• 5 اگست, 2020

رسول کریمؐ کی وصیت مسلمانوں کو حجۃ الوداع کے موقع پر کعبہ کب سے مرکزِ حج بنا؟

تبرکات

(حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ)

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ(آل عمران:97) یعنی خانہ کعبہ دنیا میں سب سے پہلی عبادت گاہ ہے۔ پس اس آیت سے کعبۃ اللہ کا بطور معبد کے تو قدیم ہونا ثابت ہوتا ہے لیکن یہ امر کہ اس گھر کا حج بھی ابتداء عالم سے جاری ہے یقینی طور پر ثابت نہیں۔ البتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے اس گھر کے حج کے لئے مرکز بننا پایہ ثبوت تک پہنچا ہوا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ (الحج:28) یعنی ہم نے ابراہیم کو حکم دیا تھا کہ اے ابراہیم! تو لوگوں میں اعلان کر دے۔ آؤ لوگو اس گھر کا حج کیا کرو۔پھر فرمایا کہ اس حکم کے ساتھ ہی ہم نے یہ پیشگوئی بھی کر دی تھی کہ اب اس حکم کے بعد یہ گھر دور و نزدیک سب جگہوں سے حج کے لئے آنے والوں کا مرکز بن جائے گا۔ لوگ اتنے نزدیک سے بھی آئیں گے کہ انہیں سواری کی ضرورت نہ ہو گی۔ گھر سے پیدل ہی نکل کھڑے ہوں گے۔ جیسا کہ مکہ کے قرب و جوار میں رہنے والے اور اتنے دور دراز سے بھی آئیں گے کہ ایک فربہ اونٹ جو ہزاروں میل ریگستان کے سفر کو بخوبی طے کر سکتا ہے آتے آتے اس کے کوہان کی چربی پگھل کر بالکل دُبلا ہو کر وہ مکہ میں پہنچے گا۔

پس ہم نہیں کہہ سکتے کہ حج کا یہ ابراہیمی اعلان آیا ابتدائی اعلان تھا اور حج ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے شروع ہوا یا یہ اعلان تجدید حج کی رسم کہنہ کے لئے۔ جو امتداد زمانہ کے زیر اثر مٹ چکی تھی تجدید کا حکم رکھتا تھا۔ خواہ کوئی صورت ہو بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ حج کا موجودہ غیر منقطع بابرکت سلسلہ ابو الانبیاء ابراہیم خلیل اللہ کے پاک وجود کے ذریعہ شروع ہوا اور آج تک اپنی پوری شان و شوکت سے جاری ہے۔ اور یہ قیامت نما محشر کا سالانہ منظر ان شاء اللہ سچے خدا کے سچے وعدوں کے مطابق قیامت تک رونما ہوتا رہے گا۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآ لہٖ وسلم اور حج

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قریباً اڑھائی ہزار برس بعد انہی کی دعا کے نتیجہ میں انہی کی اولاد سے اللہ تعالیٰ نے عرب کے پتھروں میں ایک لعل بے بہا پیدا کیا وہ کون؟ وہ ہمارا سردار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔ حضور نے چالیس برس کی عمر میں دعویٰ نبوت کیا۔ حضور کے دعویٰ سے قبل بھی ہر سال حج ہوتا تھا اور حضور بھی ابراہیمی سنت اور قومی رواج کے ماتحت حج کرتے ہوں گے۔ لیکن حضور کے نئے مذہب یعنی اسلام میں ابھی حج دین کا رُکن اور اسلامی ملت کا ستون نہ بنا تھا۔ دعویٰ کے تیرہ سال بعد حضور مدینہ تشریف لے گئے۔ مگر حج کا حکم ابھی قرآن مجید میں نازل نہیں ہوا تھا۔ مدینہ پہنچ کر ہجرت کے پانچویں سال قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا۔ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا (آل عمران:98) یعنی اے لوگو! عمر بھر میں ایک دفعہ تم پر فرض ہے کہ اگر کوئی روک نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کے دارالخلافہ مکہ میں اس کے دربار کعبہ میں حاضری دے آیا کرو۔

اس آ یت کے بعد خانہ کعبہ کا حج صرف ابراہیمی سنت نہ رہا بلکہ اسلامی رُکن بن گیا اور اب ایک مسلمان کے لئے ضروری ہو گیا کہ وہ عمر بھر ایک دفعہ مکہ میں اسلام کے لئے ضرور حاضر ہوا کرے۔ لیکن جس وقت مدینہ میں یہ حکم نازل ہوا مکہ میں اس وقت کفار قریش کا قبضہ تھا اور وہ مسلمانوں کو وہاں گھُسنے تک نہ دیتے تھے۔ اس لئے حضورؐ اور حضورؐ کے ساتھیوں کے لئے حج کا درازہ بند تھا۔ اس آیت کے نزول کے تین سال بعد یعنی 8ہجری کے رمضان میں مکہ فتح ہوا اور حضور علیہ السلام کے بے مثال عفو عام اور بے نظیر درگزر نے مکہ والوں کی کایا پلٹ دی۔ اور وہی جگہ جو کفر کا گڑھ تھی اسلام کا مرکز بن گئی اور مکہ کے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے۔ فتح مکہ کے دو اڑھائی ماہ بعد ذوالحجہ میں حج ہوا۔

اس حج میں مکہ کے مسلمان اور کافر اور اسی طرح عرب کے اَور قبائل کے مسلمانوں اور کافروں نے مل جل کر حج کیا۔ لیکن حضور علیہ السلام مدینہ سے نہ تو خود تشریف لائے اور نہ حضور علیہ السلام کے صحابہؓ مدینہ سے کسی امیر کے ماتحت قافلہ بنا کر اس حج میں شریک ہوئے۔ پھر اگلے سال 9 ہجری میں حضور علیہ السلام گو خود حج کے لئے تشریف نہیں لے گئے مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر قافلہ بنا کر سینکڑوں صحابہؓ کو حج کے لئے بھیجا اور اپنی طرف سے کچھ قربانیاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ کیں۔ اور گو اس حج میں اکثریت مسلمانوں کی تھی مگر قبائل کے کافروں نے بھی حج کیا۔ اسی حج میں سورئہ برأت کی ابتدائی آیتوں کا اعلان حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضور علیہ السلام کے خاندان میں سے ہونے کے سبب حضور کی طرف سے مکہ میں کیا۔

پھر اگلے سال 10 ہجری کو حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بنفسِ نفیس ذوالقعدہ کی پچیسویں تاریخ کو ہزاروں لوگوں کو لے کر روانہ ہوئے جن میں حضور کے قریباً تمام صحابہؓ اور حضور کی تمام ازواج مطہراتؓ اور حضور کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ بھی مع بچوں کے تھیں۔ غرض یہ عظیم الشان قافلہ پونے تین سو میل کا ریگستانی سفر صرف 9 دن میں طے کرتا ہوا ذوالحجہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ میں داخل ہوا۔

منٰی کے میدان میں اجتماع اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ

چوتھی سے ساتویں تاریخ تک چار دن حضور مکہ میں ٹھہرے رہے۔ آٹھویں تاریخ کو یہ قافلہ منٰی میں گیا جو مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔ نویں تاریخ کو عرفات کے میدان میں پہنچا۔ یہ مقام مکہ سے نو میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں سارا دن دعاؤں میں لگے رہنے کے بعد سورج ڈوبنے پر وہاں سے واپس روانہ ہو کر رات بھر مزدلفہ کے مقام میں رہا جو مکہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ہے۔ اور وہاں کے مقررہ میدان میں دعائیں کر کے سورج نکلنے سے پیشتر روانہ ہو کر دسویں تاریخ یعنی عید الاضحی کے دن پھر منٰی کے میدان میں آیا اور وہاں یہ قافلہ تین چار روز ٹھہرا رہا۔

یہاں پر قریباً سب نے قربانیاں کیں۔ سرمُنڈائے، اپنی اپنی نذریں پوری کیں اور دن رات لبیک لبیک یعنی حاضر جناب حاضر جناب کے نعرے لگا کر بسر کئے۔ خود حضور علیہ السلام نے اپنی طرف سے پورے ایک سو اونٹ قربان کئے۔ تریسٹھ (63) اپنے ہاتھ سے اور باقی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ذبح کرائے اور اس طرح اس قافلہ نے حج کے مناسک ختم کئے۔ منٰی کے اس میدان میں علاوہ اس کے کہ خود حضور علیہ السلام کے ہمراہی ہزاروں ہزار مسلمان تھے۔ اردگرد کے قبائل کے مسلمان اور خود شہر مکہ کے لوگ جمع ہو کر ایک لاکھ سے زیادہ مجمع ہو گیا اور بقول کسی اہل ذوق کے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کی طرح اس حج میں نبیوں کے سردار کے اردگرد ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ تھے۔ جس کا مفہوم یہ ہوا کہ حضور علیہ السلام کے صحابہ، انبیاء علیہم السلام کے مثیل تھے۔ خیر یہ تو ذوقی باتیں ہیں اور اصل تعداد اور حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ بہرحال منٰی کے میلوں لمبے چوڑے میدان میں حاجیوں کا ایک بے پناہ لشکر اور اللہ کے عاشقوں کا ایک سیلابِ عظیم اُمڈا چلا آتا تھا اور خدا کی راہ میں کفن پہن کر ننگے سر لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَکَ لَبَّیْکَ پکارنے والوں کا اتنا بڑا ہجوم تھا کہ جسے دیکھ کر حشر کا میدان آنکھوں کے سامنے پھر جاتا تھا۔ اس عظیم الشان مجمع میں حضور علیہ السلام منبر کا کام ایک اونٹنی سے لیتے ہوئے اس پر سوار ہو کر تشریف لائے اور ایک نہایت اونچی آواز والے صحابی جریر نامی سے کہا:۔

یَا جَرِیْرُ اِسْتَنْصِتِ النَّاسَ لَعَلِّیْ اَعْھَدُ اِلَی النَّاسِ

یعنی اے جریر! ذرا لوگوں کو چپ کرا تاکہ میں انہیں وصیت کر سکوں۔ اس پر جریر اور بعض دوسرے لوگوں نے مجمع کو یہ کہہ کر کہ حضورعلیہ السلام کچھ ارشاد فرمانا چاہتے ہیں خاموش کرایا۔ اور یہ عظیم الشان مجمع ایسا پُرسکوت اور ہمہ تن گوش ہو گیا کہ ایک شخص کہتا ہے کہ جس وقت حضور علیہ السلام خطبہ فرما رہے تھے میں حضور کی اونٹنی کی نکیل تھامے کھڑا تھا اور اونٹنی کے منہ سے لعاب میرے اوپر گرتاتھا مگر میں ذرا حرکت نہ کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے لعاب سے میں تربتر ہو گیا۔ مگر ذرا آگے پیچھے نہ ہوا۔ اس کے بعد جب سب لوگ خاموش ہو گئے تو حضور علیہ السلام نے ایک لمبا وعظ فرمایا۔

رسول کریمؐ نے کیا فرمایا:۔
چونکہ کسی ایک حدیث میں ترتیب سے پورا خطبہ درج نہیں بلکہ مختلف حدیثوں میں مختلف حصے بیان ہوئے ہیں اس لئے میں اپنی ترتیب سے بامحاورہ حاصل مطلب کے طور پر وہ تمام باتیں جو مختلف حدیثوں میں آئی ہیں عرض کردیتا ہوں:۔

حضور علیہ السلام نے سب سے پہلے کلمہ شہادت پڑھا۔ پھر خداتعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا۔ لوگو سن لو! میں تم سے رخصت ہوتا ہوں۔ معلوم نہیں ہم تم پھر ملیں یا نہ ملیں۔ اس لئے غور سے میری باتیں سن لو۔ پھر فرمایا۔ لوگو! یہ کونسا مہینہ ہے۔ لوگوں نے سمجھا شاید حضور اس مہینہ کا نام بدلنا چاہتے ہیں۔ اس لئے لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا۔ کیا یہ مہینہ ذوالحجہ نہیں؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہؐ۔ پھر فرمایا۔ یہ کونسا دن ہے۔ لوگوں نے پھر وہی جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا۔ کیا یہ حج کا دن، قربانی کا دن اور دسویں تاریخ نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا۔ جی ہاں یا رسول اللہؐ۔ پھر حضور نے پوچھا۔ یہ کونسا مقام ہے؟ حاضرین نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسول بہتر سمجھتے ہیں۔ فرمایا۔ کیا یہ حرم نہیں؟ لوگوں نے عرض کیا۔ جی ہاں یا رسول اللہؐ۔ اس پر آ پؐ نے فرمایا۔ پھر سن لو کہ تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر آپس میں اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارا یہ مہینہ اور تمہارا یہ مقام حرام ہے۔

حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کی تشریح یہ ہے کہ عرب کے لوگ زمانہ کے لحاظ سے ذوالحجہ مہینہ کو منجملہ بعض اور حرام مہینوں کے حرام یعنی عزت والا مہینہ سمجھتے تھے۔ یعنی نہ اس ماہ میں وہ لڑائی کرتے تھے نہ ڈاکہ وغیرہ ڈالتے تھے اور نہ قتل و غارت کے مرتکب ہوتے تھے۔ بلکہ یہاں تک وہ محتاط تھے کہ قاتل کو قصاص میں بھی اس مہینہ میں قتل نہ کرتے تھے۔ بلکہ انتظار کرتے رہتے تھے اور شہر الحرام گزر جاتے پھر اُسے قتل کرتے تھے۔ ان کا کیسا ہی شدید دشمن کیوں نہ ہو مجال نہ تھی کہ اس مہینہ میں اس کو کوئی تکلیف پہنچائیں۔ دوست دشمن سب کھلے بندوں پھرتے تھے۔ کسی کو یہ جرأت نہ ہوتی تھی کہ کسی کی طرف نظر اُٹھا کر بھی دیکھ سکے۔ بالخصوص اس ماہ کی دسویں تاریخ جو حج کی ایک نہایت اہم تاریخ تھی نہایت ہی حُرمت اپنے اندر رکھتی تھی۔ کیونکہ عرب کے تمام قبائل اسی تاریخ کو اکٹھے ہوتے تھے۔

مقام منٰی کی حُرمت

پھر مکان کے لحاظ سے منٰی ان مقامات میں سے تھا کہ خدا کا حرم کہلاتا تھا اور یہ مقام ان مقامات میں سے تھا کہ اگر حرام مہینے نہ بھی ہوں مگر اس مقام پر قتل و غارت کا امکان نہ تھا۔ قصاص کے وقت بھی قاتل کو حرم سے باہر لے جا کر قتل کیا جاتا تھا۔ پس جس دن اور جس مقام پر حضور علیہ السلام نے یہ خطبہ پڑھا وہ دوگنی بلکہ سہ گنی حرمتوں کا مجموعہ تھا کہ مہینہ بھی حرام، دن بھی حرام اور جگہ بھی حرام۔

پس اُس دن اور اس مقام کی حرمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا۔کہ اے لوگو! تم اس مہینہ کو حرام، اس دن کو حرام اور اس مقام کو حرام سمجھتے ہو۔ اور حرمت کے قواعد کے مطابق ناممکن ہے کہ ان تینوں حرمتوں کی موجودگی میں تم اس مکان سے ایک کانٹا بھی توڑ سکو۔ مگر یاد رکھو کہ یہ مکانی اور زمانی حرمتیں تو ایک واسطہ ہیں اصل مقصود نہیں۔ بلکہ اصلی مقصد تو یہ ہے کہ جس طرح تم اس مہینہ میں بالخصوص اس دن میں پھر خصوصیت سے اس مقام پر کانٹا توڑنا بھی حرام سمجھتے ہو۔ سن لو کہ ایک مسلمان کی جان، اس کا مال اور اس کی عزت تم پر ہر روز اور ہر مقام پر اُسی طرح حرام اور قطعی حرام ہے جس طرح آج کی حرمت، جس طرح اس مہینہ کی حرمت اور جس طرح اس مقام کی حرمت ہے۔

پھر فرمایا کہ دیکھو لوگو! عدل سے اِدھر اُدھر نہ ہونا۔ جو مجرم ہو اسی کو پکڑنا۔ مجرم کے بدلہ اس کے باپ کو یا قصور وار کے عوض اس کے بیٹے کو نہ پکڑنا بلکہ جو کرے وہی بھرے۔

یہ نصیحت حضور علیہ السلام نے اس لئے کی کہ جاہلیت میں قتل وغیرہ جرائم میں قاتل کی شخصیت کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ ان کا مقصد جرم کا بدلہ لینا ہوتا تھا۔ قصور وار نہ ملا تو اس کے باپ ہی کو پکڑ لیا۔ وہ نہ ملا تو بیٹے کو گرفتار کر لیا۔ وہ ہاتھ نہ لگا تو کسی اور رشتہ دار کو سزا دے دی۔ اس کا موقع نہ ملا تو مجرم کے قبیلہ کے کسی نہ کسی فرد سے بدلہ لے لیا۔

سُود کا انسداد

پھر فرمایا کہ لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ اسے چاہئے کہ اپنے بھائی سے وہی سلوک کرے جو وہ چاہتا ہے کہ مجھ سے کیا جائے۔ لوگو! آج سے جاہلیت کے تمام سُودی کاروبار کو میں اپنے پاؤں کے نیچے مسلتا ہوں۔ تم لوگ اپنے قرضوں کی اصل رقم تو مقروضوں سے واپس لے سکتے ہو مگر سُود کی ایک کوڑی نہیں لے سکتے۔ ہاں میں اپنے خاندان کو نمونہ بنانا چاہتا ہوں۔ اس لئے میں اپنے چچا عباس (جو سُودی کاروبار کرتے تھے) کے تمام قرضے کالعدم کرتا ہوں۔ نہ سُود نہ اصل رقم۔ دونوں رقمیں اس کے مقروضوں کو معاف کرتا ہوں۔

زمانہ جاہلیت کے قصاص معاف

پھر فرمایا:۔ لوگو! میں زمانہ جاہلیت کے تمام خونوں کو اپنے پاؤں کے نیچے مسلتا ہوں۔ اب کوئی شخص اسلام میں اپنے کسی مقتول کے بدلہ میں جو اسلام سے قبل قتل کیا گیا ہو کسی کو قتل نہیں کر سکتا اور نمونہ کے طور پر میں اپنے سگے چچا حارث بن عبدالمطلب کا خون معاف کرتا ہوں کہ جسے ھذیل قبیلہ نے شیرخواری کی عمر میں جبکہ وہ بنی لیث قبیلہ میں ایک دائی کے پاس رہتا تھا قتل کر دیا تھا۔ یہاں پر جاننا چاہئے کہ جاہلیت میں عرب لوگوں کا یہ دستور نہ تھا کہ قتل کے عوض میں قاتل ہی کو سزا دی جائے بلکہ جب کسی قبیلہ کا کوئی آدمی کسی دوسرے قبیلہ کے کسی آدمی کے ہاتھ سے مارا جاتا تو مقتول کے قبیلہ کے لوگ اس قتل کو یاد رکھتے اور جب کبھی موقع ملتا خواہ پچاس برس کے بعد ہی کیوں نہ ہو تو وہ قاتل کے قبیلہ میں سے کسی ایک یا زیادہ اشخاص کو قتل کر دیتے۔ اور سب قبائل اپنے مقتولوں اور ان کے قاتلوں کی فہرست ازبر یاد رکھتے اور موقع نکلنے پر بدلہ اس قبیلہ سے لےتے تھے۔ پس قصاص قاتل اور مقتول کے درمیان نہ ہوتا تھا بلکہ قاتل اور مقتول کے قبیلوں کے درمیان ہوتا تھا۔ اس دستور کے مطابق حضور کا ایک چچا حارث نام جو دودھ پینے کے لئے بنولیث قبیلہ میں بھیجا گیا وہاں اسے ھذیل قبیلہ کے کسی آدمی نے قتل کر دیا۔ اب حضور کے خاندان بنوہاشم موقع کے منتظر تھے کہ کسی مناسب موقع پر ھذیل قبیلہ کا کوئی بڑا آدمی قتل کریں کہ اس اثناء میں بیسیوں برس گزر گئے۔ حتٰی کہ اسلام آیا، پھر مکہ فتح ہوا اور پھر حجۃ الوداع کا موقع آیا۔ اس موقع پر تمام ملک کے لوگوں کی موجودگی میں حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ تمام قتل جو آج سے قبل مختلف قبیلوں میں ہو چکے۔ اب میں اعلان کرتا ہوں کہ آ ج سے پہلا سب حساب بند اور سب سے پہلے میں اپنے چچا حارث کا خون کالعدم کرتا ہوں۔

بیویوں کے متعلق وصیت

پھر فرمایا:۔ لوگو! میں تمہاری بیویوں کے متعلق تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان سے حسن سلوک سے پیش آیا کرو۔ سنو وہ تمہاری لونڈیاں نہیں ہیں بلکہ اِنَّمَا ھُنَّ عَوَانٌ عِنْدَکُمْ (سنن الترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء في حق المرأۃِ علی زوجھا) یعنی وہ تمہاری مددگار ہیں جو خدا نے تمہیں تمہارے فرائض کے سرانجام دینے کے لئے عنایت کی ہیں۔ اس سے زیادہ تمہارا ان پر کوئی زور نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ بے حیائی اختیار کریں۔ مگر یہ تمہارا وہم نہ ہو بلکہ ان کی بے حیائی کھلم کھلا اور ثابت شدہ ہو تو بے شک تمہیں ان کی اصلاح کے لئے قدم اُٹھانے کی اجازت ہے۔ سنو! پہلے انہیں وعظ و نصیحت کرو۔ پھر اگر اثر نہ ہو تو تنبیہہ کے طور پر ان سے الگ کمروں میں رات گزارو۔ پھر بھی اگر وہ اصلاح نہ کریں تو تمہیں انہیں بدنی سزا کا بھی اختیار ہے مگر دیکھو ہڈی نہ ٹوٹے، گوشت نہ پھٹے، ضرب شدید نہ ہو۔ پھر اگر وہ تمہاری اس تنبیہہ پر اپنی اصلاح کر لیں تو پھر قطعاً اِدھر اُدھر کے بہانوں سے اپنا غصہ یا کینہ نہ نکالو۔ سنو لوگو! جس طرح تمہاری بیویوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اسی طرح تم پر بھی ان کے کچھ حقوق ہیں۔ مثلاً تمہارا یہ حق ہے کہ تمہاری بیویاں ان لوگوں سے نہ ملیں جن سے تم انہیں روکتے ہو۔ تمہارے گھروں میں انہیں نہ آنے دیں جن کا آنا تمہیں ناپسند ہو۔ دیکھو لوگو! تمہارا بھی فرض ہے کہ تم کھانے پینے، کپڑے وغیرہ میں ان سے آرام و آسائش کا سلوک اختیار کرو۔

خدا کا پیغام پہنچا دیا

اس کے بعد فرمایا۔ دیکھو! اللہ نے میرے ذریعہ تم سب کو بھائی بھائی بنا دیا۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد تم پھر جاہلیت کا طریق اختیار کر کے ایک دوسرے کی گردنیں اُڑانے لگ جاؤ۔ اس کے بعد حضور نے بہت سی نصیحتیں فرمائیں اور جب حضور یہ خطبہ ختم کر چکے تو فرمایا کہ لوگو! بتاؤ میں تم کو یہ سب باتیں سنا چکا ہوں یا نہیں؟ سب نے بالاتفاق کہا کہ ہاں حضور نے ہمیں یہ باتیں پہنچا دی ہیں۔ اس پر آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہا کہ اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ یعنی اے اللہ! گواہ رہ کہ میں تیرے بندوں کو تیرا پیغام پہنچا چکا اور اپنا فرض ادا کر چکا ہوں۔ تین دفعہ حضور نے یہ الفاظ فرمائے۔ پھر فرمایا کہ اَلَا لِیُبَلِّغ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ یعنی اے حاضرین! تمہارا فرض ہے کہ میری یہ باتیں ان کو پہنچا دو جو اس مجلس میں حاضر نہیں۔ اس پر حضور نے یہ خطبہ ختم فرمایا اور چار روز کے بعد حضور واپس مدینہ تشریف لے گئے جہاں اس خطبہ سے اٹھاسی دن بعد حضورؐ کاوصال ہو گیا اور حضور اس ناپائیدار دنیا کو چھوڑ کر اس دائمی زندگی کے گھر میں اپنے سب سے محبوب اور حقیقی رفیق کے حضور میں جا پہنچے۔

حجۃالوداع

حضور کے اس حج کو حجۃ الوداع یعنی رخصت کا حج کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کو حجۃ الوداع کے نام سے دھوکا لگتا ہے کہ حضور نے شاید کئی حج کئے۔ جن میں سے ایک کا نام حجۃ الوداع ہے۔ مگر ایسا نہیں۔ کیونکہ حضور نے اسلام میں حج کے فرض ہونے کے بعد صرف ایک حج کیا اور حضور کا یہ حج بسبب اس کے کہ اس میں حضور نے اپنی وفات کے قریب ہونے کا اعلان کیا اور بسبب اس کے کہ اس میں تمام لوگوں کو جمع کر کے بہت سی نصیحتیں کر کے رخصت کیا۔ حجۃ الوداع یعنی رخصت کا حج کہلایا۔ اے میرے خدا! مجھے اور تمام مسلمانوں کو اس امر کی توفیق عطا فرما کہ ہم ہر مسلمان کے خون، مال اور عزت کو اسی طرح حرام بلکہ اس سے بڑھ کر حرام سمجھیں جس طرح قدیم سے عرب لوگ ذوالحجہ مہینہ کی حرمت بالخصوص اس کی دسویں تاریخ کی حرمت پھر خاص کر بَلَدُ اللّٰہِ الْحَرَام کی حرمت کو مانتے، تسلیم کرتے اور قائم کرتے تھے۔ اے اللہ تو ایسا ہی کر۔ آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْن

(روزنامہ الفضل قادیان 21 فروری 1940ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جولائی 2020ء