدم۔ پس جس نے حسب شرائط متذکرہ بالا جانور ذبح کیا اس کی قربانی ہوگئی اب گوشت خود کھا جائے کسی کو نہ دے اسی طرح کھال سے خود نفع اٹھائے تو قربانی میں کوئی فتور نہیں پڑتا لیکن کریم النفس شرفاء کا طریق ہے کہ وہ خود کھاتے ہیں دوسروں کو کھلاتے ہیں خویش اقارب کو پہنچاتے ہیں اور مسکینوں محتاجوں کو بھی دیتے دلاتے ہیں اس لئے عام طور سے یہ قاعدہ ہے کہ تین حصے کر لیتے ہیں۔

بخاری کتاب الاضاحی میں حدیث سلمہ بن الاکوع سے روایت ہے کہ فرمایا نبیﷺ نے، کلوا و اطعموا وادخروا۔ یعنی کھاؤ کھلاؤ اور ذخیرہ کرو یعنی گوشت سکھا لو۔ اور ایک حدیث میں ہے کلو ا وادخروا و تصدّقوا۔ کھاؤ ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔ قرآن مجید میں ہے۔ فاذا وجبت جبوبھا فکلوا منھا و اطعموا القانع والمعتر (الحج:37)۔ جس وقت قربانی کے پہلو زمین پر لگ جائیں تو اس سے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور سائل فقیر کو کھلاؤ۔ اور ایک مقام پر فرمایا۔ فکلوا منھا واطعموا البائس الفقیر (الحج:29)۔ بھوکے نادار کو کھلاؤ۔

قربانی کا گوشت بیچنا ناجائز ہے حدیث میں ہے۔ فکلوا ما شئتم ولا تبیعوا لحوم الھدی والاضاحی و کلوا و تصدّقوا واستمتعوا بجلودھا ولا تبیعوھا (رواہ احمد)۔ اور کھاؤ جتنا چاہو اور صدقہ کرو اس کی کھال سے فائدہ اٹھاؤ مگر بیچو نہیں یہ بیچنا بقصد تمول ناجائز ہے۔ 3۔ کھال وغیرہ اتارنے گوشت صاف کرنے کی مزدوری الگ دینی چاہئے جیسا کہ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں آپ کی طرف سے قربانیاں کر کے ان کا گوشت اور چمڑے مسکینوں پر تقسیم کردوں اور کھال اتروانے کی مزدوری اس میں سے نہ دوں۔ (ولا اُعطی فی جزارتھا شیئا) دیکھو بلوغ المرام

16۔ امور مسنونہ بتقریب عید اضحٰی:قرآن مجید میں ہے۔ و یذکروا اسم اللہ فی ایام معلومات۔ (الحج :29) اور اللہ کا نام لیں مقررہ دنوں میں۔ حاکم نے اس روایت کی تخریج کی اور اسے صحیح کہا کہ رسول اللہ ﷺ بسم اللہ جہراً فرماتے۔ فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے اور حج کے دن کی صبح سے لے کر آخری یوم تشریق کی عصر کی نماز تک تکبیر کہتے۔ ہدایۃ الہداۃ میں بروایت جابر مرفوعاً روایت ہے کہ فرض نماز کا سلام پھیرنے کے بعد درمیانی آواز سے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد پڑھنا چاہئے کل 23 نمازوں میں۔

عید والے دن یہ امر مسنون ہیں۔ غسل مسواک آرائش عمدہ کپڑا خوشبو سویرے اٹھنا عیدگاہ میں جلد جانا قربانی بعد از نماز عید نماز باہر پڑھنا 10۔ جس راہ سے آویں گیارہ تکبیر کہتے آنا جانا۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر و للہ الحمد۔ نیز مستورات بھی عید گاہ میں جائیں۔

چند احادیث اس کے متعلق لکھتا ہوں:
عن بریدۃ قال کان النبی لا یخرج یوم الفطر حتّی یطعم ولا یطعم یوم الاضحٰی حتّی یصلّی (دیکھو بلوغ المرام)، نبی صلے اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھا کر نکلتے تھے اور اضحٰی کے دن نماز پڑھ کر پھر کھاتے تھے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس عید کا نام اضحٰی ہے نہ کہ عید الاضحٰی جیسا کہ اکثر لوگ لکھتے ہیں۔ دوم یہ کہ نماز عید اضحٰی جلد پڑھنی چاہئے۔

و عن ابی ھریرۃ انھم اصابھم مطر فی یوم عید فصلی بھم النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلوٰۃ العید فی المسجد۔ ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ عید والے دن بارش ہوگئی تو نبی کریم ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھائی اس سے ثابت ہوا کہ عید حتی الوسع باہر عید گاہ ہی میں پڑھنی چاہئے جیسا کہ ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں، کان النبی یخرج یوم الفطر والاضحٰی الی المصلّی (مشکوٰۃ)

جابر روایت کرتے ہیں کہ کان رسول اللہ اذا کان یوم العید خالف الطریق (اخرج البخاری) دیکھو بلوغ المرام۔ رسول اللہ ﷺ عید کے دن جس راستے جاتے اس سے دوسرے راستے آتے اور راہ میں تکبیر پڑھتے جاتے۔ ابن عمرؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر کہتے جاتے گھر سے نکلنے کے وقت سے عید گاہ میں اور نافع حضرت ابن عمرؓ کا فعل بیان کرتے ہیں کہ یوم الفطر ااور یوم الاضحٰی کو تکبیر (اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و للہ الحمد) بآواز بلند پڑھتے جاتے۔ (بیہقی) دیکھو فتح القدیر۔

17۔ طریق نماز: 1۔ عید کی نماز کا وقت دن چڑھنے سے زوال تک ہے۔

عید اضحٰی کی نماز عید الفطر سے جلد پڑھنی چاہئے چنانچہ ابوالحویرث روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عمرو بن حزم کو لکھا اور وہ نجران میں تھے کہ، عجل الاضحٰی واخّر الفطر و ذکر النّاس رواہ (الشافی مشکوٰۃ) اضحٰی کی نماز جلد پڑھ اور فطر کی ذرا اس سے تاخیر کے ساتھ اور لوگوں کو وعظ کر۔

سب سے اول نماز پڑھنی چاہئے، کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخرج یوم الفطر والاضحٰی الی المصلّی و اول شییء یبدء بہ الصلوٰۃ ثم ینصرف فیقوم مقابل الناس و الناس علی صفوفھم فیعظھم و یامر ھم (متفق علیہ) یعنی نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم عید فطر و عید اضحٰی کے دن عید گاہ میں نکلتے تو سب سے پہلے جو بات کرتے وہ نماز تھی پھر لوٹ کر لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے اور لوگ اپنی صفوں پر بیٹھے رہتے پس آپ ﷺ ان کو وعظ فرماتے اور انکو حکم فرماتے۔ پس عید گاہ میں جا کر پہلے وعظ شروع کردینا جیسا کہ بعض حنفیہ کا معمول ہے ناجائز ہے اور نماز کے بعد اکثر لوگ صفوں کی ترتیب میں خلل ڈال کر گھروں کی طرف بھاگنے لگتے ہیں یہ بھی خلاف سنت ہے خطبہ کو ضروری نہیں سمجھتے۔ افسوس کہ عید میں اجتماع کے فلسفیانہ مقاصد سے لوگ آگاہ نہیں اور کچھ خطیبوں کا قصور ہے کہ وہ کوئی بوسیدہ عربی خطبہ پڑھتے ہیں جسے حاضرین سمجھتے نہیں اس لئے بے دلی سے رخصت ہو جاتے ہیں ایسے موقعہ پر حالات و ضروریات کے مطابق ایک فصیح بلیغ خطاب قوم کو ہونا چاہئے اور امام کو چاہئے کہ عورتوں میں بھی وعظ کرے بخاری اور مسلم دونوں میں یہ حدیث ہے کہ بعد از نماز و خطبہ حضرت نبی کریم ﷺ عورتوں میں آئے اور ان کو وعظ کیا اور نصیحت دی۔ اور صدقہ کی تحریک فرمائی۔ (ثم اتی النسآء فوعظھن و ذکرھن و امر ھن بالصدقۃ)۔ عورتوں میں باوجود خطبہ کے پھر خصوصیت سے وعظ کرنے کی یہ وجہ تھی کہ آپ ﷺ نے گمان کیا کہ عورتیں بوجہ دور ہونے کے سن نہیں سکیں۔ چنانچہ بخاری کتاب العلم میں ہے کہ ، فظن انہ لم یسمع فوعظھن و امرھن بالصدقۃ۔

اذان اور اقامہ اس نماز میں نہیں۔ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی العید بلا اذان ولا اقامۃ (بلوغ المرام) نبی صلے اللہ علیہ وسلم نے عید بغیر اذان و اقامت کے پڑھائی اور جابر بن سمرۃ ؓسے روایت ہے کہ صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم العیدین مرۃ ولا مرتین بغیر اذان ولا اقامۃ (رواہ مسلم) میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک بار نہیں دو بار نہیں بلکہ کئی بار عیدین پڑھیں بغیر اذان و اقامت کے۔ مشکوٰۃ میں ایک اور حدیث ہے۔ عطاء کہتے ہیں مجھے جابر بن عبداللہ ؓنے خبر دی۔ ان لا اذان للصلوٰۃ یوم الفطر حین یخرج الامام ولا بعد ما یخرج ولا اقامۃ ولا نداء ولا شییء لا نداء یومئذ ولا اقامۃ (رواہ مسلم) کہ عید کے دن نماز کے لئے نہ کوئی اذان جب امام نکلے اور نہ اس کے نکلنے کے بعد، نہ اقامت اور نہ کوئی اور آواز اور نہ کچھ نہ کسی طرح پکارنا۔ پس ثابت ہوا کہ کہ نقارہ بجانا یا کسی کا آواز دینا کہ چلو نماز پڑھیں سنت میں عیدین کے متعلق اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ایسا ہی عید کی دوسری جماعت جائز نہیں۔

دو رکعت نماز ہے اور اس سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں ۔ عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلّی یوم العید رکعتین لم یصل قبلھما ولا بعد ھما اخرجہ السبعتہ۔ نبی کریم ﷺ نے دو رکعتیں عید کے دن پڑھیں نہ اس سے پہلے کچھ پڑھا نہ بعد میں۔

تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ لے ثناء پڑھ کر پھر سات تکبیریں اور کہے ہر تکبیر پر ہاتھ کانوں کے برابر لے جا کر کھلے چھوڑ دے اور ساتویں پر باندھ لے۔ پھر قرات پڑھے اور دوسری رکعت میں قبل از قرات، سوا اس تکبیر کے جو سجدے سے اٹھتے وقت کہی جاتی ہے پانچ تکبیریں کہے اور پانچویں تکبیر پر ہاتھ باندھ لے بلوغ المرام میں حدیث ہے ۔ التکبیر فی الفطر سبع فی الاولیٰ و خمس فی الاخرۃ والقراءۃ بعد ھما کلیتھما (اخرجہ ابو داؤد و نقل الترمذی عن البخاری تصحیحہ) تکبیریں پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں ہیں اور قرات ان دونوں کے بعد۔ ترمذی نے اس حدیث کی بخاری سے تصحیح نقل کی ہے۔

ب۔ اور قرات میں جہر کرنا چاہئے۔ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم و ابا بکر و عمر کبّر فی العیدین والاستسقاء سبعا و خمسا و صلّو ا قبل الخطبۃ و جھّروا بالقراءۃ (مشکوٰۃ)، بنی کریمﷺ ، ابوبکرؓ اور عمرؓ نے عیدین و استسقاء میں سات اور پانچ تکبیریں کہیں اور خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور قرات بآواز بلند پڑھی۔

ج۔ میدان میں سُترہ کھڑا کر لیں اور نبی کریم ﷺ نے کمان پر سہارا دے کر خطبہ پڑھا۔

د۔ سبح اسم، ھل اتاک حدیث الغاشیۃ، قٓ، اقتربت الساعۃ یہ سورتیں پڑھنے کا معمول تھا۔ (اخرجہ الستۃ الا البخاری) وعن النعمان بن بشیر قال کان رسول اللہ صلعم یقرا فی العیدین و فی الجمعۃ بسبح اسم ربک الاعلیٰ و ھل اتاک حدیث الغاشیۃ (رواہ مسلم) دوم۔ عبید اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓنے ابو واقد اللیثی سے پوچھا کہ ما کان یقرا بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الاضحٰی و الفطر فقال کان یقرا ء فیھما بقٓ والقراٰن المجید واقتربت الساعۃ (رواہ مسلم) رسول اللہ صلعم اضحٰی اور فطر کو کیا پڑھتے تھے تو انہوں نے کہا، قٓ والقرآن المجید اور اقتربت الساعۃ۔

٭…٭…٭

(قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جولائی 2020ء