• 29 فروری, 2024

عشق جب بھی کیا والہانہ کیا

آنکھ روتی رہی، دل برا نہ کیا
غم چھپانے کا پھر اک بہانہ کیا

چاند تاروں سے بھر دی اگر مانگ بھی
اس قدر ناز پر اکتفا نہ کیا

تو غزل بن کے ڈھلتی گئی آنکھ میں
ہم نے نظروں کو جب شاعرانہ کیا

ہم نے دل کے اثاثے چھپا کر رکھے
وار ظالم نے تھا جارحانہ کیا

دل جگر وار ڈالا، فدا ہو گئے
عشق جب بھی کیا والہانہ کیا

لوگ مجھ سے تری بات کہنے لگے
ذکر تیرا مگر غائبانہ کیا

ضبط نے آنسوؤں کو جکڑ کے رکھا
غم نے حملہ بھلے قاتلانہ کیا

ایک لمحہ بھی صدیوں سا لگنے لگا
یار کو جب اچانک روانہ کیا

دل کو انمول موتی کہا ہے فراز!
لے، حوالے ترے یہ خزانہ کیا

(اطہر حفیظ فرؔاز)

پچھلا پڑھیں

کینیا میں پہلی احمدیہ مسجد کی تعمیر

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی