• 5 اگست, 2020

عید قربان کی حکمت اور فلسفہ

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ

(الحج :35)

ترجمہ:اور ہم نے ہر اُمّت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کیا ہے تا کہ وہ اللہ کا نام اس پر پڑھیں جو اس نے انہیں مویشی چوپائے عطا کئے ہیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ پس اس کے لئے فرمانبردار ہو جاؤ۔ اور عاجزی کرنے والوں کو بشارت دے دے۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قربانی والے دن ابن آدم کا کوئی عمل خدا تعالیٰ کو خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) کے عمل سے زیادہ پیارا اور محبوب نہیں۔اور قربانی کا جانور قیامت کے روز اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں (پائے) سمیت خدا کے حضور حاضر ہوگا۔ (یعنی قربانی کرنے والے کے حق میں گواہی دے گا) اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے ہاں قبولیت کا درجہ پاتا ہے۔ پس تم خوش ہو جاؤ۔

(ابن ماجہ ابواب الاضاحی باب ثواب الاضحیہ)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’اے خدا کے بندو! اپنے اس دن میں کہ جو بَقَر عید کا دن ہے غور کرو اور سوچو۔ کیونکہ اِن قربانیوں میں عقلمند وں کیلئے بھید پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔ اور آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ ا س دن بہت سے جانور ذبح کئے جاتے ہیں اور کئی گلّے اونٹوں کے اور کئی گلّے گائیوں کے ذبح کرتے ہیں اور کئی ریوڑ بکریوں کے قربانی کرتے ہیں۔اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کیا جاتا ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ صفحہ31)

پھر فرماتے ہیں: ’’حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے قُرْبْ اور ملاقات کا موجب ہیں اس شخص کے لئے کہ جو قربانی کو اخلاص اور خدا پرستی اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ قربانیاں شریعت کی بزرگ تر عبادتوں میں سے ہیں۔اور اسی لئے قربانی کا نام عربی میں نَسِیْکَہ ہے اور نُسُکْ کا لفظ عربی زبان میں فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے۔اور ایسا ہی یہ لفظ یعنی نُسُک اُن جانوروں کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور میں استعمال پاتاہے جن کا ذبح کرنا مَشْرُوْع (یعنی شریعت کے مطابق) ہے۔ پس یہ اشتراک کہ جو نُسُک کے معنوں میں پایا جاتا ہے قطعی طور پراس بات پر دلالت کرتا ہے اَنَّ العَابِدَ فِی الحَقِیقَۃِ ھُوَالَّذِی ذَبَحَ نَفسَہٗ وَقُوَاہُ۔ کہ حقیقی پرستاراور سچا عابد وہی شخص ہے جس نے اپنے نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن محبوبوں کے جن کی طرف اُس کا دِل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی رضا جوئی کیلئے ذبح کر ڈالا ہے اور خواہش نفسانی کو دفع کیا یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہو کر گِر پڑیں اور نابودہوگئیں اور وہ خود بھی گداز ہوگیا اور اسکے وجود کا کچھ نمود نہ رہا اور چھپ گیا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ صفحہ34)

’’وَمَن ضَحّٰی مَع عِلمِ حَقِیقَۃِ ضَحِیَّتِہٖ۔وَصِدقِ طَوِیَّتِہٖ۔وَخُلُوصِ نِیَّتِہٖ۔فَقَد ضَحّٰی بِنَفسِہٖ وَمُھجَتِہٖ۔ وَاَبنَاءِ ہٖ وَحَفَدَتِہٖ۔وَلَہٗ اَجرٌ عَظِیمٌ۔ اور جس نے اپنی قربانی کی حقیقت کو معلوم کر کے قربانی ادا کی اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ ادا کی پس بہ تحقیق اس نے اپنی جان اور اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں کی قربانی کر دی اور اس کے لئے اجر بزرگ ہے جیسا کہ ابراہیم ؑکے لئے اس کے رب کے نزدیک اجر تھا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ صفحہ44)

’’عبادت جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کاذ بح کرنا ہے کہ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے۔ پس نجات اس میں ہے کہ اس بُرا حکم دینے والے کو اِنْقِطاَع اِلیَ اللّٰہ کے کاردوں سے ذبح کر دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام ِجان قرار دیا جائے اور اسکے ساتھ انواع و اقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے۔ تا نفس غفلت کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنےہیں اور یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے۔ وَالمُسلِمُ مَن اَسلَمَ وَجھَہٗ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِینَ۔

(خطبہ الہامیہ صفحہ35)

نیز فرمایا: عید الاضحیہ پہلی عید سے بڑھ کر ہے اورعام لوگ بھی اس کو بڑی عید تو کہتے ہیں،مگر سوچ کر بتلاؤ کہ عید کی وجہ سے کس قدر ہیں جو اپنے تزکیہ نفس اورتصفیہ قلب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اور روحانیت سے حصہ لیتے ہیں اور اس روشنی اور نور کو لینے کی کوشش کرتے ہیں جو اس ضحی میں رکھا گیا ہے۔

(ملفوظات جلد 1صفحہ327)

’’وَلَہٗ نَحَرَ نَاقَۃَ نَفسِہٖ وَتَلَّھَالِلجَبِینِِ۔ اوراپنے نفس کی اونٹنی کو اس کے لئے قربان کر دیا ہو اور ذبح کے لئے پیشانی کے بل اسکو گرا دیا ہو۔ اور موت سے یکدم غافل نہ ہو …… پس اس مقام سے غافل مت ہو…… اورنہ اس بھید سے غافل ہوجو قربانیوں میں پایا جاتا ہے اورقربانیوں کواس حقیقت کے دیکھنے کے لئے آئینوں کی طرح بنا دو اور ان وصیتوں کومت بھلاؤ اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے اپنے خدا اور اپنی موت کو بھلا رکھا ہے……پس اے عقلمندو!اس میں غور کرو۔‘‘

(خطبہ الہامیہ صفحہ36تا44)

خطبہ الہامیہ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خو د رحمٰن خدا نے بتلایا تھا کہ ’’……اِنَّ الضَّحَایَا ھِیَ المَطَایَا۔ تُوصِلُ اِلٰی رَبِّ البَرَایَا۔ وَتمحُوالخَطَایَا۔ وَتَدفَعُ الْبَلاَیاَ۔ بہ تحقیق قربانیاں وہی سواریاں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں۔ اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دُور کرتی ہیں۔ یہ وہباتیں ہیں جو ہمیں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچیں جو سب مخلوق سے بہتر ہیں اُن پرخدا تعالیٰ کا سلام اور برکتیں ہوں۔‘‘

(خطبہ الہامیہ صفحہ45)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نَوَّرَ اللّٰہُ مَرْقَدَہٗ فرماتے ہیں :
’’قربانی جو عیدِاَضْحٰی کے دن کی جاتی ہے اس میں بھی ایک پاک تعلیم ہے اگر اس میں مدنظر وہی امر رہے جو جناب الٰہی نے قرآن شریف میں فرمایا: لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنکُمْ (سورۂالحج:38) قربانی کیا ہے؟ ایک تصویری زبان میں تعلیم ہے جسے جاہل اور عالم پڑھ سکتے ہیں۔ خدا کسی کے خون اور گوشت کا بھوکا نہیں۔ وہ یُطْعِمُ وَلَایُطْعَمُ (الانعام:15) ہے۔ ایسا پاک اور عظیم الشان بادشاہ نہ تو کھانوں کا محتاج ہے، نہ گوشت کے چڑھاوے اور لَہُو کا بلکہ وہ تمہیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خدا کے حضور اسی طرح قربان ہوجاؤ جیسے ادنیٰ اعلیٰ کے لئے قربان ہوتا ہے۔‘‘

(خطبات نورصفحہ431)

پھر فرماتے ہیں :
’’قربانی کا نظارہ عقلمند انسان کے لئے بہت مفید ہے۔ اپنے اعمال کا مطالعہ کرو۔ اپنے فعلوں میں، باتوں میں، خوشیوں میں، ملنساریوں میں، اخلاق میں غور کرو کہ ادنیٰ کو اعلیٰ کے لئے ترک کرتے ہو یا نہیں؟ اگر کرتے ہو تو مبارک ہے تمہارا وجود۔ عیب دار قربانیاں چھوڑدو۔ تمہاری قربانیوں میں کوئی عیب نہ ہو، نہ سینگ کٹے ہوئے، نہ کان کٹے ہوئے۔ قربانی کے لئے تین راہیں ہیں۔ (۱) استغفار۔ (۲) دعا۔ (۳) صحبت صلحاء۔ انسان کو صحبت سے بڑے بڑے فوائد پہنچتے ہیں۔ صحبت صالحین حاصل کرو۔‘‘

(خطبات نور صفحہ378)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں:
’’پس اے دوستو! جو حضرت ابراھیم ؑکی قربانی کے واقعہ کو سنتے اور اس کی یاد میں بکرا یا گائے یا دنبہ ذبح کرتے ہو تمہیں یاد رہے کہ بکرے یا گائے کی قربانی کرنا آسان ہے مگر اپنی جان اپنے مال اپنے آرام اور اپنی آسائش کی قربانی کرنا مشکل ہے۔ حضرت ابراھیم ؑنے بکرا ذبح نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو قربان کر دیا تھا۔ اگر تم واقعہ میں حضرت ابراھیم ؑکی یاد تازہ کرتے ہوئے عید الاضحیہ میں حصہ لینا چاہتے ہو اگر تم یہ آرزو رکھتے ہو کہ آئندہ جب دنیا میں عید الاضحیہ منائی جائیں تو گو دنیا اسے حضرت ابراھیم ؑکی قربانی کی یاد میں منائے۔مگر خدا تعالیٰ کے رجسٹر میں تمہارانام بھی ہو اور آسمان پر تمہاری قربانیوں کی یادگار میں بھی عید الاضحیہ منائی جائے توتمہیں ابراھیمی صفات اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عید صرف حضرت ابراھیم ؑ کی یاد میں منائی جاتی ہے اور ان کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں ہو ا جس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو قربان کردیا ہو۔ کیا رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے جو قربانیاں کیں وہ کوئی معمولی ہیں۔ اور کیاان کے بعد ہزاروں ایسے لوگ نہیں ہوئے جنہوں نے اپنے بیوی بچے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دئے۔ یقیناً ایسے لوگ ہوئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ہوئے ہیں لیکن چونکہ اتنی لمبی لسٹ لوگ یاد نہیں رکھ سکتے اس لئے دنیا کے لوگ تو یہ عید صرف حضرت ابراھیم ؑ کی قربانی کی یاد میں مناتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی لسٹ میں وہ تمام لوگ شامل ہو تے ہیں جنہوں نے اس کی راہ میں قربانیاں کیں۔ جب عید الاضحیہ آتی ہے اور لوگ اِسے حضرت ابراھیم ؑ کی یاد میں مناتے ہیں اس وقت خدا ان سارے شہداء کی یاد میں یہ عید مناتا ہے۔ جنہوں نے اس کے لئے قربانیاں کیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے فرشتے ان سارے شہداء کے نام پر یہ عید مناتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو خداتعالیٰ کے رستہ میں قربان کردیا۔

(خطبات محمود جلد 2صفحہ227تا229)

فرمایا:
پس کوشش کرو کہ تمہاری زندگیاں ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ بنیں۔ جس طرح ابراھیم ؑ کی زندگی ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ بن گئی۔ اور اپنے آپ کو خدا سے دور کرکے اور چھو ٹی چھوٹی باتوں کے لئے اپنی زندگیوں کو صرف کرکے ایک بے معنی اور لغو وجود مت بنو کیونکہ دائمی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔

(خطبات محمود جلد 2ص206)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں: اس کو پیش نظر رکھیں اور تکبیرات کہا کریں یہ چند دن تکبیرات کے ہیں اور اپنے گھر کو تکبیرات کی آواز سے سجائیں اور بچوں کو عادت ڈالیں اس خوبصورت آواز کو سننے کی یہانتک کہ ان کے دل پر یہ آواز جا گزیں ہو جائے اور کبھی بھی نہ بھولے۔ اور سب سے اچھا نغمہ ان کی روح میں جو سرایت کرے وہ اِنہیں تکبیرات کا نغمہ ہو۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔

(خطبات طاہر (عیدین) صفحہ:651،652)

ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: یہ عید کا دن بھی آپ کو اس نیکی کے بجا لانے والا، اس طرف توجہ دلانے والا ہو نا چاہیے۔…عید کے دنوں میں بھی مسکینوں کی خوشیوں میں شامل ہونا چاہیے۔ غریبوں کی خوشیوں میں بھی شامل ہوناچاہیے۔…مسکینوں یتیموں کا خیال رکھنا نیکی ہے کیونکہ یہ نیکی خدا کی خاطر کی جا رہی ہوتی ہے۔…جماعت تو حتی الوسع ضرورت مندوں کو عید کے دن ضروریات مہیا کرتی ہے،ان کا خیال رکھتی ہے۔کچھ نہ کچھ انتظام ہوتا ہے اور اللہ کے فضل سے صاحب حیثیت اس میں رقوم بھی بلکہ بعض اچھی رقوم بھجواتے ہیں۔لیکن انفرادی طور پر بھی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے کہ اس نیکی کو جاری کرے اور صرف اس عید پر ہی یہ خیال نہ رکھے بلکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ کہا تھا کہ ایسا ذریعہ اختیار کرنا چاہیے کہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری ہوتی رہے۔اور جن کو مدد دے کر پاؤں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے، ان کو کھڑا کیا جائے۔

(مشعل راہ جلد 5حصہ سوئم صفحہ136،137)

اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم اس عید سے سبق حاصل کریں اور ہمارے دل اس کے آستانہ محبت کے گرد لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک کہتے ہو ئے اس وقت تک گھو متے رہیں جب تک کہ شمع پروانے کو جلا کر اپنے نور میں غائب نہ کردے اور ہمارا وجود لَا شَرِیْکَ لَکَ کی بین دلیل نہ ہو جائے۔ (امین یا رب العالمین)

٭…٭…٭

(فراز یاسین ربانی۔ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جولائی 2020ء