• 26 فروری, 2024

پیٹروپولس، برازیل کے ایک کالج کی انٹرفیتھ کانفرنس میں شرکت

پیٹروپولس، برازیل کے ایک کالج
کی انٹرفیتھ کانفرنس میں شرکت

پیٹروپولس (Petropolis) برازیل کے صوبہ ریو دی جانیئرو کا ایک خوبصورت شہر ہے جہاں جماعت احمدیہ کا ہیڈ کوارٹر اور مسجد بھی ہے۔ باقی ایکٹیویٹیز کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیگر مذاہب کیساتھ ہمیشہ اچھے روابط رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اب انٹر فیتھ پروگراموں میں اسلام کی نمائندگی میں جماعت احمدیہ کو بلایا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک تقریب کا اہتمام موٴرخہ 03؍نومبر 2022ء کو شہر کے ایک مشہور کالج (Bom Jesus Itaipava) نے کیا جس میں اسلام کے علاوہ یہودی، ہرے کرشنا اور عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ کالج کی ڈائریکٹر اور کئی ٹیچرز بھی ہال میں موجود تھے۔ ایڈریس کی غلط فہمی کے نتیجہ میں ہم کچھ تاخیر سے پہنچے اس وقت کارروائی جاری تھی جونہی ہم ہال میں داخل ہوئے تو سب نمائندگان ہمارے استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے اور سبھی نے ’’السلام علیکم‘‘ ’’السلام علیکم‘‘ کے الفاظ بلند آواز سے کہہ کر ہمیں خوش آمدید کہا اس عزت افزائی کی مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ خاکسار کے ہمراہ انیلہ ظفر صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ برازیل اور اعجاز احمدظفر صاحب سیکریٹری اشاعت بھی تھے چنانچہ ہم تینوں کو انتظامیہ نے اسٹیج پر بلاکر بٹھایا۔ الحمدللّٰہ

اس کانفرنس کے تین دور تھے ایک میں اپنا تعارف دوسرے میں اپنے اپنے مذہب کے متعلق تعارفی تعلیم اور تیسرے دور میں طلباء کے سوالوں کے جوابات۔ خاکسار نے اپنی باری آنے پر اپنے تعارف کے بعد اسلام کے متعلق تفصیل سے بتایا کہ اسکے تو لفظی معنی ہی امن اور سلامتی کے ہیں اور ہم ایک دوسرے کو ملتے وقت السلام علیکم کہتے ہیں یعنی ہر ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیتا رہتا ہے اس لئے ایسا مذہب دہشت گرد کیسے ہو سکتا ہے؟ نیز بتایا کہ آجکل جو اسلام کے نام پر جنگیں ہیں یہ دراصل سیاسی ہیں۔ خاکسار نے اسلام کے بنیادی ارکان اور ان کی تفصیل بھی بتائی اور یہ کہ اسلام کی تعلیم کا مرکزی نقطہ خدا تعالیٰ کی توحید کا قیام ہے۔ احمدیت کے تعارف میں بتایا کہ پیشگوئیوں کے مطابق جس مسیح نے آنا تھا وہ بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی شکل میں آ گیا ہے اس موقع پر ایک بڑے بینر پر حضور علیہ السلام کی تصویر بھی دکھائی جو کافی دیر تک آویزاں رہی۔ خاکسار نے جماعت احمدیہ کی مسجد ’’بیت الاول‘‘ کی بابت بھی بتایا کہ اس کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہیں۔

صدر لجنہ اماء اللہ برازیل نے اسلام میں عورتوں سے متعلق جو تعلیم ہے اس کو بیان کیا اور بتایا کہ اسلام میں عورت کو قید نہیں کیا گیا اور وہ ضرورت پڑنے پر گھر سے باہر کے کام اور جاب بھی کر سکتی ہے۔ چونکہ پردہ کی رعایت کیساتھ صدر صاحبہ خود بتا رہی تھیں اس کا سب پر بہت مثبت اثر پڑا۔

طلباء نے سب نمائندگان سے باری باری سوالات بھی کئے اسلام کے متعلق سوالات میں خاکسار نے جوابات دئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بانی اسلام حضرت محمد ﷺ کی آمد سے دراصل بائیبل باب استثناء آیت 18 کی عظیم الشان پیشگوئی پوری ہوئی ہے جس میں حضرت موسی علیہ السلام کی مانند ایک نبی کے آنے کی خبر دی گئی تھی۔

تقریب کے اختتام سے قبل آرگنائزر نے اپنے اپنے مذہب کی کسی اہم بات کا ذکر کرے چنانچہ مکرم اعجاز احمد ظفر صاحب نے بآواز بلند سورة فاتحہ کی تلاوت کی اور اس کا پرتگیزی زبان میں ترجمہ بھی پیش کیا اس دوران ہال میں عجیب سماں تھا سب نے خاموشی اور انہماک سے تلاوت سنی اور اس کو سراہا۔اختتام پر طلبا میں اسلام اور احمدیت کے تعارف پر مبنی پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے۔ کالج کی انتظامیہ نے جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا پروگرام رہا نئے روابط بھی ہوئے اور احسن طریق پر پیغام پہنچانے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری ادنیٰ کوششوں میں برکت ڈالے ان لوگوں کے دل احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے لئے کھولے اور حق قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین

(وسیم احمد ظفر۔ مبلغ انچارج برازیل)

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ آسٹریا کی تبلیغی سرگرمیاں

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی