• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

سال کے اختتام پر محاسبہ نفس کے لئے چند سوالات

’’اگر اکثر سوالوں کے جواب مثبت ہیں تو ہم نے بہت کچھ پایا اگر زیادہ جواب نفی میں ہیں تو قابلِ فکر بات ہے‘‘

(حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے 30دسمبر2016ء کے خطبہ جمعہ میں پوری دنیا کے احمدی احباب کے سامنے یہ سوالات رکھے۔

  1. مومن کی شان تو یہ ہے کہ نہ صرف ان لغویات سے بچے اور بیزاری کا اظہار کرے بلکہ اپنا جائزہ لے اور غور کرے کہ اس کی زندگی میں ایک سال آیا اور گزر گیا اس میں وہ ہمیں کیا دے کر گیا اور کیا لے کر گیا؟ ہم نے اس ایک سال میں کیا کھویا اور کیا پایا؟
  2. کیا ہم نے شرک نہ کرنے کے عہد کو پورا کیا؟
  3. کیا ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارے صدقات، ہماری مالی قربانیاں، ہماری خدمت خلق کے کام، ہمارا جماعت کے کاموں کے لئے وقت دینا خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے غیر اللہ کو خوش کرنے یا دنیا دکھاوے کے لئے تو نہیں تھا؟
  4. ہمارے دل کی چھپی ہوئی خواہشات اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر کھڑی تو نہیں ہو گئیں تھیں؟
  5. کیا ہمارا سال جھوٹ سے مکمل طور پر پاک ہو کر اور کامل سچائی پر قائم رہتے ہوئے گزرا ہے؟
  6. کیا ہم نے اپنے آپ کو ایسی تقریبوں سے دور رکھا ہے جن سے گندے خیالات دل میں پیدا ہوسکتے ہیں؟ یعنی آج کل اس زمانے میں ٹی وی ہے، انٹرنیٹ ہے اس قسم کی اس میں ایسے پروگرام جو خیالات کو گندہ ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان سب سے بچایا اپنےآپ کو؟
  7. کیا ہم نے بدنظری سے اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے؟اور کر رہے ہیں؟
  8. کیا ہم نے فسق و فجور کی ہر بات سے اس سال میں بچنے کی کوشش کی ہے؟
  9. کیا ہم نے اپنےآپ کو ہر ظلم سے بچا کر رکھا ہے؟ یعنی ظلم کرنے سے بچا کے رکھا ہے؟
  10. کیا ہم نے اپنے آپ کو ہر قسم کی خیانت سے پاک رکھا ہے؟
  11. کیا ہم نے ہر قسم کے فساد سے بچنے کی کوشش کی ہے؟
  12. کیا ہر قسم کے باغیانہ رویہ سے پرہیز کرنےوالے ہم ہیں؟
  13. کیا ہم نفسانی جوشوں سے مغلوب تو نہیں ہو جاتے؟
  14. کیا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی باقاعدہ کوشش کرتے رہے ہیں؟ یا کرتے ہیں؟
  15. کیا ہم باقاعدگی سے استغفار کرتے رہے ہیں؟
  16. کیا اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے کی طرف ہماری توجہ رہی؟
  17. کیا ہم اپنوں اور غیروں سب کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچانے سے گریز کرتے رہے ہیں؟
  18. کیا ہمارے ہاتھ اور ہماری زبانیں دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچی رہی ہیں؟
  19. کیا ہم عفو و درگزر سے کام لیتے رہے ہیں؟
  20. کیا عاجزی اور انکساری ہمارا امتیاز رہا ہے؟
  21. کیا خوشی غمی تنگی اورآسائش ہر حالت میں ہم خداتعالیٰ کے ساتھ وفا کا تعلق رکھتے رہے ہیں؟
  22. کبھی کوئی شکوہ تو نہیں پیدا ہوا اللہ تعالیٰ سے کہ میری دعائیں کیوں نہیں قبول کی گئیں یا مجھے اس تکلیف میں کیوں مبتلا کیا گیا ہے؟
  23. کیا ہر قسم کی رسوم اور ہوا و حوس کی باتوں سے ہم نے پوری طرح بچنے کی کوشش کی ہے؟
  24. کیا قرآن کریم اورآنحضرتﷺ کے احکامات اور ارشادات کو ہم مکمل طور پر اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟
  25. کیا تکبر اور نخوت کو ہم نے مکمل طور چھوڑا ہے یا اس کے چھوڑنے کے لئے کوشش کی ہے؟
  26. کیا ہم نے خوش خلقی کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کی ہے؟
  27. کیا ہم نے حلیمی اور مسکینی کو اپنانے کی کوشش کی ہے؟
  28. کیا ہر دن ہمارے اندر دین میں بڑھنے اور اس کی عزت اور عظمت قائم کرنےوالا بنتا ہے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد جو ہم اکثر دہراتے ہیں صرف کھوکھلا عہد تو نہیں؟
  29. کیا اسلام کی محبت میں ہم نے اس حد تک بڑھنے کی کوشش کی ہے کہ اپنے مال پر اس کو فوقیت دی اپنی عزت پر اس کو فوقیت دی اور اپنی اولاد سے زیادہ اسے عزیز اور پیارا سمجھا؟
  30. کیا اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والے ہیں یا کرتے رہے ہیں؟
  31. اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ مخلوق خدا کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟
  32. کیا یہ دعا کرتے رہے اور اپنے بچوں کو بھی نصیحت کرتے رہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی اطاعت کے معیار ہمیشہ ہم میں قائم رہیں ہمیشہ آپ کی اطاعت کرتے رہیں اعلیٰ معیاروں کے ساتھ اور اس میں بڑھتے بھی رہیں؟
  33. کیا تعلق اخوت اور اطاعت اس حد تک بڑھایا ہم نے حضرت مسیح موعودؑ سے کہ باقی تمام دنیا کہ رشتے اس کے سامنے ہیچ ہو جائیں معمولی سمجھے جانے لگیں؟
  34. کیا خلافت احمدیہ سے وفا کے تعلق میں قائم رہنے اور بڑھنے کی ہم دعا کرتے رہے سال کے دوران؟
  35. کیا اپنے بچوں کو خلافت احمدیہ سے وابستہ رہنے اور وفا کا تعلق رکھنے کی طرف توجہ دلاتے رہے اور اس کے لئے دعا کرتے رہے کہ ان میں یہ توجہ پیدا ہو؟
  36. کیا خلىفہ وقت اور جماعت کے لئے باقاعدگى سے دعا کرتے رہے؟

اگر تو اکثر سوالوں کے مثبت جواب کے ساتھ ىہ سال گزرا ہے تو کچھ کمزورىاں رہنے کے باوجود ہم نے بہت کچھ پاىا اگر زىادہ جواب نفى مىں ہىں جو سوال مىں نے اٹھائے ہىں تو پھر قابل فکر بات ہے۔

پچھلا پڑھیں

مصروفیات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ

اگلا پڑھیں

جمعہ اور عید ایک دن ہونا