• 26 جنوری, 2022

تاریخ احمدیت کا ایک ورق (قسط چہارم و آخر)

تاریخ احمدیت کا ایک ورق
جماعت احمدیہ، عالمگیر غلبہ اسلام اور پرنٹنگ پریس
قسط چہارم و آخر

خطاب حضور انور برموقع جلسہ سالانہ برطانىہ 03؍اگست 2019ء

رقىم پرىس ىوکے اور احمدىہ پرنٹنگ پرىس افرىقہ۔

اللہ تعالىٰ کے فضل سے ىہاں ہمارارقىم پرىس جو فارنہم (Farnham)مىں ہے اس کے ذرىعہ اس سال چھپنے والى کتب کى تعداد 3 لاکھ 31ہزار 810ہے۔ اس کے علاوہ رسالہ موازنہ مذاہب، التقوىٰ، النصرت، مرىم، اسماعىل مىگزىن اور پمفلٹ اور لىف لٹس اور جماعتى دفاتر کى سٹىشنرىز ہىں۔

اس وقت رقىم پرىس انگلستان کى نگرانى مىں افرىقہ مىں بھى 9 پرىس کام کر رہے ہىں جن مىں گھانا، نائىجىرىا، تنزانىہ، سىرالىون، آئىورى کوسٹ، کىنىا، گىمبىا اور برکىنافاسو اور بىنن ہىں اور ان کو بھى ىہاں سے ضرورت کے مطابق مشىنرى مہىاکى جاتى رہى۔ چنانچہ افرىقن ممالک کے سارے پرىسوں مىں طبع ہونے والى صرف کتب کى مجموعى تعداد 4 لاکھ 44 ہزار 344ہے۔ اس کے علاوہ رسائل ہىں، اخبارات ہىں، تبلىغى لٹرىچر ہے اور لىف لٹس وغىرہ کى طباعت ہے جن کى تعداد58؍لاکھ 70ہزار ہے۔ جرمنى کے دو مخلص احمدىوں نے دورانِ سال گھانامىں پرىس مىں 6جدىدکمپىوٹر ائزڈ مشىنىں بھجوائى ہىں۔ ان کى تنصىب کے بعد ہمارا پرىس علاقے کا جدىد ترىن پرىس بن گىاہے اور عمدہ کوالٹى کى طباعت کى وجہ سے مختلف کمپنىاں اور حکومتى ادارے بھى ہمارے وہاں سے کام کروارہے ہىں۔

حضرت امىر المومنىن اىدہ اللہ تعالىٰ کى مصروفىات مؤرخہ 08؍ تا11؍ اگست 2019ء

13 اگست 2019ء

٭…10؍ اگست بروز ہفتہ: آج دىگر دفترى ملاقاتوں کے علاوہ جلسہ سالانہ مىں شرکت کى غرض سے تشرىف لانے والے 7؍ وفودکى حضور انور کے ساتھ ملاقات تھى۔ ان کاتعلق گىمبىا، گھانا، مارىشس اور بعض عرب ممالک سے تھا۔ مزىدبرآں افرىقہ کے مختلف ممالک مىں کام کرنے والے رقىم پرىس کے نمائندگان نے بھى حضورِ انور سے ملاقات کى سعادت حاصل کى۔اس کے علاوہ وکلاء IHRC کى بھى حضور انور سے ملاقات ہوئى۔

سال 20-2019ء کے دوران جماعت احمدىہ پر نازل ہونے والے افضال کا مختصر تذکرہ خطبہ جمعہ سىّدنا امىر المومنىن حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىّدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز فرمودہ 07؍اگست2020ء

رقىم پرىس کے ذرىعے سے بھى افرىقہ مىں کام ہو رہاہے جہاں رقىم پرىس ىوکے کے زىر انتظام بہت سارے پرىس چل رہے ہىں اور اس سال فارنہم کاجو ہمارارقىم پرىس ہے صرف اس مىں جو کتب چھپى ہىں وہ تىن لاکھ ساٹھ ہزار دو سو چالىس ہىں۔ اس کے علاوہ رسالہ ’موازنہ مذاہب‘، ’النصرت‘، وقف نو کے رسالہ جات ’مرىم‘ و ’اسماعىل‘۔ اس کے علاوہ پمفلٹس، لىف لىٹس، جماعتى دفاتر کى سٹىشنرى وغىرہ کے کام بھى ىہاں پرىس سے ہو رہے ہىں۔

ىسّرناالقرآن کاخط جو خط ِمنظور ہے اس کى طرز پر قرآن کرىم کى طباعت بھى اس سال ہوئى ہے۔ چھ سات سال سے ىہ کام ہو رہا تھا۔ قادىان کى جماعت کے سپرد کىا گىا تھا تاکہ ہمارا اپنا اىک فونٹ ہو جو خطِ منظور کے مطابق ہو اور نظارت اشاعت قادىان نے اس پر بڑاکام کىاہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہ اس خط کے ساتھ بڑا خوبصورت اور دلکش قرآن کرىم چھپ گىاہے۔ رنگىن بارڈر ہىں۔ جِلدبڑى خوبصورت ہے اور جس تعداد مىں ىہاں آىا ہے، ابھى ىوکے مىں ہے اور بڑى جلدى بک رہاہے۔ امىدہے جلد ہى ہمىں دوسرا اىڈىشن بھى شائع کرنا پڑے گا۔ اور بڑادىدہ زىب ہے۔ اس کى جلدبھى اور اندر لکھائى اور کاغذ وغىرہ بھى اور خاص طور پر بائنڈنگ اس کى بہت اچھى ہے۔ اور جىساکہ مىں نے کہاکہ اس قرآن کرىم کافونٹ جو ىسرناالقرآن کے فونٹ پر ڈھالا گىا ہے اس کا نام ’’خط منظور‘‘ رکھا گىا ہے اور ىہ جماعت احمدىہ کا خاص خط ہے جو باقى جگہوں پر نہىں ہے۔ اور پڑھنے مىں بھى بڑا آسان ہے۔ جىسا کہ مىں نے کہا کہ جماعت بھارت قادىان کى نظارت اشاعت نے اس پر بڑى محنت کا کام کىا ہے اسى طرح ىہاں رقىم پرىس کى مددکے لىے ترکى کے احمدى دوست مہمت (Mehmet) صاحب ہىں انہوں نے بھى چھپوانے مىں بڑى مددکى ہے۔ آئندہ ان شاء اللہ ترجمے کے ساتھ چھپنے والے قرآن کرىم بھى اسى فونٹ مىں چھپىں گے۔ اسى خط کے ساتھ اور حضرت مولوى شىر على صاحب کاترجمہ اسى ’’خط منظور‘‘ کے ساتھ تىار ہو رہاہے۔ ان شاء اللہ تعالىٰ جلد طباعت کے لىے دے دىا جائے گا۔ اسى طرح حضرت مىر اسحاق صاحب کے لفظى ترجمہ کے لىے بھى اسى طرز کو استعمال کىاجاناہے اس کى بھى تىارى ہو رہى ہے۔ ہمارے راستے مىں قرآن کرىم کى اشاعت کے لىے اور پڑھنے کے لىے اور رکھنے کے لىے جتنى روکىں پاکستان مىں کھڑى کى جارہى ہىں اللہ تعالىٰ اتنے ہى زىادہ بہتر راستے ہمارے لىے کھولتا چلا جا رہا ہے۔

اس وقت رقىم پرىس انگلستان کى نگرانى مىں افرىقہ کے آٹھ ممالک گھانا، نائىجىرىا، تنزانىہ، سىرالىون، آئىورى کوسٹ، گىمبىا، برکىنافاسو اور بىنن مىں پرىس کام کر رہے ہىں اور مشىنرى بھى ان کو مہىاکى گئى ہے اور ان کى کتب جو انہوں نے ىہاں شائع کى ہىں ان کى تعدادچھ لاکھ بارہ ہزار سے اوپر ہے۔ اس کے علاوہ رسائل، اخبارات، تبلىغى لٹرىچر، لىف لىٹس وغىرہ علىحدہ ہىں جن کى تعدادچورانوے لاکھ پچاسى ہزار ہے۔ اس دوران گىمبىامىں پرائىوىٹ کاموں کے علاوہ وزارت صحت گىمبىاکے لىے بھى بڑى تعدادمىں covid سے آگاہى کے لىے کچھ احتىاطى تدابىر پر مشتمل پمفلٹس پوسٹر وغىرہ چھاپنے کے لىے گورنمنٹ نے دىے کىونکہ باقى پرىس بندتھے اس لىے حکومت نے ہمارے سے رابطے کر کے کہاکہ چھاپ دىں تو ان کى مددکى گئى۔

(الفضل انٹر نىشنل 28اگست 2020ء صفحہ 5تا11)

مکرم جمال الدىن محمودصاحب

اگلا جنازہ مکرم جمال الدىن محمود صاحب کاہے جو سىرالىون مىں نىشنل جنرل سىکرٹرى تھے۔ 3نومبر کو اچانک دل کادورہ پڑنے کى وجہ سے وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَىۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔

مرحوم گذشتہ سولہ سال سے بطور جنرل سىکرٹرى خدمات بجالارہے تھے۔ اللہ تعالىٰ کے فضل سے موصى تھے۔ سعىدالرحمٰن صاحب مشنرى انچارج لکھتے ہىں کہ ان کى باقى کئى خوبىوں کے علاوہ اىک بڑى خوبى ىہ بھى تھى کہ سارى دنىاکے احمدىوں کو قوم پرستى سے بچاکر اىک خاندان بنانے کے عملى مصداق تھے۔ بہت حکمت اور اخلاص سے کام کرتے تھے۔ قرىباً دو ہزار افرادنے آپ کى نماز جنازہ اور تجہىز و تکفىن مىں شرکت کى۔ اس موقعے پر دو وزرائے حکومت، چىف آف آرمى سٹاف سىرالىون، متعددممبرانِ پارلىمنٹ، پىراماؤنٹ چىفس سمىت بىسىوں اعلىٰ افسرانِ حکومت موجودتھے۔

مبارک طاہر صاحب سىکرٹرى نصرت جہاں لکھتے ہىں کہ مرحوم بہت مخلص فدائى اور دل و جان سے جماعت کى خدمت کرنے والے تھے۔ اىک عرصے سے بطور جنرل سىکرٹرى خدمت کى توفىق پارہے تھے۔ نىز احمدىہ پرنٹنگ پرىس سىرالىون کے نائب مىنىجر بھى تھے۔ مرحوم کا تعلق گھانا سے تھا۔ ان کے والد مکرم ابراہىم کو جو محمود صاحب کو حضرت مولانا نذىر احمد مبشر صاحب نے تعلىم کے مىدان مىں خدمت کے لىے سىرالىون بھجواىاتھا۔ مبارک طاہر صاحب ىہ لکھتے ہىں کہ تىرہ سال تک جمال صاحب مىرے پاس روکوپور مىں رہے۔ ان کے والد نے ان کو تعلىم کے لىے ان کے پاس چھوڑا ہوا تھا۔ موصوف آغاز سے ہى دىندار تھے۔ نماز باجماعت اور دىگر جماعتى خدمات مىں پىش پىش رہتے تھے۔ روکوپور کے خدام کے ساتھ مل کر تبلىغ اور اشاعت دىن کاکام کرتے رہے۔

عثمان طالع صاحب انچارج رقىم پرىس سىرالىون کہتے ہىں کہ جمال الدىن محمودصاحب خاکسار سے پہلے وہاں انچارج تھے، لمبے عرصے سے خدمت کر رہے تھے۔ خاکسار نے ان کے ساتھ بارہ سال کاوقت گزاراہے۔ اس دوران کبھى بھى انہوں نے ىہ اظہار نہىں کىاکہ خاکسار ان سے چھوٹاہے اور ناتجربہ کار ہے بلکہ ہمىشہ احترام سے پىش آتے اور کہتے کہ آپ مبلغ ہىں اور آپ کاتقرر خلىفة المسىح نے کىاہے۔ اور کبھى بھى کسى معاملے مىں اىسانہىں ہواکہ انہوں نے خاکسار کى اطاعت نہ کى ہو۔ اطاعت اور عاجزى اتنى کوٹ کوٹ کر بھرى ہوئى تھى کہ کبھى ان کو کوئى کام کہہ دىا جاتا تو فوراً اس کو شروع کر دىتے اور ہرممکنہ طرىق پر کوشش کر کے اسے مکمل کرتے۔ کہتے ہىں کہ خاکسار نے اس عرصہ مىں ان سے بہت کچھ سىکھاہے۔ روزانہ بلاناغہ نماز تہجد ادا کرتے تھے۔ نماز باجماعت کى بہت پابندى کرتے تھے۔ نماز بھى اىسى ہوتى کہ اس کى خوبصورتى قابل رشک تھى۔ ہمىشہ نہاىت خشوع و خضوع اور تسلى سے نماز اداکرتے تھے۔ خلافت سے بہت عشق تھااور ہر خطبہ جمعہ نہاىت ادب کے ساتھ بىٹھ کر سنتے تھے۔

پھر ىہ لکھتے ہىں کہ سىرالىون کے کلچر کے مطابق جمال صاحب نے کئى بچوں کو اپنے گھر مىں رکھا۔ اپنے خرچ پر تعلىم دلوائى اور ان مىں سے کئى اس وقت اچھى ملازمت کر رہے ہىں اور نہاىت ادب اور پىار سے ان کو ىادکرتے ہىں۔

نوىدقمر صاحب مربى سلسلہ لکھتے ہىں کہ جماعتى تحرىکات مىں بڑھ چڑھ کر حصہ لىتے۔ اپنے والدىن اور خاندان کے دىگر بزرگوں کے نام سے تحرىک جدىداور وقف جدىدکى مدات مىں اضافى قربانى کرتے۔ جب کبھى اپنے آبائى گاؤں روکوپور آتے تو باوجودمصروفىت کے بروقت مسجد پہنچتے۔ عموماً مغرب اور عشاء کے درمىانى وقت مىں لوگوں کو جماعتى تعلىمات کا بتاتے اور خصوصاً خلافت احمدىہ کى اہمىت اور برکات اور اس سے وابستگى کامضمون بڑے احسن انداز مىں سمجھاتے تھے۔ پھر لکھتے ہىں کہ تمام لوگوں سے ان کاپىار و محبت کاتعلق تھا۔ ان کى وفات کى خبر پہ کىااحمدى اور کىاغىر احمدى ہر آنکھ اشکبار تھى۔ ىہى وجہ تھى کہ ان کے جنازے مىں لوگوں کى اىک بڑى تعدادشامل ہوئى اور گردونواح کے علاوہ طوىل سفر کر کے بھى لوگ شامل ہوئے۔

مرحوم کى دو بىوىاں تھىں۔ پہلى بىوى سے علىحدگى ہو گئى لىکن اولاد انہى سے دو بىٹىاں اور دو بىٹے تھے ۔اىک بىٹى کى شادى ہو گئى ہے جو کہ آسٹرىلىا مىں ہىں۔ باقى دو بچے گھانا مىں اور اىک سىرالىون مىں پڑھ رہا ہے۔ دوسرى بىوى سے ان کى کوئى اولاد نہىں ہے۔ بہرحال اللہ تعالىٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ درجات بلندکرے اور ان کے بچوں کو بھى ان کى نىکىوں کو جارى رکھنے کى توفىق عطا فرمائے۔

(الفضل انٹرنىشنل 18؍دسمبر 2020ء صفحہ5تا10)

احمدىہ پرنٹنگ پرىس گىمبىا مىں
 فائىو کلر مشىن کاافتتاح

پرنٹنگ پرىس کى افادىت و اہمىت سے سارى دنىاواقف ہے لىکن اشاعت اسلام کے لىے حضرت مسىح موعود علىہ السلام نے جس طرح اس کا استعمال کىا اسلامى دنىا مىں اس کى کوئى مثال نہىں۔ پچاسى سے زائدنادر کتب کاشائع کرنا جو مذاہب باطلہ کے رداور حقانىت اسلام کے لىے چمکتے ہوئے موتىوں کى طرح تھىں اور پھر سارى دنىامىں اشاعت اسلام کے لىے رسائل کااجراجىسے رىوىو أف رىلجنز، البدر، الحکم اور دىگر رسائل، اور پھر قادىان مىں پرنٹنگ پرىس کا آغاز و قىام نئے ہتھىاروں کى طرح تھا جس نے سارى دنىامىں اسلام کى دھاک بٹھادى اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ آج دنىاکے مختلف ممالک مىں جماعت احمدىہ کے کئى پرنٹنگ پرىس اشاعت اسلام کے کام مىں معاون و مددگار ہىں۔

ان خوش قسمت ممالک مىں گىمبىابھى شامل ہے جہاں 1991ء سے احمدىہ پرنٹنگ پرىس خدمات دىنىہ مىں مصروف ہے۔ انتہائى نامساعدحالات مىں مکرم منصور احمد مبشر صاحب مربى سلسلہ نے پرىس کا آغاز کىااور کامىابى سے چلاىااور اب اللہ کے فضل سے ىہ پرىس جدت کى طرف مائل ہے۔

اللہ کے فضل و کرم سے مورخہ 8؍جنورى 2021ء بروز جمعۃ المبارک احمدىہ پرنٹنگ پرىس ٹىلنڈنگ گىمبىامىں بعداز نماز جمعہ فائىو کلر مشىن کاافتتاح ہوا۔ افتتاحى تقرىب مىں مکرم امىر صاحب گىمبىا، ٹىکنىکل ٹىم برائے انسٹالىشن، ممبران نىشنل مجلس عاملہ اور ملک کے طول وعرض سے جمعہ مىں شرىک بہت سارے دىگر احباب جماعت نے شرکت کى۔

مکرم امىر صاحب گىمبىانے فىتاکاٹ کر جرمنى سے درآمدہ فائىو کلر مشىن کا افتتاح کىا۔ اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے مکرم امىر صاحب نے حضور اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز کاشکرىہ ادا کىا اور بتاىا کہ حضور انور اىدہ اللہ تعالىٰ کى شفقتوں کى وجہ سے آج ہم اس مشىن کو گىمبىامىں دىکھ رہے ہىں۔ مکرم امىر صاحب نے سربراہ ٹىکنىکل ٹىم اور ان کى تکنىکى ٹىم کابھى شکرىہ ادا کىا جنہوں نے انتھک محنت کر کے مشىن کو فکس کىا۔ مکرم امىرصاحب نے کہاکہ اس مشىن کى وجہ سے جماعت کے اشاعت سے متعلقہ کاموں مىں سہولت پىداہونے کے ساتھ ساتھ اس مىں جدت آئے گى جو ملکى ترقى مىں بھى ممدو معاون ہو گى۔ اس موقع پر مکرم امىر صاحب نے مىنىجر پرىس مکرم محمدظہىر احمداور ان کى ٹىم کاشکرىہ ادا کىا اور کہا کہ ان سب کى انتھک محنت کى وجہ سے پرىس اىک خاص مقام پر پہنچاہے۔ مىنىجر صاحب پرىس نے بھى حضور اىدہ اللہ کى شفقتوں کاذکر کىااور کہاکہ اللہ تعالىٰ ہمىں آئندہ بھى مزىدکام کرنے کى توفىق عطافرمائے۔ تقرىب کے اختتام پر رىفرىشمنٹ کابندوبست بھى کىاگىاتھا۔ اىم ٹى اے گىمبىانے مکرم امىر صاحب اور مکرم پرىس مىنىجر صاحب کاانٹروىو لىا۔

اس بابرکت موقع پر پرىس مىنىجر صاحب اور ان کى ٹىم نے مشىن کى پہلى پرنٹنگ کا آغاز حضور انور اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز کى اىک خوبصورت رنگىن تصوىر اے ٹو پوسٹرسائز مىں پرنٹ کر کے کىا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلىٰ ذَالِکَ

ىادرہے کہ ىہ مشىن حضور اىدہ اللہ کى گىمبىاپر بے شمار شفقتوں مىں سے اىک ہے۔ اس سے پہلے حضور انور نے 2014ء مىں سى ٹى پى (کمپىوٹر سے براہِ راست پلىٹ بنانے والى) مشىن بھجوائى جو گىمبىا مىں صرف احمدىہ پرنٹنگ پرىس کے پاس ہے۔ اسى طرح 2017ء مىں ازراہ شفقت ٹو کلر مشىن بھجوائى۔ اور اب انتہائى جدىد ٹىکنالوجى سے لىس فائىو کلر مشىن عناىت فرمائى ہے۔ اللہ کے خاص فضل سے اس طرح کى فائىو کلر مشىن پورے گىمبىامىں صرف احمدىہ پرنٹنگ پرىس کے پاس ہے۔ اگرچہ گورنمنٹ کے پاس فائىو کلر مشىن ہے لىکن وہ پرانے ماڈل کى ہے جو زىادہ افادىت کى حامل نہىں۔ اس مشىن کے آنے سے احمدىہ پرنٹنگ پرىس نے ترقى کااىک اور زىنہ طے کر لىاہے۔ امىدہے کہ اس پرىس کافائدہ گىمبىاکے علاوہ ہمساىہ ممالک سىنىگال اور گنى بساؤ کى جماعتىں بھى اٹھائىں گى۔ حضور انور نے ازراہ شفقت ماہرىن کى اىک ٹىم کو مشىن کى فکسنگ کے لىے ارشادفرماىاجنہوں نے لگاتار دس بارہ دن سخت محنت و جانفشانى کے ساتھ مکىنىکل و الىکٹرىکل کام مکمل کر کے مشىن کو فکس کىا اور پرىس کى مقامى ٹىم کو کام کرنے مىں مدددى (ىاد رہے کہ پرىس کى ٹىم مىں واقفىن نَو اور اللہ کى راہ مىں اسىرى برداشت کر چکنے والے افرادکے علاوہ مقامى افرادبھى شامل ہىں۔ جو اپنے کام مىں ماہر ہىں۔)

جىساکہ عرض کىاجاچکاہے کہ گىمبىامىں احمدىہ پرنٹنگ پرىس کاقىام 1991ء مىں ہوا۔ شروع مىں پرىس کى ملکىتى چنداىک رواىتى مشىنىں تھىں اور پھر حضور انور نے ازراہ شفقت کئى جدىدٹىکنالوجى کى حامل مشىنىں عطا فرمائىں جس کى وجہ سے آج احمدىہ پرنٹنگ پرىس ملک کااىک سرکردہ پرىس ہے۔ پرنٹنگ کے اعلىٰ معىار کى وجہ سےعوام اور گورنمنٹ کابے حداعتمادہے جس کى وجہ سے جماعتى پرنٹنگ کے علاوہ حکومتى اور دىگر اداروں کى پرنٹنگ کاکام بھى آجاتاہے۔ اللہ تعالىٰ کرے کہ احمدىہ پرنٹنگ پرىس گىمبىا حضور اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز کى خواہش کے مطابق اشاعت اسلام کے کام مىں اپنا کردار بہترىن انداز سے ادا کرنے کى توفىق پائے۔

(رپورٹ: سىد سعىدالحسن شاہ۔ مشنرى انچارج گىمبىا)

جلسہ سالانہ ىوکے 2021ء (خلاصہ)

رقىم پرىس فارنہم، ىوکے کے ذرىعہ سے چھپنے والى کتب کى تعدادتىن لاکھ پندرہ ہزار سے زائدہے۔

واقفىن نو کے لئے وسىع مىدان

اس وقت دنىاکے 11ممالک مىں جماعت احمدىہ کے پرنٹنگ پرىس کام کر رہے ہىں۔اس زمانہ مىں جہاں دوسر ے مىدانوں مىں جماعت احمدىہ کو واقفىن کى ضرورت ہے وہاں پرنٹنگ کامىدان بھى واقفىن نو اور واقفىن زندگى کاشدت سے انتظار کر رہاہے جو اس مىدان کے ٹىکنىکل امور مىں مہارت حاصل کر کے غلبہ اسلام کى مہم مىں اہم کردار اداکر سکىں۔

اللہ تعالىٰ، اشاعت اسلام کے لئے ان پرىسوں کے بہتر اور مبارک نتائج پىدا کرتا رہے۔ آمىن

(رفاقت احمدڈوگر، انچارج رقیم پریس غانا)

پچھلا پڑھیں

جامعہ احمدیہ تنزانیہ میں سالانہ کھیلوں کا انعقاد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 نومبر 2021