• 3 فروری, 2023

سانحہ ہائے ارتحال و ذکر خیر

مکرم حکیم محمد قدرت اللہ محمود چیمہ یہ افسوس ناک اطلاع بھجواتے ہیں کہ:
ہمارے انتہائی مخلص اور پیارے بزرگ مکرم ماسٹر چوہدری عزیز احمد موٴرخہ 20؍نومبر 2022ء کی شام بعمر 84 سال بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ آپ چندروز سے طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں بوجہ نمونیہ داخل تھے۔ علاج جاری تھا کہ مالک حقیقی کابلاوا آ گیا اور آ پ اس کے حضور حاضر ہو گئے۔

؎بلانے والا ہے سب سے پیارا
اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

محترم ماسٹر چوہدری عزیز احمد، حضرت میاں اللہ دتہ ؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ کے بیٹے تھے۔انتہائی ملنسار، شریف النفس، عبادت گزار، منکسر المزاج اور با اخلاق شخصیت کے حامل بزرگ تھے۔

آپ کے چہرے پر ہمیشہ ایک دل آویز مسکراہٹ رہتی تھی۔ آپ ہائی اسکول محمد آباد اور بشیر آباد میں ٹیچر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مرکز منتقل ہو گئے۔ آپ رشید احمد طیب صاحب مربی سلسلہ کے والد محترم تھے۔آپ کی نماز جنازہ موٴرخہ 21؍نومبر 2022ء بروز سوموار دن ساڑھے گیارہ بجے ادا کی جائے گی۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ارحم الراحمین۔

مکرم لئیق احمد مشتاق مبلغ سلسلہ۔ سُرینام، جنوبی امریکہ یہ افسوس ناک اطلاع بھجواتے ہیں:
خاکسار کے عم زاد اور نہایت عزیز دوست مکرم شیخ وحید احمد فرید ابن شیخ صدیق احمد صاحب طویل علالت کے بعد موٴرخہ 18؍نومبر 2022ء بروز جمعۃ المبارک بعمر 53سال خالق حقیقی سے جا ملے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ موصوف نے 14؍ستمبر 1969ء کو اس فانی دنیا میں آنکھیں کھولیں۔ میرے ہم سن، ہم جولی اور ہم مکتب تھے۔ ہمارے درمیان ہمیشہ باہمی احترام کا تعلق قائم رہا۔ آٹھویں کلاس میں تھے کہ تعلیم کے حصول کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور موصوف نے اپنے خاندانی کاروبار میں ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔ کچھ سال بعد خاکسار نے عملی کوشش کی کہ وہ میٹرک پاس کر لیں مگر کامیابی نہ ہوئی،لیکن موصوف نے کاروباری لحاظ سے بہت ترقی کی اور نام کمایا۔انتہائی سادہ، غریب پرور، نرم دل اور بے ضرر وجود تھے۔

17؍جولائی 1999ءکو ان کی والدہ محترمہ اور خاکسار کی پھوپھو نسیم اختر صاحبہ گردوں کی خرابی کے باعث 55سال کی عمر میں خالق حقیقی کے حضور حاضر ہوئیں۔ موصوف نے یہ صدمہ بہت حوصلے سے برداشت کیااور بڑابھائی ہونے کے ناطے چھوٹے بہن بھائیوں کا بھرپور خیال رکھا۔ چھوٹی بہن کی شادی کے بعد اس کی ہر طرح سے دیکھ بھال کی اور ہر ممکن مدد کی۔خدام الاحمدیہ میں مختلف عہدوں پر تنظیمی خدمات کے علاوہ سیکریڑی تحریک جدید اور سیکریڑی وقف جدید کے طور پرخدمت کی توفیق پائی۔

مرحوم کو گردوں کے عوارض ورثے میں ملے تھے۔ مسلسل کئی سال اس تکلیف سے نبرد آزمارہے۔ متعددبار ان کو گردے کے آپریشن کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ آخری سالوں میں ڈاکٹر کی نصیحت اور لوگوں کے اصرار کے باوجود ڈائلیسز کروانے پرراضی نہ ہوئے،یایوں سمجھ لیں کہ ہمت نہ جٹا پائے۔ آخر کار ان کے دونوں گردے ناکارہ ہوگئے۔ 6؍نومبر کو انہیں تکلیف کی شدت کے باعث ہسپتال لے جایا گیا، خون میں فاسد مادے اتنے زیادہ ہو گئے تھے کہ ڈاکٹرز نے تین روز میں تین بار ان کا ڈائلیسز کیا اور آئندہ اس سلسلے کو جاری رکھنے کا کہہ کر گھر بھجوادیا لیکن واپس آنے کے دودن بعد حالت بگڑ گئی اورموصوف نے زندگی کے آخری چار دن قومہ میں گزارے۔صرف سانس لینے کی آواز سکوت کو توڑتی اور زندگی کی رمق کا پتہ دیتی رہی۔ آخر کار اسی خاموشی کی حالت میں ہرطرح کے ہم وغم اور رنج و الم سےکلی طورپر آزاد ہوگئے۔

؎بُلانے والا ہے سب سے پیارا
اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

مرحوم نے فروری 2005ء میں نظام وصیت میں شمولیت کی توفیق پائی اور چندہ جات بروقت اداکرتے رہے۔آخری علالت میں جون 2023ء تک چندہ حصہ آمد ادا کیا۔ مرحوم کی نماز جنازہ مقامی طور پر منور احمد قمر صاحب مربی سلسلہ کی اقتداء میں ادا کی گئی جس میں ضلع کی دس جماعتوں سے افراد جماعت اور مربیان کرام نےشمولیت کی۔ بعد ازاں میت تدفین کے لئے مرکز لے جائی گئی۔ مکرم اسفند یار منیب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔ قبر تیار ہونے پر محترم سالک احمد مربی سلسلہ وصدرعمومی نے دعا کروائی۔

مرحوم لاولد تھے۔ پسماندگان میں بزرگ والد، اہلیہ، دوبھائی اور ایک بہن سوگوار چھوڑے ہیں۔ ان کے برادر نسبتی محترم عامر فہیم مربی سلسلہ کو اسیر راہ مولیٰ رہنے کی سعادت نصیب ہوئی اور اس وقت مع اہل و عیال غانا میں خدمات دینیہ میں مصروف ہیں۔

الفضل آن لائن کے قارئین سے دعا کی عاجزانہ درخواست ہے کہ مولاکریم مرحوم کی مغفرت فرمائے،درجات بلند فرمائے،تمام کمزوریوں، عیبوں اور خامیوں سے پردہ پوشی فرمائےاور اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔ حیات مستعار میں انہوں نے جو تکلیف،مصیبت اور درد برداشت کیا وہ آخرت میں ان کی بخشش کا وسیلہ بنے۔ نیزوہ رحیم و کریم تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

فقہی کارنر