• 30 نومبر, 2021

ان رشتوں کا حق تبھی ادا ہوتا ہے جب اُن کے نقشِ قدم پر بھی چلا جائے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
گزشتہ خطبہ میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ کے تبلیغ کے واقعات و تجربات بیان کئے تھے اور مَیں نے کہا تھا کہ کچھ واقعات رہ گئے ہیں وہ آئندہ بیان کروں گا، تو وہ آج ہی بیان کرتا ہوں۔ ان واقعات کے سنانے کا اصل مقصد تو جیسا کہ پہلے بھی مَیں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں یہ ہے کہ ایک تو ان صحابہ کے لئے دعا ہو جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قبول کیا اور ہمیں اس زمانے کے انعامات سے حصہ لینے والوں میں بنایا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔ ورنہ شاید ہم میں سے بہت سے اس نعمت سے محروم رہتے جو اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔ دوسرے ان کی نیکیاں، اُن کی ایمانی جرأت، اُن کی دین کے لئے غیرت، اُن کا دین کی خدمت کا جذبہ اُن کی نسلوں میں بھی روح پھونکنے والا ہو اور جو براہِ راست اُن سے خونی رشتہ نہیں رکھتے لیکن ایک روحانی رشتہ ان کے ساتھ ہے وہ اس تعلق کی وجہ سے اپنے اندر بھی ایک جوش اور ولولہ پیدا کر کے ان بزرگوں کے جذبات اور دلی تڑپ کو آگے بڑھانے والے ہوں اور اس فیض کو اپنی نسلوں میں بھی جاری رکھیں۔ تبھی ہم ان بزرگوں کے احسانوں کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں، بعض دفعہ ملنے پر بتاتے بھی ہیں کہ فلاں بزرگ کا آپ نے ذکر کیا تھا اُن کے ساتھ میرا رشتہ داری کا، عزیز داری کایہ یہ تعلق ہے۔ لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان رشتوں کا حق تبھی ادا ہوتا ہے جب اُن کے نقشِ قدم پر بھی چلا جائے۔ پس اس ذمہ داری کے نبھانے کے احساس اور کوشش کو ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔

… پھر حضرت منشی محبوب عالم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حکیم محمد علی صاحب موجد روح جیون بوٹی شاہی طبیب ریاست جموں و کشمیر تھے۔ وہ پنشن لے کر لاہور میں سکونت پذیر ہوئے۔ مَیں اُن کے ہاں ملازم تھا۔ وہ بھی اکثر مسیح موعودعلیہ السلام کی مخالفت کیا کرتا تھا اور بہت بد زبانی کیا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک دن دورانِ گفتگو میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شانِ مبارک میں دیّوث کا لفظ استعمال کیا۔ (نعوذ باللہ)۔ مَیں نے رات کو بہت دعائیں کی اور استغفار کیا کہ ایسے شخص سے مَیں نے کیوں گفتگو کی جس نے ایسی بے ادبی کی ہے۔ مگر رات کو مجھے خداوند کریم نے رؤیا میں دکھایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میاں چراغ دین صاحب مرحوم کے مکان میں تشریف فرما ہیں اور مَیں حاضرِ خدمت ہوا ہوں۔ جب مَیں نے حضور کو السلام علیکم کہا تو حضور نے جواب دیا وعلیکم السلام۔ اور مجھ سے پوچھا کہ وہ شخص جو ہمیں دیوث کہتا ہے کہاں ہے؟مَیں نے باہر کی طرف دیکھا تو محمد علی آ رہا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ حضور وہ محمد علی حکیم ہے باہر آ رہا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ اُس کو کہہ دو کہ ہم آپ سے ملاقات نہیں کرتے کیونکہ آپ دیوث ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتقام دیکھیں۔ اس رؤیا کے بعد چند ہفتے گزرے تھے کہ اُس کی لڑکی ایک کلرک کے ساتھ بھاگ گئی اور گوجرانوالہ محکمہ پولیس کے خفیہ افسر نے اُس کوپکڑ لیا۔ کلرک نے کہا یہ میری بیوی ہے۔ لڑکی نے کہا یہ میرا ملازم ہے۔ دونوں کے متضاد بیانات تھے۔ پولیس کو شبہ ہو گیا۔ گوجرانوالہ کے اسٹیشن پر اُن کو گاڑی سے اتار لیا۔ ڈپٹی کمشنر کے پیش ہوئے۔ وہاں لڑکی نے بیان دیا کہ میرا باپ دیوث ہے اور میری شادی نہیں کرتا۔ (اب یہ حکیم صاحب کی بیٹی خود بیان دے رہی ہے)۔ مَیں مجبوراً اس آدمی کے ساتھ ایک نوابزادے کے پاس جا رہی ہوں۔ خیر اُس نے اپنے واقعات سنائے۔ اُس ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمہارے باپ کی ہتک ہو گی اُس کے پاس چلی جاؤ۔ مگر اس نے واپس جانے سے انکار کیا اور کہا باپ مجھے مار ڈالے گا۔ خیر ڈپٹی کمشنر نے کہا ہم انتظام کر دیتے ہیں اور لڑکی کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے پاس بھیج دیا کہ لڑکی کے باپ کے حوالے کیا جائے مگر اُس سے ضمانت لی جائے کہ اسے کوئی تکلیف نہ دے۔ چنانچہ ڈپٹی کمشنر نے کچہری میں حکیم صاحب کو طلب کیا۔ جاتے ہی حکیم صاحب کو ڈانٹا اور کہا کہ تم بڑے دیوث ہو۔ (دوسری دفعہ پھر ڈپٹی کمشنر نے وہی بات کہی)۔ اپنی لڑکی کی حفاظت نہیں کرتے اور تم بڑے بے شرم ہو، جوان لڑکی کا رشتہ نہیں کرتے۔ پانچ ہزار روپے کی ضمانت لاؤ تب لڑکی تمہارے حوالے کی جائے گی۔ اور اس طرح وہ بدلہ لیا۔ پھر اس پر اس کا مزید عبرتناک انجام یہ ہوا کہ کچھ عرصے کے بعد مولوی صاحب شہر میں دیوث مشہور ہو گئے۔ ہر ایک اُن کو دیوث کہنے لگا۔ اور کچھ عرصے کے بعد وہی لڑکی پھربھاگ گئی اور عیسائی ہو گئی۔

(ماخوذ ازرجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد9 صفحہ207تا209 روایت حضرت منشی محبوب عالم صا حبؓ)

حضرت امیر خان صاحبؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر جب مَیں نے سنا کہ چوہدری غلام احمد صاحب پیغامی ہو گئے ہیں تو مَیں وہاں پہنچا اور اُنہیں پیغامیوں کے حالات سے اطلاع دی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہ انہوں نے بہت اثر لیا اور پیغامی خیالات سے توبہ کر لی اور یہاں قادیان میں تشریف لائے۔ اسی طرح چوہدری نعمت خان صاحب سب جج کو میں نے موضع کھیڑی میں تبلیغ کی اور آپ اس کے تھوڑے عرصے بعد احمدی ہو گئے۔ پھر جب آپ ’اونہ‘ میں تھے اور مَیں نے سنا کہ پیغامی خیالات رکھتے ہیں تو اُن سے مَیں (نے) خط و کتابت کی اور بہ عمل خود انہوں نے اپنے خیالات میں تبدیلی فرمائی۔

(ماخوذ ازرجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد6 صفحہ146-147 روایت حضرت امیرخان صاحبؓ)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تو پیغامیوں کی تعداد ویسے بھی بہت تھوڑی رہ گئی ہے اور یہ جہاں جہاں تھے پچھلے دو تین سال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی تعداد میں احمدی ہوئے ہیں، مبائع ہوئے ہیں۔ حضرت مولوی عبداللہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں حضرت صاحب کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ حضرت اُس وقت ایک جگہ کھڑے تھے۔ ایک صحابی حضرت صاحب کے پاس کھڑا تھا۔ اُس نے مجھ کو دیکھ کر حضرت صاحب کو کہا کہ یہ مولوی عبداللہ کھیوے والا ہے۔ اس کے ساتھ بڑے مقابلے ہوئے ہیں۔ یعنی تبلیغی مقابلے بحثیں وغیرہ۔ لیکن ہر میدان میں اس کو اللہ تعالیٰ غلبہ دیتا رہا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا: ہاں حق کو ہمیشہ غلبہ ہی ہوتا ہے۔ یہ کلماتِ مبارک اس برکت والے منہ سے سن کر میری تسلی ہوئی اور بڑی خوشی ہوئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ اس منہ سے یہ کلمہ نکلا ہے۔ مجھے امید ہو گئی کہ مَیں حق پر رہوں گا اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ مجھے غلبہ ہی دے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُس وقت سے اب تک کسی مقابلے میں مجھے شکست نہیں ہونے دی، غلبہ ہی بخشا ہے۔

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد10 صفحہ221-222 روایت حضرت مولوی عبداللہ صاحبؓ)

(خطبہ جمعہ 16؍ مارچ 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

چھوٹی مگر سبق آموز بات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 اگست 2021