• 7 اگست, 2020

حقیقی عید

سیدنا حضرت مصلح موعود،خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:۔
عیدایک ایسی چیز ہے جس کو ساری قومیں مناتی ہیں۔ کوئی اس کانام تہواررکھ لیتا ہے، کوئی عیدکہہ دیتاہے، کوئی کرسمس ڈیز کے نام سے اسے یاد کر لیتا ہے۔ بہرحال دنیاکی کوئی قوم ایسی نہیں جس میں عید نہیں پائی جاتی۔ ہر قوم کسی نہ کسی طرح عید مناتی ہے۔ سینکڑوں اور ہزاروں سال تک بنی نوع انسان آپس میں جداجدارہے۔ امریکہ والے دنیا کے دوسرے لوگوں سےاس وقت تک نہیں مل سکےجب تک کولمبس نے اسے دریافت نہ کر لیا۔ آسٹریلیا والے بھی ایک وقت تک دوسرے لوگوں سےنہ مل سکے مگر باوجود اس کے تاریخ سےمعلوم ہوتاہےکہ ان کے پرانے باشندوں میں بھی عیدکی رسم پائی جاتی تھی۔ اسی طرح افریقہ کے پرانے باشندوں میں بھی بعض تہوار پائے جاتے ہیں۔ غرض عید کے موجبات خواہ مختلف ہوں اس کا وجود ہر قوم اور ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کا تعلق فطرت کےساتھ ہے۔

’’اسلام نےبھی سال میں دوعیدیں رکھی ہیں جن میں سےایک کانام عید الفطر ہے اور دوسری عیدالاضحیہ۔ ان کے علاوہ رسول کریم ﷺ نےجمعہ کے دن کو بھی مسلمانوں کے لئے عید کادن قرار دیا ہے گویا اسلام دوسری قوموں اور مذاہب سےعیدکےلحاظ سے بھی بڑھ کر ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عید کہتے کس کوہیں؟ آخر کوئی وجہ بھی ہے جس کی وجہ سے ہرقوم اور مذہب میں عیدرکھی گئی ہے۔

عیداس لئےرکھی گئی ہےکہ انسان اگرہمیشہ رنج کی طرف ہی دیکھتا رہےتواس کےقویٰ مضمحل ہو جائیں۔ کبھی کبھی اس کی نظراپنےاعلیٰ مقاصد اور کامیابیوں کی طرف بھی جانی چاہئے۔ اگر وہ اپنی کامیابیوں کو یاد کرتا رہے اور اپنے مقاصد کو سامنے رکھے تو اسکا حوصلہ بڑھتا چلا جائے گا اور اس  طرح قوم مرنے نہیں پائے گی۔

ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہماری عیدوں کے پیچھے حقیقی خوشی کی بنیاد پائی جاتی ہے یا نہیں۔ اگرہماری عیدکے پیچھےحقیقی خوشی کی بنیادپائی جاتی ہےتو وہ ہمارے لئےموجب برکات ہے۔ اور اگر اس کے پیچھے حقیقی خوشی کی بنیاد نہیں پائی جاتی تو پھر ہر عید جو آئےگی ہمیں پہلے سال سےبھی زیادہ مردہ بنائے گی…

قرآن کریم سےمعلوم ہوتاہےکہ عیدتین وجوہات کی بناپرمنائی جاتی ہے۔اول انسان کواس کامحبوب یعنی خدامل جائے۔جب اسےخدامل جائے گا تو اس کی عیدحقیقی معنوں میں عیدہوگی۔ لیکن اگر اسے خدا نہیں ملت اتو پھر عید کیسی ؟ … اگر کوئی ایسی جماعت تھی جواس بات کی دعویدار تھی کہ ہمیں خداتعالیٰ مل گیا ہے تو وہ رسول کریم ﷺ اور آپ ؐکےصحابہؓ تھے۔ پس جس شخص کو اس کامحبوب مل جائےاس کی عیدبن جاتی ہے۔غالب کہتاہےکہ اصل خوشی اس شخص کی ہےجس کے بازو پر اس کےمحبوب نےسررکھ دیاہو۔ پس اصل خوشی اسی شخص کی ہےجس نے خداتعالیٰ کودیکھا ہو اور اس سے باتیں کی ہوں…

غرض ایک عیداس شخص کی ہوتی ہےجسےاس کامحبوب یعنی خداتعالیٰ مل جائےاوریہ حقیقی عیدتھی جوصحابہ ؓکو حاصل تھی۔ اسی طرح یہ عیدخلفاءراشدین کے زمانہ میں اوراس کے بعدبھی ایک عرصہ تک چلی گئی… بہرحال ان وجوہات میں سےجن کی وجہ سےصحابہؓ عید منایا کرتے تھےایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں ان کامحبوب یعنی خداتعالیٰ مل گیاتھا۔

عیدمنانےکی دوسری وجہ جوقرآن کریم سےمعلوم ہوتی ہےوہ یہ ہےکہ فردی ترقی کے علاوہ قومی ترقیات بھی اس قدرمل رہی ہوں کہ جدھربھی قوم منہ کرے کامیابیاں اورکامرانیاں اس کےقدم چومیں۔ صحابہؓ نےاتنی فتوحات حاصل کیں کہ جدھربھی وہ منہ کرتےتھےفتح ونصرت ان کےساتھ رہتی تھی اور ایسا معلوم ہوتاتھاکہ گویاوہ جنّات ہیں جدھربھی منہ کرتےہیں دنیاکومطیع بناتے چلے جاتےہیں۔پہلی چیزروحانی اورفردی تھی اوریہ مادی اورقومی تھی جس کی وجہ سےصحابہؓ عید منانےکےمستحق تھے۔

تیسری وجہ عیدمنانےکی یہ ہوتی تھی کہ قومی اخلاق اس قدربلندہوں کہ لوگ کسی پرظلم نہ کریں اورہرشخص یہ سمجھےکہ اس کےحقوق محفوظ ہیں۔صحابہؓ اخلاقی لحاظ سےاتنےکمال پرتھےکہ اس زمانہ میں ہرشخص کےحقوق محفوظ تھےاوروہ کسی پرظلم نہیں کرتےتھے… بہرحال یہ تیسری وجہ تھی جس کی وجہ سےصحابہؓ عیدمنانےکےحقدارتھے اوران کی عیدحقیقی عیدتھی۔ …یہ چیزان لوگوں کی عید کا موجب تھی۔ جس قوم میں ایسےافرادپائےجاتےہوں جن کوخدامل گیا ہو، جس قوم میں ایسےافرادپائےجاتےہوں جنہوں نےنہ صرف انفرادی اورروحانی ترقیات حاصل کی ہوں بلکہ قومی ترقیات بھی حاصل کی ہوں اورجس طرف وہ منہ کرتےہوں کامیابیاں اورفتوحات ان کے قدم چومتی ہوں۔ جس قوم میں ایسے بلنداخلاق پائےجاتےہوں کہ ان کےزمانہ میں کسی کواپناحق مارے جانے کا خیال بھی پیدانہ ہو۔وہ قوم مستحق ہےحقیقی عیدمنانےکی۔ وہ قوم مستحق ہےحقیقی خوشیاں منانےکی۔ کیادنیامیں اب بھی ایسےلوگ پائےجاتےہیں؟ اس کا جواب یقیناًنفی میں ہوگا۔

محمدرسول اللہﷺاس لئےعیدمناتےتھےکہ آپؐ کامحبوب یعنی خدا تعالیٰ آپ کومل گیا۔اورمسلمان اس لئےعیدمناتےتھےکہ ان کےآقاکی جائیدادانہیں مل گئی اوراس کی حکومت دنیامیں قائم ہوگئی۔

لیکن سوال یہ ہےکہ آج ایک مسلمان کیوں عیدمناتاہے؟کیاوہ اس لئےعیدمناتاہےکہ اس کےباپ داداکی جائیدادایک ایک کرکےاس کےہاتھ سےنکل گئی۔ کیاوہ اس بات پرخوش ہوتاہےکہ اس کی اپنی روحانی جائیدادایک ایک کرکےاس کےہاتھ سےنکل گئی۔ کیاوہ اس بات پرخوش ہوتاہےکہ عدل وانصاف اس میں باقی نہیں رہا۔آخروہ کونسی چیزہےجس پرخوش ہوکروہ عیدمناتاہے۔ کیاوہ نئےکپڑےبدلنےیاطرح طرح کے کھانے کھانے پرخوش ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ عیدپہلےزمانہ میں انعام تھی۔ لیکن اب تازیانہ ہے۔ اور ہر عید جو آتی ہے وہ ہم سےمطالبہ کرتی ہےکہ بولوتم عیدکیوں منا رہے ہو۔ہم بےشک ظاہر میں عیدمناتےہیں لیکن اس کےموجبات اورمحرکات ہم میں موجودنہیں۔ …اگرمسلمان یہ کام کرسکتےہیں توان کی عید، عید ہے۔ ورنہ ان کی عیدکوئی عیدنہیں۔…پھرہم کس چیزکی عید منا رہے ہیں۔ یہ ایک سوال ہے جو ہم میں سےہرایک کواپنےنفس سے پوچھنا چاہئے۔ اگر واقعہ میں ہم میں جانی اورمالی قربانی کی روح پائی جاتی ہے۔اگرہم خداتعالیٰ کےسامنےروروکراس کی مددطلب کرتےہیں تو واقعی ہماری عید، عیدہے۔ اورہم اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کےسامنے آنکھ اٹھانےکےقابل ہیں۔ ورنہ ہماری عیدکچھ بھی نہیں بلکہ ہرعیدہمیں پہلےسےبھی زیادہ مردہ بنا دےگی۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 28؍ جولائی 1949؍ بمقام یارک ہاؤس، کوئٹہ)

(خطبات محمود جلد اول صفحہ 301-309)

(مرسلہ: عبدالباسط شاہد۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جولائی 2020ء