• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

نئےسال کی شروعات پر احمدیوں کو کیا کرنا چاہئے ؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پُرمعارف،پُرتاثیر اور قابل تقلید ارشادات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

‘‘آج نئے سال کا پہلا دن ہے اور یہ جمعۃ المبارک کے بابرکت دن سے شروع ہو رہا ہے۔ حسب روایت نئے سال کے شروع ہونے پر ہم ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔ مجھے بھی نئے سال کے مبارکباد کے پیغام احباب جماعت کی طرف سے موصول ہو رہے ہیں۔ آپ بھی ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہوں گے۔مغرب میں یا ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک میں نئے سال کی رات ہاہو،شراب نوشی،ہلڑ بازی اور پٹاخے اور پھلجھڑیاں،جسے فائر ورکس کہتے ہیں،سے نئے سال کا آغاز کیا جاتا ہے بلکہ اب مسلمان ممالک میں بھی نئے سال کا اسی طرح استقبال کیا جاتا ہے چنانچہ کل دبئی میں بھی اسی طرح کے فائرورکس کی خبریں آ رہی تھیں۔ جہاں یہ سب تماشے دکھا رہے تھے، وہیں اس کے ساتھ ہی ایک 63منزلہ عمارت کو لگی ہوئی آگ کے نظارے بھی دکھائے جا رہے تھے جو راکھ کا ڈھیر ہو گئی تھی۔ لیکن ٹی وی پر بار بار اعلان ہو رہا تھا کہ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس عمارت میں یہ آگ لگی ہے تو لگی رہے۔ تباہی ہوتی ہے تو ہوتی رہے۔ ہم تو اس جگہ کے سامنے اس کے قریب ہی اپنے پروگرام کے مطابق پھلجڑیاں چھوڑیں گے اور تماشے کریں گے۔

ویسے تو اِس وقت اکثر مسلمان ملکوں کی حالت بُری ہے لیکن بہرحال یہ ایک اظہار ہے۔ ان ملکوں سے دنیاداری کے اظہار ہو رہے ہیں جن کے پاس پیسہ ہے۔ اگر آگ وہاں نہ بھی لگی ہوتی تو اس حالت کا یہ تقاضا تھا کہ مسلمان امیر ملک یہ اعلان کرتے کہ ہم ان فضول چیزوں میں پیسہ برباد کرنے کی بجائے جو بہت سارے مسلمان متاثرین ہیں ان کی مدد کریں گے لیکن یہاں تو اپنی تعلیم بھول کر ان کا یہ حال ہے کہ کچھ دن پہلے دبئی سے ہی یہ بھی خبر آ رہی تھی کہ ان کا جو سب سے بڑا ہوٹل ہے اس میں دنیا کا مہنگا ترین کرسمس ٹری(Christmas Tree) لگایا گیا ہے جس کی مالیت گیارہ ملین ڈالر کی تھی۔ تو یہ تو اب امیر مسلمان ملکوں کی ترجیحات ہو چکی ہیں۔

لیکن احمدیوں میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی رات عبادت میں گزار دی یا صبح جلدی جاگ کر نفل پڑھ کر نئے سال کے پہلے دن کا آغاز کیا۔ بہت سی جگہوں پر باجماعت تہجد بھی پڑھی گئی۔

اگر ہم کسی سند کے خواہشمند ہیں تو وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں حقیقی مسلمان بن کر سند لینے کی ہے اور اس کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ ہم نے سال کے پہلے دن انفرادی یا اجتماعی تہجد پڑھ لی یا صدقہ دے دیا یا نیکی کی کچھ اور باتیں کر لیں اور اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا حقدار بنا دیا۔ بیشک یہ نیکی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہو سکتی ہے لیکن تب جب اس میں استقلال بھی پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ تو مستقل نیکیاں اپنے بندے سے چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا بندہ مستقل اس کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو۔ نیکیاں بجا لانے والا ہو۔ نمازوں اور تہجد کے ساتھ دلوں میں ایک پاک انقلاب پیدا کرنے کی ضرورت ہے تب خدا تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ کسی قسم کی ایسی نیکی جو صرف ایک دن یا دو دن کے لئے ہو وہ نیکی نہیں ہے۔

پس ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ کس قسم کے عمل اور رویے ہمیں اپنانے ہیں یا اپنانے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بنائیں۔ اس کے لئے میں نے آج زمانے کی اصلاح کے لئے بھیجے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فرستادے کی بعض نصائح کو لیا ہے جو آپ نے مختلف وقتوں میں اپنی جماعت کو کی ہیں تا کہ مستقل مزاجی اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کرتے رہیں۔ یہی باتیں ہیں جو صرف سال کے پہلے دن ہی نہیں بلکہ سال کے بارہ مہینوں اور 365دنوں کو بابرکت کریں گی اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بن سکیں گے۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :

’اب دنیا کی حالت کودیکھو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے عمل سے یہ دکھایا کہ میرا مرنا اور جینا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔’’

*فرمایا کہ ‘‘یہ بڑی غورطلب بات ہے اس کو سرسری نہ سمجھو۔ مسلمان بننا آسان نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کا نمونہ جب تک اپنے اندر پیدا نہ کرو مطمئن نہ ہو۔یہ صرف چھلکا ہی چھلکا ہے اگر بدوں اتباع مسلمان کہلاتے ہو’’۔ (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں کرتے، آپ کے اُسوہ پر نہیں چلتے، قرآن کریم کی تعلیم پر عمل نہیں کرتے) فرمایا کہ ’’ نام اور چھلکے پر خوش ہونا دانشمند کاکام نہیں ہے‘‘۔ (پس اگر یہ اتباع نہیں کر رہے تو پھر تو چھلکا ہی ہے) فرمایا کہ ’’کسی یہودی کو ایک مسلمان نے کہا کہ تُو مسلمان ہوجا۔ اس نے کہا تُو صرف نام ہی پر خوش نہ ہوجا۔ (یہودی کہنے لگا کہ) مَیں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا اورشام سے پہلے ہی اسے دفن کر دیا‘‘۔ (اب خالد کا مطلب یہ ہے لمبا رہنے والا۔ ہمیشہ رہنے والا۔ لیکن اس نام سے تو اس کو زندگی نہیں مل گئی۔ اس کی زندگی تو ایک دن بھی نہ رہی) فرمایا کہ ’’پس حقیقت کوطلب کرو۔ نرے ناموں پر راضی نہ ہوجاؤ… وہی حالت پیدا کرو اور دیکھو اگر وہی حالت نہیں ہے تو تم طاغوت کے پیَرو ہو‘‘ ( شیطان کے پیچھے چل رہے ہو) ’’غرض یہ بات اب بخوبی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہونا انسان کی زندگی کی غرض وغایت ہونی چاہئے کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کا محبوب نہ ہو اور خدا کی محبت نہ ملے کامیابی کی زندگی بسر نہیں کر سکتا اور یہ امر پیدا نہیں ہوتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اطاعت اور متابعت نہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کہ اسلام کیا ہے؟ پس تم وہ …اپنے اندر پیدا کرو تا کہ تم خدا کے محبوب بنو‘‘۔

اسلام دنیا کی نعمتوں سے منع نہیں فرماتا بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی تلقین فرماتا ہے۔ اس بارے میں سیدنا حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ :

اسلام نے رہبانیت کو منع فرمایا ہے۔ یہ بزدلوں کا کام ہے۔ مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نصب العین دین ہوتاہے اور دنیا اس کا مال وجاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔ پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو اور ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیاجاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔ جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری اور زادِ راہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزل مقصود پر پہنچنا ہوتی ہے، نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات۔ اسی طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر‘‘۔

فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ:202) ِ اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے۔ لیکن کس دنیا کو؟ حَسَنَۃُ الدُّنْیَا کو، جو آخرت میں حسنات کا موجب ہوجاوے‘‘۔ (ایسی دنیا کو پہلے رکھا ہے، مقدم کیا ہے کہ اس کی حسنات حاصل کرو جو دنیا آخرت کی حسنات کا موجب بنے) ’’اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آ جاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حَسناتُ الآخرۃ کا خیال رکھنا چاہئے اور ساتھ ہی حَسَنَۃُ الدُّنْیَا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصول دنیا کا ذکر آ گیا جو ایک مومن مسلمان کو حصول دنیا کے لئے اختیار کرنی چاہئے۔ دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔ نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو۔ نہ ہم جنسوں میں کسی عار اور شرم کاباعث ہو۔ ایسی دنیا بے شک حسنۃ لآخرۃ کا موجب ہوگی’’۔

پس فرمایا کہ ایسی دنیا تلاش کرو جس سے کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ جس سے ہم جنسوں میں کسی شرم اور عار کا باعث نہ بن جاؤ تو پھر تمہاری ایسی دنیا جو ہے وہ آخرت کے لئے حسنات کا موجب ہے اور ایسی دنیا کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے۔

اس بارے میں فرماتے ہوئے کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ اس لئے ہمیشہ اپنی موت کو سامنے رکھو۔ تبھی اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل بھی ہو سکتا ہے۔ تبھی انسان ان صفات کو بھی اپنا سکتا ہے فرمایا کہ

’’ کسی کو کیا معلوم ہے کہ ظہر کے بعد عصر کے وقت تک زندہ رہے۔ بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ یکدفعہ ہی دورانِ خون بند ہو کر جان نکل جاتی ہے۔ بعض دفعہ چنگے بھلے آدمی مر جاتے ہیں‘‘۔ (ایک واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں۔ فرمایا کہ) ’’ وزیر محمد حسن خان صاحب ہوا خوری کر کے آئے تھے اور خوشی خوشی زینے پر چڑھنے لگے۔ ایک دو زینے چڑھے ہوں گے کہ چکر آیا، بیٹھ گئے۔ نوکر نے کہا کہ مَیں سہارا دوں۔ کہا نہیں۔ پھر دو تین زینے چڑھے پھر چکّر آیا اور اسی چکر کے ساتھ جان نکل گئی‘‘۔ ایسا ہی (ایک اور شخص کا ذکر فرمایا) ’’غلام محی الدین کونسل کشمیر کا ممبر یکدفعہ ہی مر گیا‘‘۔ فرمایا ’’غرض موت کے آ جانے کا ہم کو کوئی وقت معلوم نہیں ہے کہ کس وقت آجاوے۔ اسی لئے ضروری ہے کہ اس سے بے فکر نہ ہوں۔ پس دین کی غم خواری ایک بڑی چیز ہے جو سَکرات الموت میں سرخرو رکھتی ہے۔ قرآن شریف میں آیا ہے۔ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعۃ (الحج:22) ساعت سے مراد قیامت بھی ہو گی ہم کو اس سے انکار نہیں مگر اس میں سکرات الموت ہی مراد ہے کیونکہ انقطاعِ تام کا وقت ہوتا ہے۔ انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یکدفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجیب قسم کا زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے۔ گویا اندر ہی اندر وہ ایک شکنجہ میں ہوتا ہے‘‘( جب موت کی ایسی حالت ہوتی ہے۔) ’’اس لئے انسان کی تمام تر سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے‘‘۔ (جب موت کا وقت قریب ہوتا ہے، نزع کی حالت میں ہوتا ہے یا ویسے ہی حالت طاری ہوتی ہے تو اصل چیز فرمایا یہی ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے اس کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور فرمایا کہ سعادت یہی ہے کہ وہ موت کا خیال رکھے) ’’اور دنیا اور اس کی چیزیں اس کی ایسی محبوبات نہ ہوں جو اس آخری ساعت میں علیحدگی کے وقت اس کی تکالیف کا موجب ہوں‘‘

اور جب یہ یاد ہو گا تو پھر انسان نیکیاں بجا لانے کی کوشش کرے گا۔ پھر بلاوجہ کے تماشوں میں نہ پیسہ ضائع کرے گا نہ وقت ضائع کرے گا۔ نہ بے جا خواہشات کی تکمیل کے لئے ان چیزوں کا ضیاع کرے گا۔

پھر پاک تبدیلی پیدا کرنے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں:

’’پس بے خوف ہو کر مت رہو۔ استغفار اور دعاؤں میں لگ جاؤ اور ایک پاک تبدیلی پیدا کرو۔ اب وہ غفلت کا وقت نہیں رہا۔ انسان کو نفس جھوٹی تسلی دیتا ہے کہ تیری عمر لمبی ہو گی۔ موت کو قریب سمجھو۔ خدا کا وجود برحق ہے۔ جو ظلم کی راہ سے خدا کے حقوق کسی دوسرے کو دیتا ہے وہ ذلت کی موت دیکھے گا‘‘۔

پس والدین کو بچوں کی طرف توجہ دینی چاہئے اور نوجوانوں کو خود اپنا علم حاصل کرنے کے لئے دینی علم حاصل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے اور جماعت احمدیہ میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے قرآن شریف، اس کی تفاسیر، اس کثرت سے لٹریچر موجود ہے کہ اس کو اگر پڑھا جائے تو تمام اعتراضات اور وساوس بڑے آرام سے دور ہو جاتے ہیں۔

فرمایا: ’’یہ مت خیال کرو کہ صرف بیعت کر لینے سے ہی خدا راضی ہو جاتا ہے۔ یہ تو صرف پوست ہے۔ مغز تو اس کے اندر ہے۔ اکثر قانون قدرت یہی ہے کہ ایک چھلکا ہوتا ہے اور مغز اس کے اندر ہوتا ہے۔ چھلکا کوئی کام کی چیز نہیں ہے۔ مغز ہی لیا جاتا ہے۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مغز رہتا ہی نہیں اور مرغی کے ہوائی انڈوں کی طرح جن میں نہ زردی ہوتی ہے نہ سفیدی، جو کسی کام نہیں آسکتے اور ردّی کی طرح پھینک دئیے جاتے ہیں۔ ہاں ایک دو منٹ تک کسی بچے کے کھیل کا ذریعہ ہو تو ہو۔ اسی طرح پر وہ انسان جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اگر وہ ان دونوں باتوں کا مغز اپنے اندر نہیں رکھتا تو اسے ڈرنا چاہئے کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ اس ہوائی انڈے کی طرح ذرا سی چوٹ سے چکنا چور ہو کر پھینک دیا جائے گا‘‘

فرمایا ’’ اسی طرح جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کو ٹٹولنا چاہئے کہ کیا مَیں چھلکا ہی ہوں یا مغز؟ جب تک مغز پیدا نہ ہو ایمان، محبت، اطاعت، بیعت، اعتقاد، مریدی، (دین) کا مدعی سچا مدعی نہیں ہے۔ یاد رکھو کہ یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مغز کے سوا چھلکے کی کچھ بھی قیمت نہیں۔ خوب یاد رکھو کہ معلوم نہیں موت کس وقت آ جاوے لیکن یہ یقینی امر ہے کہ موت ضرور ہے۔ پس نرے دعویٰ پر ہرگز کفایت نہ کرو اور خوش نہ ہو جاؤ ۔وہ ہرگز ہرگز فائدہ رساں چیز نہیں۔ جب تک انسان اپنے آپ پر بہت موتیں وارد نہ کرے اور بہت سی تبدیلیوں اور انقلابات میں سے ہو کر نہ نکلے وہ انسانیت کے اصل مقصد کو نہیں پا سکتا‘‘۔

اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپؑ کی خواہش کے مطابق ڈھالنے والے ہوں اور ہمارے قدم ہر آن نیکیوں کی طرف بڑھنے والے قدم ہوں۔ ہم حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کو ضائع کرنے والے نہ ہوں بلکہ ہمیشہ ان دعاؤں کا وارث بنیں جو آپ نے اپنی جماعت کے لئے کی ہیں۔ اس دعا کے ساتھ میں آپ سب کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس سال کو ہمارے لئے ذاتی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی بیشمار برکات کا باعث بنائے۔

(خطبہ جمعہ یکم جنوری 2016ء)

پچھلا پڑھیں

امراضِ قلب کا حیرت انگیز مجرّب نسخہ

اگلا پڑھیں

مصروفیات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ