• 22 ستمبر, 2021

ایڈیٹر کے نام خطوط

’’وعلیکم السلام‘‘

مورخہ 23 اگست 2021ء کو حضور انورایده الله تعالی کے ساتھ ملاقات میں خاکسار نے تمام ممبران بورڈ، کمپوزنگ و دیگر امور میں مدد کرنے والوں اور قلمی معاونت کرنے والوں کی طرف سے ’’السلام علیکم‘‘ عرض کر کے دعا کی درخواست کی تو حضور نے فرمایا ’’وعلیکم السلام‘‘

پیارے حضور کا محبت بھرا سلام الفضل ہذا کے ذریعے قلمی معاونت کرنے والے مضمون نگاروں ،شعراء، کمپوزنگ اور دیگر امور میں احسن رنگ میں فرائض ادا کرنے والوں کو پیش ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سلامتی کا وارث بنائے۔ آمین۔ (ایڈیٹر)

ایڈیٹر کے نام خطوط

• مکرمہ امۃالباری ناصر۔امریکہ سےلکھتی ہیں:
عرض ہے کہ خاکسار کا ایک مضمون ’حضرت ام المؤمنین ؓ کی اپنی خادمہ سے شفقت‘ 20اگست 2021ء کے شمارہ میں شائع ہؤا تھا۔ بھائی جان مکرم عبد الباسط شاہد (مربی سلسلہ یوکے) نے توجہ دلائی ہے کہ حضرت داداجان اور حضرت دادی جان کی بیعت کا واقعہ من وعن لکھنا چاہئے تھا اختصار سے کام نہیں لینا چاہئے تھا چنانچہ رجسٹر روایات سے حضرت دادا جان ؓ(ولادت 1866ء بیعت 1895ء بمطابق روایت حضرت مصلح موعوؓد وفات نومبر 1956ء) کی بیان فرمودہ روایت درج ہے :

روایات بیان فرمودہ حضرت چودھری فضل محمد ؓ دکاندار ہرسیاں والے مہاجر قادیان

پہلے میری سکونت موضع ہرسیاں تحصیل بٹالہ (ضلع گورداسپور) کی تھی اور بعض دوست میرے پاس آ کر حضرت مسیح موعودؑ کی کچھ باتیں کیا کرتے تھے۔ اور میں کچھ کچھ سوال جواب کیا کرتا تھا۔ اتفاقاً جلسہ 1896ء کے موقعہ پر جب کہ میں ایک دوست کو‘ جو سری گو بندپور میں رہتا تھا گھوڑے پر سوار ہو کر اس کے ملنے کے واسطے براستہ قادیان جا رہا تھا اور میں جب مسجد اقصیٰ کے دروازہ کے سامنے پہنچا تو میرے ایک دوست محمد اکبر صاحب مرحوم (بٹالوی) مسجد کے اندر سے باہر نکلے اور مجھ سے ملے اور انہوں نے میرے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور مجھے گھوڑے سے اتار دیا اور فرمایا کہ آج جلسہ ہے میں ہر گز آپ کو نہیں جانے دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے میرا گھوڑا کسی رشتہ دار کے ہاں باندھ دیا اور مجھے ساتھ لے کر مسجد کے اندر چلے گئے۔

جب میں اندر گیا تو اس وقت میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہیں اور مولوی عبدالکریم صاحب تقریر فرما رہے تھے۔ میں وہاں بیٹھ رہا اور تقریر سنتا رہا۔ چنانچہ میں دو دن قادیان شریف میں رہا۔ اور میں نے چندہ بھی دیا۔ ایک دوست جو چندہ لے رہا تھا اُس نے میرا نام پوچھا مگر میں نے اس کو نام نہ بتلایا اور چندہ دے دیا۔

آخری دن جب بیعت شروع ہوئی تو محمد اکبر صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر رکھ دیا۔ میں نے دل میں کہا کہ جب تک میرا ارادہ نہ ہو بیعت کیا ہو گی؟ خیر میں نے ہاتھ نہ اُٹھایا اور دعا میں شامل ہو گیا۔ جب میں واپس گھر گیا تو میرے دل میں یہی خیال گزرتا کہ قادیان میں سوائے قرآن شریف کے اور نیک دینی باتوں کے اور کچھ نہیں سنا۔ لوگ صرف یاد الٰہی میں مشغول ہیں۔ اس خیال کومدِّنظر رکھتے ہوئے میں نے نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کرنی شروع کی کہ اے میرے پیدا کرنے والے میرے محسن میں تیرا بندہ ہوں گنہگار ہوں، بے علم ہوں، میں نہیں جانتا کہ تیری رضا کے مطابق کون چلتا ہے۔ اس وقت تو مجھے اس رستہ پر چلا کہ جس پر تو راضی ہو تاکہ قیامت کے دن مجھے شرمندگی نہ اُٹھانی پڑے۔ اے میرے مولیٰ جب تو مجھ سے قیامت کو پوچھے گا تو اس وقت میں یہی عرض کروں گا کہ میرے پیارے اللہ میں بے علم تھا اور میں نے اپنا آپ تیرے حضور رکھ دیا تھا۔ اور بار بار عرض کرتا تھا کہ اے میرے پیارے مجھے صحیح رستہ بتا اور اس پر مجھے چلنے کی توفیق بخش۔

کئی دن کے بعد میں بٹالہ میں سودا بزازی خریدنے کے لئے گیا تو میں پہلے اسی دوست محمد اکبر کے پاس چلا گیا۔ وہاں بھی یہی باتیں شروع ہو گئیں اور انہوں نے ذکر کیا کہ کل سیٹھ صاحب مدراس سے تشریف لائے ہیں اور قادیان شریف گئے ہیں۔ چنانچہ ایسی ایسی باتوں سے میرے دل میں جوش پیدا ہوا اور میں نے اس دوست کو یعنی محمد اکبر کو کہا کہ اُس روز آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر بیعت والوں میں شامل ہونے کے لئے حضرت صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا مگر میرا دل نہیں چاہتا تھا۔ مگر اب مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جوش پیدا ہوا ہے اور اب میں اسی جگہ سے قادیان شریف جاتا ہوں اور سچے دل سے توبہ کر کے بیعت میں داخل ہوتا ہوں۔ اس پر میرے اس دوست نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر میرے ہمراہ قادیان پہنچے۔ جب میں بیعت کر کے اپنے گھر پہنچا تو میری بیوی نے پوچھا کہ آپ سودا لینے گئے تھے اور آپ خالی ہاتھ آ رہے ہیں۔ اس پر مجھے خیال گزرا کہ حقیقت حال ظاہر کرنے سے یہ ناراض نہ ہو جائیں مگر میں نے ان کو سچ سچ کہہ دیا کہ میں قادیان شریف جا کر حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کر آیا ہوں۔ اس پر اُنہوں نے کچھ نہ کہا۔ اور کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے اپنا ایک خواب سنایا کہ میں خواب میں حج کو جا رہی ہوں اور بہت سے لوگ حج کو جا رہے ہیں اور وہ ہمارے گاؤں سے مشرق کی طرف ہے جدھر لوگ حج کو جا رہے ہیں۔ جب میں حج کی جگہ پہنچی ہوں تو میں اکیلی ہوں۔ وہاں سیڑھیاں چڑھ کر ایک مکان کی چھت پر جا بیٹھی ہوں۔ وہاں دیکھتی ہوں کہ ایک چھوٹی عمر کا بچہ وہاں بیٹھا ہے اور اس کے اردگرد بہت سی مٹھائی پڑی ہے۔ مجھے اس بچہ کو دیکھ کر اپنا وہ بچہ یاد آ گیا جو کچھ عرصہ ہوا فوت ہو چکا ہے۔ اس پر اس بچہ نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ فکر نہ کرو اللہ تعالیٰ تمہیں بچہ دے گا وہ اِحیا ہو گا، نیک ہو گا۔ میرے خیال میں وہ (جگہ) قادیان شریف ہے مجھے قادیان لے چلو۔ چنانچہ میں ان کو قادیان لے آیا اور بیعت میں داخل کروا دیا الحمدللہ۔ بیعت کرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے کوئی چیز نہیں مانگتی صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ مجھے قادیان جانے سے نہ روکیں۔

(از رجسٹر روایات نمبر14 صفحہ275تا286)

الفضل کی اشاعت کے لئے قارئین کی کوششیں

• مکرم عثمان مسعود سویڈن سے لکھتے ہیں :
خاکسار بلا ناغہ الفضل ویب سائٹ سے الفضل اخبار کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے اور پھر اس کو سافٹ ایئر سے امیج بنا کر جتنے بھی صفحات ہوتے ہیں اتنے ہی امیج اپنی فیس بک ٹائم لائن پر اپ لوڈ کر دیتا ہے۔میرے فیس بک پر کافی روابط ہیں اور فالوور بھی 5000 کے قریب ہیں۔اور اس پیچ سے کئی لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔ الحمدللہ۔

قارئین الفضل کی الفضل اخبار سے محبت

• مکرمہ سعیدہ خانم۔سسکاٹون کینیڈا سے لکھتی ہیں :
اللہ تعالی کے فضل سے بچپن سے ہی ہمارے والدین نے الفضل اخبار پڑھنے کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دی تھی۔ اور وہ آج تک قائم ہے۔الحمدللہ۔اب اللہ کے فضل سے یہ روحانی مائدہ ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ سے میسر ہے۔الفضل میں بہت عمدہ مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اللہ تعالی سب لکھنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے اور الفضل کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔

پچھلا پڑھیں

چھوٹی مگر سبق آموز بات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 اگست 2021