• 25 جون, 2024

کونگو کنشاسا کی پہلی مسجد

کونگو کنشاسا وسطی افریقہ میں واقع ایک وسیع و عریض ملک ہے۔ملکی تاریخ سیاسی انتشار اور خلفشار سے بھرپور رہی ہے۔مغربی یورپ کے رقبہ کے برابر اس ملک میں ذرائع نقل و حمل آج 2022ء میں بھی محدود اور بعض علاقوں میں مفقود ہیں۔ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے با وجود اس ملک میں بھی جماعت احمدیہ کے پیغام کو پہنچنے سے نہیں روکا جا سکا۔کینیا اور تنزانیہ کے راستہ سے جماعت کا پیغام 1968ء کے قریب کونگو کے انتہائی مشرقی حصہ میں پہنچا اور کچھ احباب نے احمدیت قبول کر لی۔ یہ تعداد وقت کے ساتھ کسی قدر بڑھتی رہی۔زبانی روایات کے مطابق کونگو کے صوبہ Maniema میں Karomo نامی گاؤں میں نماز کے لیے ایک چھپر بنایا گیا۔یہ جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد تھی۔اس کے ساتھ ساتھ یہ معلومات بھی ملی ہیں کہ کونگو کنشاسا کے وسط میں واقع صوبہKasai کے شہر کانانگا میں چند ابتدائی احمدیوں نے ایک کچی عمارت بنائی جس کو بطور مسجد کے استعمال کیا جاتا رہا۔

1970ء کی دہائی میں یہاں پر مرکزی مبلغین کرام کے دورہ جات بھی ہوئے۔مکرم مولانا صدیق منور صاحب کی مرتبہ تاریخ کے مطابق مختلف مبلغین کرام نے یہ دورہ جات کیے۔

مکرم مولانا صدیق منور صاحب نے بھی 1982ء میں 2؍جون تا 5؍جولائی ایک ماہ کا دورہ کیا اور مرکز رپورٹ ارسال کی۔اس رپورٹ کے بعد سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اس ملک میں مستقل مشن کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ فرمایا اور 20؍جون 1984ء کو مکرم مولانا صدیق منور صاحب کنشاسا پہنچے۔ آغاز میں ایک احمدی مکرم عثمان کلونجی صاحب کے گھر واقع کنشاسا میں مبلغ صاحب رہائش پذیر رہے اور نمازیں بھی یہیں ادا ہوتی رہیں۔اس کے بعد اسی سال ایک عمارت کرائے پر لے کر جماعتی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں۔

1984ء سے 1987ء کے آغاز تک احمدیہ مرکز کرایہ کی عمارت میں تھا۔ اپریل 1987ء میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ ہیڈ کوارٹر کے لیے شہر کے اچھے علاقہ میں اپنی عمارت روڈ پر خریدنے توفیق دی۔ یہ عمارت زون Barumbu میں Ruakadingiروڈ پر واقع ہے یہ چالیس ہزار امریکن ڈالرز میں خریدی گئی تھی۔ 15؍مئی 1987ء بروز جمعۃالمبارک مکرم مولانا صاحب نے احمدیہ مرکز میں رہائش اختیار کی۔ فالحمدللّٰہ علی ذالک۔ احمدیہ مرکز میں اس وقت 3عمارتیں اور کچھ کھلا صحن تھا ایک عمارت مبلغین کی رہائش اور دوسری بڑی عمارت میں دفتر لائبریری اور مسجد کے لئے مخصوص کی گئی تھی اس مسجد کا نام بیت الاحد رکھا گیا۔ اس طرح بیت الاحد Barumbu کونگو کنشاسا میں باقاعدہ طور پر جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد تھی۔

(شاہد محمود خان۔ مبلغ سلسلہ کونگو کنشاسا)

پچھلا پڑھیں

کینیا میں پہلی احمدیہ مسجد کی تعمیر

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی