• 7 اگست, 2020

حج بیت اللہ اور عید الاضحی

ارکانِ اسلام میں چوتھا رکن حج ہے۔ حج کی فرضیت اور مناسک کا تفصیلی تذکرہ قرآن کریم میں آیا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حج فرما کر اس کے مناسک پر عملدرآمد کی سنت بھی امت کے لئے جاری فرمادی ہے۔ سورۃ آل عمران آیت 98میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ وہ اس کے گھر کا حج کریں یعنی جو بھی اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔

سورۃ الحج آیت 28میں فرمایا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دے وہ تیرے پاس پاپیادہ آئیں گے اور ہر ایسی سواری پر بھی جو لمبے سفر کی تھکان سے دبلی ہوگئی ہو۔وہ سواریاں اور چیزیں ہر گہرے اور دور کے راستے سے آئیں گی۔

حج کے مناسک کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت159میں فرمایا کہ یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔پس جو کوئی بھی اس بیت کا حج کرے یا عمرہ ادا کرے تواس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا بھی طواف کرے۔سورۃ البقرہ کی آیت 196تا201 میں مناسک حج کا تفصیل سے بیان موجود ہے۔

حج کی حکمت اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’سالک کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ وہ انقطاع نفس کر کے تعشق باللہ اور محبتِ الٰہی میں غرق ہو جاوے۔ عاشق اور محب جو سچا ہوتا ہے وہ اپنی جان اور اپنا دل قربان کر دیتا ہے اور بیت اللہ کا طواف اس قربانی کے واسطے ایک ظاہری نشان ہے جیسا کہ ایک بیت اللہ نیچے زمین پر ہے ایسا ہی ایک آسمان پر بھی ہے۔ جب تک آدمی اس کا طواف نہ کرے اس کا طواف بھی نہیں ہوتا۔ اس کا طواف کرنے والا تو تمام کپڑے اتار کرایک کپڑا بدن پر رکھ لیتا ہے اس کا طواف کرنے والا بالکل نزع ثیاب کر کے خدا کے واسطے ننگا ہوجاتا ہے۔ طواف عشاق الٰہی کی ایک نشانی ہے۔ عاشق اس کے گرد گھومتے ہیں گویا انکی اپنی مرضی باقی نہیں رہی۔ وہ اس کے گردا گرد قربان ہورہے ہیں۔‘‘

(البدرمورخہ 10جنوری 1907ء صفحہ15)

حج کے لئے مالی استطاعت، صحت، راستے کا امن ہونا ضروری ہے گویا یہ مشروط فرض ہے۔ حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں:۔
’’جو شخص خواہ تنگی مال یا راستہ کی خرابی یا ضعف و بیماری کی وجہ سے حج نہیں کر سکتا اور نیت رکھتا ہے کہ روک دور ہو تو حج کروں وہ ایسا ہی ہے گویا اس نے حج کیا۔‘‘

(الفضل 4/مئی 1922ء)

حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں:۔
’’چوتھا حکم حج کا ہے۔ اگر سفر کرنے کے لئے مال ہو، راستہ میں کوئی خطرہ نہ ہو،بال بچوں کی نگرانی اور حفاظت کا سامان ہو سکتا ہو تو زندگی میں ایک دفعہ حج کرنے کا حکم ہے۔‘‘

(الازہارلذواتِ الخمارصفحہ 24)

پھر فرمایا : ’’اگر خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دے تو حج کرے اس کے لئے کئی شرطیں ہیں مثلاً مال ہو،رستہ میں امن ہو اور اگر عورت ہو تو اس کے ساتھ اس کا خاوند یا بیٹا یا بھتیجا یا ایسا کوئی اور رشتہ دار محرم جانے والاہو۔‘‘

(الازہارلذواتِ الخمارصفحہ47)

سن6ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پرحج کے قصد سے نکلے تھے لیکن آپ ؐ کو حج اور عمرہ سے رو ک دیا گیا اورآپؐ نے حج اور عمرہ نہیں فرمایا اور صلح کا معاہدہ کیا اور جو قربانیوں کے جانور آپؐ لیکر گئے تھے آپ ؐ نے وہ قربانی کے جانور ذبح کر دئیے اور آپؐ کی سنت میں صحابہ نے بھی اپنے جانور قربان کر دئیے۔آپؐ حج سے روکے گئے تو آپ ؐ نے حج نہیں فرمایا بلکہ امن کے راستہ کو اختیار فرمایا۔ آپؐ کے اس عمل نے آئندہ عظیم الشان فتوحات کے دروازے کھولے۔

عید الاضحٰی یا قربانی کی عید

10 ذی الحج کو عید الاضحٰی منائی جاتی ہے۔ اس کو قربانی کی عید بھی کہتے ہیں اور بر صغیر میں اسے بڑی عید بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عید قربانی کے جذبے کو اجاگر کرنے والی اور حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی عظیم قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔حضرت ابراہیم ؑنے اپنی رؤیا میں اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کو ذبح کرتے دیکھا اور پھر یہ رؤیا ظاہری طور پر پوری کرنے چلے تو آپ نے اپنے فرمانبردار بیٹے کو بھی اس کے لئے تیار پایا۔تب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو اپنی رؤیا پہلے ہی پوری کر چکا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عید الاضحی کے روز طریق تھا کہ آپؐ عید سے پہلے کچھ نہ کھاتے جبکہ عید الفطر پر کچھ کھا کر عید کے لئے جایا کرتے تھے۔ عیدالاضحی پر قربانی کا جانور ذبح ہونے پر اس کا گوشت کھاتے۔ آپؐ کا یہ بھی طریق تھا کہ آپ عید گاہ پر جانور ذبح کیا کرتے تھے۔آپ ؐ دو جانور ذبح کرتے ایک اپنی طرف سے اور ایک اپنی امت کی طرف سے پیش کرتے تھے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’دلوں کی پاکیزگی سچی قربانی ہے۔ گوشت اور خون سچی قربانی نہیں جس جگہ عام لوگ جانور وں کی قربانی کرتے ہیں خاص لوگ دلوں کو ذبح کرتے ہیں مگر خدا نے یہ قربانیاں بھی بند نہیں کیں تامعلوم ہو کہ ان قربانیوں کا بھی انسان سےتعلق ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد21صفحہ424)

حضر ت مصلح موعود ؓعیدا لاضحی کے روز نفلی روزہ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں:۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق ثابت ہے کہ آپؐ صحت کی حالت میں قربانی کر کے کھاتے تھے۔ تاہم یہ کوئی ایسا روزہ نہیں کہ کوئی نہ رکھے تو گنہگار ہو جائے۔ یہ کوئی فرض نہیں بلکہ نفلی روزہ اور مستحب ہے۔ جو رکھ سکتا ہو رکھے مگر جو بیمار، بوڑھا یا دوسرا بھی نہ رکھ سکے وہ مکلف نہیں اور نہ رکھنے سے گناہگار نہیں ہوگا……میں نے صحت کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔‘‘

(خطباتِ محمود جلد2 صفحہ263)

قربانی کے جانور کے لئے یہ شرائط ہیں کہ وہ بے عیب ہو۔ لنگڑا، بیمار،کان کٹا یا پورا سینگ ٹوٹا ہوا نہ ہو۔اس کے علاوہ صحت مند ہو۔قربانی کا وقت عید کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے اور تین دن جاری رہتا ہے۔ قربانی کا گوشت خود بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ عزیزوں اور غریبوں کو بھی دینا چاہئے۔

حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں:۔
’’قربانیوں کے گوشت کے متعلق یہ حکم ہے کہ یہ صدقہ نہیں ہوتا۔ چاہئے کہ خود کھائیں، دوستوں کو دیں، چاہے سکھا بھی لیں۔ امیر غریبوں کو دیں۔غریب امیروں کو۔ اس سے محبت بڑھتی ہے لیکن محض امیروں کو دینا اسلام کو قطع کرنا ہے اور محض غریبوں کو دینا اور امیروں کو نہ دینا اسلام میں درست نہیں۔امیروں کے غریبوں اور غریبوں کے امیروں کودینے سے محبت بڑھتی ہے اور مذہب کی غرض جو محبت پھیلانا ہے پوری ہوتی ہے۔‘‘

(الفضل 17 اگست1922ء)

کیا دوسروں کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے؟ اس بارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں:۔
‘‘کئی لوگ غریب ہوتے ہیں اس لئے اس بات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کہ کوئی شخص قربانی سے محروم نہ رہ جائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ غرباء امت کی طرف سے ایک قربانی کر دیا کرتے تھے۔اس طریق کے مطابق میرا قاعدہ یہ ہے کہ اپنی جماعت کے غرباء کی طرف سے ایک قربانی کر دیا کرتا ہوں۔‘‘

(الفضل 17/اگست1922ء)

قربانی کے گوشت کی تقسیم میں بالخصوص غریبوں اور کمزوروں کو تلاش کر کے انکو دیا جائے تا اللہ کے پیار کی نظر ہم پر پڑے۔ اس کی تلقین کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔
’’آپ سب کو یاد دلاتا ہوں کہ اپنے غریب بھائیوں اور کمزوروں اور بے چاروں کو اپنی قربانی میں ضرور یاد رکھیں۔اپنے عزیز و اقرباء کے لئے اپنے لئے بھی 1/3 حصہ بے شک رکھیں اور خرچ کریں مگر کچھ حصہ جماعت کے سپرد کریں کہ وہ غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کرا سکے اور کچھ حصہ خود اپنے تعلق رکھنے والے یا اپنے سے نہ تعلق رکھنے والے ان غریبوں میں تقسیم کریں جن پر آپ کی نظر پڑے۔اگر ان کی نظر غریبوں کو تلاش کر کے انکی کمزوریوں پر انکو دور کرنے کی خاطر پڑے یعنی انکی مالی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے، انکی بے چارگیوں کو دور کرنے لئے ان پر پڑے گی تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کی نظرآپ پر پڑے گی اور آپ کی کمزوریوں کو خدا دور فرمائے گا۔ پس بہت بڑا سودا ہے۔ غریبوں کو تلاش کرنا اور تلاش کر کے ان تک پہنچنا اس بات کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ آپ کو تلاش کرے اور آپ تک پہنچے اور ایسا ضرور ہوگا۔‘‘

(خطباتِ طاہر (عیدین) صفحہ642)

اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

(ایم۔ ایم طاہر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جولائی 2020ء