• 3 جولائی, 2020

برکینا فاسو کے ایک جلسہ سالانہ کا آنکھوں دیکھا حال

مغربی افریقہ کے ملک upper volta کو 1984ء میں برکینافاسو کا نام دے دیا گیا۔ تقریباً پورا سال گرم اور خشک آب وہوا والاland lockیہ ملک افریقہ کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ پچھلی دہائی تک اس ملک کو بہت کم لوگ جانتے تھے۔ مجھے یاد ہے 1990ء کی دہائی میں جب اسلام آباد gateway سے برکینا فاسو فون ملانے کا کہا جاتا تو اکثر فون آپریٹر حیران ہوتے کہ یہ کون سا ملک ہے؟موجودہ دور میں ذرائع رسل و رسائل کی بےپناہ ترقی نے اس دنیا کو global village بنا دیا ہے۔

اس کے باوجود اب بھی دنیائے احمدیت کے علاوہ کم لوگ ہی اس ملک کو جانتے ہیں ۔مجھے اس احمدی کے تبصرہ پر بہت لطف آتا ہے کہ حضور انورکے دورہ برکینا فاسو کے بعد وہ ایک جماعتی عہدیدار سے ملے اور کہا اللہ کا شکر ہے کہ حضور نے افریقہ کا دورہ کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ برکینا فاسو بھی کوئی ملک ہے و رنہ ہم اسے ہومیوپیتھی دوا ہی سمجھتے رہے تھے ۔ لیکن اس ملک کے نصیب تو اس وقت جاگے جب پچھلے سال خضرت خلیفۃ المسیح الخامس کے بابرکت قدم اس دھرتی پر پڑے تھے تب سے جماعت احمدیہ عالمگیر کے حوالہ سے اس ملک کو جاننے والے دنیا کے کناروں تک موجود ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے برکینا فاسو کا سولہواں جلسہ سالانہ 27,26,25مارچ کو نئی جلسہ گاہ بُستانِ مہدی میںمنعقد ہوا۔ بستانِ مہدی ایک وسیع وعریض قطعہ زمین ہے جو کئی سال پہلے جماعت کو تحفتاً ملی تھی۔ اس سال یہ طے ہوا کہ جلسہ سالانہ یہاں منعقد کیا جائے۔ دارالحکومت واگا ڈوگو سے جنوب کی طرف غانا جانے والی شاہراہ پر یہ قطعہ زمین خشک جھاڑیوں سے اٹے میدان کی شکل میں تھا جہاں بظاہر جلسہ منعقد ہونا مشکل دکھائی دیتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی تائیدو نصرت اور بلند عزم وہمت سے بظاہر بہت مشکل کام کامیابی سے انجام بخیر ہوا۔الحمدللہ۔ جلسہ سے پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس قطعہ زمین کا نام بستان مہدی عطا فرمایا۔

عالم احمدیت میں جلسہ سالانہ اک ایسی روایت ہے جس کی بنیاد مسیح محمدی کے ہاتھوں رکھی گئی۔ پہلا جلسہ مبائعین کی ایک چھوٹی سی جماعت نے قادیان دارالامان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معیت میں منعقد کیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدونصرت اوراُس کی رحمت کے سایہ میں یہ قافلہ پروان چڑھتا رہایہ کاروان آگے بڑھتا رہا ۔اور خدائی وعدوں کے مطابق یہ جماعت عالمگیری وسعت حاصل کر گئی۔ خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارشیں اِسے سیراب کرتی رہیں۔پہلے سال میں ایک ہی سالانہ جلسہ ہوا کرتا تھا۔ اب جماعت احمدیہ عالمگیر میں اللہ کے فضل وکرم سے سال کے بارہ مہینوں میں دنیا میں کہیں نہ کہیں جلسہ سالانہ ہو رہا ہوتا ہے ۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’مجھے بھیجا گیا ہے کہ میں آنحضرتؐ کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر سے قائم کروں اور قران شریف کی سچائیوں کو دنیا کودکھاؤں اور یہ کام ہو رہا ہے۔ اور اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے۔‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 30جولائی 2004 میں فرمایا:
حضرت مسیح موعودکامنشا ان جلسوں کے انعقاد کا یہ تھا کہ جماعت کی ٹریننگ کی جائے تمام افراد جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل ہیں سوائے کسی اشد مجبوری کے سال کے ان تین دن ضرور اکٹھے ہوں کیونکہ ٹریننگ کے بغیر تربیت پر زوال آنا شروع ہو جاتا ہے۔

جلسہ کی تیاری کا کام regional جلسوں کی شکل میں جنوری کے شروع میں ہی ہو چکا تھا۔ ہر region میں ریجنل جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔ جن میں نومبائعین کی تربیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے پروگرام ترتیب دیئے گئے۔مثلاً نماز تہجد اور باقی با جماعت نمازوں کے قیام کے علاوہ جماعت احمدیہ کا تعارف، سیرت النبی ﷺ، بچوں کی تربیت، سلام کو رواج، مجالس ِعرفان وغیرہ۔

اس کے بعد نیشنل جلسہ کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ مربیان کرام نے دن رات محنت کر کے حتیٰ الامکان کوشش کرڈالی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مرکزی جلسہ میں شامل ہوں۔ نومبائعین کی تربیت کے لیے انکی جلسوں میں شمولیت انتہائی ضروری ہے چونکہ یہ لوگ اس کی روحانی اہمیت سے آگاہ نہیں اس لیے انہیں جلسہ کے لیے تیار کرنا ایک مشکل امرہے یہاں نسل در نسل مسلمان لوگ صرف نام کی حد تک مسلمان ہیں عملی طور پر کچھ نہیں جانتے اور جب انہیں حقیقی اسلام یعنی احمدیت کا تعارف ہوتاہے توبہت اخلاص اور وفا کا اظہار کرتے ہیں۔افسوس یہاں احمدیت سے پہلے اسلام کا پیغام کامل رنگ میں پہنچا ہی نہیں۔ ورنہ بہت محبت کرنے والے لوگ ہیں بقول شاعر

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

چنانچہ نیشنل جلسہ سے ایک دن پہلے دور دراز جما عتوں سے لوگوں نے پیدل اور اپنے سائیکلوں پر کئی کئی کلومیٹرز کا سفر کر کے regional mission پہنچنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد بذریعہ بس وفد اجتماعی طور پر نیشنل جلسہ کے لیے روانہ ہوا۔ نعرہ ہائے تکبیراور احمدیت زندہ باد، اسلام زندہ بادکے نعروں کی گونج میں وفد کی روانگی لوگوں کا جوش خروش دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔

25مارچ بروز جمعہ جلسہ کا پہلا دن تھا۔ ہم لوگ بھی نماز جمعہ سے پہلے جلسہ گاہ پہنچ گئے۔اس دفعہ جلسہ میں شمولیت ایک adventure سے کم نہ تھی۔ مارچ،اپریل برکینا فاسو میں گرم ترین اور خشک ترین مہینے ہوتے ہیںاور اس دفعہ پہلے کی نسبت گرمی بھی کچھ زیادہ تھی۔ اور اس دفعہ سب لوگوں کی رہائش بھی جلسہ گاہ میں ہی تھی۔ جب ہم بستانِ مہدی پہنچے تو ماشاءاللہ جنگل میں منگل کا سا سامان تھا۔ جلسہ گاہ کوایک غریب دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ ہر طرف ہمارے افریقی بھائی شوخ رنگوں کے لباس میں ملبوس ہر طرف تتلیوں کی مانند اڑتے پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ خدام اپنے یو نیفارم بہت خو بصورت لگ رہے تھے۔ سب کچھ بہت بھلا لگ رہا تھا۔ لیکن اک عجیب اُداسی نے جسم و جاں پر تسلط کیا ہوا تھا۔ یہ گزرے ہوئے حسین ترین وقت کی یاد تھی۔ جب پچھلے سال ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح ہمارے مہمان تھے۔

فاصلے بڑھ گئے پر قُرب تو سارے ہیں وہی

گزشتہ سال کی یادیں ہرطرف بکھری ہوئی تھیں۔ غرضیکہ بستانِ مہدی کے خوبصورت داخلی دروازے سے جونہی بستانِ مہدی کے احاطہ میں داخل ہوں ۔سا منے ہی جلسہ گاہ کی بڑی بڑی مردانہ و زنانہ مارکیاں بنائی گئی تھیں اور ان کے بائیں طرف لوکل مردوں اور عورتوںکے لیے دو بڑی بڑی مارکیز بطور رہائش گاہ بنائی گئی تھیں اور رہائشی حصہ کی قریب ہی لنگر خانہ حضرت مسیح موعودکا وسیع انتظام تھا۔ جلسہ گاہ کے دائیں طرف ایک چھوٹا سا بازار سجا ہوا تھا fish ،chips اور آلو کے کباب اور مقامی کھا نے دعوتِ طعام دے رہے تھے۔ ہم جلسہ کا جا ئزہ لیتے ہوئے اپنی رہائش گاہ کی تلاش میں تھے کہ سامنے افریقی طرز کی گھاس پھونس کی جھونپڑیاں ایک لائن میں نظر آئیںوہ بطور separate family رہائش گاہ تیارکی گئیں تھیں۔ ہر ایک hut پر اس کے باسی کا نام چسپاں تھا۔ سو ہمیں اپنا گھر ڈھونڈنے کے لیے کوئی خاص ترددّ نہیں کرنا پڑا۔ تیسرے نمبرکی hut پرمسٹر پاشا لکھا نظر آیاسو اپنے بستراور جلسہ کے دنوں میں استعمال کی اشیاء کا انتظام ہم پہلے سے کر چکے تھے۔ اسی طرح تھوڑی دیر میں ی بستانِ مہدی کا یہ چھوٹا سا محلہ آباد ہوگیا۔ ہمارے سامنے والا گھرمادام عائشہ رشید تروڑے صدر لجنہ اماءاللہ کاتھا اورہماری پچھلی طرف کے ہمسائے محنرم امیرصاحب محمود ناصر ثاقب اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔اسی طرح تمام مبلغین اور مجلس عاملہ اور دیگر احباب نے کرایہ پر اپنے hut لئے ہوئے تھے۔

نماز جمعہ کا وقت ہو چکا تھا ۔ امیرصاحب غانا محترم عبدالوہاب بن آدم اس جلسہ کے مہمانِ خصوصی تھے۔گرمی تھی کہ الامان الحفیظ۔ کسی طرح چین نہ تھا۔ جلسہ گاہ میں پانی کا ایک ہینڈ پمپ پہلے سے نصب تھا اسکے علاوہ پانی کے بڑے بڑے ٹینکربھی منگوائے گئے تھے۔ وضو کے لیے پانی کے سیمٹڈ حوض تعمیر کیے گیے تھے۔ پینے کے پانی کے بڑے بڑے مٹکے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر رکھے گئے تھے۔

پینے کے ٹھنڈے پانی کی شدید طلب ہوئی توپانی کی تلاش میں بھیجا۔ چنانچہ ٹھنڈے پانی کے پیکٹ mineral water میں جلسہ کے بازار سے دستیاب تھے۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں افریقہ میں پینے کے ٹھنڈے پانی کی پلاسٹک کے لفافوں میں فروخت کمرشل لیول پر ہوتی ہے۔اور اکثر خواتین یہی کاروبار کرتی ہیں۔ بڑے بڑے deep freezers گھروں میں رکھے ہوتے ہیں اورپھر پانی بیچنے کے لیے کئی بچے، لڑکیاں ملازم رکھی ہوتی ہیں جو سارا دن بازاروں، دفاتر، سکولوں، بس اسٹاپ پر پانی بیچتی ہیں۔ اور اب mineral water والی کمپنیاں بھی پلاسٹک کے لفافوں میں پانی سپلائی کرتی ہیں اسی وجہ سے پینے کا صاف پانی عموماً ہر جگہ مل جاتا ہے۔ سو مجھے پینے کے صاف پانی کی بہت فکر تھی جوخدا کا شکرہے کہ تینوں دن میسر رہا دن بھر گرم ہوا اور مٹی کے بگولے بستانِ مہدی میں اُڑتے رہے ایک دفعہ تو یوں لگا کہ ہم جھونپڑی سمیت اُڑ جائیں گے۔ کیونکہ اک بگولے کی زد میں ہمارا آشیانہ بھی آگیا تھا۔ لیکن ہم عاشقانِ مسیح موعوداک عہد کی بنیاد رکھ رہے تھے اک نئے دور میں داخل ہو رہے تھے اور اس پر نازاں تھے کہ ہم یہ تکلیف اپنے پیارے کی محبت میں اُٹھا رہے ہیں اگر اللہ قبول کرے۔

صحرائے اعظم کے کنارے آباد اس ملک میںموسم کی شدت کومحسوس کرتے چشم ِتصور میںعرب کے ریگستان میں جا پہنچی جہاں دو جہانوں کے بادشاہ نے جنم لیا اور ساری زندگی انہیں سخت ترین موسموں میں بغیر کسی سہولت کے گزار دی۔

اسی طرح partition کے بعد ہجرتِ قادیان کے بعدجب ربوہ شہرآباد ہوا تو تب بھی اسی قسم کے حالات تھے۔اسی طرح جنگل بیابان تھا جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں آ کر رہنا شروع کیا تھا۔ اور اب وہاں سرسبزوشاداب شہر آباد ہے۔اپنے بزرگوں کی قربانیوں کے ثمر ہم کھا رہے ہیں۔کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے۔اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور استغفار کرنے کا موقع ملا۔ شام کو جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی۔امیرجماعت غانا کی صدارت میں افتتاحی اجلاس ہواتلاوتِ قران پاک کے بعد محترم عمر معاذ صاحب کی نظم ’’انی معک یا مسرور‘‘ ایک دفعہ پھر مسرور کر گئی۔ اس کے بعد امیر صاحب برکینا فاسو محمود ناصر ثاقب نے مہما نوں کو خوش آمدید کہا اورجلسہ کی اہمیت بتائی، اس کے بعدمحترم امیرصاحب غانا نے اپنے افتتاحی خطاب میں برکینا فاسو کے ابتدائی حالات جن میں احمدیت کا پودا جس طرح یہاں پھلا پھولا اُسکا اور برکینا فاسو میں احمدیت کے نفوذ میں جن بانی علماء کا ہاتھ تھا اُن کا ذکر ِخیر کیا۔ جلسہ گاہ میں غانا کی مہمان خواتین اپنے سفید لباس میں نمایاں تھیں۔ اس کے بعد مغرب وعشاء کی نمازیں ہوئیںاور ایک بابرکت دن ختم ہوا۔

رات کو تھوڑی دیر کے لیے سانپ ،بچھو کا خوف غالب آیا۔ لیکن کچھ دعائیں اور آیت الکرسی پڑھنے سے خوف جاتارہا۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا حصار تھاجس نے پورے جلسہ گاہ کو اپنی حفاظت میں رکھا ۔ورنہ سانپ اور بچھو مارنے کے کئی واقعات ہوئے لیکن اُن سے ہزاروں کے اس مجمع میں کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔بہرحال سوتے جاگتے رات گزر ہی گئی۔ صبح محترم عمر معاذ ضاحب کی آواز الصّلوٰۃ، الصلوٰۃ، الصلوٰۃُ خیرمن النوم کی آواز سے آنکھ کھلی وہ تہجد کے لیے سب کو جگا رہے تھے۔ میگا فون پر درور شریف اورالصلوٰۃ کی آواز سے بچے بھی اُٹھ گئے اور ماشاء اللہ سب باجماعت نماز تہجد میں شامل ہوئے۔

ہمارے جلسہ کے دوسرے معّززمہمان محترم امیر صاحب آئیوری کوسٹ عبد الرشید انور صاحب تھے دوسرے دن کے اجلاس کی صدارت وھی کر رہے تھے آپ ماشاء اللہ عالم فاضل انسان ہیں۔ فرانسیسی زبان میں تحریر وتقریر پر عبور رکھتے ہیں۔ تلاوتِ قران کریم اور نظم کے بعد آپ نے ’’جدید دور کے مسائل کا حل اسلام میں ہے‘‘

(Problèmes de temps modernes,les solution de l’Islam.)

کے موضوع پر تقریر کی۔ دوسرے دن کی کارrوائی میں صداقت حضرت مسیحِ موعوداور بچوں کی تعلیم وتربیت کے موضوع شامل تھے۔

تیسرے دن کا آغاز بھی نماز تہجد سے ہوا اور اختتام امیر صاحب غانا عبدالوھاب آدم کے خطاب سے اوا۔ امیر صاحب غانا نے اپنی تقریرمیں برکینافاسو کی جما عت جو ابھی بہت کم عمر ہے اور ترقی پذیر ہے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ جب انہوں نے غانا میں بستانِ احمد کو آباد کیا تھا تو انہیں بھی ابتداء میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا کسی نے کہا پانی نہیں ہے بجلی نہیں ہے آہستہ آہستہ تمام مسائل حل ہوتے چلے گئے اور اب اللہ کے فضل سے وہاں سب سہولیات موجود ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے غانا میںبستان احمد کانام رکھا اورحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ نے برکینا فاسو میں بستان مہدی کا نام دیا۔ یہ انشاء اللہ ہمیشہ آباد رہیں گے۔آخر پر امیر صاحب نے ہمارے مرحوم شہید بھائی شکیل صدیقی کا ذکر خیر کیا۔دعا کے بعد نمازظہروعصر ادا کی گیئں اور اس کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

برکینا فاسو کے اس جلسہ سالانہ میں اللہ کے فضل کے ساتھ مالی، آئیوری کوسٹ، غانا، ٹوگو، بینن، نائیجر اور نائیجیریا کے وفود نے شرکت کی۔جلسہ کے ختم ہوتے ہی تمام مہمان قافلے اپنی اپنی منزلوں کی طرف لوٹ گئے۔

28مارچ بروز پیر حسبِ روایت ایک عشایئے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں معزز مہمانوں کے علاوہ ڈیوٹیاں ادا کرنے والے کارکنان مجالس ِعاملہ تمام مربیان ِکرام اور ان کے اھل وعیال شامل تھے۔لجنہ کی طرف امیرجماعت غانا کی بیگم مہمانِ خصوصی تھیں اور امیرصاحب غانا مردانہ حصّے میں خاص مہمان تھے۔ پرتکلف کھانے کے ساتھ ہلکا پھلکا پروگرام بھی تھا ۔ صدر صاحبہ لجنہ نے امیر صاحب غانا کی بیگم کے برکینا تشریف لانے کا شکریہ ادا کیا اور ان کی خدمت میں تحفہ پیش کیا ۔ جواب میں انہوںنے بھی سب کا بہت شکریہ اداکیا۔ اور اُس کے بعد ناصرات نے اور اپنی لوکل زبان اور عربی میں نعتیںاور بعض نظمیں پیش کیں۔ محترم امیر صاحب غانا نے بھی تھوڑی دیر لجنہ کی طرف خطاب کیا اور فرمایا جس طرح حضرت محمد ﷺ نے مکہ اور مدینہ کے لوگوں کے درمیان رشتۂ اخوت قائم کیا تھا اسی طرح غانا اور برکینا فاسو کے احمدیوں کے درمیان بھی اک محبت اور بھائی چارے کا تعلق قائم ہو چکا ہے اور دنیا ئے احمدیت میں دو ہی ُبستان ہیں غانا میں ُبستا نِ احمد اور برکینا فاسو میں بستان مہدی ۔ آ خر پر امیر صاحب غانا نے بچوں میں غبارے تقسیم کیے اور دعا کے ساتھ یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

برکینا فاسو کی جماعت کو قائم ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں لیکن یہ ایک خوش قسمت جماعت تصّور کی جا سکتی ہے کیو نکہ اس کو ایسی قیادت اور مربیانِ کرام کی team میسر آئی ہے کہ تمام جماعتی سلسلے اللہ کے فضل وکرم کے ساتھ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیںاور بہت سی پرانی جماعتوں سے آگے نکل چکی ہے اس وقت بہت سے شہروں میں جماعت کے اپنے مشن ہاؤسز اور مساجد قائم ہوچکی اور بعض زیرتعمیر ہیں ۔اور بہت سی جگہیں خریدی جا چکی ہیں، اس کے علاوہ تین سکول بھی تعمیری مراحل میں ہیں۔ واگا میں احمدیہ ہسپتال کی خوبصورت عمارت کی تعمیر کے ساتھ سا تھ humanity first کے تحت بھی بہت سے منصوبے عمل پیراء ہیں مثلاً برکینا کے بعض علاقوں میں پانی نہیں ہے وہاں ہینڈ پمپ لگوانے کنویں کھدوانے کا کا م ہو رہا ہے ، مختلف شہروں میں کمپیوٹر سنٹرز قائم کئے ہیں، یہاں لوگ غربت کے تصور سے بھی غریب ہیں۔ چند ماہ بارش کے دنوں میں جو فصل اُگتی ہے کئی علاقوں میںبعض دفعہ وہ بھی ٹڈی دل کا شکار ہو جاتی ہے چنانچہ لوگوں کی مدد خوراک، لباس کی شکل میں بھی کی جاتی ہے ۔بہرحال ترقی کا سفر خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت میں جاری وساری ہے۔

آخر پر برکینا فاسو کی میں خدمتِ دین پر مامور ہمارے مجاہد بھائی محترم شکیل صدیقی جنہوں نے سرزمینِ برکینا پر اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کی اور شہادت کا درجہ حاصل کیا کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی بیوی اور بچی کا خود وکیل وکفیل ہو۔ اور ان کے والدین کو صبر جمیل دے۔ آمین۔ مکرم شکیل صدیقی مرحوم کے بھائی مکرم مبارک صدیقی کی نظم کے اس مصرعے پر مضمون ختم کرتی ہوں۔

آؤ کرتے رہیں روشنی کا سفر
یونہی جاری رہے بندگی کا سفر

(یا سمین پاشا۔برکینافاسو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جون 2020

اگلا پڑھیں

02 جون 2020ء Covid-19 Update