• 5 اگست, 2020

’’حرمین ہائی سپیڈ ریلوے‘‘ قطار الحرمین السریع

اب وہ دن بہت قریب ہے کہ اس سفر کے لئے ریل تیار ہو جائے گی (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

’’حرمین ہائی سپیڈ ریلوے‘‘ قطار الحرمین السریع

آخری زمانہ اور مسیح موعود و امام مہدی کی کئی نشانیاں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہیں اور ان کی تفصیل یا اعادہ آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔ ایسی ہی ایک عظیم الشان پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔

’’چوتھا نشان۔ ایک نئی سواری کا نکلنا ہے جو مسیح موعود کے ظہور کی خاص نشانی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے وَ اِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ (التکویر:5) یعنی آخری زمانہ وہ ہے جب اونٹنیاں بیکار ہوجائیں گی۔اور ایسا ہی حدیث مسلم میں ہے ولیترکن القلاص فلا یسعیٰ علیھا۔ یعنی اس زمانہ میں اونٹنیاں بے کار ہوجائیں گی اور کوئی اُن پر سفر نہیں کرے گا۔ ایام حج میں مکہ معظّمہ سے مدینہ منورہ کی طرف اونٹنیوں پر سفر ہوتا ہے۔ اب وہ دن بہت قریب ہے کہ اس سفر کے لئے ریل تیار ہو جائے گی تب اس سفر پر یہ صادق آئے گا کہ لیترکن القلاص فلا یسعیٰ علیھا۔‘‘

(روحانی خزائن جلد 23۔حقیقۃ الوحی صفحہ نمبر 206)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپؑ تک بھی خبر پہنچی کہ ریل کا ایک منصوبہ حجا ز کے علاقہ میں شروع ہونے والا ہے چنانچہ ریل کا یہ منصوبہ 1908ء میں شروع ہوکر 1920ء کے قریب ختم ہوگیا۔گویا ایک رنگ میں تو اس زمانہ میں یہ ایک ناممکن بات بظاہر پوری ہوگئی۔ لیکن حضور علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ ’’اب وہ دن بہت قریب ہے کہ اس سفر کے لئے ریل تیار ہو جائے گی تب اس سفر پر یہ صادق آئے گا کہ لیترکن القلاص فلا یسعیٰ علیھا۔‘‘ ایک صورت میں تو گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ سےعملی طور پر اونٹ کے سفر کو ترک کرکے دیگر ذرائع موٹر کار وغیرہ کے استعمال سے پورا ہوچکا ہے لیکن اب باقاعدہ طور پر ایک ’’حرمین ہائی سپیڈ ریلوے‘‘ کا افتتاح بھی عمل میں آچکا ہے۔ 25؍ستمبر 2018ء کو سعودی فرمانروا ملک سلیمان بن عبد العزیز نے اس کا افتتاح کیا مگر باقاعدہ عوام کے لئے ٹرین کا آغاز 11؍اکتوبر 2018ء کو ہوا، اور فی الحال مکہ سے مدینہ کے درمیان یہ ریل ہفتہ کے چند دن اور مخصوص اوقات میں چلتی ہے۔

آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے مولد و مسکن میں جانے کا تصور ہی ایک خاص کیفیت طاری کردیتا ہے۔ جب یہ ارادہ بنا تو معا ًیہ خیال بھی دل میں آیا کہ کیوں نہ وہاں گزشتہ سال ہی جاری ہونے والی ریل پر بھی سفر کیا جائے۔ گو کہنے کو تو یہ دیگر سفروں کی طرح کا ایک سفر ہی تھا مگر اس میں مضمر صداقت مصطفوی ﷺ اور مسیح موعود علیہ السلام کا جو عنصر شامل ہے وہ بھی ایک عجیب حالت کردیتا ہے۔ آپ کا بھی اگر مکہ مدینہ سفر کرنے کا ارادہ ہو تو ضرور اس ریل کا سفر کریں۔ ٹکٹ درج ذیل لنک سے بک کروا سکتے ہیں اس کے لئے آپ کے پاس اپنا پاسپورٹ نمبر ہونا ضروری ہے۔ اس بات کا خیال رہے کہ فی الحال یہ سہولت ہفتے کے تمام دن میسر نہیں ہے۔ اس لئے اپنے پروگرام کو اسی طرح فائنل کریں کہ آپ کے مطلوبہ دن آپ بذریعہ ٹرین سفر کرسکیں۔

www.sar.com.sa

مسجد حرام سے بذریعہ ٹیکسی 10سے 15منٹ میں ٹرین سٹیشن پہنچا جاسکتاہے اور کرایہ 20ریال سے 50ریال جہاں آپ ڈرائیور کو راضی کرلیں۔ ٹرین سٹیشن کو دیکھ کر دور سے ہی ہوائی اڈے کا گمان ہوتا ہے اور اندر تو ماحول کسی ہوائی اڈے سے کم نہیں۔ کچھ دیر پہلے پہنچیں اور سٹیشن کو بھی دیکھیں۔آپ کو سیکیورٹی کے بھی تین دروازوں سے گزرنا ہوگا۔ ٹکٹ پر لکھی کوئی ممنوعہ شے نہ لے کر جائیں البتہ بیگ سائز اور وزن میں فی الحال سختی نہیں مگر احتیاط ضروری ہے۔ ٹکٹ وہاں پہنچ کر بھی لیا جاسکتاہے لیکن آپ نے کیونکہ روز روز تو جانا نہیں اس لئے آن لائن بکنگ ہی بہتر معلوم ہوتی ہے۔ مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے درمیان میں بس دو ہی سٹیشن آتے ہیں پہلے جدہ اور پھر مدینۃ الملک عبد اللہ الاقتصادی۔ ٹرین کی سپیڈ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جاتی ہے۔ اس سفر کے دوران اگر آپ کے ذہن میں یہ حدیث ہو جس میں آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’ولیترکن القلاص فلا یسعیٰ علیھا۔ یعنی اس زمانہ میں اونٹنیاں بے کار ہوجائیں گی اور کوئی اُن پر سفر نہیں کرے گا۔‘‘ ایک تو اس نظر سے انسان راستے کا جائزہ لیتا جاتا ہے کہ کیا واقعی اب اس علاقے میں اونٹ بطور سواری کے استعمال نہیں ہوتا۔ خاکسار کا تجربہ تو یہی رہا کہ صرف ایک موقع پر کچھ ایسی بدوؤں کی آبادی نظر آئی جہاں اونٹ بھی تھے اس کے علاوہ اس 453 کلومیٹر کے مکہ سے مدینہ کے راستے میں اونٹ نظر بھی نہیں آتے بلکہ جگہ جگہ مختلف انڈسٹریز، سڑکیں، آبادیاں یا پھر اکثر حصہ لق و دق صحرا پر مشتمل تھا۔ اگر آپ ٹرین کے اندر موجود سکرین پر غور کریں اور آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے سفر ہجرت کے راستے کو ذہن میں لائیں تو اس میں کچھ نہ کچھ مماثلت اس پہلو سے نظر آتی ہے کہ ٹرین کا راستہ بھی بحرِاحمر کے قریب سے ہوتا ہوا جاتاہے۔ بہر حال اصل بات یہ ہے ہر پہلو سے دل و دماغ پر سید وُلدِ آدم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا خیال ہی حاوی رہتا ہے۔ یہ سکرین آپ کو سفر کے ہر لمحے کی خبر دیتی رہتی ہے۔ بوگی نمبر، تاریخ، وقت، رفتار، کتنا سفر طے ہوگیا ہے،آنے والا سٹیشن اور خاص طور پر خانہ کعبہ کس طرف ہے۔

’’حرمین ہائی سپیڈ ریلوے‘‘ کی ٹرینیں دنیا کی بہترین ٹرینوں میں سے ہیں۔ہر لحاظ سے اس میں سہولت کا خاص خیال رکھا گیا ہے اور اگر آپ کی دوران ِسفر سعودی عرب میں رہنے والے کسی فرد سے بات بھی ہو تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ کرایہ بھی نہ صرف ایک عام آدمی کی استطاعت میں بلکہ اگر آپ نے اکیلے مکہ سے مدینہ جانا ہو تو ٹرین ہی سفر کا سستا ذریعہ ہے۔ اس بات کا بیان اس لئے بھی ضروری ہے کہ حدیث میں سہولت اور آرام کا ہی ذکر مذکور ہے۔ ٹرین کے اند ر کنٹین کا بھی انتظام ہے جس سے آپ اس مختصر سفر کے دوران چائے، کافی، جوس اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء خرید سکتے ہیں۔

ہمارے سفر کا آغاز صبح 8؍بجے ہوا تھا اور اختتام 11 بج کر 5منٹ پر ہوا۔ یقیناً یہ زندگی کا ایک یادگار سفر تھا، اس ٹرین کا سفر جس کی پیش گوئی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے آج سے چودہ سوسال پہلے دی تھی اور اس ٹرین کا مکہ و مدینہ کے درمیا ن جاری ہونا صداقت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دلیل ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’سوچ کر دیکھو کہ جب مکّہ اور مدینہ میں اُونٹ چھوڑ کر ریل کی سواری شروع ہوجائے گی تو کیا وہ روز اِس آیت اور حدیث کا مصداق نہ ہوگا ؟ضرور ہوگا۔اور تمام دل اُس دن بول اُٹھیں گے کہ آج وہ پیشگوئی مکّہ اورمدینہ کی راہ میں کُھلے کُھلے طور پر پوری ہوگئی۔ہائے افسوس اس نام کے مسلمانوں پر کہ جو نہیں چاہتے کہ (میرے بغض کی وجہ سے) آنحضرت ﷺ کی کوئی پیشگوئی پوری ہو۔‘‘

(روحانی خزائن جلد23 چشمہء معرفت حاشیہ صفحہ 81)

اللہ تعالیٰ اہل عرب، مسلمانوں اور تمام بنی نوع انسان کو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلا م کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

٭…٭…٭

(ابوالعالیان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 30 جولائی 2020ء