• 20 مئی, 2024

شہدائے مہدی آباد کو احباب جماعت برکینا فاسو کاخراج تحسین

شہدائے مہدی آباد کو
احباب جماعت برکینا فاسو کا خراج تحسین

سیدنا حضرت امیر الموٴمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍ جنوری 2023ء میں شہدائے مہدی آباد کا تفصیلی ذکر فرمایا۔ اس خطبہ نے جہاں ساری دنیا کے احمدیوں کوان شہداء کی غیر معمولی قربانی، اخلاص و وفا اور جذبہ ایمانی کے ذکر سے متاثر کیا ہے وہاں برکینا فاسو کے ہر احمدی کو تجدید عہد کرنے اور انہی کی طرح ہر قربانی پیش کرنے کے لئے تیارکر دیا ہے۔ احباب جماعت برکینا فاسو نے وفور محبت سے آنکھوں سے آنسوؤں کی بہتی لڑیوں کے ساتھ یہ خطبہ سنا۔ رشک سے ان شہداء کو یاد کیا۔

یہ شہداء واقعی عظیم لوگ تھے خلیفہٴ وقت کی زبان مبارک سے انہیں ’’احمدیت کے ستارے‘‘ کا خطاب عطا ہوا۔ اور ان کی قربانیوں کا نمونہ ’’حیرت انگیز‘‘ اور ’’اپنی مثال آپ‘‘ قرار پایا۔جن کا ایمان پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ہونے کی گواہی خلیفہٴ وقت دیں۔ ان پر رشک کی نظر ہی ڈالی جا سکتی ہے۔ ان کی قربانی اس قدر اعلیٰ و ارفع ہے کہ پوری دنیا کے احمدیوں کے ایمانوں میں تازگی پیدا کر دی۔

خطبہ سننے کے بعد افراد جماعت کے جذبات اور تاثرات ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔ جیسے ان شہداء کی قربانی نے سب احمدیوں میں زندگی کی ایک روح پھونک دی ہو۔ وہ لوگ بھی جو بظاہر سست تھے ان شہداء کی جرأت ایمانی کا ذکر سن کر اپنے اندر قوت اور طاقت پاتے ہیں اور پہلے سے بڑھ کر خلافت کے وفادار اور جاں نثار بننے کے عہد کر رہے ہیں۔چند ایک تاثرات درج ذیل ہیں:

باگایوگو عمر صاحب

ممبران جماعت احمدیہ بوبو جلاسو نے خطبہ جمعہ احمدیہ مسجد میں سنا۔ جمعہ کے بعد سب لوگ مسجد میں تھے۔ مسجد بھری ہوئی تھی۔ دوران خطبہ بہت سارے احمدیوں کی آنکھوں میں وفور جذبات اور شہداء کی غیر معمولی شجاعت کی وجہ سے آنسو تھے۔ مسجد میں ایک سوگوار ماحول تھا۔ ایک طرف تکلیف اور دوسری طرف رشک کے جذبات تھے۔ ایسا ماحول تھا جس نے ہر ایک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

معلم چندر بیگو علی دو صاحب

ہمارے مہدی آباد کے لوگ واقعی شہادت کے حقیقی رتبہ کے مستحق ہیں انہوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں کے راستے پر چل کر شہادت کو دنیا پر ترجیح دی۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک نمونہ تھے۔ وہ ہمیں ہمارا عزم یا ددلا گئے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے آپ کو وقف کرنا اور اس کی راہ میں اپنی جانیں قربان کرنا ہے۔

سلیمان یا تارا صاحب

خطبہ سن کر یہی تمنا ہے کہ کاش! ہم بھی مہدی آباد کے شہیدوں کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر سکیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور امام وقت کی خوشنودی پانے والے بن سکیں۔

فوفانا ہود صاحب

حضور انور نے ہمیں یاد دلادیا ہے کہ دنیا میں کسی بھی احمدی کے ساتھ یہ صورت حال پیش آ سکتی ہے اور ہمیں خداتعالیٰ کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہر دم تیا ررہنا چاہئے۔ جس طرح یہ واقعہ پیش آیا اس بربریت کی کوئی توجیح نہیں کی جاسکتی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کو پیغام دے دیا ہے کہ امن عالم کے لئے واحد راستہ خلافت احمدیہ کے زیر سایہ آنا ہی ہے۔

مائیگا زکریا صاحب ریجنل صدر بوبو جلاسو

آج کےخطبہ نے ہمیں تجدید عہد کروادیا ہے۔ جس طرح نو شہداء نے خدا کی خاطر اپنی جانیں اللہ کے حضور پیش کر دیں اسی طرح ہم سب کو تیار رہنا ہے۔ اور ہر قربانی کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا ہے۔ ان شاء اللّٰہ

وتارا زکریا صاحب

بہت غیر معمولی خطبہ تھا۔ یہ درست ہے کہ حضور کا ہر خطبہ ہی اہم ہوتا ہے۔ لیکن اس خطبہ نے ہمیں اندر تک ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مسجد میں موجود سب لوگ حالت غم میں اس خطبہ کو سن رہے تھے۔ شہداء نے عظیم الشان استقامت دکھائی ہے۔ جیسا ایمان ان شہداء کو عطا ہوا خد اتعالیٰ ہمیں بھی عطا فرمائے۔

سلیمان ودراگو انچارج احمدیہ ریڈیو ز برکینا فاسو

ہمیشہ کی طرح آج کے خطبہ جمعہ کا مقامی زبان میں براہ راست ترجمہ کیا جا رہا تھا۔ ترجمہ کرنے والے اور سننے والے سب ہی اس تکلیف اور درد سے گزر رہے تھے جو مہدی آباد سانحہ پر آج ہر احمدی محسوس کر رہا ہے۔ ریڈیو پر فون کالز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ہر ایک اپنے اپنے جذبات کا اظہار کر رہا تھا۔ خطبہ کے بعد جب ایم ٹی اے پر شہداء کے بارے میں نظم چلی اور اس میں شہداء کی تصاویر دکھائی گئیں تو سب کہنے لگے یہ فلاں ہے، یہ فلاں ہے۔ میں اس کو جانتا ہوں۔ اپنے اپنے تعلق کا اظہار کرنے لگے۔

تنگارا عبدالوہاب صاحب

تین چیزیں جس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں وہ ہیں صبر، استقامت اور قربانی۔ امام ابراہیم صاحب سے گزشتہ جلسہ سالانہ برکینا فاسو کے عربی بولنے والے افراد کے ساتھ نشست میں ملاقات ہوئی تھی۔ ذاتی طور پر آپ سے واقفیت تھی۔ آج یہ امام صاحب افریقہ کے عظیم شہیدوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے جو ان کو ملا ہے۔

ریانوں مینسرا صاحب

جس طرح دہشتگردوں نے ان کو شہید کرنے سے قبل جماعت کو چھوڑنے اور انکار کرنے پرمجبور کیا۔ ایسے موقع پر استقامت دکھانا سچے اور ایمان کے پکے لوگوں کی ہی نشانی ہے۔ امام صاحب کا یہ عمل کہ انہیں لٹا کر شہید نہ کیا جائے یہ بہت ہی اعلیٰ نمونہ ہے۔ پھر امام صاحب کے بعد ہر ایک کو یہ موقع دیا جانا کہ شاید وہ ڈر کے چھوڑ دیں۔ لیکن سلام ہے ان کی استقامت کو کہ اپنے سامنے موت دیکھ کر بھی نہ ڈرے اور حق کو نہ چھوڑا۔

بونی عبدالقدوس صاحب

شہید افغانستان کے متعلق ہم پڑھتے تھے۔ اب افریقہ میں بھی شہادتوں کو دیکھ لیا۔ واقعی احمدیت سچی ہے اور شہادتیں اس کی سچائی کا نشان ہیں۔

شیتو ادیوالی صاحب

ان شہادتوں سے بہت غمگین ہوں کہ اس قدر جانی نقصان ہوا ہے۔ اور دوسری طرف ایک خوشی بھی کہ ہمارے بزرگوں نے احمدیت کے لئے قربانی دی اور ہمارے لئے نمونہ چھوڑ گئےہیں تا کہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلیں۔

وتارا عباس صاحب

موت تو سب کو آنی ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن ان شہداء کی موت میں ایک خوشی کی خبر بھی ہے وہ سب اپنے ایمان پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضرت مسیح موعود ؑ پر ایسا غیر متزلزل ایمان عطا فرمائے۔

ناہی احمد صاحب

مہدی آباد کی شہادتوں پر دل پر ملال ہے لیکن ان شہداء کی خدا تعالیٰ کی راہ میں عظیم الشان قربانی، صبر اور استقامت کو دیکھ کر مجھے اور آئندہ نسلوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ جب ہم پر یہ وقت آئے تو ہم نے بھی یہی نمونہ دکھانا ہے۔ ان شاء اللّٰہ

کریم کولی بالی صاحب

امام ابراہیم صاحب سے گزشتہ سال جلسہ سالانہ برکینا فاسو کے موقع پر عربی اسپیکنگ نشست کے موقع پر تعارف ہوا۔ وہ جب بھی کوئی بات کرتے تو اس کے جواب میں محمد شریف عودہ صاحب ان کو میرے دوست ابراہیم! میرے دوست ابراہیم !کہہ رہے تھے۔ کیونکہ دونوں میں تعلق اخوت بہت تھا۔

سولاما سعیدو صاحب

ان شہادتوں کے بارے میں میرے دو طرح کے تاثرات ہیں۔ ایک غم ہےکہ ہمارے احمدی بھائی شہید ہوئے اور دوسرے خوشی ہے کہ احمدیت کے لیے راہ خدا میں موت کو گلے لگا کر ہمیں بتا گئے کہ جیسے بھی حالات ہوں، کچھ بھی ہوجائے، جماعت کو نہیں چھوڑنا۔

آدم نوح صاحب

یہ بات بہت حیرت انگیز ہے کہ امام صاحب کی شہادت کے بعد بھی کوئی فرد ایسا نہیں تھا جو ڈرا ہو یا جھجکا ہو۔ ہر ایک نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی۔

کندو سلف صاحب

جیسا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کابل میں شہادت کے ذیل میں حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔ وہی پیشگوئی آج افریقہ میں پوری ہوئی ہے۔

احمدوبخاری صاحب

خطبہ سن کے یہ سیکھا ہے کہ میں نے بھی ایسے ہی خدمت کرنی ہے اور یہ میرا فرض ہے۔ امام ابراہیم صاحب جو کہ سعودی عرب سے پڑھ کر آئے لیکن احمدیت کا سن کر بیعت کی اور اس راہ میں قربان ہو گئے۔ میری یہ خواہش ہے کہ میں بھی انہی کی طرح درس و تدریس اور تبلیغ میں زندگی بسر کروں۔ برکینا فاسو کے لوگوں کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اور خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے تاثرات سن کر اس ذمہ داری کا احساس ہوا کہ حضور کی توقعات پر پورا بھی اترنا ہے اور ان کو عملاً ثابت کر کے بھی دکھانا ہے۔ ان شاء اللّٰہ

بارو یوسف صاحب

دوران خطبہ میرے آنسو تھم نہیں رہے تھے۔ خطبہ کے اختتام پر نوافل ادا کیے اور شہداء کے بلندی درجات کے لیے اور ہم سب احمدیوں کے لیے استقامت اور ان کے نمونہ پر چلنے کے لیے اللہ سے دعا کی۔

اگوسو طیب صاحب

آج کا خطبہ اور شہدا ءکی قربانی ہمیں یہ سیکھا گئی ہے کہ جو بھی ہو اطاعت کرنی ہے اور ایمان پر قائم رہنا ہے۔

حافظ اچیدے سلام صاحب

میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ افریقہ میں شہادتوں کا سنا ہے اور اس سے یہ سبق لیا ہے کہ جو بھی ہو ایمان پر قائم رہنا ہے اور جماعت کو کبھی نہیں چھوڑنا اور اگر وقت آیا تو اسی نمونہ کو اپنانا ہے۔ ان شاء اللّٰہ

عبد المجید صاحب

آج خطبہ سن کر حضور ﷺ کے اصحاب کی یاد تازہ ہو گئی کہ کس طرح موت کے سامنے یہ لوگ چٹان بن کر ایمان پر قائم رہے اور مجھے یوں لگا کہ میں خود اس وقت اور اس جگہ پرموجود ہوں جہاں یہ شہادتیں ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسا ایمان ہمیں بھی نصیب فرمائے۔

بلال آگ موسیٰ صاحب

(یہ مہدی آباد کے نوجوان ہیں اور آج کل جامعۃ المبشرین برکینا فاسو کے پہلے سال میں زیر تعلیم ہیں)

مہدی آباد کے ایک خادم نے فون پر مکرم محب اللہ صاحب مربی سلسلہ کو بتایا کہ دہشتگروں نے حملہ کیا ہے اور ہمارے بزرگوں کو شہید کر دیا ہے اگر وہ ہم جوانوں، ہماری عورتوں اور بچوں کو بھی مار دیں تو بھی ہم احمدیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان شاءاللّٰہ۔ یہ سن کر احمدیت کی سچائی کا علم ہو تا ہے اور میں بھی اس بات پر قائم ہو ں کہ اگرکل مجھ پر یہ وقت آیا تومیرا بھی یہی جواب ہو گا کیونکہ ہمارے بزرگ احمدیوں نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی خاطر قربان کر کے ہمیں یہی سبق د یا ہے۔

خالد ملاندا صاحب

میں نے یہ سبق لیا ہے کہ جتنا بھی ظلم ہو جائے اپنے آپ کو حق پر قائم رکھنا ہے اور ایمان میں کمزوری نہیں آنے دینی۔ اس واقعہ نے مجھے ایمان میں مزید بڑھایا ہے اور مضبوطی عطا کی ہے۔

سام آدم صاحب

خطبہ جمعہ نے مجھے ان حالات میں تجدید عہد کرنے کا موقع دیا ہے۔ شہداء نے اپنے قاتلوں کے سامنے جس ہمت کا مظاہرہ کیا وہ غیر معمولی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جماعت سے کتنا گہرا تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ اس قربانی کے بہتر نتائج ظاہر فرمائے اور لوگوں کو قبول حق کی تو فیق دے۔

ودراگو مومن صاحب

مہدی آباد کے شہید، احمدیت کے نو چمکتے ستارے بن گئے ہیں۔ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے حضرت بلال بن رباح کی روح ان میں آگئی تھی۔

عمر سورگو صاحب

حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت سید عبداللطیف شہید ؓکی پیروی کرنے والے اور وجودوں کے پیدا ہونے کی بشارت دی ہے۔ ان شہیدوں نے اس جانشینی کا حق ادا کر دیا ہے۔

تراورے یعقوب صاحب

جو تھوڑا بہت ڈر اور خوف پہلے تھا حضور انو رایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ سننے کے بعد بالکل ختم ہو گیا ہے۔ ہمارے بعد احمدیت میں داخل ہونے والےمہدی آبا دکے ان عظیم احمدی سپوتوں نے اس قدر اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے کہ نہ گولیوں کے خوف سے احمدیت سے پیچھے ہٹے نہ اپنے بعد رہ جانے والے بیوی بچوں کی ان کو فکر ہوئی۔ فکر تھی تو بس اپنے ایمانوں کی حفاظت کی تھی۔ میں سوچتا ہوں اگر یہ وقت مجھ پر آتا تو کیا میں ثابت قدم رہ سکتا۔ ان شہداء کی قربانی کے بعد اب کوئی خوف اور ڈر نہیں بے شک انہی کی طرح موت آجائے۔ اس واقعہ سے ہمارا ایمان ہزار گنا بڑھ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شہیدوں کے درجات بلند کرے۔

مائیگا اسماعیل صاحب

آج حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبہ میں جو کچھ میں نے سنا وہ بہت عظیم الشان ہے۔ اس سے میرے ایمان میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ کیا ہے؟ یہی کہ مہدی آباد کے احمدیوں نے اللہ تعالی ٰ کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان لوگوں کو خلافت سےحقیقی عشق اور تعلق تھا اس قدر مضبوط تعلق کہ اپنی جانیں وار دیں۔ اس چیز نے میرے ایمان کو بہت تقویت دی ہے۔ مجھے نور عطا کیا ہے۔ جس طرح حضور انور نے ان شہیدوں کا تذکرہ کیا ہےاور اسلام کی خاطر ان کی قربانی کا ذکر کیا ہے، ان کی خلافت سے محبت کا ذکر کیا ہے اس بات نے میرے ایمان کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس ایمان پر قائم رکھے۔ جتنے لوگ میرے ساتھ خطبہ سن رہے تھے ان سب کے بھی یہی تاثرات تھے سب یہی دعا کر رہے تھے کہ اے خدا! جس طرح مہدی آباد کے ہمارے ان بھائیوں نے قربانی کی توفیق پائی ہمیں بھی عطا کر۔ ان لوگوں نے اپنی جانیں دنیا کے لئے نہیں، کسی لالچ کے لئے نہیں بلکہ اسلام کی خاطرقربان کر دیں۔ ہم بھی خلافت سے ایسا ہی مضبوط تعلق رکھیں گے۔ ان شاء اللّٰہ۔ اے خدا ہمیں توفیق عطا کر۔

سانو عبد الرحمٰن صاحب

حضور انور نے مہدی آباد کے شہیدوں کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ بہت زیادہ اہم ہے۔ یہ ان کے ایمان کی مضبوطی کی دلیل ہے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا ہی ایمان عطا کرے۔ ان سے کہا گیا کہ اپنے ایمان اور موت میں سے کسی ایک کو چن لیں تو انہوں نے موت کو منتخب کر لیا۔ ایسا ایمان ہر ایک کو عطا نہیں ہوا کرتا۔ ہم دعا کرتے ہیں اور ہماری یہ تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا ایمان عطا کر دے۔ آج ہر احمدی کی یہی خواہش ہے کہ وہ ان شہیدوں کی جگہ ہوتا۔ یہ درست ہے کہ ان کی موت بہت دردناک ہے لیکن ہمیں خوشی ہے کہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔ہم بھی کوشش کر یں گے کہ خلافت احمدیہ سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کریں۔ اے خدا !ہمیں بھی ایسا ایمان عطا کر۔

کدگو نورالدین صاحب

میں یونیورسٹی کا طالب علم ہوں۔ آج خطبہ جمعہ میں ڈوری کے شہیدوں کا ذکر خیرسنا۔ان کی قربانی نے ہمارے ایمانوں کو تازہ کر دیا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے احمدیت کی آئندہ آنے والی نسلوں کو عملی نمونہ دے دیا ہے۔ آج حضور انور نے ان شہداء کے حالات زندگی بیان فرمائے ہیں وہ سن کر معلوم ہوتا ہے کہ سب شہداء غیرمعمولی قربانی کرنے والے، اخلاص و وفا میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے احمدیت کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیت واقعی حقیقی اسلام ہے۔ اگر احمدیت سچی نہ ہوتی تو جان جیسی عزیز چیز قربان کرنا ممکن نہ ہوتا۔ ہم دعا کرتے ہیں اور تجدید عہد کرتے ہیں کہ جیسے بھی حالات ہوں ہم بھی خلافت سے مخلص رہیں گے اپنے عہد بیعت کی پاسداری کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔

کونے محمد صاحب

شہداء کے بارے میں خطبہ سن کر میں نے اپنے آپ سے کہا، خدا کی شان کہ ہم نے احادیث اور تاریخ اسلام میں شہداء کے واقعات پڑھے تھے لیکن آج خود دیکھ لئے۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ کیا اب بھی ان جیسے اہل ایمان موجود ہیں جس طرح اسلام کے آغاز میں خواتین اور بچوں نے بھی قربانیاں دے کر مثالیں قائم کی تھیں۔ آج احمدیت میں ایمان کی خاطر جانیں قربان کرنے والے احباب کا عملی نمونہ ماضی کی تصدیق کرتا ہے کہ جنگ احد، خیبر و حنین کوئی معمولی تاریخ نہیں تھی۔ اسی طرح حضرت خبیب کا قصہ معمولی نہ تھا۔ جو تیا رہوئے، بال صاف کئے اور دورکعت نفل ادا کر کے جانب مقتل چلے۔ اللّٰہ اکبر

میں کہہ سکتا ہوں کہ آج سے میری ایک نئی زندگی شروع ہوئی ہے۔ آج کے دن نے مجھے ایمان میں ایک اور جہت دی ہے جو میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس نے مجھے جنگ احد کی یاد دلا دی جب کفار یہ سمجھتے تھے کہ نبی کریمﷺ کی موت واقع ہو گئی ہے۔ مشرکین لات اور عزیٰ کے گُن گانے لگے۔ اس وقت کہا گیا کہ ابو بکر اور عمر بھی وفات پاگئے۔ جب ان کی ذات کی بات تھی تو جواب نہ دیا لیکن ایمان کی بات آئی تو ا س حالت میں بھی اللہ اعلیٰ و اجل کا نعرہ لگا گیا۔ آج سمجھ آیا کہ ان نو (9) شہداء نے کیوں اپنا سر نہ جھکایا او ر ایمان کی خاطر موت کو قبول کر لیا۔خطبہ کے اختتام پر میں سوچ رہا تھاان نو شہداء میں دسواں میں کیوں نہیں تھا تاکہ جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے تلك عشرة كاملة۔ دس پورے ہو جاتے۔

یہ تبدیلی صرف ایک نبی ہی پیدا کر سکتا ہے جو ایمان میں آدمی کو اتنا بلند کر دے کہ وہ اس دنیا کو بھلا دے۔ جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شاگردوں میں تبدیلی کی روح پھونک کر انہیں نئی زندگی بخشی۔ اور اب حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی ذات میں آپ ﷺ کا ہی ظہور ثانی ہےاور یہ بات ثابت ہو چکی۔

مہدی آباد کی ان شہادتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ خدا کی طرف سے آئے ہیں ورنہ کوئی بھی جھوٹے کی پیروی کے لیے اپنی جان قربان کرنا ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ صرف وہی جو اللہ کی طرف سے آیا ہے مخلوق کا اپنے رب کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق پیدکر اسکتا ہے۔

(چوہدری نعیم احمد باجوہ۔ نمائندہ الفضل آن لائن برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ آسٹریا کی تبلیغی سرگرمیاں

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی