• 7 اگست, 2020

یوم العرفات کو دعا۔خطبہ الہامیہ کا نشان اور قربانی کی حقیقت

11اپریل1900ء
یوم العرفات کو دعا

(یوم العرفات کو علی الصبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بذریعہ ایک خط کے حضرت مولانا نور الدین صاحب کو اطلاع دی)

’’میں آج کا دن اور رات کا کسی قدر حصہ اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے دعا میں گزارنا چاہتا ہوں، اس لئے وہ دوست جو یہاں پر موجود ہیں۔ اپنا نام مع جائے سکونت لکھ کر میرے پاس بھیج دیں، تاکہ دعا کرتے وقت مجھے یاد رہے۔‘‘

اس پر تعمیل ارشاد میں ایک فہرست احباب کی ترتیب دے کر حضورؑ کی خدمت میں بھیج دی گئی۔ اس کے بعد اور احباب باہر سے آگئے۔ جنہوں نے زیارت اور دعا کے لئے بے قراری ظاہر کی اور رقعے بھیجنے شروع کر دئے۔حضور نے دوبارہ اطلاع بھیجی کہ
’’میرے پاس اب کوئی رقعہ وغیرہ نہ بھیجے۔ اس طرح سخت ہرج ہوتا ہے۔‘‘

مغرب اور عشاء میں حضور تشریف لائے جو جمع کر کے پڑھی گئیں۔بعد فراغت فرمایا:۔
’’چونکہ میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر چکا ہوں کہ آج کا دن اور رات کا حصہ دعاؤں میں گزاروں۔ اس لئے میں جاتا ہوں تاکہ تخلف وعدہ نہ ہو۔‘‘

یہ فرما کر حضور تشریف لے گئے اور دعاؤں میں مشغول ہو گئے۔دوسری صبح عید کے دن مولوی عبد الکریم نے اندر جا کر تقریر کرنے کے لئے خصوصیت سے عرض کی۔ اس پر حضور نے فرمایا: ’’خدا نے ہی حکم دیاہے۔‘‘ اور پھر فرمایا کہ
’’رات کو الہام ہوا ہے کہ مجمع میں کچھ عربی فقرے پڑھو۔ میں کوئی اور مجمع سمجھتا تھا۔شاید یہی مجمع ہو۔‘‘

خطبہ الہامیہ کا نشان

یہ خطبہ جو اللہ تعالیٰ کے القاء وایماء کے موافق حضور نے عربی زبان میں پڑھا۔یہ خطبہ آیا ت اللہ میں سے ایک زبر دست آیت اورلا نظیرہے جو ایک عظیم الشان گروہ کے سامنے پورا ہوا،اور ‘‘خطبہ الہامیہ’’کے نام سے شائع فرما دیا گیا۔

جب حضرت اقدسؑ عربی خُطبہ پڑھنے کے لئے تیار ہوئے، تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حکم دیا کہ وُہ قریب ترہوکر اس خطبہ کو لکھیں۔ جب حضرا ت مولوی صاحبان تیارہوگئے، تو حضورؑ نے یا عباداللّٰہ کے لفظ سے عربی خطبہ شروع فرمایا۔ اثناء خطبہ میں حضرت اقدسؑ نے یہ بھی فرمایا:۔
’’اب لکھ لو پھر یہ لفظ جاتے ہیں۔‘‘

جب حضرت اقدسؑ خُطبہ پڑھ کر بیٹھ گئے، تواکثر احباب کی درخواست پر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب اُس کا ترجمہ سُنانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ اس سے پیشتر کہ مولانہ موصوف ترجمہ سُنائیں، حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ
’’اس خُطبہ کو کل عَرفہ کے دن اور عید کی رات میں جو مَیں نے دُعائیں کی ہیں۔ ان کی قبولیت کے لئے نشان رکھاگیا تھا کہ اگر مَیں یہ خُطبہ عربی زبان میں اِرتجالاً پڑھ گیا، تو وہ ساری دُعائیں قبول سمجھی جائیں گی۔ الحمدللہ کہ وُہ ساری دُعائیں بھی خداتعالیٰ کے وعدہ کے موافق قبول ہوگئیں۔‘‘

سجدۂ شُکر اور اس کی قبولیت

ابھی مولانا عبدالکریم صاحب ترجمہ سُنارہے تھے کہ حضرت اقدسؑ فرطِ جوش کے ساتھ سجدہ ٔ شکر میں جاپڑے۔ حضورؑ کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدۂ شکرادا کیا۔ سجدہ سے سراُٹھاکر حضرت اقدسؑ نے فرمایا:
‘‘ابھی مَیں نے سُرخ الفاظ میں لکھادیکھا ہے کہ ‘‘مبارک’’یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔‘‘

12؍اپریل1900ء
حضرت اقدسؑ کی دلی آرزُو

حضرت اقدس امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دلی آرزُو اور تمنارہتی ہے کہ ہمارے احباب کو یہاںدارالامان میں باربار آنے کا موقع ملے اور اس طرح پر یہاں رہ کر ہر ایک شخص کو اپنے تزکیۂ نفس اور اور تصفیۂ باطنی اور تجلیۂ رُوح کے لئے عملی ہدایتیں مل سکیں۔ اس غرض کے پوراکرنے کے لئے آپؑ نے سال میں تین جلسے مقرر کررکھے ہیں:عیدین اور بڑے دن کی تعطیلوں میں۔

روئداد جلسہ عیدالاضحیہ درج ذیل ہے:

آنحضرت ؐ اور مسیح موعودؑ کی عیدالاضحیہ سے مناسبت

فرمایا:۔
’’آج عیدالاضحٰی کا دن ہے اور یہ عید ایک ایسے مہینے میں آتی ہے، جس پر اسلامی مہینوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یعنی پھر محرم سے نیا سال شروع ہوتا ہے۔ یہ ایک سِرّ کی بات ہے کہ ایسے مہینہ میں عید کی گئی ہے۔ جس پر اسلامی مہینہ کا یازمانہ کا خاتمہ ہے۔ اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اس کو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آنے والے مسیحؑ سے بہت مناسبت ہے ۔ وہ مناسبت کیا ہے؟ ایک یہ کہ ہمارے نبی کریم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آخر زمانہ کے نبی تھے اور آپؐ کا وجود باجود اور وقت بعنیہٖ گویا عیدالضحٰے کا وقت تھا؛ چنانچہ یہ امرمُسلمانوں کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ آپ ؐ نبی آخرالزمان تھے اوریہ مہینہ بھی آخرالشہور ہے، اس لیے اس مہینہ کو آپؐ کی زندگی اور زمانہ سے مناسبت ہے۔

دُوسری مناسبت ۔ چونکہ یہ مہینہ قربانی کا مہینہ کہلاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حقیقی قربانیوں کا کامل نمونہ دکھانے کے لئے تشریف لائے تھے۔ جیسے آپ لوگ بکری، اُونٹ ، گائے، دُنبہ ذبح کرتے ہو، ایسا ہی وُہ زمانہ گذرا ہے، جب آج سے تیرہ سو سال پیشتر خداتعالیٰ کی راہ میں انسان ذبح ہوئے۔ حقیقی طور پر عیدالضحیٰ وُہی تھی اور اُسی میں ضحٰی کی روشنی تھے۔

قربانی کی حقیقت

یہ قربانیاں اس کا لُب نہیں۔ پوست ہیں۔روح نہیں جسم ہیں۔اس سہولت اور آرام کے زمانے میں ہنسی خوشی سے عید ہوتی ہے اور عید کی انتہا ہنسی خوشی اور قسم قسم کے تعیشات قرار دئیے گئے ہیں۔ عورتیں اسی روز تمام زیورات پہنتی ہیں۔ عمدہ سے عمدہ کپڑے زیب تن کرتی ہیں۔ مرد عمدہ پوشاکیں پہنتے ہیں اور عمدہ سے عمدہ کھانے بہم پہنچاتے ہیں اور یہ ایسا مسرت اور راحت کا دن سمجھا جاتا ہے کہ بخیل سے بخیل انسان بھی آج گوشت کھاتا ہے۔ خصوصاً کشمیریوں کے پیٹ تو بکروں کے مدفن ہو جاتے ہیں۔ گو اور لوگ بھی کمی نہیں کرتے۔ الغرض ہر قسم کے کھیل کود۔ لہوولعب کانام عید سمجھا گیا ہے، مگر افسوس ہے کہ حقیقت کی طرف مطلق توجہ نہیں کی جاتی۔

عیدالاضحیہ کی حقیقت

درحقیقت اس دن میں بڑاسریہ تھا کہ حضرت ابراہیمؑ نے جس قربانی کا بیج بویا تھا اور مخفی طور پر بویا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے لہلہلاتے کھیت دکھائے۔ حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے ذبح کرنے میں خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں دریغ نہ کیا ۔اس میںمخفی طور پر یہی اشارہ تھا کہ انسان ہمہ تن خدا کا ہو جائے اور خدا کے حکم کے سامنے اُس کی اپنی جان،اپنی اولاد،اپنے اقرباواعزا کا خون بھی خفیف نظر آوے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو ہر ایک پاک ہدایت کاکامل نمونہ تھے،کیسی قربانی ہوئی۔خونوں سے جنگل بھر گئے۔گویا خُون کی ندیاں بہہ نکلیں۔باپوں نے اپنے بچوں کو،بیٹوں نے اپنے باپوں کو قتل کیا۔اور وہ خوش ہوتے تھے کہ اسلام اور خدا کی راہ میں قیمہ قیمہ اور ٹکڑے ٹکڑے بھی کیے جاویں،تو ان کی راحت ہے۔مگر آج غور کر کے دیکھو کہ بجز ہنسی اور خوشی اور لہو ولعب کے روحانیت کا کونسا حصہ باقی ہے۔یہ عید الاضحیہ پہلی عید سے بڑھ کر ہے اور عام لوگ بھی اس کو بڑی عید تو کہتے ہیں،مگر سوچ کر بتلائو کہ عید کی وجہ سے کسی قدر ہیں۔جو اپنے تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور روحانیت سے حصہ لیتے ہیں اور اُس روشنی اور نور کو لینے کی کوشش کرتے ہیںجو اس ضحی میں رکھا گیا ہے۔عید رمضان اصل میں ایک مجاہدہ ہے اور ذاتی مجاہدہ ہے اور اس کا نام بذل الروح ہے۔مگر یہ عید جس کو بڑی عید کہتے ہیں،ایک عظیم الشان حقیقت اپنے اندر رکھتی ہے اور جس پر افسوس!کہ توجہ نہیں کی گئی۔خدا تعالیٰ نے جس کے رحم کا ظہور کئی طرح پر ہوتا ہے۔امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہ بڑا بھاری رحم کیا ہے کہ اور اُمتوں میں جس قدر باتیں پوست اور قشر کے رنگ میں تھیں،اُن کی حقیقت اس اُمت مر حومہ نے دکھلائی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ326-327)

(از ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جولائی 2020ء